Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 162

Mubarra

Aurat by KSA Complete novel

  • by

میں نے مسکرانے کے لیے نہیں کہا مجھے جواب چاہیے

اگر میں نے جواب دیا تو آپ کبھی سوال ہی نہیں کریں گی

تمیز سے بات کرو جانتی ہو میں کس کی بہن ہوں

اور تم بھی جانتی ہو میں کس کی بہن ہوں

یو (you)

ہاں پتا ہے پیاری ہوں اور وہاں سے اپنا سامان لیتی نکل گی جب منہا نے اپنی مٹھیاں بند کی تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں

Talb e sukoon by Kashaf Qaisar Complete novel

  • by

ہر طرف ارمان ،ارمان ،ارمان کا شور تھا ۔۔۔۔۔..

دونوں اطراف میں لڑکے لڑکیوں کے ہجوم تھے اور انکے درمیان ۔۔ ارمان ملک اپنی روبدار پرسنلٹی لیے ۔۔بلیک جیکٹ بلیک جینز ۔۔اور بلیک ہی جاگرز پہنے ۔۔اپنی ہیوی بائک پر ۔۔۔گلوز اور سیفٹی ہیلمٹ پہنے اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے بھی سب لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔

ریس تھی ۔۔5 بائک رائیڈرز تھے جنکی ریس تھی ۔۔۔

اور ارمان ارحم ملک کبھی کسی سے ہارا نہیں تھا ۔۔اور ان لڑکوں نے اسے چیلنج کیا تھا ۔۔

اور ارمان لووز چیلنجز ۔۔۔۔۔۔۔۔

1،2،3 سٹارٹ ۔۔۔۔

ہرا جھنڈا لہرایا گیا جس پر ریس سٹارٹ ہوئی ۔۔۔

مگر یہ کیا سب آگے نکل گئے تھے اور ارمان وہیں پر رکا ہوا تھا ۔۔۔

سب پریشانی کے عالم میں ارمان کو دیکھ رہے تھے آخر کر کیا رہا تھا ۔۔۔تقریبن 1 کلو میٹر جب سب نکل گئے تو ارمان نے ریس لگائی ۔۔بائک آن کرتے فراٹے بھرتے بائک ہواؤں سے باتیں کرتی انکے مقابل آن پہنچی تھی ۔۔۔

Gardish e mah by Tooba Kiran Complete novel

  • by

“دیکھو میری! وہ لڑکی میرے نکاح میں ہے اور میں رشیا آنے کے بعد اسے طلاق دے دوں گا اس کے بعد اس کا معاملہ دیکھیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے؟” ہمایوں نے خفگی سے کہا۔
“سیریسلی ہمایوں؟ مجھے جلدی ہے یا تمہارے دل میں اس لڑکی کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے؟”میری نے کہا تو ہمایوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
“اس کا مجھ پر بےانتہا یقین مجھے اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ میں اس کے سامنے خود کو بہت کمزور سمجھتا ہوں۔ اس پر ظلم کرنا چاہتا ہوں مگر نہیں کر پاتا۔ اس کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہوں مگر خود تکلیف سے دوچار ہو جاتا ہوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میری کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔” ہمایوں نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ ڈالی تو دوسری جانب کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے ہمایوں۔مجھے تو یہ ڈر ہے کہ کہیں تم اس پر ترس کھا کر اسے رہا نہ کر دو۔” میری نے غصے سے کہا تو ہمایوں نے اپنے ہونٹ کچلے۔
“ایسا نہیں ہو گا۔بس میرا ضمیر غلط وقت پر بیدار ہو رہا ہے۔کچھ پڑھ کر پھونکو کہ یہ پھر سے سو جائے۔” ہمایوں نے اپنے سر پر پھیلے آسمان کو دیکھا جو لمحہ بہ لمحہ اپنے رنگ بدل رہا تھا۔
“اپنے ضمیر کو تم خود تھپکی دو اور جلدی سے یہاں آجاؤ۔۔۔۔۔اور ہاں اس لڑکی سے دور رہو۔ سمجھے؟” میری نے آخر میں سخت لہجے میں اسے وارن کیا۔

Zindagi ke dou chehray by Sawera Naz Muhammad Ayaz Complete novel

  • by

کاش یہ تهپڑ میں تجهے پہلے مار دیتا بدبخت تو نہ آج ماہل گمشدہ ہوتی اور نہ تیری ماں مرتی. تجهے ذرا سا بهی محسوس نہیں ہوا کہ تیرے ساتھ یہ سب عین اسی دن کیوں ہوا؟ تو نے بهی اس دن کسی کی بیٹی، کسی کی بہن اس سے چهین لی تو تیرے ساتھ یہ ہونا تو طے تها. بدبخت یہ تیرا مکافات عمل ہے. اب بهی وقت ہے سدهر جا. ماں تو تیری رہی نہیں شاید بہن رہ جائے. تجهہ سے بڑا کم بخت تو میں ہوں جو میں نے تجهہ جیسے انسان کی تربیت کی. میری شہ پہ ہی تو نے اتنا بڑا کالک میرے منہ پہ ملا ہے. میں نے تجهے شہ دے کر ناصرف تجهہ سے زیادتی کی بلکہ خود سی بهی زیادتی کر بیٹها نتیجہ آج میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں. وڈیرہ صاحب کی بات پہ روزان نے شرمندگی سے سر جهکا لیا. اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تهے شاید اب اس نے خود کو ضمیر کی عدالت میں کهڑا محسوس کیا.

