Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 173

Mubarra

Zindagi shajar aur main by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“ماہا تم کب تک اپنا وقت ضائع کرتی رہو گی” میں نے فون اٹھاتے ہی پوچھا تھا۔

“جب تک آپ مان نہیں جائیں گے”اس کا اطمینان قابل دید تھا۔

“میں کبھی بھی نہیں مانوں گا” میں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

“مجھے یقین ہے آپ مان جائیں گے”اس نے فورا کہا تھا۔

“میں مان بھی جاؤں تب بھی ایسا نہیں کروں گا۔

میں اپنے پیشے اور ادارے پر کسی کی اٹھی انگلی برداشت نہیں کر سکتا” میں نے تھکے ہوۓ انداز میں کہا تھا۔

“آپ ایک بار ہاں بول دیں میں یونیورسٹی جانا چھوڑ دوں گی۔

کلاس میٹس سے نہیں ملوں گی کسی کو پتا ہی نہیں چلے گا’اس نے کہا تھا۔

اس کی بات پر میں کچھ پل کو خاموش ہو گیاتھا۔

“اور اگر تمہارے گھر والے نا مانے تو۔۔۔

کیا تم ان کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی کر لو گی؟” میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس حد تک جا سکتی ہے۔

“ایسا نہیں ہو سکتا کہ بابا میری کوئی بات نا مانیں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔

“اگر ایسا ہو جاۓ تو” میں نے پوچھا تھا۔

“نہیں ہو سکتا”

“فرض کر لو”

“جس چیز کا مجھے معلوم ہے،میں خوامخواه کیوں فرض کروں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔

“اچھا تمہارے بابا تو مان جائیں گے اور اگر تمہاری امی نا مانیں تو”؟پتا نہیں یہ سب میں اس سےکیوں پوچھ رہاتھا ۔

Kari dhoop ke baad by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“معاذ!!لیکن وہ کیوں آیا تھا؟

“پتا نہیں ،اسے آریز چھوڑ کے گیا تھا۔”مہر کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی۔

“تو اس وقت فارس تمہاری کلاس میں تھا” امی نے پوچھا۔

اس نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

“میں نے اسے پورے دو ماہ بعد آج دیکھا وہ میرے ساتھ تھا۔

میرے بالکل قریب ،میرے گھٹنے پر ہاتھ رکھے مجھے پکار رہا تھا۔اور میں ایسی بدنصیب اسے گود میں اٹھا کر پیار بھی نہیں کر سکی”۔ وہ پھر سے سسکنے لگی تھی۔

وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی،اس کی چیخیں یوں لگ رہا تھا عرش ہلا رہی ہیں۔

اتنی تڑپ۔۔۔۔۔

اتنی شدت۔۔۔۔

وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

وہ فیصلہ جو ڈیڑھ سال سے وہ نہیں کر پا رہا تھا،ان چند لمحوں میں اس سے ہو گیا۔

کیا دیوار پارکے لوگوں کو مہر پر رحم آ گیا تھا۔۔؟؟

یا اس کی مامتا پرترس کھایا گیا تھا؟؟

وہ جس طرح خاموشی سے آیا تھا اسی طرح خاموشی سے واپس کو مڑ گیا ۔اور دروازہ اسی طرح مقفل کر دیا جیسے اب سے کچھ دیر پہلے تھا۔

جبکہ دوسری طرف مہر معاذ کو پیار کرتی جاتی تھی اور بھیگی آنکھوں سے ہنستی جاتی تھی۔

Ibtada e Mohabbat by Umm e omama Complete

  • by

“کیا دیکھا تم نے”

اسکے قریب آکر وہ پسٹل اسکی شہہ رگ پر رکھتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا

“ک–کچھ نہیں”

“میں نے پوچھا کیا دیکھا تم نے”

”م–میں کسی کو کچھ ن-نہیں بتاؤں گی”

اسکی پہلے سے زیادہ سخت ہوتی آواز پر وہ جلدی سے کہنے لگی

“ڈیرل کسی سے ڈرتا نہیں ہے بھری دنیا کو بتا دو”

“مجھے جانے دو”

“میں نے تمہارا راستہ کب روکا تم خود اپنی موت کے انتظار میں کھڑی ہو جانا چاہتی ہو تو جاؤ اس سے پہلے میرا موڈ مزید خراب ہو اور اگر میرا موڈ مزید بگڑا تو میں یہاں پر دوسرا قتل کرنے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا”

اسکی بات پر وہ اپنے شل ہوتے وجود کو گھسیٹتی بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
اور آریز بس اسکے دور جاتے قدموں کی آواز اپنے کانوں میں سنتا رہ گیا
°°°°°

