Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 171

Mubarra

Yeh hain qismat ke faisly by Rida Bint e Tahira Complete novel

  • by

مجھے تمھاری پل پل کی خبر ہے اور یہ تم حنید کے ساتھ گھوم رہی بند کر دو مجھے ذرا بھی پسند نہیں ۔

اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے۔

وہ کہتی ہے

کیسا فیصلہ

کی ہمارا نکاح آج ہی ہوگا۔

ماہا ہونقوں کی طرح دیکھتی ہے ۔

یہ کیا کہہ رہے ہو۔

وہی جس کے لیے میں نے بیس سال انتظار کیا ۔

ماہا نے محسوس کیا کہ اس نےیہاں آکر کتنی بڑی غلطی کر دی۔

ایسا نہیں ہو سکتا۔

تم ایک دوکھے باز انسان ہو۔

تم نے مجھے یہاں کسی ثبوت کے لیے بلایا تھا ۔

وہ مسکراتا ہے ۔

کون سے اور کن ثبوتوں کی بات کر رہی ہو۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میری دسترس سے بھاگ نہیں سکتی ۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں ۔

یہ جتنے دن تم نے موج مستی کرنی تھی کر لی اب تم میری ہوں۔

تم میرا عشق ہو بچپن کا ۔

اتنے نازو سے رکھا ۔ آمنہ نے عابد نے ایک آنچ نہیں آنے دی ایک کلی کی سینچا۔

وہ چینخ کر کہتی ہے نام مت لو ان کا میں مر گئی ان دونوں کے لیے۔

ماہا اس وقت جتنی بے بس تھی وہ کبھی نہیں ہوئی کس کو بتاتی ۔

اس دنیا میں ہر کوئی اسے مطلبی لگتا تھا لیکن آج اسے حنید کی یاد آرہی تھی ۔

وہ بڑی مضبوط بن کر کہتی ہے میں یہ نکاح نہیں کروں گی ۔

جس کو تم عشق کہہ رہے ہو وہ تمھاری ضد ہے اور کچھ نہیں ۔

میرے ماما بابا سے مجھ کو دور کر دیا ۔ ساری زندگی میں ان سے دور رہی اور جنہوں نے مجھے پالا بڑا کیا کسی ماں کا پیار جھوٹا کیسے ہو سکتا ہے اور کوئی باپ اولاد کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔

صرف تمھاری وجہ راحیل شاہ صرف تمھاری وجہ سے مجھے تم سے بہت نفرت ہے ۔ اور شادی کا کہہ رہے ہوں ۔

٭٭٭٭

Jory asmano pe banaty hain by Laiba Yousaf Complete novel

  • by

۔”تمہیں منع کیا تھا یہاں مت آنا ۔”دانیال نے کہا تو منہال کو لگا ہاں وہ صحح کا اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔

۔”میری ۔۔ میری تصاویر وہ. ہٹا دو ۔”وہ اٹھتے ہوئے بولی ساتھ ہی نقاب بھی درست کر چکی تھی مگر اسے یہ بے معنی لگا وہ شخص جب چاہے اسے دیکھ سکتا تھا پھر وہ کیسے اس سے پردہ کرتی ۔

وہ یہی تو نہیں چاہتی تھی ۔ کسی غیر محرم کے خیالات کا مرکز بننا ۔

۔”کمرے سے تو ہٹا دوں گا دل پر سے کیسے ہٹاؤں ۔”وہ پوچھ رہا تھا بےبسی اس کی آواز سے عیا تھی مگر وہ کیا جواب دیتی ۔

۔”یہ غلط ہے تمہیں کوئی حق نہیں ہے ۔”منہال نے کوشش کی وہ روئے نہیں مگر آنسو کب ہماری سنتے ہیں ۔

۔”میں یہ گھر بیچ دوں گا ۔”دانیال نے جیسے حل نکالا ۔

۔”تم شادی کر لو ۔”منہال نے ایک اور حل پیش کیا ۔

۔” میں کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتا ۔”وہ زینے اترتے بولا ۔

۔”جب تمہاری زندگی میں کوئی آئے گی تو تم بھول جاؤ گے سب ۔ میں بھی تو بھول گئی سب ۔”وہ اب اسے حجت دے رہی تھی ۔

