Touq by Sana Rasool Complete
دل تو پہلے ہی خالی تھا اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہ رہا کچھ خواب تھے میری زندگی کا سرمایہ میرے اپنوں،،نے مجھ سے وہ بھی چھین لیا،،
کوٹ سے نکلتے وقت اس کے چہرے پہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی ،(لیکن کچھ مسکراہٹیں عارضی ہوتی ہیں)
سامنے نظر دڑاؤ تو ان خستہ حال انسانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اور کچھ میڈیا والے جو اس کیس کے متعلق مختلف سوالات اس سے پوچھ رہے تھے اور پھر چند منٹ میڈیا والوں کے جوابات دیتے ہوئے وہ تیزی سے اس ہجوم سے نکلتے ہوئے اپنی گاڑی میں ا کر بیٹھی اور پھر زن سے گاڑی اڑا لے گئی اپنی اگلی اور شاید آ خری منزل کی جانب۔