Kahani ek ghar ki by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“اور حاضرین محفل یہ بات جان کر آپ کو نہایت حیرانی ہو گی کہ آپ سب کے درمیان ایک لکھاری۔۔۔

یعنی کے رائٹر۔۔۔

یعنی کے ناول نگار موجود ہے۔

ہاں جی۔۔۔”

فائزہ نے بات مکمل کرنے کے بعد حاضرین پر نظر ڈالی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ سب منہ کھولے اسے ہی تک رہے ہیں۔

ارے کیا ہے بھئ سچ کہہ رہی ہوں میں بلکل!پلیٹ سے بیر اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوۓ اس نے کہا

“اچھا تو کون ہے وہ؟”

سب سے پہلے سوال پوچھنے والا اور کون ہو سکتا تھا ابو بکر کے علاوہ، جو خود کو “ایکسٹرا” ہی جینئس سمجھتا تھا اور سکول و کالج کے بعد اب یونیورسٹی میں بھی اساتذہ سے سوال کر کر کے ان کے دماغ کی چولیں ہلانے میں کسر نا چھوڑتا تھا۔

ہاں ہاں بتاؤ نا کون ہے وہ؟ سب یک زبان ہو کر بولے، ماسواۓ انشا کے۔

“وہ ہیں۔۔۔”

نیوز اینکر کے سٹائل میں ہاتھوں کو ہلا ہلا کر (بلاوجہ) اور چہرے پر بھر پور سنسی کے تاثرات سجاتے ہوۓ فائزہ نے دو سیکنڈ کا pause لیا تھا۔۔

“ہماری پیاری راج دلاری انشا اعظم۔۔۔۔”

بات کے اختتام پر تالیاں بجا کر اس نے داد طلب نظروں سے حاضرین محفل کو دیکھا۔

جن سب کی نظروں کا واحد مرکز انشا تھی۔

اور انشا،فائزہ کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوۓاُس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے پچھلی رات باتوں ہی باتوں میں فائزہ کو یہ بات بتائی تھی۔

“لیکن تم کہاں لکھتی ہو انشا؟؟”

“کسی اخبار میں۔۔۔۔؟؟

یا وہ جو خواتین کے شمارے ہوتے ہیں ان میں لکھتی ہو؟؟”

Ababeel by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

یہ کہانی خیالی کہانی ہے مگر اس میں جو لکھا ہے وہ ہمارے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے میں بہت شکر گزار ہوں لائبہ پرویز کی جو مجھے سپورٹ کرتی ہیں۔مس شانزہ کی جو ہمیں پڑھاتی ہیں! اس کہانی میں ، میں نے بہت سے پولیٹیکل ویوز دئیے ہیں جو کہ میم شانزہ کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

اس کے ساتھ میں شکر گزار ہوں میم آمنہ یونس کی جنھون نے مجھے بہت سراہا اور مدد کی۔

یہ کہانی آپ کو بہت کچھ سکھا جائے گی انشاء ، امید ہے اس کو پڑھنے کے بعد اپ کے دل و دماغ میں میں رہوں یا نہ رہوں مگر وطن کی محبت ضرور جاگ جائے گی۔

Dastan-e-qalb by Maleeha Shah Complete novel

  • by

شادی کیسے کر سکتا ہے وہ؟؟ زرنش غصے سے پاگل ہورہی تھی۔

زینب تم نے روکا کیوں نہیں اسے؟ خدیجہ نے پوچھا۔

وہ زرنش کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟؟

دیکھو خدیجہ وہ اس لڑکی سے محبت کرتا ہے۔تو وہ اپنی خوشی سے جس کے ساتھ بھی رہنا چاہے رہ سکتا ہے۔زینب نے تحمل مزاجی سے سمجھایا۔

محبت۔۔؟مائ فٹ۔میری جگہ کوئ نہیں لے سکتا۔زرنش چلائ۔

تمہاری جگہ۔۔؟ایرک نے آیت کا ہاتھ ابھی تک نہیں چھوڑا تھا۔

تو یہ ہے وہ دو ٹکے کی لڑکی جس کے لیے تم نے مجھے ریجکٹ کیا۔زرنش ایرک کے قریب آئ۔

زبان کو لغام دو زرنش ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم ایک لڑکی ہو۔

آیت خاموشی سے بس تماشا دیکھتی رہی۔

اس نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ایرک نے اس کے ہاتھ پہ مزید دباؤ ڈالا۔