۔”تم نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی تھی ۔”بولتے پھیکا سا مسکرا دیا ۔

۔” ہاں مگر تمہاری بیوی کرے گی ۔ تم کوشش تو کرو ۔”

“تو کیا کسی سے بھی شادی کر لو ۔”

“نہیں تم بتاؤ تمہیں کیسی لرکی چاہیے میں ڈھونڈوں گی نہ ۔”منہال جلدی سے بولی تبھی دانیال کے قدم رکے وہ پلٹا تھا منہال کی تمام تر توجہ اس پر تھی ۔

۔”منہال دانیال اسفندیار ۔”وہ بولا تو منہال کو پہلی دفہ رات کی گہری خاموشی سنائی دی تھی ۔ وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر تھا ۔

اس کی وہ سرخ آنکھیں ۔ پیشانی پر بکھرے بال ۔نم پلکوں کا خم اس پر سیاہ پیوپل کے گرد سرخی منہال نے نظریں چرائی ۔وہ آنکھیں کسی پر بھی سحر کر سکتی تھی ۔

۔”مگر شیطان گمراہ کر سکتا ہے ۔” حسن کے الفاظ سماعت سے ٹکرائے تو منہال کے منہ سے “توبہ”کا لفظ پھوٹا ۔

دانیال مسکرا دیا ۔

۔”تمہاری یہی بات تو متوجہ کرتی ہے مجھے جتنا میں نے تمہارے پیچھے خود کو زلیل کیا ہے اگر کسی اور کے پیچھے جاتا وہ نہ صرف مجھے سوچتی بلکے اب تک میری ہو چکی تھی ۔

۔”ہم پہلے جیسے رہ سکتے ہیں ایک دوسرے کو تنگ کرنے والے کزنز ۔ کرائم ہاٹنرز ۔ “منہال نے اک آس سے کہا مگر وہ خاموش ہو گیا وہ آخری زینے پر رکا ۔

۔”ہم دوست بن سکتے ہیں”منہال نے ایک اور آپشن دیا ۔

۔”اب تمہارا دوست ناراض نہیں ہوگا کیا ۔”دانیال نے پرانی بات کا حوالا دیا۔

۔”نہیں میرے جزبات بدل چکے ہے ۔ ویسے بھی ہماری تربیت ایسی نہیں ہوئی ہمارے ہاں لرکا لرکی میں شوہر اور بیوی کے علاوہ صرف ایک رشتہ ہوتا ہے ۔ اور میرے جزبات اس سے بہت الگ ہے ۔”وہ بولا تو منہال نے اس کی پشت کو دیکھا ۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔

Humrah by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“ہاں ہالہ، یہ کیا کہہ رہا ہے شاہ نواز؟؟

ایک بات سن لو میری اگر اس نے تمہیں چھوڑ دیاتو میرے پاس آنے کی زحمت بھی مت کرنا” اسکے ہیلو کہنے سے پہلے وہ شروع ہو چکے تھے۔

” بتایا ہے ا س نے مجھے ، اپنی ماں کی طرح نکلی تم بھی اس نے بھی کبھی میرا ساتھ نہیں دیا تھا۔

تم بھی اسی کی طرح شوہر کو خاطر میں نہیں لاتی ہو۔

تمہیں بھی جانے دیتا میں اس دن تمہاری ماں کے ساتھ، جیسے ژالے چلی گئی تھی”وہ آگے اور بھی کچھ کہتے رہے تھے۔

مگر اس کا دماغ ماں اور ژالے میں اٹک گیا تھا۔

اسکی ماں کہاں تھی؟؟

اور ژالے کون تھی؟؟

اس سے پہلے کے وہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتی، علی الصبح اسے طلاق کی رجسٹری موصول ہوئی تھی۔

جس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے وہ گھر چھوڑ دیا تھا۔

چلتے چلتے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی ۔

وہ پاس سے گزرتی ایک بس میں سوار ہو گئی تھی۔

یہ جانے بغیر کے اسکی منزل کیا ہو گی

“کل بازار میں تم نے اسی کو دیکھا تھا نا؟” اس کے پوچھنے کی دیر تھی۔

اور ہالہ کا اپنے آنسوؤں پر اختیار نہ رہا تھا۔

“اوہوں ۔۔۔رونا نہیں جو کہنا ہے آج کہہ دو،وہ کیا چیز ہے جو تمہیں مکمل خوش نہیں ہونے دیتی؟؟

