Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 172

Mubarra

Qadardan afsana by Dr Tehreem Jameel

  • by

میاں یہ کالے پیلے داغ کیسے لگ گئے۔ سب خیر تو ہے؟ انور کی سوجی ہوئی آنکھ اور بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر ایوب صاحب تلملا گئے۔

درد کی تلاش میں دھکے کھاتا پھر رہا ہوں۔ انور نے برا سا منہ بنایا۔

میاں جو تیری حالت ہے بات دھکوں سے آگے کی لگتی ہے۔ کیا لاتیں اور مکے بھی کھا کر آیا ہے؟ ایوب صاحب نے کہا اور اٹھ کر چائے بنانے چل دئے۔

کیا بتاؤں۔۔ اپنی درد بھری داستان۔ سویرے سویرے نوکری چلی گئی۔ اماں کو معلوم ہوا تو چمڑے کی چپل سے کاری ضرب لگا ڈالی۔ ایک ضرب سے تو دل نہیں بھرا ان کا۔ تاک تاک کر نشانہ باندھا ہے بڑی بی نے۔ اپنی کالی آنکھ پر ہاتھ رکھتا انور درد سے کراہنے لگا۔

ہاں ویسے تیرے گھر والوں کا نشانہ تو عمدہ ہے۔ کیسے عین منزل مقصود پہ وار کیا ہے۔ خیر کوئی دوا دارو کر لے وگرنہ تیری جو حالت ہے، درد کو چھوڑ تو، تو مجھے دنیا سے کوچ کرتا دکھائی پڑتا ہے۔

ایوب صاحب داڑھی میں ہاتھ پھیرتے اندازے لگا رہے تھے۔

نہ چاچا، یہی تو وہ درد ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔ نوکری چھوٹ گئی، گھر والوں نے کنارہ کر لیا، زندگی میں کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ اب یہ درد میری شاعری میں جھلکے گا تو دیکھنا کیسے بڑے بڑے تخلیق کار اور شاعروں کے کان کتروں گا۔ انور نے شیخی بھگاری۔

Dil ka rasta dil tak jata hay by Sweet Gul Complete novel

  • by

کن چکروں میں ہو۔تم؟

کل بھی چار گھنٹے بیٹھ کر چلاگیا ‘ موصوف، سے ملاقات نہیں ہوپائی ۔ عادل آج پھر آفس میں موجود تھا ۔

,,ایک کام سے گیا تھا ۔ اس نے فائل سر کائی ۔،

,,گرلز کالج میں کام کی ناعیت کیا ہو سکتی ہے ۔؟

عادل نے سوچنے کی ادا کاری کی جبکہ وہ سر وتاترات لئے عادل کو گورنے لگا ۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہو، میں کچھ غلط کہا کیا

تم گرلز کالج ہی گئے تھے ناں۔۔۔۔۔۔؟

تم کو میری جاسوسی کرنے کے لیے کس نے کہا؟

اس نے غرا کر کہا تو عادل نے سہم جانے کی اداکاری کی۔

,,کیا کروں ‘ یار میرا دل مجھے بہکاتا رہتا ہے ۔کہ میں تمہاری خبر رکھا کروں ‘ کہیں تم ہاتھوں سے نہ نکل جاؤ ۔اس نے معصومیت سے کہا گویا تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ تم کن چکروں میں ہو۔،،

,,جب ضرورت محسوس کروگا تو بتا دوگا،،

اس نے رکھائی کا مظاہرہ کیا۔

عادل نے خاموش ہونے میں ہی عافیت جانی کیوںکہ وہ جانتا تھا ۔کہ، اپنے دوست سے وہ جبراً کچھ بھی اگلوا نہیں سکے گا۔ عادل کا سوچا ہوا منہ دیکھ کر اسے ہنسی آگئی ۔

Girwi by Sundas Sheikh Complete novel

  • by

ہمیں وعدہ خلافی سے سخت نفرت ہے ۔ اگر بارہ بجے پیسے لوٹانے کا وعدہ کیا ہے تو بارہ بج کر ایک منٹ بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ سامنے والا کا کالر اپنے ہاتھوں میں دبوچے وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بولا

معاف کردیں سائیں بیٹی کی سسرال میں مسئلہ ہوگیا تھا سارے پیسے وہیں لگ گئے ۔ میلی کچیلی دھوتی میں ملبوس وہ ادھیڑ عمر مرد گڑگڑایا جسے ذمّہ داریوں نے اپنی عمر سے دوگنا بوڑھا کردیا تھا

ہم کچھ نہیں جانتے اپنے گھر کے کاغذات لاؤ ہمارے پاس جمع کرو اور ایک ہفتے کے اندر ہمارا پیسہ ہمیں مل جانا چاہیے ورنہ تمہارا گھر ہمارا ہوا ۔۔اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی

