Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 166

Mubarra

Muhafiz by Mariam Fayyaz Complete novel

  • by

۔ داد؟ معصومہ نے حداد کو پکارا۔ جی جان حداد !! اعداد محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا۔ میں اپ کو بہت تنگ اور بے سکون کرتی ہوں نا۔ معصومہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی حداد نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر مسکرا کر بولا۔ بالکل بھی نہیں آپ کو ایک بات بتاؤں؟؟ جی !! معصومہ بولی۔ میرے لیے سکون کا مطلب آپ کا وہ تھوڑا سا وقت ہے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے۔ حداد اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تو معصومہ کا چہرہ کھل اٹھا اس نے جلدی سے اپنی دونوں باہیں حداد کے گرد پھیلائیں۔ مجھے اپ سے ڈھیر ساری محبت ہے کیا اپ کو بھی ہے مجھ سے محبت؟؟ دل میں نہ جانے کیا ایا کہ وہ پوچھ بیٹھی۔ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم مجھے نہ ملی ہوتی تو یہ راز مجھ پر راز ہی رہ جاتا کہ محبت کیسی ہوتی ہے۔ حداد صاف گوئی سے بولا تو معصومہ حیرت سے کچھ دیر ساکت نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی کیا وہ اسے اتنا چاہتا تھا۔ جانتی ہو تم کیا ہو میرے لیے؟؟ کچھ دیر خاموشی کی نظر ہوئے اور پھر حداد بولا۔ کیا ؟؟ معصومہ نے پوچھا۔ تم میرا قیمتی اثاثہ ہو!! حداد بھی اسے اپنی ایک بازو کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔

Shar by Kainat Shahid Complete novel

  • by

یہاں پر کوئ بھی نہیں ہے؟ تم بلا وجہ ہی کچھ زیادہ سوچ رہے تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا۔ اندھیرے کے باعث انکے چہرے واضح نہیں تھے۔

“ویسے بھی ابھی بوس نے پولیس سے بات کی ہے جب تک ہم ان سب کے سارے آرگنز نہ نکال لیں وہ یہاں نہیں آ سکتے۔ آخر کو انکو بھی تو اپنا حصہ چاہیے ۔ آخر میں لہجہ تمسخرانہ تھا۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انکی نظروں میں پولیس کی کوئ اوقات نہیں ہے۔”

“لیکن میں ابھی بھی یہ سوچتا ہوں کہ آخر مسلمان اپنا ایمان کیسے بیچ سکتا ہے؟ ہم تو غیر مسلم ہیں لیکن مسلمان اگر ایسے ہیں تو میں خوش ہوں کہ میں مسلمان نہیں ۔ ان میں سے ایک شخص بولا ۔”

“پیسے کی لالچ ہے آج ان سب مسلمانوں میں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس سب سے زیادہ ہو اور ہر کوئ ان کا محتاج رہے اور اس طرح انکی جھوٹی عزت کو مزید چار چاند لگ جائیں ۔ لہجے میں مسلمانوں کے لیے واضح طنز اور حقارت تھا۔جو کہ الماری کے پیچھے آحل اور آلیار نے بخوبی محسوس کیا ۔”

۔( پچھلی تمام انبیاء کی قوم میں صرف ایک برائ موجود تھی اور انکو تباہ کر دیا گیا جبکہ امت مسلمہ میں ان تمام قوموں کی برائیاں موجود ہیں لیکن یہ پھر بھی اس غلط فہمی میں ہیں کہ چونکہ یہ آپ صلوت سلام علیہ السلام کی امت ہیں تو یہ کنفرم جنتی ہیں۔ اور اسی بھول میں یہ قوم اخلاقی پستی کو چھو رہی ہے۔)

وہ آدمی تو اب جا چکے تھے لیکن ان اپنی باتوں سے دو نفوس کو شرمندگی کی انتہاؤں پر پہنچا چکے تھے ۔

اگر آج ہر شخص اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تواس معاشرے کو صحیح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ یہ سوچتے ہو کہ آپ پوری دنیا کو ٹھیک کر سکتے ہو تو یہاں پر آپ غلطی پر ہو پھر چاہے آپ جتنے مرضی بڑے عالم ہی کیوں نہ ہو ۔

ایک قول ہے:

کل تک میں چالاک تھا تو دنیا کو بدلنا چاہتا تھا لیکن آج میں عقلمند ہوں تو خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔

