Dil ka muqdama haar ker by Maha Malik
Dil ka muqdama haar ker by Maha Malik Dil ka muqdama haar ker by Maha Malik This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Dil ka muqdama haar ker by Maha Malik
Dil ka muqdama haar ker by Maha Malik Dil ka muqdama haar ker by Maha Malik This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Dil ka muqdama haar ker by Maha Malik
Khoobsurat Mor by Asifa Zia Ahmad Second Marriage, After marriage story Khoobsurat Mor by Asifa Zia Ahmad This is social romantic Urdu novel based on… Read More »Khoobsurat Mor by Asifa Zia Ahmad
“کیا لڑکی کو گولیاں لگیں ہیں؟
“لیکن آواز تو ہم نے نہیں سُنی
“بنا آواز کی ہوگی نہ
“پیٹھ اور کندھے پر لگتا ہے گولیاں لگیں ہیں
“ہر کوئی اپنے انداز مطابق بول رہا تھا لیکن ایک میثم تھا جو مشک کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر تڑپ رہا تھا
“مش آن آنکھیں کھولو شاباش۔۔”میثم نیچے بیٹھتا چلاگیا۔۔”مشک کا سر اپنی گود میں رکھتا وہ پاگلوں کی طرح اُس کو ہوش میں لانے کی ناکام کوشش کرنے لگا
“بیٹا دیکھا پہلے زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔”ورنہ جلدی سے ہسپتال لے جاؤ ٹائم ضائع نہیں کرو۔۔”ایک بزرگ نے اُس کی حالت کو دیکھ کر مشورہ دیا تو میثم نے سرخ نظروں سے اُنہیں دیکھا
“بیوی ہے میری اور زندہ ہے۔۔”مشک کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے سینے میں چُھپاتا وہ سب کو غُصے سے دیکھنے لگا
“کوئی پولیس اور ایمبولینس بلاؤ یہ لڑکا تو شاید ہوش گنوا بیٹھا ہے۔۔”ایک نے کہا تو سب نے اُس کی بات سے اتفاق کیا
“مش آنکھیں کھولو میں کیا بول رہا ہوں۔۔”آپ کو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟”آپ کو شیزی بھائی کو سی آف کرنا ہے تو آئے اُٹھے اُنہیں سی آف کرنے چلتے ہیں کالج جانا ضروری نہیں۔۔”آپ کی سالگرہ ہے نہ آج؟”سرپرائز ابھی سے بتادیتا ہوں اُس کے لیے آپ کو یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں جلدی سے مسکراکر اپنی آنکھیں کھولیں ورنہ میں بُرا پیش آؤں گا آپ سے۔۔”میثم اُس کے وجود سے بہتے خون کو جیسے دیکھ تک نہیں پارہا تھا۔ “یہ جو کچھ ہوا تھا وہ غیرمتوقع تھا جس کے ساتھ ہوا وہ اُس کی لاڈلی ہستی تھی اُس کو کچھ ہوا ہے یہ بات میثم جیسے سمجھدار مرد کے لیے قبول کرنا مشکل تھا میثم کا دماغ اِس بات کو ایکسپیٹ نہیں کرپارہا تھا۔۔”کچھ وقت بعد ایمبولینس آگئ تھی اسٹریچر لایا گیا تھا لیکن میثم مشک کو خود سے دور ہونے نہیں دے رہا تھا سختی سے اُس کو خود میں بھینچے میثم اُن سب پر برس رہا تھا جس سے مجبوراً کچھ آدمیوں نے اُس کو پکڑ کر روکا تو وہ سب مشک کو اسٹریچر پر ڈالنے لگے تو میثم خود کو آزاد کراتا اُن کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھتا مسلسل مشک کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا اُس کا گِرے فراک خون میں لت پت ہوگیا تھا خوبصورت چہرہ زردی مائل ہوگیا تھا۔۔”میثم کے کپڑوں تک مشک کا خون لگ گیا تھا