نکال دو آج اس پھانس کو” اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اس نے کہا تھا۔

کچھ توقف کے بعد اس نے بولنا شروع کیا۔

“میں تین سال تک ایک abusive marrige میں تھی۔۔۔” شروع سے لے کر اس دن تک سب کچھ اسنے کھول کر زید کے سامنے رکھ دیا تھا۔

آگے اسکی مرضی چاہے تو اسکے ماضی سمیت اسکو سمیٹ لے،چاہے تو ٹھوکر مار دے۔

“تم جب یہاں آئی تھی تو مجھ سے پردہ کرتی تھی۔کیا تم اپنی عدت پوری کر رہی تھی؟” زید نےپوچھا تھا۔

اور اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“بس مجھے اور کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

تمہارا یہ ایک عمل ہر وضاحت پے بھاری ہے،مجھے تمہاری کہی ہر ایک بات پر یقین ہے ہالے” اس نےمضبوط لہجے میں کہا تھا۔

اورہالے نور تو جیسے آج خود اپنی نظروں میں معتبر ہو گئی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Waqt sarab hai afsana by Zayan Thebo

  • by

وقت سراب ہے۔۔۔

کتنا مہربان۔۔۔ کتنا ظالم کوئی آج تک نہیں جان پایا۔ احد ایک لڑکا جو خوش ہے اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ۔۔۔ مگر پھر ایک دن احد کے ساتھ کیا ہوا۔

یہ وقت نے کیسی چال چلی۔۔۔ احد کا سب کچھ کہاں گیا۔۔۔ وقت نے کیا کیا؟

کہیں سوال۔۔۔

مگر ایک ہی جواب۔۔۔ “کسے معلوم؟”

Kisi ka Khawab dekha ho by Aasia Khan Complete novel

  • by

“آج تو بتا دو کہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہو ہاں ؟ پہلے تو مجھے بولنے نہیں دیتی تھی” ۔” آج جب میری,۔۔ میری سماعت تمھیں سننا چاہتی ہےتوتم…. بولتی نہیں ۔” جب پھرجواب نہ دیا گیا توشکوہ تو بنتا تھا ۔چند لمحے وہ خاموش رہا۔

“ا بہت ظالم ہو گئی ہو مگر اتنی … اتنی ظالم نہ بنو ” اورپھر ایک شکایت محبوب کے کھاتے میں لکھ دی گئی ۔

“کہتے ہے کہ جو آنسو آنکھوں سے چہرے پر گرتے ہیں وہ انسان کے اندر کے غموں کو بھی اپنے ساتھ بہا دیتے ہیں، دِل ہلکا کر دیتے ہیں لیکن جو چہرے پر نہیں گرتے وہ دل پر گرتے ہیں اور جو دل پر گرتے ہیں وہ غم کو تازہ کر دیتے ہیں اور جب غم تازہ ہوتا ہے تودِل پہ لگے زخم بھی تازہ ہو جاتے ہیں”

“۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔یہ دنیا والے کیا جانے کہ دل کے زخم کتنے تکلیف دہ ہوتےہیں۔۔۔۔”

اسکے زخم بھی روز نئے سرے سے تازہ ہوتے تھے ۔

Sawal e ishq by Meer Hamza Complete novel

  • by

عشق ایک گہرا اور پیچیدہ احساس ہے جو کسی دوسرے انسان کے لیے محبت، محبت کی شدت اور جذبات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں فرد دوسرے کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی محسوس کرتا ہے۔ عشق میں محبت، خواہش، قربانی، اور کبھی کبھی درد بھی شامل ہوتا ہے۔

Muflihoon by Bint e Hawa Alif Complete novel

  • by

مفلحون ہوتے ہیں وہ جنہیں یقین ہوتا ہے کہ حقیقی فلاح فیصلے کے دن کی فلاح ہے ۔ وہ خدا کے ہر کام میں مصلحت ڈھونڈتے ہیں ۔ انھیں دی گئی کسی چیز پر کوئی شکوہ نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہوتے ہیں ۔ انھیں جو میسر ہو اسی میں خیر طلب کرتے ہیں ۔