یہ کوئ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے۔۔ایرک ملک کی محبت ہےاور ایرک ملک جس سے محبت کرے وہ عام نہیں ہو سکتی۔

آیت کو تو گویا سانپ ہی سونگ گیا تھا،،محبت؟ یہ شخص مجھ سے محبت کرتا ہے سب جاننے کے باوجود بھی۔آیت خیران ہوئ۔

اس نے زندگی میں صرف ایک شخص کو چاہا اور وہ بھی نہیں ملا اس کو اور ایرک نے جس سے محبت کی وہ اسے مل گیا۔

یہ کیسا انصاف ہے اللہ؟؟

اب آپ دونوں یہاں سے جاسکتیں ہیں۔اور اس گھر میں تب آنا جب آیت کو دل سےقبول کر سکو۔

زرنش غصے سے اگ بگولہ ہو رہی تھی۔تمہیں میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔وہ آیت کو دیکھتی بولی اور چلی گئ۔

*******

آیت تم۔۔؟براک اسے ایسے دیکھ کے بہت خوش ہوا۔

آیت۔۔تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں کتنا مس کیا ہے؟براک فوراً سے بولا۔

جبکہ آیت کی نظر براک کے ساتھ کھڑے کاشان پر پڑی۔

جو سچ سامنے آنے والا تھا وہ بہت بھیانک تھا لیکن آج آیت کو سچ جاننا ہی تھا چاہے اس کے بعد اس کا دل کبھی نہ جڑنے کے لیے ٹوٹ جاتا۔

یہ تو۔۔وہی لڑکا ہے نا۔؟آیت نے بولنا شروع کیا۔

تم وہی ہو نا جو اس دن ہوٹل میں مجھ پہ جھوٹے الزام لگا کر گئے۔

آیت میں تمہیں بتاتا ہوں۔آو میرے ساتھ۔براک نے آیت کا ہاتھ پکڑنے کے لیے ہاتھ اگے بڑھایا ہی تھا کہ آیت نے ایک زور دار تھپڑ براک کے منہ پہ مارا۔

خبردار! جو اب مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو۔آیت نہیں جانتی تھی اتنی ہمت اس میں کیسے آگئ۔

یہ تمہارا دوست ہے؟؟آیت نے پوچھا۔

آیت میں تمہارے ہزار تھپڑ کھانے کو تیار ہوں پلیز پہلے میری بات تو سنو۔

جی میں براک کا دوست ہوں کاشان۔

آیت کو لگا جیسے اس کے سر پہ کسی نے آسمان گرا دیا ہو۔

اور تم سے۔۔تم سے کس نے کہا تھا سب کرنے کے لیے؟؟

کاشان خاموش رہا۔

بتاؤ۔آیت چیخی۔

میں بتاتا ہوں آیت تمہیں۔پہلے غصہ تو ٹھنڈا کرو۔

کاشان میں نے کہا ہے بتاؤ تمہیں کس نے کہا میرے ساتھ یہ سب کرنے کو؟

براک نے۔۔آیت کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔

براک نے۔۔؟آیت نے دوبارہ پوچھا

جی ۔۔!کاشان نے بتایا اور ادھر سے چلا گیا۔

گرم گرم سیال اب اس کا چہرہ،گردن بھگونے لگا۔

آیت میں اب سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔میرا یقین کرو۔

براک نے التجائیہ لہجے میں کہا۔

محبت کی بات تمہارے منہ سے اچھی نہیں لگتی براک۔

Dolat-e-eman (jannat ki kunji) updated version by Mustafa Ahmed Complete PDF

  • by

Description

دولتِ ایمان(جنت کی کنجی)

یہ کہانی ایک ایسی دنیا میں پنہاں ہے جہاں مادی آرزوئیں اور دنیاوی نعمتیں انسان کے دل و دماغ پر اس قدر غالب آ چکی ہیں کہ ایمان کی روشنی دھندلا جاتی ہے۔ اس دنیا کی چکاچوند میں روحانی قدریں ماند پڑتی جاتی ہیں اور دل ایک بے سمت سفر پر رواں دواں ہوتا ہے۔

ایمان نامی ایک نوجوان لڑکی، جو دولت اور آسائشوں کے سائے تلے پروان چڑھی ہے،

روحانی طور پر بے سمت اور دین سے نابلد ہے۔ اُس کے لیے مذہب محض رسوم و روایات کا نام ہے، جس کا زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ مگر اُس کی زندگی ایک عجیب رخ اختیار کرتی ہے جب اُس کا سامنا ایک پراسرار وجود سے ہوتا ہے، جو گویا فرشتہ صفت ہے۔ یہ فرشتہ، جو اُس کے دل کے اندر سوئی ہوئی روحانی شمع کو دوبارہ جلانے آیا ہے، اُس کی زندگی میں نئے معنویت اور روحانیت کا بیج بوتا ہے۔

