Madarab zeest by Rimsha Riaz download pdf
Madarab zeest by Rimsha Riaz download pdf Free download read online Urdu novels Madarab zeest by Rimsha Riaz complete in pdf. یہ عام سی تحریر… Read More »Madarab zeest by Rimsha Riaz download pdf
Madarab zeest by Rimsha Riaz download pdf Free download read online Urdu novels Madarab zeest by Rimsha Riaz complete in pdf. یہ عام سی تحریر… Read More »Madarab zeest by Rimsha Riaz download pdf
” قتل میں نے نہیں کیا آپ نے کیا ہے۔” اس کے یہ الفاظ وہاں پر موجود ہر شخص کو حیران کر گئے ۔
” تم اپنے ہوش میں تو ہو؟ ” جج نے بے یقینی کی حالت میں پوچھا ۔
” میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا بلکہ آپ نے کیا ہے ، اور نہ صرف آپ نے بلکہ اس کے ملک کے تمام امرا نے کیا ہے۔ ” مقابل نے بالکل پر اعتماد جواب دیا۔
وہاں ہر ہو کوئ ساکن تھا کیونکہ کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر مقابل کیا کہہ رہا ہے؟ وہ کہہ رہا ہے کہ قتل اس نے نہیں بلکہ باقی سب نے کیا ہے، جبکہ سارے ثبوت اس کے خلاف ہیں ۔ کسی کو بھی اس کی بات سمجھ میں نہ آئ ۔
” کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہم نے قتل کیسے کیا؟” جج نے تمسخرانہ لہجے میں پوچھا۔
Ro aur Rawish by Asia Raees Khan Ro aur Rawish by Asia Raees Khan This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Ro aur Rawish by Asia Raees Khan
مجھے تمھاری پل پل کی خبر ہے اور یہ تم حنید کے ساتھ گھوم رہی بند کر دو مجھے ذرا بھی پسند نہیں ۔
اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے۔
وہ کہتی ہے
کیسا فیصلہ
کی ہمارا نکاح آج ہی ہوگا۔
ماہا ہونقوں کی طرح دیکھتی ہے ۔
یہ کیا کہہ رہے ہو۔
وہی جس کے لیے میں نے بیس سال انتظار کیا ۔
ماہا نے محسوس کیا کہ اس نےیہاں آکر کتنی بڑی غلطی کر دی۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔
تم ایک دوکھے باز انسان ہو۔
تم نے مجھے یہاں کسی ثبوت کے لیے بلایا تھا ۔
وہ مسکراتا ہے ۔
کون سے اور کن ثبوتوں کی بات کر رہی ہو۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میری دسترس سے بھاگ نہیں سکتی ۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں ۔
یہ جتنے دن تم نے موج مستی کرنی تھی کر لی اب تم میری ہوں۔
تم میرا عشق ہو بچپن کا ۔
اتنے نازو سے رکھا ۔ آمنہ نے عابد نے ایک آنچ نہیں آنے دی ایک کلی کی سینچا۔
وہ چینخ کر کہتی ہے نام مت لو ان کا میں مر گئی ان دونوں کے لیے۔
ماہا اس وقت جتنی بے بس تھی وہ کبھی نہیں ہوئی کس کو بتاتی ۔
اس دنیا میں ہر کوئی اسے مطلبی لگتا تھا لیکن آج اسے حنید کی یاد آرہی تھی ۔
وہ بڑی مضبوط بن کر کہتی ہے میں یہ نکاح نہیں کروں گی ۔
جس کو تم عشق کہہ رہے ہو وہ تمھاری ضد ہے اور کچھ نہیں ۔