“یہ سب کیا؟”کیسے؟”اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا میثم بڑبڑانے لگا
“مش۔۔”میثم کھسک کر اُس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا
“مجھے نہیں معلوم تھا تم میری موجودگی کو اتنا فراموش کرچکی ہو کہ اپنے پہلوٶں میں بیٹھا میں تمھیں دیکھاٸی نہیں دیا۔”وہ سرگوشی میں بولا تھا۔داٶد اسکا کبھی بھی تماشہ نہیں بناتا تھا۔وہ اسکی بات محض اسی سے کرتا تھا۔اب بھی حزیفہ نے گاڑی میں غزل لگا دی تھی۔انکی آواز آگٸیں بیٹھے دونوں نفوس تک نہیں پہچ سکتی تھی۔تہذیب کا دل اسکی بات پر جیسے کسی نے مٹھی میں جگڑ لیا۔وہ بوجھل انداز میں گردن پلٹتی ایک خفا نظر اسکے بےتاثر چہرے پر ڈال کر واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گٸی۔
“جب میں نے انکار کردیا ہے تو کیسا نکاح اور کیا لاٸف پلاننگ۔۔۔”وہ ناراضی سے اسے کہہ کر خاموش ہوگٸی۔
“اچھا تم اس رشتے پر رضا مند نہیں ہو۔۔۔ابھی تک یہ بات ہمارے علاوہ کوٸی نہیں جانتا۔۔۔میں اپنی ذاتیات کسی سے شیر کرنے کا عادی نہیں رہا ۔ہمارے مابین جو بات ہے اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کا کوٸی جواز نہیں بنتا۔۔۔تمھاری زندگی کا اہم فیصلہ کرنے کا تمھیں پورا حق ہے۔لیکن تمھارے جذباتی پن میں میں ہم دونوں کا نقصان نہیں ہونے دے سکتا۔”وہ مدھم لہجے میں کہہ کر کندھے اچکا کر رہ گیا۔
“واٹ؟جذباتی پن۔۔کسی زبردستی کا رشتے نبھانے سے بہتر ہے پہلے ہی اپنے دل کی چاہت کچل دی جاۓ۔بعد میں آگے جاکر جب سمجھ آٸے گی تو زیادہ نقصان ہوگا۔۔۔پھر نہ دل بےرخی برداشت کرپاٸے گا نہ رشتہ نبھایا جاۓ گا۔”وہ سختی سے کہہ کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔
“تہذیب حمزہ تم انتہائی ایٹیٹوڈ والی لڑکی ہو جسے اپنے علاوہ کسی کے جذبات کا خیال نہیں۔”وہ بےرخی سے کہہ گیا۔تہذیب کو اسکی بات پر سخت غصہ آیا۔
“مجھے میرے جذبات سمجھ آجاٸیں کافی ہیں۔باقی میرا نہیں خیال کسی کا اس میں نقصان ہورہا ہے۔”گاڑی لاہور کی مصروف سڑکوں سے ہوتی اپنی منزل کی طرف رواں تھی۔
“اچھا اور کونسا زبردستی کا رشتہ؟ ابھی تک تم سے کسی نے زبردستی نہیں کی۔۔”تہذیب اس سے پہلی مرتبہ اس موضوع پر تفصيلی گفتگو کررہی تھی۔گاڑی میں اےسی ہونے کے باوجود اسکا چہرہ پسینوں پسینی ہوگیا تھا۔داٶد نے اپنا رومال جیب سے نکال کر اسکی سمت بڑھا دیا۔تہذیب نے کوٸی نوٹس نہیں لیا۔
“جب آپکی رضا بھی اس رشتے میں شامل نہیں تو کیوں میرے نام کی زبردستی کی پھانس اپنے گلے میں پھنسا رہے ہیں؟”وہ سرخ ہوتے گرمی سے تپتے چہرے سے کہتی تھکے انداز میں لمبے سانس لینے لگی۔داٶد یونہی رومال والا ہاتھ اسکی سمت بڑھاٸے ہوۓ تھا۔وہ اسکا چہرہ پڑھ لیتا تھا۔۔۔وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی۔وہ اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا۔لیکن اس جذباتی لڑکی کے تھکتے اعضاب پر وہ اس سے مزید بحث کا ارادہ ملتوی کرتا سختی سے رومال اسے تھماتا کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔تہذیب کے لیے اسکے بدلتے موڈ سوٸنگز سمجھنا مشکل ہوتا جارہا تھا۔وہ چہرہ تھپتھا کر اسے رومال لوٹانا چاہ رہی تھی۔لیکن اپنے اندر انکی سرد گفتگو کے اختتام پر وہ اسے پکارنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔
ہم جب اللہ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہیں تو سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ہونے ہمارے لیے فرحت و انبساط کا باعث ہوتا ہے ۔ان کے ساتھ گزرے لمحے زندگی کے صفوں پر ہمیشہ کے لیے سنہری لفظوں میں درج ہوتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک جینے کی وجہ ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ آپ کو زندگی کے اندھیروں سے روشنی کے نور کی طرف لاتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر محض لفظوں سے ادا کرنا ممکن نہیں۔
۔”تمہیں منع کیا تھا یہاں مت آنا ۔”دانیال نے کہا تو منہال کو لگا ہاں وہ صحح کا اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔
۔”میری ۔۔ میری تصاویر وہ. ہٹا دو ۔”وہ اٹھتے ہوئے بولی ساتھ ہی نقاب بھی درست کر چکی تھی مگر اسے یہ بے معنی لگا وہ شخص جب چاہے اسے دیکھ سکتا تھا پھر وہ کیسے اس سے پردہ کرتی ۔
وہ یہی تو نہیں چاہتی تھی ۔ کسی غیر محرم کے خیالات کا مرکز بننا ۔
۔”کمرے سے تو ہٹا دوں گا دل پر سے کیسے ہٹاؤں ۔”وہ پوچھ رہا تھا بےبسی اس کی آواز سے عیا تھی مگر وہ کیا جواب دیتی ۔
۔”یہ غلط ہے تمہیں کوئی حق نہیں ہے ۔”منہال نے کوشش کی وہ روئے نہیں مگر آنسو کب ہماری سنتے ہیں ۔
۔”میں یہ گھر بیچ دوں گا ۔”دانیال نے جیسے حل نکالا ۔
۔”تم شادی کر لو ۔”منہال نے ایک اور حل پیش کیا ۔
۔” میں کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتا ۔”وہ زینے اترتے بولا ۔
۔”جب تمہاری زندگی میں کوئی آئے گی تو تم بھول جاؤ گے سب ۔ میں بھی تو بھول گئی سب ۔”وہ اب اسے حجت دے رہی تھی ۔
۔”تم نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی تھی ۔”بولتے پھیکا سا مسکرا دیا ۔
۔” ہاں مگر تمہاری بیوی کرے گی ۔ تم کوشش تو کرو ۔”
“تو کیا کسی سے بھی شادی کر لو ۔”
“نہیں تم بتاؤ تمہیں کیسی لرکی چاہیے میں ڈھونڈوں گی نہ ۔”منہال جلدی سے بولی تبھی دانیال کے قدم رکے وہ پلٹا تھا منہال کی تمام تر توجہ اس پر تھی ۔
۔”منہال دانیال اسفندیار ۔”وہ بولا تو منہال کو پہلی دفہ رات کی گہری خاموشی سنائی دی تھی ۔ وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر تھا ۔
اس کی وہ سرخ آنکھیں ۔ پیشانی پر بکھرے بال ۔نم پلکوں کا خم اس پر سیاہ پیوپل کے گرد سرخی منہال نے نظریں چرائی ۔وہ آنکھیں کسی پر بھی سحر کر سکتی تھی ۔
۔”مگر شیطان گمراہ کر سکتا ہے ۔” حسن کے الفاظ سماعت سے ٹکرائے تو منہال کے منہ سے “توبہ”کا لفظ پھوٹا ۔
دانیال مسکرا دیا ۔