یہ پراسرار وجود ایمان کو دینِ اسلام کی تعلیمات اور روحانی حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ اُس کو ایک سفر پر لے جاتا ہے، جہاں ہر قدم اُس کے دل کو اللہ کی محبت اور ایمان کی روشنی سے منور کرتا جاتا ہے۔ لیکن یہ سفر نہایت ہی پر خار ہے، جہاں ایمان کو شدید آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی فریب نظریوں، نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کا ہر لمحہ اُس کے ایمان کو آزمانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ اپنے عقیدے کی مضبوطی سے ان چٹانوں کو پار کرتی ہے۔ یہ داستان اُس کی روحانی جستجو، قربانی اور صبر کا عکاس ہے، جس میں اُس کا دل تدریجاً اسلام کی نورانی روشنی سے منور ہوتا ہے۔

دوسری طرف، کہانی گونار نامی ایک نوجوان کی ہے، جس کی زندگی تاریکی کے غاروں میں گم ہے۔ وہ دنیا کے پوشیدہ سازشوں کے جال میں پھنس جاتا ہے اور فری میسنز و ایلومیناتی کے تاریک نیٹ ورک میں جا گرتا ہے، جہاں شیطانی رسوم اور خونریز سازشیں اُس کے قلب و ذہن کو آلودہ کرتی ہیں۔ اُس کی زندگی گناہ، پشیمانی اور گمراہی کے اندھیروں میں گھر جاتی ہے۔ لیکن ایک دن تقدیر ایک نیا موڑ لیتی ہے، جب وہ ایک ہستی سے ملتا ہے جو اُسے نورِ ایمان کی طرف بلاتی ہے۔ وہ ہستی گونار کے اندر چھپی روشنی کو اُجاگر کرتی ہے، اور اُس کے دل میں توبہ اور ندامت کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ گونار اپنی گمراہی پر پشیمان ہو کر اللہ کی رحمت کی طرف پلٹتا ہے، اور اُس کی روح گناہوں کے بوجھ سے آزاد ہو جاتی ہے۔

یہ کہانی دو کرداروں کی روحانی بیداری اور ان کی تلاشِ حق کی دلگداز داستان ہے، جہاں ایمان اور گونار اپنے اپنے سفر میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے اُس کی رحمت و مغفرت کے طلبگار بنتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں آنے والے یہ لمحے نہ صرف ان کے دلوں کے زخموں کو مندمل کرتے ہیں بلکہ انہیں جنت کی کنجی یعنی ایمان کی دولت سے مالا مال کر دیتے ہیں۔

Ishq e noor by Rida Fatima Complete novel

  • by

گناہ گاروں سے پوچھا جائے گا کون سی چیز تمہیں دوزخ میں لے گئی اور وہ کہیں گے کہ ہم نماز کے پابند نہیں تھے

زندگی میں کئی بار اللہ ہمیں اپنی طرف راغب کرتا ہے ہمیں ہدایت دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے۔۔۔

کیونکہ ہدایت صرف انہی کو اتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں۔۔۔

عشق نور میں ایک ایسی لڑکی کا عشق لکھا گیا ہے۔۔۔جو اپنے خدا کو بے انتہا چاہتی تھی۔۔۔

اور ایک غیر مسلم سے محبت کر بیٹھی تھی

لیکن وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ وہ اس لڑکے کے لیے ہدایت تھی کیونکہ وہ لڑکا ہدایت چاہتا تھا

لیکن وہ انجان تھا وہ خدا سے دور تھا

اسی طرح زندگی میں ہم بھی کئی بار اپنے اللہ سے دور ہو جاتے ہیں ہم زندگی کے کاموں میں اتنا گم ہو جاتے ہیں اور

اللہ اپنے نیک بندوں کو بھیجتا ہے ہمیں تاریکی میں سے روشنی میں لانے کے لیے

جیسے کہ اللہ نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیجا۔۔۔

ہماری ہدایت کے لیے۔۔۔

اور میں اپ کو بتا دوں یہ کہا نی صرف اسلام پر نہیں بنی یہ کہانی حجاب پر بنی ہے یہ کہانی سچی دوستی پر بنی ہے یہ کہانی پاک محبت پر بنی ہے

یہ کہانی ہدایت پر بنی ہے۔۔۔

یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو ہدایت چاہتا تھا اور اس کو مل گئی ۔۔۔