Skip to content
Home » Complete novel » Page 110

Complete novel

Masoom sa Ishq by Rimsha Hussain Complete novel

  • by

“کیا لڑکی کو گولیاں لگیں ہیں؟

“لیکن آواز تو ہم نے نہیں سُنی

“بنا آواز کی ہوگی نہ

“پیٹھ اور کندھے پر لگتا ہے گولیاں لگیں ہیں

“ہر کوئی اپنے انداز مطابق بول رہا تھا لیکن ایک میثم تھا جو مشک کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر تڑپ رہا تھا

“مش آن آنکھیں کھولو شاباش۔۔”میثم نیچے بیٹھتا چلاگیا۔۔”مشک کا سر اپنی گود میں رکھتا وہ پاگلوں کی طرح اُس کو ہوش میں لانے کی ناکام کوشش کرنے لگا

“بیٹا دیکھا پہلے زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔”ورنہ جلدی سے ہسپتال لے جاؤ ٹائم ضائع نہیں کرو۔۔”ایک بزرگ نے اُس کی حالت کو دیکھ کر مشورہ دیا تو میثم نے سرخ نظروں سے اُنہیں دیکھا

“بیوی ہے میری اور زندہ ہے۔۔”مشک کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے سینے میں چُھپاتا وہ سب کو غُصے سے دیکھنے لگا

“کوئی پولیس اور ایمبولینس بلاؤ یہ لڑکا تو شاید ہوش گنوا بیٹھا ہے۔۔”ایک نے کہا تو سب نے اُس کی بات سے اتفاق کیا

“مش آنکھیں کھولو میں کیا بول رہا ہوں۔۔”آپ کو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟”آپ کو شیزی بھائی کو سی آف کرنا ہے تو آئے اُٹھے اُنہیں سی آف کرنے چلتے ہیں کالج جانا ضروری نہیں۔۔”آپ کی سالگرہ ہے نہ آج؟”سرپرائز ابھی سے بتادیتا ہوں اُس کے لیے آپ کو یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں جلدی سے مسکراکر اپنی آنکھیں کھولیں ورنہ میں بُرا پیش آؤں گا آپ سے۔۔”میثم اُس کے وجود سے بہتے خون کو جیسے دیکھ تک نہیں پارہا تھا۔ “یہ جو کچھ ہوا تھا وہ غیرمتوقع تھا جس کے ساتھ ہوا وہ اُس کی لاڈلی ہستی تھی اُس کو کچھ ہوا ہے یہ بات میثم جیسے سمجھدار مرد کے لیے قبول کرنا مشکل تھا میثم کا دماغ اِس بات کو ایکسپیٹ نہیں کرپارہا تھا۔۔”کچھ وقت بعد ایمبولینس آگئ تھی اسٹریچر لایا گیا تھا لیکن میثم مشک کو خود سے دور ہونے نہیں دے رہا تھا سختی سے اُس کو خود میں بھینچے میثم اُن سب پر برس رہا تھا جس سے مجبوراً کچھ آدمیوں نے اُس کو پکڑ کر روکا تو وہ سب مشک کو اسٹریچر پر ڈالنے لگے تو میثم خود کو آزاد کراتا اُن کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھتا مسلسل مشک کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا اُس کا گِرے فراک خون میں لت پت ہوگیا تھا خوبصورت چہرہ زردی مائل ہوگیا تھا۔۔”میثم کے کپڑوں تک مشک کا خون لگ گیا تھا

“یہ سب کیا؟”کیسے؟”اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا میثم بڑبڑانے لگا

“مش۔۔”میثم کھسک کر اُس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا

Azli dino ki abdi chahat afsana by Ainoor Gul

  • by

ہوگئی محبت؟ پا لیا اُسے؟ ہوگئی امر ؟ اک پل کو لگا تھا سب کچھ پا لیا۔۔۔۔۔ مگر میں بھول گئی تھی اس سب میں کہ سب کچھ پا لینے پر انسان خوش نہیں ہوا کرتے ، وہ تو خوف کھایا کرتے ہیں کہ جن کے پاس سب کچھ ہو ، اُنکے پاس کھو دینے کو بھی سب ہوتا ہے۔۔۔۔۔ میں نے پا لیا تھا سب کچھ۔۔۔۔ہنر۔۔۔سکون۔۔۔بلندی۔۔۔خوشی۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر من چاہے شخص کی محبّت۔ مانو ان سب کا میرے پاس ہونا کسی خوف سے کم نہ تھا ، وہ کوئی بھی لمحہ ہوسکتا تھا کہ میں خالی ہاتھ رہ جاتی۔۔۔۔۔یہ سب۔۔۔یہ سب ریت کے ذروں کی مانند میرے ہاتھوں سے سرک جاتا۔