میرے ماما بابا سے مجھ کو دور کر دیا ۔ ساری زندگی میں ان سے دور رہی اور جنہوں نے مجھے پالا بڑا کیا کسی ماں کا پیار جھوٹا کیسے ہو سکتا ہے اور کوئی باپ اولاد کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔
صرف تمھاری وجہ راحیل شاہ صرف تمھاری وجہ سے مجھے تم سے بہت نفرت ہے ۔ اور شادی کا کہہ رہے ہوں ۔
٭٭٭٭
۔”تمہیں منع کیا تھا یہاں مت آنا ۔”دانیال نے کہا تو منہال کو لگا ہاں وہ صحح کا اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔
۔”میری ۔۔ میری تصاویر وہ. ہٹا دو ۔”وہ اٹھتے ہوئے بولی ساتھ ہی نقاب بھی درست کر چکی تھی مگر اسے یہ بے معنی لگا وہ شخص جب چاہے اسے دیکھ سکتا تھا پھر وہ کیسے اس سے پردہ کرتی ۔
وہ یہی تو نہیں چاہتی تھی ۔ کسی غیر محرم کے خیالات کا مرکز بننا ۔
۔”کمرے سے تو ہٹا دوں گا دل پر سے کیسے ہٹاؤں ۔”وہ پوچھ رہا تھا بےبسی اس کی آواز سے عیا تھی مگر وہ کیا جواب دیتی ۔
۔”یہ غلط ہے تمہیں کوئی حق نہیں ہے ۔”منہال نے کوشش کی وہ روئے نہیں مگر آنسو کب ہماری سنتے ہیں ۔
۔”میں یہ گھر بیچ دوں گا ۔”دانیال نے جیسے حل نکالا ۔
۔”تم شادی کر لو ۔”منہال نے ایک اور حل پیش کیا ۔
۔” میں کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتا ۔”وہ زینے اترتے بولا ۔
۔”جب تمہاری زندگی میں کوئی آئے گی تو تم بھول جاؤ گے سب ۔ میں بھی تو بھول گئی سب ۔”وہ اب اسے حجت دے رہی تھی ۔
۔”تم نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی تھی ۔”بولتے پھیکا سا مسکرا دیا ۔
۔” ہاں مگر تمہاری بیوی کرے گی ۔ تم کوشش تو کرو ۔”
“تو کیا کسی سے بھی شادی کر لو ۔”
“نہیں تم بتاؤ تمہیں کیسی لرکی چاہیے میں ڈھونڈوں گی نہ ۔”منہال جلدی سے بولی تبھی دانیال کے قدم رکے وہ پلٹا تھا منہال کی تمام تر توجہ اس پر تھی ۔
۔”منہال دانیال اسفندیار ۔”وہ بولا تو منہال کو پہلی دفہ رات کی گہری خاموشی سنائی دی تھی ۔ وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر تھا ۔
اس کی وہ سرخ آنکھیں ۔ پیشانی پر بکھرے بال ۔نم پلکوں کا خم اس پر سیاہ پیوپل کے گرد سرخی منہال نے نظریں چرائی ۔وہ آنکھیں کسی پر بھی سحر کر سکتی تھی ۔
۔”مگر شیطان گمراہ کر سکتا ہے ۔” حسن کے الفاظ سماعت سے ٹکرائے تو منہال کے منہ سے “توبہ”کا لفظ پھوٹا ۔
دانیال مسکرا دیا ۔
۔”تمہاری یہی بات تو متوجہ کرتی ہے مجھے جتنا میں نے تمہارے پیچھے خود کو زلیل کیا ہے اگر کسی اور کے پیچھے جاتا وہ نہ صرف مجھے سوچتی بلکے اب تک میری ہو چکی تھی ۔
۔”ہم پہلے جیسے رہ سکتے ہیں ایک دوسرے کو تنگ کرنے والے کزنز ۔ کرائم ہاٹنرز ۔ “منہال نے اک آس سے کہا مگر وہ خاموش ہو گیا وہ آخری زینے پر رکا ۔
۔”ہم دوست بن سکتے ہیں”منہال نے ایک اور آپشن دیا ۔
۔”اب تمہارا دوست ناراض نہیں ہوگا کیا ۔”دانیال نے پرانی بات کا حوالا دیا۔
