Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 164

Mubarra

Clay Pot by Zayan Thebo Complete novellette

  • by

زندگی کی تختی پر کندہ سب سے دلکش لفظ محبت ہے۔

کہانی ہے محبت کی۔۔۔

انتظار کی۔۔۔ فراق کی۔۔۔

درد کی۔۔۔ آہ کی۔۔۔

کہانی ہے محبت سے دیوانہ ہونے تک کی۔۔۔

کہانی ہے مٹی کی۔۔۔ چاک کی۔۔۔

کہانی ہے سُر کی۔۔۔ ساز کی۔۔۔ راگ کی۔۔۔

کہانی ہے اجنبیت سے انسیت کی۔۔۔

کہانی ہے چناب کی۔۔۔ جو ہر بات کا گواہ ہے۔۔۔

کہانی لیلیٰ کی۔۔۔ جس کی آنکھوں کا کوئی دیوانہ ہے۔۔۔

کہانی ہے علی کی۔۔۔ جو کسی کے صدقے اُتارتا ہے۔۔۔

کہانی ہے محبت کی تختی پر کندہ لفظ دکھ کی۔۔۔

Betab dil ki tamana hai by Rimsha Hussain Complete novel

  • by

“بکواس بند کرو اپنی میرے پاس اِتنا فضول ٹائیم نہیں جو میں تمہاری طرح نین مٹکا کرتا پِھروں۔۔”رائد نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

“آپ کا کتنا قیمتی وقت ہے اِس کا مجھے اندازہ اچھے سے ہوگیا ہے ہونہہ۔۔”آئے بڑے یہ پوچھنے والے کہ کیا باتیں ہوئیں۔۔”زیب نے سرجھٹکا

“تم انتہا کی کوئی بدتمیز اور گھمنڈی لڑکی ہو نجانے کس بات کا غرور ہے تم میں۔۔”اگر میری تمہاری جیسی کوئی بہن ہوتی تو اُس کا گلا میں خود اپنے ہاتھوں سے کاٹتا۔۔”رائد کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

“آپ کے سوال کا جواب آپ کے سوال میں ہیں۔۔”میں اونلی ایک پیس ہوں میرے بھائیوں کو اللہ نے جو بہن دی ہے وہ ہر آئے گئے کو اللہ نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے بس اللہ نے طریقے سے بنایا وہ طریقہ کسی اور پر نہیں کیا۔۔”آپ کے جیسے آپ کو بہت ملے گے لیکن میرے جیسا آپ کو کوئی نہیں ملے گا۔۔”زیب نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ایک دن تمہارا قتل میرے ہاتھوں سے ہوگا۔۔”رائد جو اُس کو تپانا چاہ رہا تھا اب خود آگ بگولہ سا ہوگیا “ڈریگن کی طرح منہ سے آگ نکل رہی ہے آپ سے اُففف گرمی۔۔”

Hijab e haya by Maryam Qaiser Complete novel

  • by

اوئےے زینی یہ کیا ہوا ہے سر پہ آریان پریشان ہوتا بولا تھا کچھ نہیں بس زرہ سی چوٹ ہے چل کلاس میں چلے زایان آگے بڑھنے لگا تو آریان نے شرٹ سے کھینچ کر روک لیا پہلے مجھے بتا کیا ہوا ہے یہ اور تجھے یہ زرہ سے چوٹ لگ رہی ہے آریان زایان کا سر پکڑ کے اِدھر اُدھر کر کے دیکھنے لگا

ارےےے آن چھوڑ دے کچھ نہ بھی ہوا تو تب بھی کچھ کر دے گا

اچھا پھر خود ہی بتا دے کیا ہوا کسی سے لڑا ہے تو

یاررر آن کل کچھ لڑکے ایک لڑکی کو تنگ کر رہے تھے تو بس غصہ آگیا

ہاں غصہ آگیا اور تو خود ان سے پٹ کر آگیا آریان نے حیرانی سے زایان کو دیکھتے ہوئے بولا

