Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 168

Mubarra

Mila jo tera sath mujhy by Faria Ghazi Complete novel

  • by

“یہ جاسم اقبال تیرا کیا لگتا ہے؟”

عالیان کا ساتھی بائیکر اس کے پاس کسی کام کے سلسلے میں آیا اور وہیں لائونج میں کزنز کی رونق کی شادی پر لی گئی گروپ فوٹو دیکھ کر وہ چونکا اور پوچھے بنا نا رہ سکا۔

“ایک نمبر کا ایڈیٹ اور فراڈ ہے۔”

عالیان نے دانت پیس کر کہا۔

“یہ بھی تو بائیکر تھا۔” کاشف نے اسے آگاہ کیا۔

“کیا بات کر رہا ہے۔ یہ نائن ٹو فائی جاب کرتا ہے۔ کوئی بائیکر نہیں ہے یہ۔” عالیان نے اس کی بات کا کوئی اثر نہیں لیا۔

“ارے میں کیا جھوٹ بول رہا ہوں۔ اور اس کا نام بھی کیا غلط بتایا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں سو فیصد یقین سے کہہ رہا ہوں۔ اس کی میرے کلب میں پکچرز موجود ہیں۔ چیمپئن تھا اپنے ٹائم کا۔ بہت ٹریجڈی ہوئی تھی اس کے ساتھ بس تب سے یہ منظرسے غائب ہے۔”

“کیسی ٹریجڈی؟”

یونیورسٹی میں اسے اپنی کلاس فیلو سے بڑا زرو و شور کا عشق ہوگیا۔ آئی تھنک نبیلہ۔ ۔ ۔(اس نے کچھ وقت سوچا) ہاں یاد آیا نائلہ نام تھا۔ دونوں کی محبت کے چرچے پوری یونیورسٹی میں مشہور تھے۔ لیکن لڑکی کے والدین اس بائیکر سے کو اپنی بیٹی دینے کے حق میں نہیں تھے۔ بہت کوششوں کے باوجود جب وہ راضی نہیں ہوئے تو دونوں نے کورٹ میرج کا سوچا اور لڑکی اپنے والدین کو چھوڑ کر اس کے پاس آگئی۔ لیکن قسمت ان پر مہربان نہیں تھی۔ جس دن یہ کورٹ جارہے تھے راستے میں دونوں کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ پھر اس کے بعد اسے کسی نے ریسنگ کرتے نہیں دیکھا۔”

“”تُو یہ سب کیسے جانتا ہے؟

“میرے کوچ اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے ہی ہمیں اس کی ٹریجک لوو اسٹوری سنائی ہے۔”

Aansoo bolty hain afsana by Muqadas Qudrat Ullah

  • by

محبت ہونا فطری امر ہے۔ کبھی کسی بچے سےہو جاتی ہے,

کبھی کسی پرند چرند سے ، کبھی کسی دوست سے…..

محبت ہونے کی پندرہ وجوہات بیان کی جاتی ہیں ۔ اس میں سے ایک وجہ بھی آپ کی ذات کے ساتھ یا اس کے کسی ایک حصے کے ساتھ مماثلت اختیار کر جائے تو محبت ہو جاتی ہے۔ اب یہ بعد کا معاملہ ہے کہ محبت کو کیا رنگ دیا جاتاہے,بغاوت کا یا پھر حلال سفر کا ۔

وہ اپنی خوبصورت آواز اور خوبصورت الفاظ سے سحر طاری کر رہی تھی. کچھ لمحوں کے لئے ضامن بھی بھول گیا تھا کہ اس کے علاوہ بھی ارد گرد کوئی ہے ۔

محبت ہونا اختیار میں نہیں ہے, محبت کے بعد کا معاملہ آپ کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ اپ چاہیں تو حرام کر دیں اور چاہیں کو حلال کر دیں ۔

میں کوئی فلمی کہانی سنا کر داد وصول کرنے نہیں آئی میں ایک حقیقت کو آج کے زمانے کے مطابق بتانے کی کوشش کرنا چاہ رہی ہوں ۔

Gumnam sitary short novel by Ambreen Nazar

  • by

کامران صاحب پولیس میں بطور سپاہی فائض تھے

وہ ایک بہادر پولیس افیسر تھا۔ان کے ماں باپ وفات پا چکے تھے وہ اپنی بیگم زینب اور ایک سالہ بیٹا ارحم کے ساتھ ایک مڈل کلاس ایریا میں رہتے تھے۔

بہت سے نامر دہشت گردوں کو خاک میں ملانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

ایک دن ان کے تھانے اطلاع ائی کہ کچھ دہشت گرد ایک ٹرک کے ذریعے اسلحہ سمگلنگ کر رہے ہیں۔

اس پر کامران صاحب اور ان کے ساتھیوں نے فوری عمل کیا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے۔

لیکن پھر جو اللہ کو منظور ان دہشت گردوں کے خاتمے میں کامران صاحب اور ان کے تین اور ساتھی شہید ہو گئے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ خبر زینب بیگم پر پہاڑ بن کر ٹوٹی انہوں نے بہت مشکل وقت دیکھا ۔حکومت کی طرف سے ان کو کامران صاحب کی تنخواہ ملتی رہی جن سے وہ اپنا اور اپنے بیٹے کا گزر بسر صبر اور شکر کے ساتھ کرتی رہیں۔

