Skip to content
Home » Complete novel » Page 109

Complete novel

Pas e aina by Rabia Rehman Complete Novel

  • by

یہ کہانی ہے ایک فین گرل اور ایک ولاگر کی۔ ایک کیمرہ کس طرح سب کی زندگیوں پہ اثر چھوڑتا ہے۔ ایک لڑکی جو ایک ولاگر کی اتنی دیوانی ہے کہ اس کو فالو کرنے کے چکر میں بہت بڑی غلطی کر بیٹھتی ہے۔ دوسری طرف ولاگر جو کہ فیملی ولاگنگ کرتی ہے کیا واقعی وہ خوش ہے اپنی زندگی میں؟ پس آئینہ حقیقت کچھ اور ہے۔

Sneak

رات گہری ہو رہی تھی ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی

شاید بارش ہوئی تھی ہر طرف اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ تینوں تقریبا بھاگتے ہوئے بیسمینٹ تک پہنچے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اس کو ڈھونڈتے ان کے کانوں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔ ہر چیز چند لمحوں کے لیے جیسے ساکت ہو گئی تھی پھر ان تینوں نے خون کی لکیر دیکھی اور وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کو آنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکی چیخ مارتی پاس کھڑے اس لڑکے نے اس کے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا، آنسوں ابل ابل کر لڑکی کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔

” آواز مت نکالنا چلو یہاں سے.” لڑکے نے بنا کسی کو مخاطب کیے سنجیدگی سے کہا اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر پلٹا، تیسرے نے بھی ان کی پیروی کی تھی۔

****************

رات گہری ہو رہی تھی ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی

شاید بارش ہوئی تھی ہر طرف اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ تینوں تقریبا بھاگتے ہوئے بیسمینٹ تک پہنچے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اس کو ڈھونڈتے ان کے کانوں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔ ہر چیز چند لمحوں کے لیے جیسے ساکت ہو گئی تھی پھر ان تینوں نے خون کی لکیر دیکھی اور وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کو آنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکی چیخ مارتی پاس کھڑے اس لڑکے نے اس کے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا، آنسوں ابل ابل کر لڑکی کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔

” آواز مت نکالنا چلو یہاں سے.” لڑکے نے بنا کسی کو مخاطب کیے سنجیدگی سے کہا اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر پلٹا، تیسرے نے بھی ان کی پیروی کی تھی۔

Ujar gaya hai koi by Aqsa Tehreem Complete Novel

آج پھر وہ اس کے در پر آیا تھا اپنی عرضی لے کر ۔۔ ایک بار پھر سے وہ بے بس ہوئی تھی ۔۔ دونوں دل کے ہاتھوں مجبور تھے ۔۔ ایک کو دوسرا چاہیئے تھا تو دوسرے کو تیسرا چائیے تھا ۔۔ محبت تینوں کے گرد گھومتی انہیں خوار کر رہی تھی ۔۔ مگر کسی کا مقدر نہیں ٹھہر رہی تھی ۔۔

آپ کیوں روز مجھے بے بس کرنے آ جاتے ہیں عارض ! کیا میں انسان نہیں لگتی آپکو ! کیا میں احساس و جذبات سے عاری ہوں ! ۔۔ وہ تھک ہار کے دکھ سے بولی تھی ۔۔ اس کی نگاہیں جھک گئیں ۔۔ کیا کرتا وہ ۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔ پر تھی تو وہ بھی مگر اس طرح وہ اس کو بے بس تو نہیں کرتی تھی ۔۔ جس طرح وہ اس کو آخری مقام پے لے آیا تھا ۔۔

حیا تیمور میں مجبور ہوں دل کے ہاتھوں ۔۔ تمھارے سوا کوئی نہیں جو مجھے میری محبت دلا سکے ۔۔ وہ سچائی سے بولتا اس کو دنیا کا سب سے ظالم انسان لگا تھا ۔۔ جو اس کی ذات کو روند کر کسی اور کی ذات کو سر کا تاج بنانا چاہتا تھا ۔۔

Teri rahon mein by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

یہ کہانی محبت، قربانی اور تقدیر کے سنگم پر کھڑے ان کرداروں کی ہے جو زندگی کی کٹھن راہوں میں اپنے جذبات، خوابوں اور رشتوں کی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ انسان کی خواہشات اور قسمت کے درمیان چلنے والی جنگ، امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے لمحات، اور محبت کے رنگوں میں لپٹی تلخ حقیقتیں اس کہانی کی روح ہیں۔

“تیری راہوں میں” نہ صرف ایک دلکش رومانی کہانی ہے بلکہ یہ زندگی کے حقیقی مسائل اور جذباتی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ محبت کی ان راہوں کی داستان ہے جہاں راستے ہمیشہ ہموار نہیں ہوتے، قربانیاں دی جاتی ہیں، صبر آزمایا جاتا ہے اور کبھی کبھی محبت کے باوجود بھی جدائی مقدر بن جاتی ہے۔

