Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 204

Mubarra

Mohabbat ho to aesi by Rushna Aziz Complete novel download pdf

  • by

۔ وہ دوبئی کے ہسپتال میں تھی۔

اس وقت وہ آئی سی یو میں تھی۔ رنگت پیلی٫ کمزور لا غرر جسم

خشک ہونٹ٫ چہرہ ایسے لگ رہا تھا جیسے صدیوں کا تھکن زده –

پورا وجود اس کا مشینوں سے چل رہا تھا ۔ پچھلے چار سالوں سے وہ اسی

طرح تو سانسیں لے رہی تھی۔ بیس سال کوئی عمر تو نہیں ہوتی بستر

مرگ پر پڑنے کی ۔ مگر پچھلے سال یہی دسمبر کے دن تھے جب وہ

ولی کا ہاتھ تھام کر اس نئی دنیا میں آئی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ

وہ اتنی خطرناک بیماری میں مبتلا تھی ۔

یہ بیماری اسے کیوں ہوئی تھی ولی یہ با ت بہت اچھے سے جانتا تھا۔ وہ اس

کے سر ہانے بیٹھا خاموش آنسو بہا رہا تھا ۔ کتنی محبت کرتا تھا

وہ اُس سے ۔ مگر وہ تو صرف ایک ہی شخص کے لیے جیتی تھی۔

اُسی سے محبت کرتی تھی ۔ اور جب وہ شخص اُسے ہمیشہ ہمیشہ

کے لئے چھوڑ کر چلا گیا تو وہ بھی دنیا سے کٹ گئی تھی۔ وہ تو شاید

پیدا ہی صرف اُسی سے محبت کرنے کے لئیے ہوئی تھی نہ اسکی اور

کوئی خواہش تھی نہ کوئی مقصد بس صبح ہوتے ہیں اُس کا چہرہ

دیکھتی اور دیکھ کر جیتی تھی۔ سارا دن اُسکی سنگت میں رہتی ۔ محبت

کرتی محبت ہی لیتی – رات کا اختتام بھی اُس کا چہرہ دیکھ کر کرتی۔

وہ صرف سولہ سال کی تھی جب وہ شخص اُسکی زندگی سے گیا تھا ۔

اور آج صرف وہ بیس سال کی تھی اور اُس شخص کے پاس۔

***********

” فاطمہ! کیا ہوا ہے ، آپ ایسے یہاں اکیلی بیٹھ کر رو کیوں رہی ہیں؟

” ایم سوری بابا:”وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی ۔ساتھ ہی اس کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔

” سوری کس لیے بیٹا بتائیے کیا ہوا ہے؟” ہوہ اس کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اوپر کرتے ہوئے فکرمندی سے پوچھ رہے تھے ۔

“ایم سوری بابا ! پلیز مجھے معاف کردیجیے میں بالکل بھی اچھی نہیں ہوں ” وہ ان کے سینے سے لگ گئی تھی ۔

“اچھا پہلے یہ رونا بند کیجئے ” انہوں نے اسے الگ کر کے ہمیشہ

کی طرح آنسو صاف کر دیئے تھے۔

” اب بتائیے کیا بات ہے؟

” بابا ! آپ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں ، میری ہر خواہش زبان

پہ آنے سے پہلے ہی پوری کرتے ہیں، آج پہلی بار آپ نے مجھ سے

کوئی فرمائش کی تھی اور میں نے سب خراب کر دیا ۔ پلیز!

مجھے معاف کر دیجئے” وہ پھر سے ان کے گلے لگ گئی تھی۔

“میں کچھ نہیں کر سکتی بابا ! میں آپکی محبت کا قرض کیسے اتاروں؟ “وہہ پھوٹ پھوٹ کر رو ر بی تھی ۔ محمد عبد اللہ کی شرٹ اس کے آنسوں کی وجہ سے بھیگ چکی تھی۔

“پہلی بات!ماں باپ جو اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں وہ قرض نہیں ہوتی ۔وہ اولاد کا حق ہوتا ہے ۔اور دوسری بات یہ آپ نے کیسے کہہ دی؟یہ آپ سے کس نے کہا کہ آپ کچھ نہیں کرسکتیں، میری بیٹی دنیا کی سب سے اچھی بیٹی ہے جو اپنے سے جڑے لوگوں کے لئے بہت کچھ کر سکتی ہے ، جبھی تو آج اس نے اپنوں کی فرمائش پوری کرنے کے لیئے اپنے ہاتھ جلا لیے اور اپنے درد کو ظاہر بھی نہیں ہونے دیا۔” وہ دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرر ہے تھے۔ انہوں نے اسے خود سے الگ نہیں کیا تھا۔