تجھے کس نے کہا میں پٹا ہوں وہ تو بھاگ نہیں پا رہے تھے مجھ سے جان چھڑا کے تو اینٹ اٹھا کر مار دی مجھے اور بھاگ گئے ڈرپوک کہیں کے زایان نے اپنا کالر ٹھیک کرتے ہوئے اس انداز میں بولا جیسے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔

اچھا چل اب آج میرا موڈ بہت اچھا ہے کلاس میں چلتے ہیں اور زایان کلاس کی طرف بڑھ گیا

اففف زینی آج تجھے اتنی جلدی کیوں ہے کلاس میں جانے کی

بس ویسے ہی وہ۔۔ وہ۔ دو مہینے بعد ایگزیمز ہیں نہ اس لیے کوئی لیکچر نہ مس ہو جائے چل اب زیادو سوال نہ کر

Kuch youn bhi hua by Zeenat Baloch Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے سہانے خواب دیکھنے والی لڑکی کی جو کسی کا نام کا جوڑا پہنے جو کسی کے نام کے مہندی لگائے بیٹھی تھی اس کے انتظار میں۔۔۔۔ لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا

Hum k masloob e wafa by Sumera Sarfaraz Complete Novel

  • by

میلمہ نے لالہ رخ کو اسی بدتمیز آدمی کی گاڑی سے اترتے دیکھا تھا۔
“کسے گھور رہی ہو؟”
اٰصال جبھی آیا تھا۔ میلمہ چونکی۔
“کچھ نہیں وہ فرسٹ ایئر کی لالہ رخ ہے۔۔”
اس نے اجلال کی گاڑی کی طرف اشارہ کیا جس سے لالہ رخ نکل کر اب شیشے میں جھکی اجلال سے کچھ کہہ رہی تھی۔ اٰصال نے دیکھا مگر غور کئے بنا اپنے موبائل پر جھک گیا۔ اجلال کی نظر میلمہ پر پڑ چکی تھی۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر اجلال کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ ابھری۔
“یہ حسینہ کون ہے؟”
اس نے لالہ رخ سے پوچھا جو اسے کچھ بتا رہی تھی۔ لالہ نے برا مانتے ہوئے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔
“وہ نک چڑھی میلمہ عسکری ہے۔۔ فائنل کی سٹوڈنٹ۔”
اس نے منہ بنایا۔
“سجتا بھی ہے غرور۔۔ میلمہ! ”
اجلال بدستور اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میلمہ کو غصہ آنے لگا۔ ساتھ کھڑے اٰصال کا دانستہ طور پر بازو پکڑے اسے دوسری طرف کھینچنے لگی۔ وہ کسی کو ٹیکسٹ کررہا تھا۔ چڑ گیا۔
“کیا مصیبت ہے کیوں کھینچ رہی ہو مجھے؟”
اسکا جھنجھلانا اجلال نے اچھی طرح دیکھ لیا تھا۔ پھر زیر لب مسکراتا ہوا گاڑی بهگا لے گیا۔ میلمہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے گھبرا رہی تھی۔ پتا نہیں کیوں؟

Teri yaad by Sloni Fayyaz Writer Complete novel

  • by

شکایت نہیں اب کوئی اس سے

غصہ اب ججتا ہے اس پہ

وہ ناکرے باتیں اب گلہ نہیں

جب قسمت میں ہی وہ ملا نہیں

ہر موڑ گفتگو کا آخری لمحہ لگتا ہے

مجھے یہیں پہ ختم ہوتی ہے کہانی

جدا ہو رہا ہوں زندگی سے

کھول دی محبت کی ساری گرہیں تم پہ

اللہ سے دعا ہے تمہیں سکون خوشی ہر عطا ہو

ماضی کی یاد اسے کتنے ہی سالوں سے سونے کہاں دیتی تھی۔

اب وہ ہر رات دیکھے گئے خواب سے تنگ بھی تو آچکی تھی ۔

سب کچھ تو چھن گیا تھا اس روز

اب آخر ایسی کیا چیز تھی جیسے کھونے کا ڈر ابھی بھی باقی تھا

ن نں نہیں وہ ہمیں چھوڑ کہ نہیں جا سکتے وہ بوکھلائی سی بستر سے اٹھی تھی۔

اور بے ساختہ نیچے کی جانب دوڈ لگائی تھی۔