Maharib by Kanwal Hanif Complete novel

  • by

ہر کوئی محارب ہے۔ کوئی محبت کے لیے لڑرہا تو کوئی اپنے حق کے لیے تگ و دو کررہا ہے۔ اور کوئی خود سے جنگ کر رہا ہے ۔ کوئی اپنے آپ کو ہرانا چاہتا ہے ۔ زندگی کسی کے لیے بھی پھولوں کی سیج نہیں ہو سکتی ۔ زندگی ایسی ہی ہے ۔ ہم جنگوں کے دوران بہت کچھ کھو دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم خود کو کھو دیں تو سمجھ لیں ہم نے سب کچھ کھو دیا ہے ۔ کیونکہ جنگ عزت کی ہو یا محبت کی کو اس میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ آپ ہیں۔ زندگی میں چاہے بہت کچھ کھو جائے ۔ لیکن سب کچھ نہیں کھونا چاہیے ۔اور وہ سب کچھ آپ ہیں۔ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ زخمی ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ لیکن ان زخموں کو بھرنے نہ دینا صریحاً غلط ہے ۔ ہر جنگ کے دوران خیال رکھیں کہ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ اس ناول کا ہر کردار محارب ہے ۔ ہر کوئی جنگ میں ہے۔ کوئی خود سے تو کوئی کسی اور سے ۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کون اس جنگ کے دوران بہت کچھ ہارتا ہے اور کون سب کچھ ہی ہار دیتا ہے۔ دنیا کی سب سے مشکل جنگ وہ جو انسان خود سے لڑتا ہے ۔ اندرونی جنگ بیرونی زنگ کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

Teri Aarzo ki chah mein by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

”کیا مانگی گئی ہر دعا قبول ہو جاتی ہے کیا دعا میں مانگی گئی محبت مل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کسی بچے کی طرح اس سے سوال کر رہا تھا۔

آج سعد زید اُس لڑکی سے سوال کا جواب مانگ رہا تھا۔

جسے وہ کبھی اِمچیور کہا کرتا تھا۔

عفیرہ سعد کی بات کا مفہوم سمجھ کر مسکرا دی۔

”مانگی گئی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سچے دل سے مانگی جائے تو دعا لازم قبول ہوتی ہے۔ بس کبھی نا امید نہ ہونا اور اگر دعا قبول نہ ہو تو سمجھ جانا اس دعا کا صلہ اللہ قیامت کے روز آپ کو دے گا اور ضرور دے گا۔

اللہ تعالی کبھی اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ لیکن ایک بار اس سے دعا مانگ کر تو دیکھو اللہ اور بندے کے درمیان سب سے مضبوط کنکشن ہی دعا ہے۔ دعا نصیب بھی بدل دیتی۔

جب اللہ تعالی نے سورةالعمران میں فرمایا دیا کہ دعا پہاڑوں کو بھی ان کی جگہ سے سرکار سکتی ہے تو قبولیت کا شک تو بنتا ہے ہی نہیں ہے۔

جہاں تک بات محبت کی تو محبت سے صدق مانگتی ہے اور اگر محبت میں صدق نہ ہو تو وہ محبت نہیں

اُنسیت ہوتی ہے محبت اگر صدق کے ساتھ دعاؤں میں مانگی جائے تو محبت ضرور ملتی ہے دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر سعد سے کہا۔

”تو کیا میری دعا قبول ہو جائے گی؟ کیا تم مجھے میرے گزشتہ رویے پر معاف کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے ایک امید کے ساتھ عفیرہ سے پوچھا۔

”میں کبھی آپ سے ناراض نہیں تھی بس اپنے کم عقلی پر شرمندہ تھی۔ اور جہاں تک بات معافی کی تو میں کون ہوتی ہوں آپ کو معاف کرنے والی معاف کرنے والی ذات تو اللہ کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

”تو کیا تم ناراض نہیں ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے بغور عفیرہ کو دیکھتے پوچھا۔

”نہیں! کیونکہ مجھے یقین آگیا ہے“ عفیرہ نے سعد سے کہا۔

”کس بات پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے کچھ نہ سمجھی سے عفیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اس میں ہماری ہی بہتری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

”اچھا!۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آئی تھی۔

”ہاں نا! اب دیکھیں پہلے میں تھوڑی ڈر پوک تھی بات بات پہ رونے لگ جاتی تھی لیکن اب نہیں ڈرتی میں کسی سے کوئی کچھ کہہ کر جائے گا کدھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