جی جی ۔ وہ آدمی روتا ہوا واپس ہوا

بھائی یہ کتنے دنوں سے ٹال مٹول کر رہا پیسوں کے لئے ۔ انور نے نیچے اوندھے پڑے شخص پر لاتوں اور

گھونسوں کی بارش کی

کیوں بے تجھے پتہ نہیں ہے کہ مجھے زبان کے پکّے لوگ ہی پسند ہیں پھر کیوں ٹال مٹول کر رہا ہے ۔ اس نے ایک لات خود بھی رسید کی اسے

مگر اس بے چارے میں اتنی طاقت کہاں تھی

کہ وہ کچھ بولتا

تب تک پیٹتے رہو جب تک کی یہ پیسے دینے کا قطعی فیصلہ نا کر لے ۔ وہ انور کو ہدایات کرتا آستین موڑتا اندر کی طرف بڑھ گیا

Siyah rang ke hisar mein by Sehrish Raees Complete novel

  • by

میری ننھی سی گڑیا بڑی ہو گئی ہے مجھے اپنی بیٹی پہ پورا اعتماد ہے اگر ساری دنیا کھلی آنکھوں سے بھی کہے گی کہ عنایا عنایت غلط ہے تو میں بند آنکھوں سے کہوں گا میری بیٹی غلط نہیں ہو سکتی مجھے اس پہ یقین ہے”…. میں نے تو بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ عنایا کے میٹرک کے رزلٹ کے بعد اس کا داخلہ شہر کے کسی اچھے کالج میں کرواؤں گا میری بیٹی کسی سے پیچھے کیوں رہے بھلا!… ارسلان اپنے بابا کے باتیں اور ان کی عظیم سوچ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لیے مسلسل انہیں دیکھ رہا تھا اچانک سے خیال آیا لوگ کیا کہیں گے؟…

آپ کیوں پریشان ہو بیٹا آپ کے بابا ہیں نا کوئی میرے ہوتے آپ دونوں پر بات نہیں کر سکتا بس اپنی بہن کا جیسے خیال رکھتے ہو اور فکر مند ہوتے ہو دوسروں کی بہنوں کے لیے بھی ایسے ہی انسانیت دل میں رکھنا اپنی بہن کے محافظ اور دوسروں کی بہنوں کےلیے بھیڑیا کبھی مت بننا اگر آپ دوسروں کی بہنوں کو بھی عزت دیں گے تو آپ کی بہن بھی خوش رہے گی” یاد رکھنا میرے بیٹے بیٹیاں سب کے سانجھی ہوتی ہے گھر کے اندر کی عورت اور بیٹی کے محافظ اور باہر کسی کی بیٹی کے لیے راستے تنگ کر دینا مردوں کی فطرت نہیں جانوروں اور حیوانوں کا کام ہے”

Pyar mera nafrat bhara by Aiman Akmal Complete novel

  • by

پھر تو تم بھی اس کے ساتھ مخلص نہیں لگتے کیونکہ ایک غیرت مند مرد کو تو یہ بات گوارا نہیں کہ اسکی بیوی کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات ہوں

رایان نے بھی قدرے سنبھل کر اسے جواب دیا۔۔۔ کیا کیا گمان کر بیٹھا تھا کہ اتنی جلدی جیت گیا وہ لیکن یہاں اس کا کھیل اس پر ہی الٹ چکا تھا۔۔۔۔ مگر وہ ہار نہیں مان سکتا تھا وہ ابھی بھی کوشش کرے گا

کچھ لوگ اپنی زندگی اچھے سے گزارنے کے بجائے دوسروں کی زندگی برباد کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔۔۔ اور پھر وہ اپنی اس زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت کی زندگی بھی تباہ کر لیتے ہیں

اور رایان ان کچھ لوگوں میں سے ہی ایک تھا

تو تمہیں کیا لگتا ہے مسٹر رایان شاہ میری غیرت اس میں ہے کہ میں گھر جا کر اپنی بیوی کی کردار کشی کروں؟؟۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کے سامنے اسے بدکردار کہوں اور بےعزت کروں؟؟۔۔۔۔۔۔ اس کی تزلیل کروں؟۔۔۔۔۔ کیا اس کو مردوں کی غیرت کہتے ہیں ؟

ارحم دوبارہ سے آگے کو ہو کر بیٹھا۔۔۔۔ چہرے پر اب سنجیدگی برقرار تھی۔۔۔ آخر میں وہ تمسخرانہ ہنسا

ہاں شاید اگر میں اس کے کردار کو داغ دار کہتے طلاق کے کاغذات اس کے منہ پر مار دوں تو میں بہت غیرت مند مرد کہلاؤں گا۔۔۔۔ ارحم استہزایہ ہنسا

