Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 170

Mubarra

Khawabon ka musafir by Mujtaba Complete novel

  • by

خواب اور خواہش ہر انسان کے ہوتے ہے۔ چاہے وہ کوئی 10 سال کا بچہ ہو یا 60 سال کا بزرگ۔ اور ہر کوئی اپنے خواب اور خواہشات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ وہ دو چیزیں ایسی ہوتی ہے جن کے پورا ہونے کے بعد جو خوشی انسان کو ملتی ہے اُس کا کوئی ٹھیکانہ نہیں ہوتا۔آپ اور آپ کے نزدیک کافی لوگ ایسے ہونگے جن کی زندگی کا سب سے اچھا دن جسے کبھی بھلایا نہ جا سکے (unforgettable) وہ دن وہی ہوگا جب ان کا کوئی خواب یا کوئی خواہش پوری ہوئی ہوگی۔ انسان کبھی نہیں چاہتا کے اُس کا کوئی خواب ادھورہ نہ رہ جائے مگر انسان کے بہت سے خواب اور خواہشات پوری نہیں ہوتی۔ لیکن آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہئے کیوں کے ہماری زندگی میں ہمیں وہ ہی ملتا ہے جو ہمارے لیے بحتر ہوتا ہے۔ انسان جب بچہ ہوتا ہے اُس کے کافی خواب اور خواہشات ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے اس کے خواب اور خواہشات بھی پہلے جیسی نہیں رہتی اور کافی جیزیں ایسی ہوتی ہے جو وہ نہیں کر سکتا لیکن ایسا بلکل نہیں ہونا چاہیے کے وہ یہ سوچتا رہے کہ وہ کوئی کام نہیں کر سکا کیونکہ اُس درمیان ہم بہت سی اور جیزیں بھی حاصل کرتے ہے۔ انسان کو ہمیشہ (positive) سوچنا چاہیے۔ اور ہر وقت ہر حال میں اللّٰہ تعا لیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

Miyaar short story by Kainat Shahid

  • by

” قتل میں نے نہیں کیا آپ نے کیا ہے۔” اس کے یہ الفاظ وہاں پر موجود ہر شخص کو حیران کر گئے ۔

” تم اپنے ہوش میں تو ہو؟ ” جج نے بے یقینی کی حالت میں پوچھا ۔

” میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا بلکہ آپ نے کیا ہے ، اور نہ صرف آپ نے بلکہ اس کے ملک کے تمام امرا نے کیا ہے۔ ” مقابل نے بالکل پر اعتماد جواب دیا۔

وہاں ہر ہو کوئ ساکن تھا کیونکہ کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر مقابل کیا کہہ رہا ہے؟ وہ کہہ رہا ہے کہ قتل اس نے نہیں بلکہ باقی سب نے کیا ہے، جبکہ سارے ثبوت اس کے خلاف ہیں ۔ کسی کو بھی اس کی بات سمجھ میں نہ آئ ۔

” کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہم نے قتل کیسے کیا؟” جج نے تمسخرانہ لہجے میں پوچھا۔

Zindagi azmaish hai magar by Fazila Abdul Qadir Complete novel

  • by

وہ شاید ام الخبائث پینے میں مصروف تھا،
“بس کرو اب یہ ماتم۔۔۔۔۔” گلاس رکھ کر وہ مڑا
“ہو گیا نا جو ہونا تھا۔۔۔۔ اب؟۔۔۔کیا اب بھی یہ پاکبازی کے ڈرامے کرنے ہیں” برے موڈ میں کہتا ہوا وہ آگے بڑھ رہا تھا اور عین اس پر آکر جھکا۔۔۔ عائشہ نے پھر سے جیسے خود کو بچانے کی کوشش کی ۔۔۔
گلے میں لٹکا اسکا سانپ والا لاکٹ اس کے منہ پر گر رہا تھا بے بسی سی بے بسی تھی
“ڈیمانڈ کرلو۔۔۔۔ میں اب بھی پے کرنے کو تیار ہوں، میں یہ سب نہیں چاہتا تھا، تمہیں میری ماں کو گالی نہیں دینی چاہیے تھی۔۔۔۔میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔” وہ گلٹ میں لگتا تھا۔۔۔۔۔۔عائشہ خود نشے کی وجہ سے مفلوج تھی لیکن عزت پر وار ایک عورت کے لئے کاری ہوتا ہے۔۔۔ عائشہ نے اسکے منہ پر تھوکا اور منہ پر لگتا وہ لاکٹ ایک جھٹکے میں کھنچ کر پھینکا