Skip to content
Home » Complete novel » Page 102

Complete novel

Jung e junoon by Mubeen Rasheed Complete novel

  • by

یہ لو ہاتھ آگے کرو

یہ لو تم بھی لو

ہاتھ آگے کرو!میں نے بولاہاتھ آگے کرو۔تمہیں میری سمجھ نہیں آرہی ہاتھ آگے کرو۔۔

ہ۔۔۔۔ا۔۔۔تھ آ۔۔۔گے۔ کرو

(ایک ڈراؤنی خوف زدہ آواز)

میں نے کہا نی نہیں کروں گی ہاتھ آگے تمہیں سمجھ نہیں آتی۔

زور سے دکھا دیتے ہو ۓ۔۔۔رحمٰن ہوا میں ہوتے ہوۓ سامنے دیوار سے ٹکڑا کہ گر تے ہوۓ۔۔

سب کے سب لزرتے ہوۓ سب کی ہوای اُڑگی

حمانہ یہ کیا کیا تم نے۔۔۔

خاموشی۔۔۔۔۔۔۔

ڈراؤنی صورت۔۔۔۔۔۔

میں حمانہ نہیں نہیں ہوں ہاہا۔۔۔

میں تم سب کو چھوڑی گی نہیں میں مار دوں گی تمہیں رحمٰن۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔

حمانہ کیا ہو گیا ہے یار بابا۔۔۔

نہیں ہے تمہارے یہ بابا۔۔۔۔۔۔ نور۔۔ہا۔۔۔۔۔ااا

آپ سب پیچھے ہٹ جاۓ

لیکن مولوی صاحب۔۔۔

میں کہا نہ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔۔

تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔۔۔۔نہیں چھوڑی گی میں اِسے۔۔۔

کیا بگاڑا ہے اِس نے تیرا جو تو اِس کے پیچھے پڑی ہے

Yaqeen ka safar by Gul Sania Complete novel

  • by

باجی آپ کی شادی ہوگئی یا رشتہ وغیرہ، وہ ناں دراصل میرا بھائی ہے، اس کے لیے ہم رشتہ دیکھ رہے ہیں تو ناں مجھے آپ میرے بھائی کے لیے بہت بہت پسند آئی ہیں۔ ( عالیہ نے اک سانس میں سب بول دیا جیسے کہ نور اس کے سامنے سے غائب ہی نہ ہوجائے )

نور :” نور حیرت کے مارے عالیہ کو اور اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ( اللہ جی یہ کیا آفت آئی ہے تھوڑی سی ہائے ہیلو کیا کر لی یہ تو گلے پڑ گئی اب میں کیا کروں؟ ) نور دل ہی دل میں بڑبڑائی ۔”

عالیہ: باجی کیا ہوا کہاں کھو گئیں آپ؟

نور: “ہاں، ہاں، نہیں، نہیں، میرا مطلب ہے کچھ بھی تو نہیں ہوا “

عالیہ: “باجی آپ نے بتایا نہیں “؟

نور : وہ نہ اصل میں میری شادی ہوگئی ہے ( نور کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا بولے جو زبان پر آیا بنا سوچے سمجھے بس بولتی گئی) ، ہاں ہوگئی ہے نور نے روتا ہوا منہ بنا کر بتایا ” میرا اک بچہ بھی ہے ۔ ( اللہ جی سوری آئی نو میں نے بہت بڑا جھوٹ بولا ہے ) نور دل ہی دل میں بولی۔

عالیہ:” ٹیڑھا منہ بنا کر نور کو گھورے جا رہی تھی ،نور جو ویلوٹ کے بلیک فراک اور ساتھ ہی میچنگ پاجامہ اور ساتھ سکن حجاب اور بڑی بلیک شال میں نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی بے داغ چہرہ، لمبی گھنی پلکیں نیچرل گلابی ہونٹ۔ اسے دیکھنے میں ہی کہیں سے لگ ہی نہیں رہا کہ یہ خوبصورت لڑکی شادی شدہ اور اک بچے کی ماں ہے “

لیکن باجی آپ کو دیکھ کر لگتا تو نہیں ہے؟

نور : بس میں نے اپنا خیال بہت رکھتی ہوں اس لیے نہیں لگتا سب ہی ایسے بولتے ہیں ہاہاہا ، ( اللہ جی پھر سے سوری لیکن میں کیا کروں؟ )

اچھا عالیہ آپ بیٹھیں میں واش روم سے ہو کر آئی( نور کو یہی بہانا ملا ادھر سے بھاگنے کا )

