Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 174

Mubarra

Tahajjud se nikkah tak ka safar by Muntaha Rajput Complete novel

  • by

دانش اپ جانتے ہیں میں نے اپ کو کیسے حاصل کیا؟

بتائیے کیسے؟

تہجد کی دعاؤں سے۔ پہلے میں نے صرف سنا تھا کہ تہجد تقدیر بدل دیتی ہے لیکن اج میں نے دیکھ بھی لیا دانش میں نے اپ کو اللہ تعالی سے بہت زیادہ رو رو کر مانگا ہے۔ علیزے نے نم انکھوں سے دانش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

بے شک دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں۔ دانش نے مسکراتے ہوئے علیزے کی بات کا جواب دیا۔

تھوڑی ہی دیر میں دانش کی والدہ صوفیہ بیگم کمرے میں ائی۔

علیزے میرے بیٹے کا بہت زیادہ خیال رکھنا میں نے اللہ تعالی سے بہت رو رو کر مانگا تھا اسے۔ صوفیہ بیگم نے علیزے سے کہا۔

انٹی بے فکر رہیں *میں نے بھی اللہ تعالی سے بہت رو رو کر مانگا ہے انہیں*۔ علیزے نے مسکراتے ہوئے صوفیا بیگم کی بات کا جواب دیا۔

Junooniyat ki inteha by Ayesha Siddiqa Complete novel

  • by

ارے دیکھ نئی چڑیا آئی ہے۔

تمہیں نظر نہیں آرہا یہ چڑیا نہیں مصوم چڑیا ہے دیکھو تو کیسے کانپ رہی ہے

حیا اتنی گھبرائی ہوئی تھی پہلے ہی لڑکوں کی آوازوں سے اُسے لگ رہا تھا جیسے ابھی جان نکل جائے گی نورِ نظر انا بند ہوگئی تھی نوٹس بورڈ کے پاس پہلے حيا کو نورِ نظر آرہی ہوتی جو بار بار ہاتھ ہلا ریہی تھی لیکن جیسے جیسے رش بڑھ رہا تھا حیا کی سانسیں بھی ویسے ویسے ہی بڑھ رہی تھی اور اب نُور نظر انا بند ہوگئی تھی جس سے حیا کو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔۔

Mohabbat zehr e hayat hai afsana by Aish

  • by

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں لفظ لفظ طلاق کے تین لفظ میرے حواسوں پر بجلی گرا گئے بے اختیار میں رو دی تم انم افندی ایک کمزور لڑکی مجھے۔۔۔۔مجھے ہرانے چلی تھی عدن بزداری کو۔جس نے کبھی ہار سیکھی ہی نہیں قصور تمہارا تھا تم نے مجھے نظر انداز کر کے میری انا کو چکنا چور کرنا چاہا مگر تم یہ نہیں جانتی تھی کہ تم لڑکیا تو مردوں کے لیے اس چیونٹی کی مانند ہو جسے ہم جیسے سارے مرد اپنے پیروں تلے کو چل دیتے ہیں ہماری انا گوارا نہیں کرتی کہ کوئی کمزور عورت ہمیں ہارنے کے فرض سے روشناس کرواۓ۔چہ چہ چہ۔محبت کی ماری بیچاری لڑکیاں۔۔۔۔۔۔اب میرا کام تمام ہوا تو ازاد ہو جہاں چاہو جا سکتی ہو

Ankaboot by Bint e Asif Complete Novel PDF

  • by

” ایک بات میری یاد رکھو کان کھول کر! میں اس کی(بہن کی) شادی کسی اچھی جگہ کرنا چاہتا ہوں۔ دوسری بات میرے پاس سب میری محنت سے ہے، کسی کو زبردستی نہیں؛ لیکن میں راتوں کو جاگا اور پڑھا، اس دین کو پھیلا بھی میں رہا ہوں۔ تم ایک جاہل عورت ہو جا کر پہلے اپنا چہرہ دیکھو پھر آنا مجھ سے بحث کرنے؛ بلکہ نہیں!
تم زرا جا کر اپنے گھر آرام کرو! ” پوری سوچ بچار سے بولا۔
” تم۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے،میں تمہاری بیوی ہوں، تین سال ہو گئے ہیں اس شادی کو اور اب۔۔۔۔اب تم مجھے چھوڑنے کی باتیں کرتے ہو۔ میں دکھ میں تمہارا سایہ بنی،تپتی ہوئی گرمی میں چھاؤں بنی، روتے ہوئے چہرے کے لیے کندھا بنی رہی، ہمت ہار جانے پر تمہارے لیے ۔۔۔صرف تمہارے لیے حوصلے کی چٹان بنی رہی اور تم آج مجھے یہ کہہ رہے ہو، تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟ ” آنسوؤں نے ہلک تک بسیرا کیا.
” مجھے کام ہے یہ سوئی چھ تک آۓ” گھڑی اس وقت پانچ کے ہندسے سے سرک رہی تھی ہاتھ سے انگلیاں کھولے پنجہ دیکھایا” تو تم تیار نظر آؤ مجھے! “لہجہ تحکم آمیز تھا۔
“تامل یہ کیا کہہ رہے ہو! میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ کیسے تم مجھے بیچ راستے میں تنہا چھوڑ سکتے ہو؟ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ میں کیسے رہوں گی تمہارے بناء، مجھے تمہارے بغیر رہنے کی عادت نہیں ہے ایسا مت کرو! ”
“کس نے کہا تھا میرے معاملات میں بولو؟ ایک بار کی بات سمجھ جایا کرو؛ لیکن امی کی طرف ہو آنا اب! “سر پہ دھماکہ کرتا کمرے سے نکل گیا۔
وہ نکل گیا لیکن ایک وجود تھا جو کمرے میں جیسے دھے سا گیا تھا، اب صبح امی کے گھر جانا ہی تھا، پلنگ سے ٹیک لگائے آنسوؤں میں روانی آ چکی تھی اور وہ بس سر جھکائے آنسو بہاتی جا رہی تھی، خاموش آنسو جن کی صدائیں عرش والا سن رہا تھا.