” اور تھینک یو سعد۔۔۔۔۔۔۔۔“

”کس بات کے لیے۔۔۔۔۔“ابھی عفیرہ کچھ بولتی کے سعد اس کی بات کاٹتے ہوئے کہتا ہے۔

”یہ بتانے کے لیے ہم لڑکیاں بھی خود کچھ کر سکتی

ہیں۔ یہ بتانے کے لیے دنیا مطلبی ہے یہاں کوئی کسی کے آنسو نہیں دیکھتا۔

بلکہ مذاق اڑاتے ہیں تھینک یو عفیرہ عبید کو بدلنے کے لیے اگر آپ آج سے چھ سال پہلے مجھے وہ سب نہ کہتے تو آج میں باہمت نہ ہوتی“ عفیرہ نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

Dil o deewan by Eman Fatima Complete novel

  • by

یہ سٹوری ہے اپنے راشتوں کی کے انسان کو ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرنا چائیے جیسا بھی بنایا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مسلی ہات ہوتی ہے جاہا اپ کے کوئی خلاف ہوتا وہاں کوئی نہ کوئی اپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ضروری نہیں ہم جیسا جاہتے ویسا ہی ہو بس صبر کریں اس سے اچھا ملتا ہے اپ کو لوگوں سے زیادہ اللہ سے امید رکھیں انشاء اللہ کبھی مایوس نہیں کرے گا

Black monster by Zobia Ahmed Complete novel

  • by

دور ہٹو میرے شوہر سے خبر دار جو کسی نے بھی میرے ہاشم کو اب ہاتھ لگایا… مصباح کسی شیرنی کی طرح چیخی تھی..

روبو نے کنگ کو رسی سے باندھا تھا اسکے پیٹ پر گولی ماری تھی روبو نے ..

رر روز تت تم جج جاؤ یہاں سے … بلیک مانسٹر نے خون میں لت پتے ہوتے ہاتھوں سے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا…

چپ کرو تم ایک لفظ بھی اور کہا تو میں تمہارا اپنے ہاتھوں سے قتل کرونگی ویسے تو بڑے بلیک مانسٹر بن کر پھرتے ہو یہاں کیا ہوا اس …کتے سے مار کھا رہے تھے… مصباح ہاشم پر چڑ دوڑی تھی…

ہاشم تو بس اسکے تیور دیکھ رہا تھا…

اہہہ… مصباح کے بال ہنری نے پکڑے تھے…

تیری ہمت کیسی ہوئ مجھے دھکا دینے کی.. تیری بھی تیرے ہاشم جیسی ہالت کرونگا…

ہنری میم کو چھوڑ دو تمہاری لڑای ہم سے ہے نا تو ہم سے بات کرو انکو جانے دو… روبو نے گن اسکی جانب کی تھی…

مصباح نے موقع دیکھ کر اپنی ایک ٹانگ اسکے دوسری ٹانگ سے الجھا کر اسے منہ کے بل گرا تھا.. مصباح جلدی سے گن لی تھی…

روبو اپنے صاحب کو گاڑی میں بیٹھاو اور hospital پہنچاؤ.. مصباح جس انداز حکم دیا روبو کو لگا اب اصلی بلیک مانسٹر تو مصباح ہے…

میں نے کہا تھا نا میرے شوہر کو ہاتھ بھی مت لگانا ورنہ موت میرے ہاتھوں سے ہوگی تمہاری…میرے ہاشم کا تم ایک ایک خون کا حصاب دوگے… مصباح کے ہاتھ میں گن تھی جو سیدھا اسنے اسکے دل کا نشانہ لیا ہوا تھا…

Khalaa by Sumaika Yousaf Complete novel

  • by

“آپ کے اندر کا خلا کوئی نہیں بھر سکتا، سوائے اللہ کے۔ ” ” خلاء” یہ کہانی ہے صبر کی ، دوستی کی، ذی روح اور بدی کی ، بھروسے کی، محبت کی دو لوگوں کی جو زندگی کے سفر میں سیاہ اور سفید کردار کے مالک زندگی کے سفر میں بھٹکے ہوئے مسافر اپنی منزل سے بے خبر، تقدیر سے منہ چھپا کے فرار ہونے والے،