مگر بابا کھانا تو پھر بھی اچھا نہیں بنا۔”

” . فاطمہ! ایک بات کہوں؟ آپکے ہاتھ میں ماشاءاللہ بہت ذائقہ ہے۔ اور کھانا بہت مزے کا تھا بس ذرا مرچیں زیادہ تھیں ۔ یہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔ غلطی تو ہر انسان سے ہوتی ہے آپ سے بھی ہو گئی۔ انشاء اللہ ایک دن مکمل سیکھ بھ جائیں گی ۔بس اپنا دل برا نہیں کرتے ۔ وہ پوری ایمانداری سے کہہ رہے تھے۔

” بابا ! آپ لوگوں کا کھانا تو پھر بھی کچھ ٹھیک تھا مگر بھنڈی میں بہت زیادہ مرچیں تھیں ۔ اور ولی بھائی نے ایک بار بھی اپنا ہاتھ نہیں روکا ان کی آنکھوں میں پانی میں نے خود دیکھا ہے۔ اور میں جانتی ہوں وہ زیادہ سپائسی ڈشز نہیں کھا سکتے ۔ انہیں کتنی تکلیف ہو رہی تھی”۔ اب وہ خود بھی ان سے الگ ہو کر حیرت سے کہہ رہی تھی ۔

“بیٹا وہ ایسا ہی ہے۔ وہ تمہارا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا۔”

“مگر بابا ، اُنکی تکلیف …۔”

” تم نے بھی تو میری ڈش بنانے کے لیے اپنا ہاتھ جلا لیا تھا ، کیا تمہیں تکلیف نہیں ہو رہی تھی اس وقت۔” ولی جگ میں پانی لینے کے لیے کچن میں آیا تھا اپنا ذکر فاطمہ کے منہ سے سن کر اسکے ہونٹوں پہ ایک الگ سی مسکراہٹ آئی تھی۔

اپنی بات کہتے ہوئے وہ بھی اسی طرف آ گیا تھا ۔

وہ دونوں کھڑے ہوگئے تھے۔

“ولی بھائی!،تھوڑا سا ہی تو جلا ہے “

“یہ تھوڑا سا جلا ہے ۔ زبان کی جلن تو میٹھا کھاتے ہی جھٹ سے ٹھیک ہوگئی ہے ۔مگر یہ تمہارے ہاتھ کی جلن ٫اسکا کیا۔” محمد عبد الله ولی کے جذبوں سے آگاہ تھے۔ انہیں فاطمہ کے لئے ولی کی فکر کرنا اچھا لگا تھا ۔

Obsession by Ali Complete novel download pdf

  • by

Writer’s Introduction:
My name is Mohammad Ali Shah, you can call me Ali. I have raised in Riyadh Saudi Arabia by sweetest parents on earth along my two elder sisters and three elder brothers. I am the youngest in the family and a prince of a family of eight. I have completed my Bachelor of Commerce in Karachi Pakistan and currently working in a very reputed Law Firm in Jeddah Saudi Arabia with my only daughter. I am a very imaginative person and from a very young age I have been imagining some stories and characters whom I never met in real life. This is where I found the urge to write those characters on computer. After re-drafting those novels now, I am ready to publish them. Mere Khayalon…. Holds a very special place in my heart and I hope my readers also find the same magic which I have found in it.

Mera ishq mere rab tak by Misbah Noor Complete novel download pdf

  • by

سراب بچے اب نقاب اتار دو وہ چلے گئے ہیں ۔ زین نے مسکرا کر کہا۔

آپ تو یہاں موجود ہیں نہ بھائی۔ سراب نے دھیرے سے کہا۔

کیا مطلب ہے تمہارا میں باہر والا ہوں جو مجھ سے بھی ایسے نقاب کرو گی اب۔ زین نے تیز آواز میں کہا۔

اور کیا میرا شوہر ایسا ویسا ہے جو تم ایسے بول رہی ہو باہر والے مردوں کے سامنے تو بڑا جسم کی نمائش کرتی تھی جینس شرٹ اور اسکرٹ پہن کے گھومتی تھی اور آج اپنے ہی بھائی سے پردہ کر رہی ہو واہ سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔۔۔ ارم نے بہت تیز آواز میں بہت تیکھے الفاظ کہہ دیۓ تھے۔

