Deep sundar hain complete by Mawra Talha
Deep sundar hain complete by Mawra Talha “Immerse yourself in the world of ‘Deep Sundar Hain Complete,‘ a moving novel by Mawra Talha that explores… Read More »Deep sundar hain complete by Mawra Talha
Deep sundar hain complete by Mawra Talha “Immerse yourself in the world of ‘Deep Sundar Hain Complete,‘ a moving novel by Mawra Talha that explores… Read More »Deep sundar hain complete by Mawra Talha
“مومو آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا.”کافی دیر بعد بھی جب مہرماہ کچھ نہیں بولی تو اس سے رہا نہیں گیا اور دوبارہ سوال کیا۔
“کچھ خاص نہیں بس اتنے کم پودوں کو لان میں دیکھ کر حیران ہوں.”اقراء نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔مطلب وہ ابھی تک یہ سوچے جارہی تھی کہ لان اتنا چھوٹا کیوں ہیں۔اس نے دل ہی دل میں ایک قہقہ لگایا تھا یعنی اسکی مومو بھی اسکی طرح فضول ہی سوچنے لگی ہیں۔مہرماہ کی کافی تقریبا ختم ہوچکی تھی۔تبھی کے سامنے رکھے میز پر رکھا اور شال اپنے کندھوں سے ہٹاکر ساتھ والی کرسی پر رکھا۔
“شاید آغا کو پودے پسند نا ہو۔”اس نے اپنے طرف س مدعا پیش کیا۔جس پر مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“بابا جان کو پودے کافی پسند ہیں۔اور یہی خوبی ان سے رجب بھائی اور آغا میں منتقل ہوئی ہیں۔اغا کو پودے کافی پسند تھے۔میں نے رجب بھائی سے سنا تھا۔جو پودا میں آغا کی پیدائش پر لگایا تھا۔اغا نے اسکا بہت خیال رکھا تھا۔”اقراء کو دلچسپی ہوئی تھبی ننگے پیر گھاس پر چلتے ہوئے آکر ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔انکی نظریں اپنے بائیں طرف کے پودوں پر تھیں۔لان کافی وسیع تھا مگر پودے اس میں نا ہونے کے برابر تھے۔
اقرا نے انکی نظروں کی تعاقب میں دیکھا تھا جہاں ایک پودے پر ننھی ننھی کھلیاں آگئی تھی۔جب اس نے مومو جو دوبارہ بولتے سنا۔
“بعد میں جب وہ پندرہ سال ہوا تب اس نے رجب بھائی کے گھر پر اسی پودے کے بہت سے قسمیں لگائی تھی بلکہ داؤد صاحب کہہ رہے تھے کہ اس نے تو اپنے نانا کے گھر پر بھی اپنا لان بنا رکھا تھا۔”بولتے ہوئے وہ پل بھر کو روکی تھی پھر دوبارہ بولنا شروع کیا”پنار بھابھی سے دور ہونے کے بعد تو اسکا زیادہ تر وقت کی پودوں کے ساتھ ہی گزرتا ۔اسے گارڈننگ بہت پسند تھی اقراء۔میں حیران ہوں کہ اس نے اپنے گھر پر اتنے کم پودے کیوں لگائے ہیں؟”وہ پریشان ہوئی تھی۔اقرا کو آج احساس ہوا تھا کہ مومو کو صرف اس سے ہی نہیں آغا سے بھی محبت تھی۔سورج کی کرنیں لان میں پڑتے ہی گرمی کا احساس ہوا۔تو اقراء نے شال خود پر سے ہٹاکر تہہ کرکے اپنے گود میں رکھا۔
“مومو آپ باخبر ہیں انکے بچپن سے کہ انکا بچپن عام بچوں کے بچپن سے قدرے مختلف گزرا ہیں۔چھوٹی عمر میں ہی وہ اس دلدل میں پھنس گئے تھے۔زندگی نے ان سے بہت تلخ امتحان لیا ہیں۔جس میں انکے سارے شوق دم توڑ چکے ہیں۔”مہرماہ کی نظریں اب اس پر تھی۔اپنے اوپر انکی نظروں کی تپش محسوس کرکے اقراء نے انہیں دیکھا۔
Sangam by Louba Anees Complete novel “Experience the captivating Urdu novel ‘Sangam’ by Louba Anees. Download the complete PDF and embark on a poignant journey… Read More »Sangam by Louba Anees Complete novel download pdf
January ki sardi mai by Naeema Naz Sultan January ki sardi mai by Naeema Naz Sultan This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »January ki sardi mai by Naeema Naz Sultan
Pursakoon see ik Jannat by Saniya Mirza Pursakoon see ik Jannat by Saniya Mirza This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Pursakoon see ik Jannat by Saniya Mirza
Prince Charming by Falak Tanveer Prince Charming by Falak Tanveer This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them are true… Read More »Prince Charming by Falak Tanveer
Jaan e Azeez Season 2 ( Tiger ) by Soni Mirza Complete “Jaan e Azeez Season 2 (Tiger) by Soni Mirza: Dive back into… Read More »Jaan e Azeez Season 2 ( Tiger ) by Soni Mirza Complete
Aab e kausar by Talat Rabab Episode 2 “Aab e Kausar” by Talat Rabab: Immerse yourself in a captivating story of love, loss, and resilience.… Read More »Aab e kausar by Talat Rabab Complete novel
” تم میں کوئی تمیز ہے کہ نہیں۔ اندھی ہو جو اس طرح ٹکراتی پھرتی ہو؟” وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی تھیں۔ ان کی آواز سن کر سبھی لوگ آ گئے تھے۔ جب کہ صبیحہ ابھی تک بے یقینی سے گال پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ آج تک کسی نے اس پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے تھپڑ کا درد محسوس کیا تھا۔
” یہ کیا حرکت ہے تابندہ؟ تم آج تک جیسا بھی رویہ رکھو میں نے تمہیں کبھی کچھ نہیں کہا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم بچوں پر ہاتھ اٹھانا ہی شروع کر دو۔ “
دادی گرجتی آواز میں بولی تھی۔ سبھی کو تابندہ چچی کا تھپڑ مارنا بہت برا لگا تھا۔ صبیحہ کی والدہ اپنے اندر ابھرتے غصے کے باعث بہت کچھ بولنا چاہتی تھیں مگر یہ اس گھر کا اصول تھا کہ جب رحمت عزیز بولتی تھیں تو پھر کسی کے بولنے کی گنجائش نہیں بچتی تھی۔
تابندہ چپ چاپ کھڑی ان کی ڈانٹ سن رہی تھیں۔ تھپڑ مار کر شرمندہ وہ خود بھی ہو رہی تھیں۔ مگر اب ان کی شرمندگی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
Un ginat by Nimra Rashid Complete novel Un Ginat by Nimra Rashid – A Journey Beyond the Visible Realm Some stories take readers on… Read More »Un ginat by Nimra Rashid Complete novel