Sarab by Aqsa Muhammadi Complete novel

  • by

میں آج آپکی بیوی لگ رہی ہوں لیکن تم اب بھی میرے شوہر نہیں لگ رہے. فجر نے بھی اس کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر شہریار نے برا سا منہ بنایا تھا. ہایے کتنی ان رومینٹک بیوی ملی ہے مجھے اور ساتھ میں کنجوس بھی. شہریار نے دہایی لی تھی اور اسکے کنجوس کہنے پر فجر کی آنکھیں پھیل گیی تھی. کیوں میں نے کیا کنجوسی دکھائی ہے. فجر اسکے تھوڑا قریب ہوکر تندہی سے بولی تھی. ہاں تو ہو نا تم کنجوس اتنا تو نہیں ہوتا تم سے کہ بے چارے شوہر کی تھوڑی تعریف ہی کرلو. یہ دیکھو اپنے اردگرد ساری لڑکیاں کیسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے مجھے اور ایک تم ہو.. شہریار نے اسے جلاتے ہوئے کہا تھا جس میں وہ کامیاب ہو بھی گیا تھا. ہاں تو جاؤ نہ انکے پاس میرے ساتھ کیوں کھڑے ہو جاؤ ان کے پاس.. فجر غصے سے بولی تھی. ٹھیک ہے وایفی جیسے آپکی مرضی. شہریار معصوم سا منہ بنا کر آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ فجر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا. شہریار نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا. وہ جو سامنے لڑکی ہے نہ اسکے ساتھ جو لڑکا بیٹھا ہے اس کا نمبر بھی لیتے آنا. فجر نے معصومیت سے کہا تھا اور شہریار جو کچھ اور ہی سننے کے لیے رکا تھا اسکی بات پر اسکی آنکھیں سرخ ہوگیی تھی. شہریار نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی تھی اور اس کے قریب ہوا تھا. تم میری ہو سمجھی صرف اور صرف شہریار آفندی کی. شہریار اسی طرح سرخ آنکھیں لیے کہہ رہا تھا. اور تم بھی میرے ہو سمجھے صرف فجر ملک کے. فجر بھی اسی کے انداز میں بولی تھی. شہریار کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی.

Sakoon e raqsam by Maha Shah Complete novel

  • by

دعا ابھی تک تمہارے نخرے ختم نہیں ہوئے ۔ مسز آصف نے اس کو وہی بیٹھے دیکھ کر پوچھا ۔ ہممم یار مما نیند آرہی ہے ۔ اس نے جمائی کے کر کہا ۔ تم نے لگتا ہے آج بھی جاری کھانی ہے ؟؟ مسز آصف نے کہا تو اس نے منہ کا پاؤٹ بنایا ۔ اندر آتے آصف سائیں نے اس کی حرکت پر قہقہ لگایا ۔ دعا ان کو دیکھ کر ان کی طرف دوڑی آصف سائیں نے اپنی بانہیں واہ کی وہ دوڑ کر اس میں جا سمائی ۔ بابا سائیں کہا تھے آپ ؟؟ دعا نے ان سے پوچھا ۔ بیٹا میں باہر انتظام وغیرہ دیکھ رہا تھا ۔ انہوں نے اس کا ماتھا چوما ۔ اب بتاؤ کیوں تیار نہیں ہورہی ؟ آصف سائیں نے پوچھا تو وہ مسکرائی آپ کا انتظار کررہی تھی آپ سے مل کر جاؤ گی نا ۔ دعا نے کہا تو دونوں مسکرائے ۔ اچھا چلو اب دیر ہورہی ہے اور اپنے دادا سائیں سے ملتے ہوئے جانا ۔ انہوں نے کہا تو وہ سر ہلا کر کمرے نکلی ۔

Jugnoo by SJ Writes Complete novel

  • by

آپی پارٹی کب ہے…؟

وہ جو اپنے ہی خیالوں میں گُم تھی…اُس کی بات پہ اچانک چونکی تھی…

پارٹی بہت جلد..میرے غلاب جامن..

آپی…

وہ جو مزے سے پارٹی لینے آیا تھا..

غالب جامُن سن کے اُس کا پارہ ہائی ہوا تھا…

آپی…

سب سے پہلے تو میرا نام “بُرہان جاوید” ہے…

اور سوسری بات عمر میں چھوٹا ہوں تو کیا قد میں آپ سے بڑا ہوں..

اور رنگ روپ میں بھی آپ سے گورا…

لہذا اب آپ مجھے غُلاب جامُن نہیں کہہ سکتی…

سمجھی آپ….وہ باقاعدہ اُنگلی اُٹھا کے بولا تھا…

عین نے اُس کی پوری بات سُنی تھی…

اور آخر میں آہستہ سے بولی تھی…

پارٹی چاھئے…؟

کیا عین آپی..

اب چھوٹا بھائی مذاق بھی نہیں کر سکتا..