Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 171

Mubarra

Raah e malal by Dua Aslam Complete novel

  • by

حریم خان ۔۔۔۔” اس کی نگاہیں اس خط پر مرکوز تھی

میں امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوگی۔۔۔۔؟؟( اس کا دل چاہا وہ کہہ دے میں خیریت سے نہیں ہوں ) جب تک آپ کے ہاتھ میں یہ خط آئے گا تب تک شاید میں اس دنیا میں نا ہوں اور اگر ہوا بھی تو شاید اس شہر اور ملک میں نا ہوں۔۔۔” میرا فون گم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں تم سے کانٹیکٹ نہیں کر سکا اور نا مجھے تمہارا نمبر یاد تھا ۔۔۔۔۔” اسے لگا وہ اس کے سامنے کھڑا اسے خود کہہ رہا ہے ۔۔۔۔” میں جانتا ہوں میں وعدہ نہیں نبھا سکا میں نہیں آسکا میرے لیے حالات بہت تنگ ہو گئے تھے اسوقت میں بہت پریشان تھا حریم اور سوچ رہا تھا کہ اگر میری دوست حریم اگر یہاں ہوتی تو میری پریشانیوں کو گولی مار دیتی ۔۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس کی نم آنکھیں مسکرائی تھی۔۔) مگر افسوس تم یہاں نہیں ہو میں جانتا ہوں ہم دونوں دوست تھے ، ہے اور ہمیشہ رہے گے۔۔۔۔”( وہ دوستی کی بات کر رہا تھا یہاں تو حریم خان کو اس سے چاہت ہو گئی تھی۔.) ۔۔۔۔۔پھر ہم ساتھ ہو یا نا ہو ۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس نے آنکھیں درڈ سے میچی تھی اور ایک آنسوں ٹوٹ کر خط پر گرا تھا۔۔۔) حریم میں تم سے معافی چاہتا ہوں میں نہیں آسکا اور شاید نا آسکوں مجھے معاف کر دینا اس خط کے ساتھ جو چیز میں نے رکھی ہے وہ مجھے بہت عزیز ہے اور اپنی عزیز چیز میں تمہارے حوالے کر رہا ہوں پتا نہیں یہ خط تمہیں ملے گا بھی یا نہیں یا تم مجھے بھول جاؤ گی …( وہ بھولنے کی بات کر رہا تھا اور وہ تو ان پانچ سالوں میں جسے نہیں بھولی تھی وہ داؤد رحمان تھا۔۔)اور میں جانتا ہوں حریم خان داؤد رحمان کو دوستی کے لیے معاف کر دے گی وہ داؤد رحمان کی طرح دوستی کا بھرم نہیں توڑے گی۔۔۔” خدا حافض “( آخری الفاظ پڑھتے وقت اس کا دل چاہا وہ اس خط میں سے داؤد رحمان کو نکالے اور کہے ایسے کیسے تم خدا حافض کہہ سکتے ہو ) ۔۔۔دو تین سطر چھوڑ کر لکھا تھا تمہارا دوست ۔۔۔۔” اور اس سے نیچے لکھا تھا ۔۔۔” داؤد رحمان ۔۔۔۔” نام کے ساتھ مورخہ لکھی تھی۔۔۔٫” تین جولائی 2019۔۔۔” ( ایک سحر تھا۔جو ٹوٹا تھا ) اس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر خط پر گر رہے تھے وہ اس خط کو پکڑے نیچے بیٹھتی چلی گئی اس نے خط کے ساتھ رکھی چیز کو دیکھا وہ ایک رنگ تھی اس پر ڈی لکھا ہوا تھا وہ خط کو اور اس رنگ کو پکڑے مرے ہوئے قدموں سے باہر آئی تھی باہر اندھیرا چھانے لگا تھا اسے سنبل نے ایسے دیکھا تو فورا اس کی طرف لپکی ۔۔۔۔” کیا ہوا ۔۔۔۔؟؟