Sneak

وہ چاروں نشے میں دھت پڑے تھے ۔۔ شراب کی بوتلیں ان کے اردگرد پڑی ماحول میں بو پھیلا رہیں تھیں ۔۔ سمندر کی لہریں رات کے سناٹے میں شور مچا رہیں تھیں ۔۔

یار بس کر دو پینا ۔۔ گھر کیسے جائیں گے ۔۔ جازب آفندی نے ماہر کو شراب کو پھر سے شراب منہ کو لگاتے دیکھ کر ٹوکا تھا ۔۔ ان تینوں کی بانسبت جازب نے کم پی رکھی تھی ۔۔ جبکہ وہ تینوں اپنے ہواس غواہ رہے تھے ۔۔

یار آج کی رات تو عیش کرنے دے ۔۔ میرے باپ الیکشن جیت گیا ہے ۔۔ ماہر بولتے ہوئے لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا تھا ۔۔ جبکہ یمن اور زین سمندر کی خشک مٹی پے گرے پڑے تھے ۔۔ وہ اس قدر شراب پی چکے تھے کہ اٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے ۔۔

رات بہت ہو گئی ہے چلو اٹھو گھر چلیں ۔۔ جازب گاڑی کی چابی اٹھ کر ان کو بھی اٹھاتے ہوئے بولا ۔۔ جو ایک انچ نہیں ہلے تھے ۔۔

نہیں آج کی رات یہیں رہتے ۔۔ چاندنی رات کے نیچے ۔۔ یمن نشے میں دھت ہوتا بولا تھا ۔۔ اس کی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں ۔۔ نشہ آہستہ آہستہ اس کے حواس سلب کر رہا تھا ۔۔

****************

Ishq e samar by Saira Khan Complete Novel

  • by

وو میں نے آپ کو تھینکس کہنا تھا ۔۔اس رات

آپ نے میری جان بچائ مجھے تو بلکل امید

نہیں تھی کہ اب میں زندہ بچوں گی ۔۔

ثمر گیلانی نے اس کی بات کا کوئ جواب نہیں دیا ۔۔ایسے ہی ڈرائیو کرتا رہا ۔۔

فروا کو لگا وو کہے گا یہ تو میرا فرض تھا یا

یہ ہی کہ دیگا تمہاری جگی کوئ اور ہوتا تو

میں یہ ہی کرتا ۔مگر اس نے کوئ ری ایکشن

نہ دیا ۔۔

فروا کو شرمندگی سی ہونے لگی ۔۔پھر وو چہرہ موڑے باہر دیکھنے لگی

تم وہاں کیا کرنے گئ تھی ؟کچھ دیر بعد گاڑی میں ثمر گیلانی کی آواز گونجی تو فروا

نے حیران ہو کر گردن موڑ کر اسے دیکھا ۔۔۔یہ تین ملاقات میں پہلی بات تھی جو اس نے فروا سے کی تھی ۔۔

وو سامنے ہی دیکھ رہا تھا اس نے فروا پر ایک نظر ڈال کر دوبارہ اس کی جانب نہیں دیکھا تھا ۔۔

کہاں ؟

فروا نے حیرانی سے باہر نکلتے اس سے پوچھا تھا۔۔

آگ والی جگہ پر؟

ثمر گیلانی نے سنجیدگی سے پوچھا ۔

آگ والی جگہ پر ؟ فروا سوچنے لگی ۔۔پھر اسے یاد آیا کہ جب وو احمر سے بات کر رہی تھی تو ان کے پاس سے ایک ویٹر گزرا تھا اور سارا جوس اس کے ہاتھوں پر الٹ دیا تھا ۔۔۔

احمر نے اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائ اور کہا جاؤ میڈم کے ہاتھ دھلاؤ ۔۔تو پھر وو اس سے سوری سوری کرتے وو اسے اس سائڈ پر لے آیا ۔۔اور اسے کہا ۔۔آپ یہں کھڑی ہوں میں پانی کی بوتل لاتا ہوں ۔۔پر کافی دیر گزرنے کی بعد

وو واپس آتا دکھائ نا دیا تو فروا واپس پلٹنے لگی مگر اس سے پہلے ہی آگ بھڑک اٹھی۔۔۔

جو اسے یاد تھا اس نے سب دھیرے دھیرے

ثمر گیلانی کو بتا دیا۔۔

جبکہ ثمر گیلانی اس کی باتیں سن کر اور الجھ گیا ۔۔تو کیا یہ واقعی ایک حادثہ تھا

یا کسی نے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔۔

ثمر گیلانی سامنے سڑک پر نگاہ جماۓ بے چین سا تھا۔