۔”تمہاری یہی بات تو متوجہ کرتی ہے مجھے جتنا میں نے تمہارے پیچھے خود کو زلیل کیا ہے اگر کسی اور کے پیچھے جاتا وہ نہ صرف مجھے سوچتی بلکے اب تک میری ہو چکی تھی ۔
۔”ہم پہلے جیسے رہ سکتے ہیں ایک دوسرے کو تنگ کرنے والے کزنز ۔ کرائم ہاٹنرز ۔ “منہال نے اک آس سے کہا مگر وہ خاموش ہو گیا وہ آخری زینے پر رکا ۔
۔”ہم دوست بن سکتے ہیں”منہال نے ایک اور آپشن دیا ۔
۔”اب تمہارا دوست ناراض نہیں ہوگا کیا ۔”دانیال نے پرانی بات کا حوالا دیا۔
۔”نہیں میرے جزبات بدل چکے ہے ۔ ویسے بھی ہماری تربیت ایسی نہیں ہوئی ہمارے ہاں لرکا لرکی میں شوہر اور بیوی کے علاوہ صرف ایک رشتہ ہوتا ہے ۔ اور میرے جزبات اس سے بہت الگ ہے ۔”وہ بولا تو منہال نے اس کی پشت کو دیکھا ۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔
ہمیں وعدہ خلافی سے سخت نفرت ہے ۔ اگر بارہ بجے پیسے لوٹانے کا وعدہ کیا ہے تو بارہ بج کر ایک منٹ بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ سامنے والا کا کالر اپنے ہاتھوں میں دبوچے وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بولا
معاف کردیں سائیں بیٹی کی سسرال میں مسئلہ ہوگیا تھا سارے پیسے وہیں لگ گئے ۔ میلی کچیلی دھوتی میں ملبوس وہ ادھیڑ عمر مرد گڑگڑایا جسے ذمّہ داریوں نے اپنی عمر سے دوگنا بوڑھا کردیا تھا
ہم کچھ نہیں جانتے اپنے گھر کے کاغذات لاؤ ہمارے پاس جمع کرو اور ایک ہفتے کے اندر ہمارا پیسہ ہمیں مل جانا چاہیے ورنہ تمہارا گھر ہمارا ہوا ۔۔اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
جی جی ۔ وہ آدمی روتا ہوا واپس ہوا
بھائی یہ کتنے دنوں سے ٹال مٹول کر رہا پیسوں کے لئے ۔ انور نے نیچے اوندھے پڑے شخص پر لاتوں اور
گھونسوں کی بارش کی
کیوں بے تجھے پتہ نہیں ہے کہ مجھے زبان کے پکّے لوگ ہی پسند ہیں پھر کیوں ٹال مٹول کر رہا ہے ۔ اس نے ایک لات خود بھی رسید کی اسے
مگر اس بے چارے میں اتنی طاقت کہاں تھی
کہ وہ کچھ بولتا
تب تک پیٹتے رہو جب تک کی یہ پیسے دینے کا قطعی فیصلہ نا کر لے ۔ وہ انور کو ہدایات کرتا آستین موڑتا اندر کی طرف بڑھ گیا
“ملک سے باہر جا رہے ہو؟”اس کے قریب آتے
چند انچ کا فاصلہ رکھے وہ مسکرائی تھی۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھتے شایان کو اب سانس بھی مشکل ہی آئی تھی۔
“ہاں!لیکن تم یہاں۔۔۔!”
“ہاں میں یہاں۔۔۔!”مزید قریب ہوتے اپنی انگلی
اس کے دل کے مقام پر رکھے عنادل آج اسے
چاروں خانے چت کر گئی تھی۔
“کون سے ملک جا رہے ہو؟”دو قدم دور ہوتے ہاتھ باندھے عنادل نے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ
بکھیرے خوشدلی سے پوچھا تھا،جبکہ آنکھوں میں ہنوز شرارت تھی۔
“لندن۔۔۔!”شایان کے چہرے کا رنگ بالکل فق تھا۔
“کب کی فلائٹ ہے؟”آنکھوں کو معصومیت سے
گھماۓ ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔
“آج رات کی۔۔۔!”عنادل یہاں کیوں آئی تھی اور
ان سب سوالات کا مقصد۔۔۔؟
“ہممم۔۔۔!”عنادل نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“لیکن تم۔۔۔!”