Majal arz e tamana karen kese by Izza Iqbal Complete novel

  • by

“قاسم۔۔۔” انزلہ نے اسے تنبیہ کی تھی۔۔۔”اچھا چلو ایک کام کرتے ہیں۔۔۔چونکہ تمہارے ناولز ضبط کرلئے گئے ہیں۔۔” لاریب نے بڑے غور سے انزلہ کو سنا تھا اور قاسم کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ اسی کے ہی پر کاٹے گی۔۔۔
“تو اب قاسم تمہیں بک شاپ پر لے کر جائے گا اور ناولز دلائے گا۔۔۔”
“انزلہ۔۔۔”قاسم نے بے یقینی سے کہا۔۔۔۔”میں نہیں کھیل رہا تم جانبدار ہو۔۔۔”
“کھیل تو آپ نے کھیل لیا وہ تو اب فیصلہ سنا رہی ہیں۔۔۔” جیسے ہی اس نے کہا تھا قاسم نے اس کے سر پر چپت لگائی تھی۔۔۔
“دیکھ رہی ہیں آپ کے سامنے وائیلنس ہورہا ہے۔۔۔۔”
“اور یہ جو فنانشل۔۔۔ایموشنل۔۔۔وربل وائیلنس ہے اس کا کیا۔۔۔۔؟”
“آپ انزلہ باجی کی بات نہیں مان رہے۔۔۔۔” لاریب نے چوٹ کی تھی۔۔اس نے انزلہ کی جانب دیکھا وہ اسے ہی دیکھتے ہوئے ہنس رہی تھی۔۔۔
“تم میری بہت اچھی بہن ہو۔۔۔تمہاری بات تو میں آنکھیں بند کرکے مانوں گا۔۔۔۔۔” اس نے لاریب کر اک بار پھر چڑایا تھا۔۔۔
“آہ میں تو جیلس ہوگئی۔۔۔۔”
“ہاں شکل سے پتا بھی چل رہا ہے۔۔۔۔” اس نے بار جاتے ہوئے کہا تھا انزلہ اس بار اپنا قہقہ روک نہیں پائی تھی۔۔۔

Ramzan ka chand by Shayara Sehar Complete novel

  • by

” بیٹا کب آؤ گی “

” سلمہ عمر احمد صبر کریں ” اس کے نام لینے پر تقی نے چونک کر اسے دیکھا .

” ہٹ پگلی دادا کا نام لیتی ہے “

(دادا )

“اوہو دادی شرما رہے ہو “

” آج جلدی آ جانا”

اس نے فون رکھا اور تقی کو دیکھا جو اسے بے یقینی سے دیکھ رہا تھا

” کیا ہوا “

” آپ کے دادا کا نام کیا ہے “

” عمر احمد کیوں ” اسنے بڑی سادگی سے جواب دیا جبکہ وہ خوشی سے جھومنے لگا اسے خوش ہوتا دیکھ کر قمر حیران ہوئی کر وہ بے وجہ کیوں خوش ہو رہا ہے مگر تقی اس کی پرواہ کئے بغیر جھوم رہا تھا.

” کیا ہوا تقی ” اس نے حیرانی سے پوچھا

اس کی آنکھوں میں ایک دم سے آنسو جمع ہونے لگے اس کا دل کسی ان دیکھے اندھیرے نے جکڑ لیا جس سے اسکا سانس حلق میں اٹگ گیا . بیک وقت اس نے اپنا تھوک نگلا .

” ہمارے دادا کو گزرے 4 سال ہوگئے ہیں ” یہ الفاظ نہیں زہر تھے جو اس کے سینے میں اتر رہے تھے ذہین میں بس اک صدائیں گونجنے لگی

( بیٹا میرے دوست کو مجھ سے ضرور ملانا ورنہ میں سکون سے مر نہیں پاؤں گا ) اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ جس کے ملنے کی تمنا میں وہ جی رہے تھے وہ کب کے مرچکے ہیں .