Mohabbat ek Jugnoo by Nazish Munir Complete novel

  • by

“مجھے نہیں معلوم تھا تم میری موجودگی کو اتنا فراموش کرچکی ہو کہ اپنے پہلوٶں میں بیٹھا میں تمھیں دیکھاٸی نہیں دیا۔”وہ سرگوشی میں بولا تھا۔داٶد اسکا کبھی بھی تماشہ نہیں بناتا تھا۔وہ اسکی بات محض اسی سے کرتا تھا۔اب بھی حزیفہ نے گاڑی میں غزل لگا دی تھی۔انکی آواز آگٸیں بیٹھے دونوں نفوس تک نہیں پہچ سکتی تھی۔تہذیب کا دل اسکی بات پر جیسے کسی نے مٹھی میں جگڑ لیا۔وہ بوجھل انداز میں گردن پلٹتی ایک خفا نظر اسکے بےتاثر چہرے پر ڈال کر واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گٸی۔

“جب میں نے انکار کردیا ہے تو کیسا نکاح اور کیا لاٸف پلاننگ۔۔۔”وہ ناراضی سے اسے کہہ کر خاموش ہوگٸی۔

“اچھا تم اس رشتے پر رضا مند نہیں ہو۔۔۔ابھی تک یہ بات ہمارے علاوہ کوٸی نہیں جانتا۔۔۔میں اپنی ذاتیات کسی سے شیر کرنے کا عادی نہیں رہا ۔ہمارے مابین جو بات ہے اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کا کوٸی جواز نہیں بنتا۔۔۔تمھاری زندگی کا اہم فیصلہ کرنے کا تمھیں پورا حق ہے۔لیکن تمھارے جذباتی پن میں میں ہم دونوں کا نقصان نہیں ہونے دے سکتا۔”وہ مدھم لہجے میں کہہ کر کندھے اچکا کر رہ گیا۔

“واٹ؟جذباتی پن۔۔کسی زبردستی کا رشتے نبھانے سے بہتر ہے پہلے ہی اپنے دل کی چاہت کچل دی جاۓ۔بعد میں آگے جاکر جب سمجھ آٸے گی تو زیادہ نقصان ہوگا۔۔۔پھر نہ دل بےرخی برداشت کرپاٸے گا نہ رشتہ نبھایا جاۓ گا۔”وہ سختی سے کہہ کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔

“تہذیب حمزہ تم انتہائی ایٹیٹوڈ والی لڑکی ہو جسے اپنے علاوہ کسی کے جذبات کا خیال نہیں۔”وہ بےرخی سے کہہ گیا۔تہذیب کو اسکی بات پر سخت غصہ آیا۔

“مجھے میرے جذبات سمجھ آجاٸیں کافی ہیں۔باقی میرا نہیں خیال کسی کا اس میں نقصان ہورہا ہے۔”گاڑی لاہور کی مصروف سڑکوں سے ہوتی اپنی منزل کی طرف رواں تھی۔

“اچھا اور کونسا زبردستی کا رشتہ؟ ابھی تک تم سے کسی نے زبردستی نہیں کی۔۔”تہذیب اس سے پہلی مرتبہ اس موضوع پر تفصيلی گفتگو کررہی تھی۔گاڑی میں اےسی ہونے کے باوجود اسکا چہرہ پسینوں پسینی ہوگیا تھا۔داٶد نے اپنا رومال جیب سے نکال کر اسکی سمت بڑھا دیا۔تہذیب نے کوٸی نوٹس نہیں لیا۔

“جب آپکی رضا بھی اس رشتے میں شامل نہیں تو کیوں میرے نام کی زبردستی کی پھانس اپنے گلے میں پھنسا رہے ہیں؟”وہ سرخ ہوتے گرمی سے تپتے چہرے سے کہتی تھکے انداز میں لمبے سانس لینے لگی۔داٶد یونہی رومال والا ہاتھ اسکی سمت بڑھاٸے ہوۓ تھا۔وہ اسکا چہرہ پڑھ لیتا تھا۔۔۔وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی۔وہ اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا۔لیکن اس جذباتی لڑکی کے تھکتے اعضاب پر وہ اس سے مزید بحث کا ارادہ ملتوی کرتا سختی سے رومال اسے تھماتا کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔تہذیب کے لیے اسکے بدلتے موڈ سوٸنگز سمجھنا مشکل ہوتا جارہا تھا۔وہ چہرہ تھپتھا کر اسے رومال لوٹانا چاہ رہی تھی۔لیکن اپنے اندر انکی سرد گفتگو کے اختتام پر وہ اسے پکارنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔

Mere pas raho by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“فروا! یہ کیسے وہ کیسے مان گئی شادی کے لیے” وہ فروا اور زینی کے مشترکہ کمرے میں آیا تھا۔

اس سے پہلے کے فروا کوئی جواب دیتی زینی واشروم سے نکل کر آئی تھی اور حنید سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوتے ہوئی گویا ہوئی تھی۔

“ہاۓ ۔۔حنید صاحب آپ سا مظلوم بھی کوئی ہو گا،جس لڑکی سے پیچھا چھڑوانے کے لیے آپ نے اسکی عزت نفس روند ڈالی وہ لڑکی پھر بھی آپ کے متھے منڈھی جا رہی ہے۔۔۔چچ افسوس”

“آپ بھی سوچتے ہوں گے کیا ڈھیٹ لڑکی ہے” وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔

“زینی ایسی بات نہیں ہے،میں کبھی بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ میری شادی تم سے نا ہو،مگر اس دن کے بعد سے مجھے لگا تھا کہ تم انکار کر دو گی،لیکن تم نے انکار نا کر کے مجھے کتنی خوشی اور زہنی سکون دیا ہے تم نہیں جانتی” وہ بیڈ کے سامنے دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔

فروا ان دونوں کے درمیان خاموش تماشائی تھی۔

“میں کیسے انکار کرتی فروا۔۔؟” اس نے اپنے برابر بیٹھی فروا کی طرف دیکھا تھا۔ “یہ نکاح تھا کوئی منگنی تو نا تھی جو انکار کرنے سے ٹوٹ جاتی،انکار کا تو آپشن ہی نہیں ہے میرے پاس” وہ طنزیہ ہنسی تھی۔

“اور اگر آپ کا بھلا کرتے ہوۓ اس نکاح کو ختم کرنا بھی چاہوں تو کیا جواز دوں،بتائیں؟” اس نے حنید کی طرف دیکھا تھا۔

اور حنید نے نظریں جھکا لی تھیں۔

“اور اگر جواز بتاۓ بغیر نکاح ختم کروں یا ساری بات اپنے اوپر لے لوں تو میری ماں ایک لمحہ نہیں لگاۓ گی مجھے اس گھر سے نکالنے میں،بلکہ آئندہ کبھی میری شکل بھی نا دیکھے گی ۔” اس نے تلخ لہجے میں کہا۔

“تو یہ آپ کی بدقسمتی ہے کہ آپ کو یہ شادی کرنی ہی پڑے گی” اس نے پھر حنید کی طرف دیکھا تھا۔

“زینی! ایسے مت کہو ۔۔۔ تم میری بیوی ہو یہ میری خوش قسمتی ہے،میں نے بچپن سے تمہیں اور صرف تمہیں سوچا ہے اس حوالے سے،میں جانتا ہوں میرا رویہ کبھی بھی حوصلہ افزانہیں تھا وہ میری نیچر ہے۔

مگر ا اس دن میں نے جو بکواس کی i di’nt mean it میرا یقین کرو،وہ بس ایک moment تھا میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا” وہ اسے پھر سے یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔

“پلیزجو ہوا بھول جاؤ، پلیز زینی i am sorry…i really am”اس نے یقین بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

مگر زینی کی نظریں ہر احساس سے خالی تھیں

Rah e nijat by Farah Khan Complete novel

  • by

اٹھا لو بیچاری کی کال ۔۔وہ اس کی طرف دیکھ کر کہہ رہا تھا

میں کیسے بتاؤں زاویار وہ شخص مجھ آپ سے دور لے جا رہا ہے ۔۔۔آمنہ اسے دیکھتے ہوئے اپنے دل میں کہنے لگی

کیا ہوا اٹھاؤ ۔۔؟ زاویار نے پھر کہا آمنہ نے فون اٹھا ہی لیا تھا اسے شاہ ویز کی ہی کال آئی تھی وہ کمرے سے باہر نکل کر اس سے بات کر رہی تھی ۔۔

میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں جلدی آو ۔۔شاہ ویز نے غصے میں اسے کہا یہ سن کر آمنہ کا پورا وجود جیسے لرزانے لگا تھا

پلیز ایسا نا کریں میں بھیک مانگتی ہوں آپ سے چھوڑ دیں میرا پیچھا ۔۔آمنہ اس کی منت کر رہی تھی اور وہ چلانے لگا