Aey Ishq Mera kamla Jiya by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

یہ تو آغازِ محبت ہے تو میری شدتوں کا یہ حال ہے

تو نے ابھی دیکھا ہی کہاں ہے عروجِ محبت۔۔!!!💗✨

وہ گاڑی کو پارک کر کے تیز تیز قدم اٹھاتے اندر کی جانب بڑھی تھی

لیکن جیسے ہی اسکا پہلا قدم گھر میں پڑا اسکے سر پر آکر کشن لگا تھا۔۔

اسنے جوتے ایک طرف اتارے اور سامنے دیکھا تو اسفی اسکو ہی گھور رہا تھا

وہ معصوم سا چہرا بناتے اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔

اسفی۔۔یار وہ ۔۔ابھی اسکی بات مکمل ہوتی وہ دوسرا کشن بھی اسکی جانب پھینک چکا تھا

اس حملے کے لیے وہ تیار نہیں تھی

سو اسک محنت سے سٹریٹ کیے ہویے بالوں کی حالت کچھ عجیب ہو گیی تھی

Kahani mohabbat ki by Laraib Fatima Complete novel

  • by

ابا بتا رہے تھے اس دفعہ تایا ابا کا بیٹا بھی آ رہا ہے ساتھ۔؟نا چاہتے ہوۓ بھی پری کی زبان پھسلی

ہمم۔۔آ تو رہا ہے پر تیری چچی بتا رہی تھی وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا بڑا بتمیز اور بد لہاز ہو گیا ہے۔۔۔رضوانہ کو تو جیسے بولنے کی وجہ مل گئ تھی۔۔۔۔

اچھا انہیں کیسے پتا۔۔۔؟پری کے آلوچھیلتے ہاتھ رکے اور وہ اماں کی طرف مڑی۔۔

حسن اور وہ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں نا اسی نے بتایا ہے ۔۔۔۔

بس کر اماں مافیہ چاچی کی باتوں کو تو رہنے ہی دے وہ تو ہر دفعہ رامین کے بارے میں بھی یہی کہتی تھیں لیکن وہ تو ایسی بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔پری نے ماں کی یاد دہانی کی۔۔۔

اچھا چھوڑ تو ان سب باتوں کو اور جلدی سے آلو چھیل وہ پنڈ پہنچنے ہی والے ہوں گے۔۔۔

رضوانہ کے کہنے ہر پری کے ہاتھ ایک بار پھر آلو چھیلنے میں مصروف ہو گۓ۔۔

Aziyat namaby Bilal Anayat short novel

  • by

میری ماں اور باپ دونوں ہی بہت اچھے انسان تھی ان کی زندگی اجڑنے کا ملال اج بھی مجھے چین سے سونے نہیں دیتا

17سالوں میں میں کبھی چین سے نہیں سو پایا میری زندگی میں انے والے ہر انسان نے مجھے کٹ پتلی کی طرح نچایا

اج میرا کوئی بھی نہیں ہے میں تنہا ہوں رشتوں پہ مجھے اعتبار ہی نہیں رہا کبھی کبھی تو دل کرتا ہے میں اپنا دل نکال کے خود اس پر چھریاں چلاؤں میں بے بس ہوں مجھے آگے جانے کے لیے راستہ نظر ہی نہیں آ رہا

مجھے اج تک کوئی انسان نہیں سمجھ سکا بس میں فرار چاہتا ہوں ان رشتوں سے ان الجھنوں سے اپنی زندگی سے

جیسے لوگ زندگی کہتے ہیں میں اسے اذیت نامہ کہتا ہوں بس سانسیں ہی چل رہی ہیں اندر سے ہر خواہش مر چکی ہے میں بھی اندر سے مرا ہوا ہوں

Hamari talash by Maha Waseem Complete novel

  • by

تم وہاں موجود تھے تو پھر تم نے پولیس کو ہمارا بندہ لے جانے کی اجازت کیسے دی ۔تم نے ان کو روکا کیوں نہیں۔ آغا شدید غصے سے چیختے ہوئے کہنے لگا۔

” اسے تھانے سے بھگا نے میں اس کی مدد کریں گے ۔ہم اسے وہاں سے نکال لیں گے۔”۔ گینگ کے ایک بندے نے گھبراتے اور ڈرتے ہوئے کہ۔۔ا

“ایسے کیسے نکال لیں گے۔۔ اب تو پلان نہیں خراب ہو گیا۔۔ پولیس کے ساتھ ساتھ سگریٹ ایجنسی اس سے ہمارے پتے کا پوچھے گی ۔۔ وہ بتا بھی دے گا ایسے تو ۔میرا انتقام لینے کا منصوبہ خراب ہو گیا ہوگا ۔۔جاؤ دفع ہو جاؤ اور جا کے بندے تیار کرو ۔۔کچھ بھی کرو ۔۔ہمارا بندہ واپس آنا چاہیے۔۔ اس سے پہلے کہ وہ سب کچھ بتا دے “

آغا شاہ ایک بار پھر غصے سے چیخ اٹھا۔