بس بھابھی۔ ابراہیم کی آواز سے جہاں ارم ڈری تھی وہیں پاس کھڑی سراب بھی ڈر گئی تھی۔

ایک لفظ بھی اگر میری بیوی کے بارے میں کہا تو میں بھول جاؤں گا کہ آپ میری بھابھی ہیں۔

میں نے کچھ غلط نہیں کہا بس سچ کہا ہے۔ ارم ابھی بھی تیز آواز میں بول رہی تھی۔

وہ جو بھی پہنتی تھی جو کرتی تھی اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ وہ جو کر رہی ہے بلکل سہی کر رہی ہے یہ سب ا اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جب چاہے جیسے چاہے ہدایت دے سکتے ہیں اور پھر بھائی اس کے محرم تو نہیں ہیں تایا زاد بھائی ہیں نامحرم ہے پردہ جائز ہے آپ کون ہوتی ہیں بیچ میں بولنے اور اب میری بیوی کے پردے کے لیے میں کچھ بھی کر جاؤں گا وہ میری آدھی عبادت ہے اور میں اسکی آدھی عبادت باقی کی آدھی عبادت وہ خود کر رہی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے ۔

Rang e Aasman by AR Rajput Complete novel download pdf

  • by

سسپنس ڈائجسٹ کا یہ طویل سلسلے وار ناول “رنگ آسماں” پوسٹ کیا جا رہا ہے اور یہ ہی کوشش ہے کہ ہمیشہ معیاری تحریریں ہی شامل کی جائیں۔یہ ناول تاریخی لحاظ سے بہت دلچسپ و منفرد موضوع پر لکھا گیا ہے جس میں آپ کو جہاں مشرقی کردار نظر آئیں گے وہیں مغربی کرداروں نے بھی اس ناول میں انفرادیت قائم کی ہے اور یہ سلسلے وار ناول منظر کشی سے بھرپور ہے جس کا پلاٹ سنسنی خیز اور دلچسپ ہونے کے ساتھ بہت سے یادگار کرداروں کے ساتھ منسلک ہے اور شروع کی اقساط تو ویسے بھی تعارف ی ہوتی ہیں مگر پہلی قسط سے ہی بہت اچھا آغاز ہوا ہے تو آپ پڑھیں گے تو معلوم ہوگا اور ناول مکمل ہونے کے بعد بھی آپ کو یہ کردار یاد رہیں گے تو پہلی دو اقساط پڑھ کر اپنی تفصیلی راۓ کمنٹس میں ضرور دیجئے کہ آغاز کیسا ہے؟اور ساتھ آپ ہی نئے ممبرز کے لیے اب کمنٹس میں review دیں کہ کہانی کیا ہے کہ اس سے مزید تحریر سے متعلق دلچسپی میں اضافہ ہوگا تو کمنٹس میں review ضرور دیجئے۔
ناول کی دلکش ڈسكرپشن👇🏻
“رنگ آسماں” ہے ماضی کی تنگ و تاریک مگر خوابناک راہداریوں سے جنم لینے والے ایسے کردار … جنہیں واقعات و شواہد نے خود ترتیب دے کر ان کی زندگی کی بے قراریوں کو ایک ایسے مقصد میں ڈھال دیا جس کا ادھورا پن بے شمار ہلاکتوں کا سبب بن جاتا … لہذا اس کی تکمیل کے لیے وہ باغی فطرت انسان میدان جنگ میں یوں اترا کہ دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دینے والے گداز احساسات کو بھی بھول گیا لیکن … عشق تو پھر عشق ہوتا ہے … کوئی کتنا ہی بھولنا چاہے ، عشق اپنا مسکن کبھی نہیںbبھولتا۔ جس دل میں بس جائے اسے اپنے ساتھ ہی لے کر جاتا ہے … اور پھر ایک دن اچانک اس کے من کا موسم بھی بدل گیاکیونکه … وه فرنگی حسینه دلّی کے اس نوجوان کو دل دے بیٹھی تھی جس کا ہر قدم آزمائش اور ہر نظر کسی امتحان سے کم نہ تھی، اس کے باوجود … خاک و خون کے اس کھیل میں نہ تو اس نے خوابوں کو بکھرنے دیا اور نہ
ہی جذبوں کو بے لگام ہونے دیا۔ کیونکہ وہ آسمان پر بکھرے رنگوں کا مطلب جان گیاتھا۔مشرق و مغرب کے عجب امتزاج اور تاریخی جنوں خیزیوں کے عبرت اثر اشاروں میں لہراتی دلچسپ داستان۔۔۔۔۔۔۔۔