Aswad afsana by Ayesha Muneer

  • by

یہ کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو مایوسی کے دلدل میں پھنسے ہوۓ تھا پھر خدا نے اسے ہدایت دی یہ کہانی ہے دوستوں کی یہ کہانی حسین یوسف کی یہ کہانی ہے یوسف کی نور کی یہ کہانی ہے یوسف اور نور کی ۔۔۔

ایک نابینا لڑکے کی مایوسی سے امید کا سفر

Badalti rahen by Sehrish Butt Complete novel

  • by

تمہیں اپنے لفظوں میں اتنی گہرائی سے لکھوں گی کہ پڑھنے والے کو تم سے ملنے کی طلب ہوگی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہ ناول ایک ایسے کردار کی داستان ہے جو اپنی زندگی کی تیز رفتار بھاگ دوڑ میں یہ بھول جاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک حقیقی مالک اور خالق ہے۔ دنیا کی وقتی چمک دمک، عارضی خواہشات اور محدود کامیابیاں اس پر اس قدر غالب آجاتی ہیں کہ وہ اس ذات کو فراموش کر بیٹھتا ہے جس کے ہاتھ میں اس کی تقدیر ہے۔

مگر زندگی ہمیشہ ایک ہی ڈگر پر نہیں چلتی۔ دنیاوی راستوں پر بھٹکتے ہوئے جب وہ اپنی دنیا میں پوری طرح کھویا ہوا تھا، تو اچانک اس کی زندگی میں ایسے حالات نمودار ہوتے ہیں جو اسے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ “بدلتی راہیں” اسی اہم تبدیلی کا ذکر کرتی ہے، جہاں دنیا کی فانی رنگینیاں اپنی حقیقت کھونا شروع کرتی ہیں، اور اس کی زندگی کے راستے ایک نئے رخ پر مڑنے لگتے ہیں۔

یہ کہانی اس اندرونی تبدیلی کا سفر ہے، جہاں وہ آہستہ آہستہ اپنی گمشدہ حقیقت کو دوبارہ یاد کرتا ہے۔ اب دنیاوی کامیابیاں اس کی نظر میں اتنی اہم نہیں رہتیں، بلکہ اس کا دل اُس ابدی سکون کی طرف مائل ہوتا ہے جو صرف اللہ کی قربت میں ہے۔ وہ زندگی کے نشیب و فراز میں اللہ کی ذات کی طرف پلٹتا ہے، اور اس سفر میں صبر، شکر، اور ایمان کی طاقت کو بڑے دلنشین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ “بدلتی راہیں” ایک ایسی داستان ہے جو قارئین کے دلوں کو یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ چاہے دنیا کے راستے کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو جائیں، اللہ کا راستہ ہمیشہ واضح، روشن، اور ہدایت بخش ہوتا ہے۔ اس ناول میں ہدایت اور سکون کی تلاش کا سفر انتہائی خوبصورت اور گہرے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو دلوں کو چھو لیتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Dushman e nafs by Saira Ramzan Complete novel download pdf

  • by

زایان تمیں چاہیے کہ تم اس سے آج اظہارِ محبت کر دو آخر کب تک اسے انجان رکھو گے ۔کیا تم یک طرفہ محبت کرنا چاہتے ہو۔۔ فلک اور عشوانی حال کے سائیڈ ایئریا پر کب سے اسے سمجھائے جا رہی تھی کہ آج وہ اپنے جذباتوں کو محالفہ کے سامنے بیان کرے کہ وہ اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہے۔۔

تم دونوں سمجھ نہیں رہی میں فی الحال ایسا نہیں کر سکتا!! اس نے چڑ کر کہا تھا.۔۔

کیوں نہیں کر سکتے کب بتاؤ گے اسے جب وہ کسی اور کی ہو جائے گی؟؟

نہیں ہوگی وہ کسی اور کی وہ میری ہوگی بلکہ وہ میری ہی ہے۔۔

عشوانی کی بات کاٹتے اس نے جیسے خود کو بھی یقین دہانی کروائی تھی۔

دیکھئے زایان بھائی آپ کو دیر نہیں کرنی چاہیئے ایسے معاملات میں دیری اچھی نہیں لگتی۔

فلک نے نرم لہجہ اختیار کیا۔

مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر اس نے انکار کر دیا تو میں اس کے انکار کے ساتھ کیسے جی پاؤں گا؟؟

زایان اب رو دینے کو تھا ۔

نہیں ایسا نہیں ہوگا آپ ایک بار ٹرائی تو کریں فلک کے کہنے پر اس نے ہاں میں گردن ہلائی مگر اس کا ڈر قائم تھا وہ پچھتانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس جنون کی حد تک عشق کرتا ہے وہ عشق میں تڑپتا ہے دن رات اس کے ساتھ خواب سجاتا ہے وہ اس کے دل و دماغ پر حاوی ہونے لگی ہے اور وہ اسے آج یہ سب بتا دینے کا ارادہ رکھتا تھا آر یا پار ۔۔ وہ اس کے انکار کو سننے کے بعد دوبارہ جی پائے گا یا نہیں وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا وہ ان کے ساتھ گارڈن ایریا میں انٹر ہوا۔ عشوانی اور فلک اس کی جانب بڑھ گئے مگر محالفہ نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا۔۔