“چٹاخ۔۔۔!”
معمول کے طابق آج شایان کو پھر اپنی متاع جان کا محبت بھرا تمانچہ پڑا تھا۔وہ بیچارا ابھی شاک کی کیفیت میں ہی تھا کہ
عنادل نے ایکدم ہی غصے سے آگے بڑھ اس کا
گریبان پکڑا تھا۔
“کیوں۔۔۔؟وہاں تمہاری بیوی رہتی ہے یا بچے۔۔۔؟جن کے پاس جانے کے لیے تم اتنے بےتاب ہو
رہے ہو۔۔۔؟”
“عنادل میں۔۔۔!”
“کیا میں۔۔۔ہاں کیا میں۔۔۔جب تمہاری
بیوی پاکستان
میں ہے تو تم لندن کیا کرنے جا رہے ہو؟بولو۔۔۔!”وہ رو دی تھی۔
“دل۔۔۔!”شایان نے اس کی آنکھ سے گرتے موتیوں
کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چنا تھا۔
“پلیز مت رو۔۔۔!”اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں
کے پیالے میں بھرتے شایان نے التجا کی تھی۔
“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے،تم تو جا رہے ہو نا مجھے
چھوڑ کر۔۔۔!”اس کی گہری آنکھوں میں دیکھے اس نے معصومیت سے شکوہ کیا تھا۔
“تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ چلے جاو۔”
“میں نے کہا اور تم نے مان لیا۔”اسے پیچھے کی
طرف دھکیلتے وہ اب شکوے پر شکوہ کر
رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“ہائے مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ میرے پاس تو الفاظ ہی نہیں ہیں۔”عنایہ
نے آکسائیڈ ہوتے ہوۓ کہا تھا۔وہ دونوں
اس وقت کافی پینے کیفٹیریا آئے تھے۔
“مجھے بھی۔۔۔!”ارمان بھی مسکرایا تھا۔
“اب اگلا نمبر ہمارا ہے۔”ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے عنایہ نے ارمان پر محبت بھری نگاہ ڈالی تھی۔
“ہائے۔۔۔!”وہ بھی آکسائیڈ ہوا تھا۔شایان اور
عنادل کی شادی سے وہ دونوں ہی بہت
خوش تھے۔
“مجھے تو بہت حیرت ہو رہی ہے کہ میری بہن
کی شادی آپ کے دوست سے ہو رہی ہے۔”
“مجھے بھی۔۔۔!”وہ دونوں ہی ہر چیز سے بے خبر
تھے۔
“ویسے رشتہ کب بھیجوں۔۔۔؟”عنایہ کے بغیر
رہنا اب اس کے لیے بہت مشکل ہو چکا تھا۔
“ابھی ان دونوں کی شادی تو ہونے دیں،اور ویسے
بھی میری کچھ شرائط ہیں۔”
“کیسی شرائط۔۔۔؟”اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
“میں آپ سے اسی شرط پر شادی کروں گی
جب آپ مجھے ساری اسائمنٹس بنا کر دیں
گے اور مجھے ہمیشہ ہر ٹیسٹ اور پیپر میں فل
مارکس دیں گے۔”
“What…?”
وہ تقریبا چیخ اٹھا تھا۔
“آپ اپنے پروفیسر سے اسائمنٹس بنوائیں گئی؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔
“اگر ان محترم پروفیسر صاحب کو مجھ سے
شادی کرنی ہے تو یہ تو کرنا ہی پڑے گا۔”معصومیت سے آنکھیں مٹکاۓ وہ ارمان کو بہت بڑا جھٹکا دے گئی تھی۔
“یہ زیادتی ہے۔”ارمان نے دبا دبا سا احتجاج کیا تھا۔
“جو بھی ہے۔۔۔!”عنایہ نے لاپروائی سے شانے اچکائے تھے جس پر ارمان نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تم نے میرے لیے کوئی ویڈنگ گفٹ تو نہیں لیا نا۔۔۔؟” شہادت کی انگلی کو اپنے دانتوں تلے
دبائے وہ اضطراب سے گویا ہوئی تھی۔
“اگر تم نے ابھی تک نہیں لیا نا تو مت لینا۔۔۔!”