Man mehran afsana by Rushna Akhter

  • by

بھابھی میری پھول سی بچی___ یہ کہہ کہ چچی پھر سے آنسو بہانے لگیں ۔

“اللّٰہ خیر کرے کیا ہوا مومنہ کو” ؟ حمیدہ خاتون نے پوچھا ۔

بس بھابھی میری معصوم سی بچی رل گئی ۔ مجھے میری بیٹی سے ملنے نہیں دے رہے ۔ کئی بار ان کے گھر گئی فون پر رابطہ کیا لیکن میری بات تک نہیں کروائی ۔محلے داروں سے پوچھا تو وہ انہوں نے بتایا کہ ولیمے کے دس بارہ دنوں بعد ولید اور مومنہ گاڑی میں کہیں جارہے تھے ۔ ہم نے سمجھا کہ شاید سسرال یا کہیں گھومنے پھرنے جارہے ہوں گے۔ چچی پھر سے رونے لگیں ۔

” اللّٰہ رحم کرے اور مومنہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے “۔ امی پریشان ہوگئیں تھیں ۔ صرف یہی نہیں آج صبح جب میں ان کے محلے میں گیا تو معلوم ہوا کہ ولید کے والدین بھی محلہ چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ سب محلے داروں سے ان کے متعلق پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئے ۔ نصیر احمد نے مایوس انداز میں بتایا ۔ حزیمہ کو بہت افسوس ہوا ۔

ابو کو معلوم ہوا تو سب کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے بھائی کی طرف چلے آۓ ۔

بھائی صاحب معاملہ تو بہت سنگین ہے سچ پوچھیں تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ پتہ نہیں مومنہ کس حال میں ہوگی؟ شبیر احمد نے کہا ۔

خدا کے لیے کچھ کریں ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں دور نکل جائیں ۔ حمیدہ خاتون نے پریشانی کے عالم میں کہا ۔

مومنہ کی تلاش شروع کردی گئی تھی پولیس تھانہ غرض ہر جگہ کوشش کی مگر سنوائی تو پیسے کی ہی ہوتی ہے نا۔ پیسہ اگر پانی کی طرح بہایا جاۓ تو پردیس میں گرا سکہ بھی مل جاتا ہے لیکن چچا کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی سب مومنہ کی وی آئی پی شادی پر خرچ کر چکے تھے سو اب صرف رب کا سہارا تھا ۔

امی نے سارا معاملہ رفیق ماموں کو بتایا ۔ رفیق ماموں پولیس تھانہ میں کلرک تھے ۔ انہوں نے اپنے ساتھی افسر کی منت سماجت کی تو کارروائی کی گئی اور مومنہ گھر واپس آگئی ۔ کھوج کرنے پر معلوم ہوا کہ ولید اور اس کے والدین کسی گینگ کے لیے کام کرتے تھے جو امیر ہونے کا ڈرامہ کر کے لوگوں کو لوٹتے تھے ۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ وقت پر کارروائی ہو گئی اور مومنہ ان کے چنگل سے آزاد ہوگئی ۔اتنے بڑے صدمے کے بعد تو مومنہ تو جیسے ہنسنا ہی بھول گئی تھی ۔

Kasuri methi by Naina Malik Complete novel

  • by

زندگی میں ہمیشہ انسان کو دو مائیں ملتی ہیں۔۔۔۔ایک وہ جو حقیقی ہے اور ایک وہ جو ٹوٹ جانے پر بڑی محنت سے سمیٹ کر دوبارہ زندگی بخشتی ہے۔۔۔۔۔۔ مگر پلاٹ ٹوسٹ تو یہ تھا کہ مجھے زندگی دینے والی دوسری ماں ہی وہ عورت تھی جس نے مجھ کو توڑا تھا۔۔۔۔۔توڑ کر بکھیرا تھا۔۔۔۔پھر بڑی خوبصورتی سے سمیٹا تھا۔۔۔۔۔ مانو ایسے ٹوٹنے کی خاطر میں ہزار دفعہ اپنے رب کے آگے بھیک کیلئے جھولی پھیلاؤں۔

انسان کو اپنی تکمیل کی خاطر زندگی میں ایک بار ٹوٹنا لازم ہے۔۔۔۔۔ ٹوٹ کر بکھر جانا ۔۔۔۔۔ اور پھر ؟ اور پھر کوئی آکر آپ کو یوں سمیٹ دے جیسے آپ کبھی ٹوٹے ہی نہ تھے ۔