دنیا کے سامنے اپنی بیوی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے بجاۓ میں اسے رسوا کر دوں تو میں غیرت مند مرد کہلاؤں گا۔۔۔ وہ ٹھہرا اور رایان کی آنکھوں میں جھانکا

ایسا ہی ہے نا۔۔۔۔ اس نے رایان کی آنکھوں میں دیکھتے تصدیق چاہی تھی لیکن وہ تو جیسے حیرت کے سمندروں میں ڈوب چکا تھا۔۔۔ وہ شل سا بیٹھا اسے سن رہا تھا

اگر ایسا کرنے سے میں غیرت مند مرد کہلاؤں گا تو معزرت کے ساتھ میں بے غیرت ہی سہی ہوں۔۔۔۔

مجھے غیرت مند مرد بن کر اپنی بیوی کو اسکی خود کی نظروں میں نہیں گرانا۔۔۔

WAR by SJ Writes Part 2 Complete novel

  • by

ہاں تو مسٹر دران..آراء زخمی وجود کے ساتھ آگے آئی..

آپ نے پاشا ملک کے ساتھ مل کے اُن 109 لوگوں کا قتل کیا..اور پھر آپکی اُمید پہ پورا نہ اترنے والا پاشا ملک..

وہ بلند آواز سے بول رہی تھی..

کو آپ نے جان سے مار دیا..

اُسے رات کے پہر بُلوایا اور بُلوانے کے بعد اُسے اُس کی گن سے گولیاں ماری گئی..وہ تو قسمت اچھی تھی آپ کی کہ ایڈم کی لوکیشن اُس وقت بلکل قریب تھی..

ایڈم میرے کلائینٹ جو بے قصور ہونے کے ساتھ ساتھ آپکو بُرے کام سے روک رہے تھے..آپکے کام کی اڑاوٹ تھے..

Right mr Duran..

آراء نے طنزیہ لہجے میں کہا..

یہ جھوٹ ہے..دران ملک نے بے ساختہ کہا..

Objection my Lord..

غیلانی صاحب اٹھ گئے تھے..یہ میرے کلائینٹ پہ جھوٹا الزام ہے..یہ من گھڑت کہانی ہے..عدالت کو باتوں کی نہیں ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے..کیا آپکے پاس کوئی ثبوت ہے..؟

مسٹر غیلانی نے طنز سے زرا رک کے پوچھا تھا..

یہ عدالت ہے مسٹر غیلانی..آراء نے مضبوط لہجے میں کہا تھا..

ایڈم کا سر اب بھی جھکا ہوا تھا..صارم بھی خاموش تھا..

حُنین نے ایک نظر ولی کو دیکھا تھا..جو خود بھی صارم کے نمبر سے سپیکر پر آتی آواز سے پریشان تھا..حُنین نے ابھی صرف بازو پر مرحم رکھوایا تھا باقی چوٹ ابھی ویسے ہی تھی..ولی نے بھی اپنے زخموں پر پٹی نہیں کروائی تھی..

آراء کم اون تم کر سکتی ہو..

حُنین پریشان لہجے میں بولی تھی..

آپ جانتے ہیں نا مسٹر غیلانی..کہ عدالت میں تو ثبوت ہی چلتے ہیں..آراء کے چہرے پر اب دل جلا دینا والی مسکراہٹ تھی..ہر کوئی اس فیصلے سے پریشان تھا..حُنین کے گھر والے بھی سب انتظار میں تھے..

my Lord..

مسٹر دران نے نا صرف 110 قتل کئے اور ان کا بیٹا جو کہ سب کی نظر میں ایک بے گُناہ بزنس مین تھا اُس کے ساتھ مل کے کئے..وہ بے دردی سے قتل کرتا..اور مسٹر دران لاش کو غائب کرواتے..

وہ دران کو دیکھتے ہوئے چبا چبا کے بول رہی تھی..

یہ جھوٹ ہے..دران نے چیخ کے کہا تھا..

یہ سب..؟

Ishq by Arfa Awan Complete novel

  • by

زندگی میں کم از کم ایک بار تو سبھی پیار کرتے ہیں۔یہ ایک معارف جملہ ہے ۔جس کی سچائی سے مجھے کوئی بحث نہیں۔مگر میں سوچتی ہوں کہ ایک جملہ ایسا ہے جو سو فیصد سچ ہے لیکن اسے زبان پر لاتے ہوئے سب ہی گھبراتے ہیں شاید اس لیے جملہ اعتراف ہے اور تاہیؤں کا۔۔۔۔انسان خطا کا پتلا ہے اس لئے پچھتانا اس کا مقصد ہے۔۔۔۔!