“کیوں۔۔۔؟”ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔
“گفٹ مجھے اپنی مرضی کا چاہئے۔”وہ ایکدم
ہی ریلیکس ہوا تھا۔
“وہ تو تم لے لینا مگر ویڈنگ گفٹ تو
میں اپنی مرضی سے دوں گا۔”
“نہیں!میرا مطلب ہے کہ میں نے
ہمیشہ سے یہ
سوچا ہوا تھا کہ جب بھی میری شادی ہو گی
تو میں شادی کی پہلی رات اپنے شوہر سے یہی
تحفہ مانگوں گی۔”وہ اب بھی مضطرب تھی۔
“اچھا!تو کیا چاہیے میری جان کو۔۔۔؟”
“جو مانگوں گی دو گے؟”ایک لمحے میں شایان کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔وہ کہنا چاہتا تھا کہ
آخر میرے پاس ہے ہی کیا؟
“ہممم۔۔۔۔!”مگر وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
“کیا تم کل رات شادی کے تحفے کے طور پر مجھے
سورت محمد سنا سکتے ہو،میرا مطلب ہے میری ہمیشہ
سے یہی خواہش تھی کہ میرا شوہر جو بھی
ہو میں اس سے یہی فرمائش کروں گی کہ وہ
مجھے ایک سورت حفظ کر کے سنائے۔میں جانتی
ہو یہ بہت مشکل ہے مجھے تمہیں پہلے بتانا
چاہیے تھا مگر تم فکر مت کرو تم جتنی آیات
باآسانی یاد کر سکو کر لینا نہیں تو دیکھ کر پڑھ دینا۔”عنادل کی اس لمبی تمہید پر وہ مسکرا
دیا تھا۔وہ خاص تھی بہت خاص تو اس کی
فرمائش کیسے عام ہو سکتی تھی؟
Kala jado by Meher Kashif YouTube Special Likhari online magazine brings you likhari channel ( likhari online magazine channel) Likhari magazine was our Monthly Online… Read More »Kala jado by Meher Kashif YouTube Special
ہر طرف ارمان ،ارمان ،ارمان کا شور تھا ۔۔۔۔۔..
دونوں اطراف میں لڑکے لڑکیوں کے ہجوم تھے اور انکے درمیان ۔۔ ارمان ملک اپنی روبدار پرسنلٹی لیے ۔۔بلیک جیکٹ بلیک جینز ۔۔اور بلیک ہی جاگرز پہنے ۔۔اپنی ہیوی بائک پر ۔۔۔گلوز اور سیفٹی ہیلمٹ پہنے اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے بھی سب لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔
ریس تھی ۔۔5 بائک رائیڈرز تھے جنکی ریس تھی ۔۔۔
اور ارمان ارحم ملک کبھی کسی سے ہارا نہیں تھا ۔۔اور ان لڑکوں نے اسے چیلنج کیا تھا ۔۔
اور ارمان لووز چیلنجز ۔۔۔۔۔۔۔۔
1،2،3 سٹارٹ ۔۔۔۔
ہرا جھنڈا لہرایا گیا جس پر ریس سٹارٹ ہوئی ۔۔۔
مگر یہ کیا سب آگے نکل گئے تھے اور ارمان وہیں پر رکا ہوا تھا ۔۔۔
سب پریشانی کے عالم میں ارمان کو دیکھ رہے تھے آخر کر کیا رہا تھا ۔۔۔تقریبن 1 کلو میٹر جب سب نکل گئے تو ارمان نے ریس لگائی ۔۔بائک آن کرتے فراٹے بھرتے بائک ہواؤں سے باتیں کرتی انکے مقابل آن پہنچی تھی ۔۔۔