وڈیرہ صاحب اب صلہ سے مخاطب تهے انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے :

معافی چاہتا ہوں میں بچے. انسان پہ جب تک خود نہیں گزرتی تب تک وہ سنهبلتا نہیں. بات میری بیٹی پہ آئی تو جیسے میری جان پہ بن گئی اور میں تڑپ اٹها. تمہارا باپ بهی تڑپا ہوگا مگر یہ بدبخت بہرہ بن کر ان کی بے بسی کا تماشہ دیکهتا رہا. دیکهو وقت نے کیسا پلٹا کھایا کہ آج اس کا پورا خاندان تماشہ بن چکا ہے. ہماری لاکھ کوششوں اور کئی اثر و رسوخ کے باوجود ماہل کو ہم ڈهونڈ نہ پائے. خدا جانے اسے زمین کها گئی یا آسمان نگل گیا. کسی کو کچھ خبر نہیں. تمہارے باپ کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ اس کی بیٹی کو کون اٹھا کر لے گا جبکہ میں بدنصیب اپنی بیٹی کا مجرم کسی کو نہیں ٹہرا سکتا کیونکہ میں نے ماہل کو کسی کے ساتھ جاتے نہیں دیکھا شاید میں خود ہی مجرم ہوں. جو باپ اپنی اولاد کی ٹهیک طرح سے تربیت نہ کر سکے اس کے ساتھ ایسا ہونا تو بجا ہے. میں اور روزان طاقت کے نشے میں غرق یہ بات بهول گئے تھے کہ سب سے عظیم طاقت تو رب العالمین کی ہے. اس پاک اور برتر ذات کے آگے ہم جیسے ادنیٰ مخلوق کی کہاں چلتی ہے. دیکهو کیسا انصاف کیا رب کریم نے. تم یقیناً ان کی محبوب بندی ہو گی تبهی تو تمہیں نقصان پہنچانے والوں کی پکڑ فوراً ہوگئی. بچے ہو سکے تو مجھ مجبور باپ کو معاف کر دینا. تم چاہو تو میں تمہیں اس بدبخت سے آزادی دلا سکتا ہوں. وڈیرہ صاحب کی آواز بهرائی ہوئی تهی وہ رو رہے تهے

. *************

Siyah Nagri by Areeba Azam Complete novel

  • by

سیاہ نگری کہانی ہے ایسے کردار کی جو پراسرار ہے۔ کائنات کے چھپے رازوں کو تلاش کرنے کی۔ ایسے میں کیا ہوگا اس کا مقدر؟

کامیاب ہوگا یا پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ تو وقت بتائے گا۔

Koh noor afsana by Maha Khan Bhittani

  • by

‘ بابا اپ کیوں چلے گئے بابا دیکھے اپ کی زینی کتنی تھک چکی ھے ھمیں اپ کی ضرورت ھے بابا ‘ تصور میں باپ کو مخاطب کرکے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

‘دیکھے ہم کتنے اکیلے ھیں کوئی نہیں ھے ھمارا اپ کی زینی ٹوٹ چکی ہے اللہ نے اپ کو ھم سے کیوں لے لیا کیوں بابا ہمارے پاس اور تھا ہی کیا’

Khudi afsana by Rida Maryam

  • by

مجھے کچھ نہیں سمجھ آرہی ۔ میں میں میں۔ کچھ بھی نہیں۔ آج میری میں نے مجھے زمین کے اوپر ہوتے ہوئے بھی زمین سے اندر اندر کہیں دھنس دیا ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میری ہر اگلی سانس آخری ہے۔

آج میری “میں” نے ، میری محبت نے میری خود سے محبت نے مجھے دو کوڑی کا کردیا۔

میرا دل ڈوب رہا ہے اور میرا دماغ وہ تو پھٹنے کو ہے۔ میں کس کو پکاروں ۔ ابو کو ، امی کو ، لالہ کو، یا اللہ کو؟

میں زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ رو رو کر میری آنکھیں سوجھ چکی تھیں۔ گرم سیال اب تک آنکھوں سے رواں تھا۔ اور دماغ صرف ایک نقطے پر منجمد تھا۔

Aur tum aaye by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

دل کی مطمئن کیفیت ، جو ہو گیا ہے اس پہ افسوس نہ کرنا جو ہونے جا رہا ہے اس کے نتائج کا ڈر نہ ہونا ھو گزر رہا ہے اس پہ لمبی سانس لینا ،اور کہنا زندگی تجھے میں نے بھرپور جیا تو ںے جو کیا تجھ پہ جچتا بھی ہے جو میں نے کیا میں ملال نہیں کرنا چاہتا ، بس اب دل آرام چاہتا ہے سکون قلبی، اکتاہٹ سے دور دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر بھی دیکھا میں نے خود کو بھیڑ میں گمنام بھی کیا مگر مجھے ڈھونڈںے فقط کچھ چہرے ہی آئے وہ کچھ شناسا تھے، مگر اپنوں نے ہی تو گمنام کیا وہ کہاں پھر سے خطرہ مول لیتے۔ مگر اب زندگی ساکت ہے اور میں مسکن نہ غم ہے نہ خوشی ہے نہ افسوس ہے ،نہ کوئی خواہش ، بس اب زندگی کے رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں یا اب مجھے رنگین سما بھاتا نہیں ہے ۔ بس جو بھی مجھے کچھ بھی حاصل نہیں ہے اور جو لا حاصل ہے وہ مقدر نہیں ہے ۔ بس یہی میری زندگی ہے، بغیر سر وساز کے، بغیر رازونیاز کے اک بے رونق مگر مطمئن زندگی۔۔۔۔۔