تیس منٹ ہیں تمھارے پاس ان تیس منٹ کے اندر اندر اگر تم نا آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا اور اس بار میں تمھارے شوہر کو دنیا سے ہی بھیج دوں گا ۔۔ایک آخری بار اسے دھمکی دیتا وہ کال کاٹ گیا آمنہ وہی کھڑی آنسوں بہانے لگی وہ پھر اللہ سے دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔

نم آنکھوں سے وہ دوبارہ کمرے داخل ہوئی زاویار ابھی تک جاگ رہا تھا آمنہ اس کے سونے کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔وہ بےحد پرشان تھی وہ اسے بتا بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ شاہ ویز نے اسے دھمکی دی تھی۔۔

گڈ نائٹ ۔۔۔زاویار مسکرا کر آمنہ کا ماتھا چومتا لیٹ گیا تھا آمنہ کا دل اتنا تیز دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل آئے گا

تقریباً بیس منٹ کے بعد

آمنہ آہستہ آہستہ بیڈ سے اٹھتی حنین کا ماتھا اس کے دونوں گال چومتی وہ اب زاویار کی سائیڈ آئی تھی ۔۔

وہ زمین پے بیٹھ گئی ۔۔

مجھے معاف کر دینا زاویار میں آپ سے بہت دور جا رہی ہوں مجھے یہ کرنا پڑ رہا ہے ہمارے لیے اس فیملی کے لیے اگر میں نے ایسا نا کیا تو وہ آپ کو مار دیں گے اور میں آپ کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی اپنی آمنہ کو معاف کر دینا پلیز ۔۔وہ دھمی آواز میں کہتی آنسوں بہا رہی تھی ۔آمنہ چاہتی تو اب بھی اسے بتا سکتی تھیں لیکن اسے ڈر تھا کے کہی شاہ ویز زاویار کو مار نا دے۔۔آمنہ کا یہی ڈر اسے زاویار سے دور لے جا رہا تھا۔

Ishq e kamil by Toqeer Zahra Complete novel

  • by

یار تمہیں یاد ہے جب اس طرح پہلے میں تمہیں شادی کرنے کے بعد گھر لے کے جا رہا تھا تو تم کتنا غصہ تھی مجھ پر۔۔۔اور آج دیکھو کیسے شرما رہی ہو ۔۔۔جون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

ویسے مجھے لگتا ہے میں اس دنیا میں اکلوتا بندہ ہوں جسکی دو شادیاں ہوئیں اور وہ بھی ایک ہی لڑکی سے۔۔۔

آپ اکلوتے نہیں ہیں۔۔۔۔زہرا آخر کار کچھ بولی ۔۔۔

اچھا تو اور کون ہے ایسا؟؟؟

میں ۔۔۔میرے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا ۔۔۔۔میری بھی دو شادیاں ہوئیں ایک ہی بندے سے۔۔۔۔اور وہ دونوں ہی ہسنے لگے۔۔۔۔۔

Qalab e sakoon (Season 2 of Ishq e noor) by Rida Fatima Complete novel

  • by

“قلبِ سکون” ایک رومانی اور پیچیدہ کہانی ہے، جس میں انس قریشی اور اروبا سکندر کے کردار مرکزی ہیں۔ انس قریشی، نیویارک سے آیا تھا، اور اس کی کزن اروبا سکندر، جو “عشقِ نور” کے کردار ابرام سکندر کی بیٹی ہے، خدا کے قریب تھی۔ ابتدا میں انس کا دل دور تھا، مگر وہ اروبا کی محبت میں مبتلا ہو گیا۔

کہانی میں انس قریشی کی ہدایت، اروبا سکندر کی محبت اور ہارون ابراہیم کی ادھوری محبت بھی شامل ہیں۔ ہارون ابراہیم، جسے دو بار محبت ہوئی اور دونوں بار ناکام رہا، اس کہانی کا ولن بن گیا۔ وہ پہلے اروبا سے نفرت کرتا تھا، مگر پھر اس کا دل اس کی طرف مائل ہو گیا۔

انس، جو ابتدا میں اروبا کو پسند نہیں کرتا تھا اور بس اسے تنگ کرتا تھا، آخر کار اس کے دل کا سکون بن گیا۔ “قلبِ سکون” میں کئی اور کردار بھی شامل ہیں، مگر کہانی کا اصل محور انس اور اروبا کی محبت ہے۔

“قلبِ سکون” کو ردا نے 3 اکتوبر 2024 کو لکھنا شروع کیا تھا، اور اس کا اختتام کب ہو گا، یہ وہ نہیں جانتیں۔ یہ ناول ہمیشہ ان کا پسندیدہ رہے گا۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ اور نہیں، مگر ایک رائٹر کے پاس ہمیشہ تخلیق کردہ خیالات اور کہانیاں ہوتی ہیں۔