۔”نہیں میرے جزبات بدل چکے ہے ۔ ویسے بھی ہماری تربیت ایسی نہیں ہوئی ہمارے ہاں لرکا لرکی میں شوہر اور بیوی کے علاوہ صرف ایک رشتہ ہوتا ہے ۔ اور میرے جزبات اس سے بہت الگ ہے ۔”وہ بولا تو منہال نے اس کی پشت کو دیکھا ۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔
وقت سراب ہے۔۔۔
کتنا مہربان۔۔۔ کتنا ظالم کوئی آج تک نہیں جان پایا۔ احد ایک لڑکا جو خوش ہے اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ۔۔۔ مگر پھر ایک دن احد کے ساتھ کیا ہوا۔
یہ وقت نے کیسی چال چلی۔۔۔ احد کا سب کچھ کہاں گیا۔۔۔ وقت نے کیا کیا؟
کہیں سوال۔۔۔
مگر ایک ہی جواب۔۔۔ “کسے معلوم؟”
Tooth brush afsana by Rushna Aziz Tooth brush afsana by Rushna Aziz This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Tooth brush afsana by Rushna Aziz
میاں یہ کالے پیلے داغ کیسے لگ گئے۔ سب خیر تو ہے؟ انور کی سوجی ہوئی آنکھ اور بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر ایوب صاحب تلملا گئے۔
درد کی تلاش میں دھکے کھاتا پھر رہا ہوں۔ انور نے برا سا منہ بنایا۔
میاں جو تیری حالت ہے بات دھکوں سے آگے کی لگتی ہے۔ کیا لاتیں اور مکے بھی کھا کر آیا ہے؟ ایوب صاحب نے کہا اور اٹھ کر چائے بنانے چل دئے۔
کیا بتاؤں۔۔ اپنی درد بھری داستان۔ سویرے سویرے نوکری چلی گئی۔ اماں کو معلوم ہوا تو چمڑے کی چپل سے کاری ضرب لگا ڈالی۔ ایک ضرب سے تو دل نہیں بھرا ان کا۔ تاک تاک کر نشانہ باندھا ہے بڑی بی نے۔ اپنی کالی آنکھ پر ہاتھ رکھتا انور درد سے کراہنے لگا۔
ہاں ویسے تیرے گھر والوں کا نشانہ تو عمدہ ہے۔ کیسے عین منزل مقصود پہ وار کیا ہے۔ خیر کوئی دوا دارو کر لے وگرنہ تیری جو حالت ہے، درد کو چھوڑ تو، تو مجھے دنیا سے کوچ کرتا دکھائی پڑتا ہے۔
ایوب صاحب داڑھی میں ہاتھ پھیرتے اندازے لگا رہے تھے۔
نہ چاچا، یہی تو وہ درد ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔ نوکری چھوٹ گئی، گھر والوں نے کنارہ کر لیا، زندگی میں کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ اب یہ درد میری شاعری میں جھلکے گا تو دیکھنا کیسے بڑے بڑے تخلیق کار اور شاعروں کے کان کتروں گا۔ انور نے شیخی بھگاری۔
Allah per yaqeen afsana by Aliyan Haider download pdf Allah per yaqeen afsana by Aliyan Haider download pdf This is social romantic Urdu novel based… Read More »Allah per yaqeen afsana by Aliyan Haider download pdf
ہمیں وعدہ خلافی سے سخت نفرت ہے ۔ اگر بارہ بجے پیسے لوٹانے کا وعدہ کیا ہے تو بارہ بج کر ایک منٹ بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ سامنے والا کا کالر اپنے ہاتھوں میں دبوچے وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بولا
معاف کردیں سائیں بیٹی کی سسرال میں مسئلہ ہوگیا تھا سارے پیسے وہیں لگ گئے ۔ میلی کچیلی دھوتی میں ملبوس وہ ادھیڑ عمر مرد گڑگڑایا جسے ذمّہ داریوں نے اپنی عمر سے دوگنا بوڑھا کردیا تھا
ہم کچھ نہیں جانتے اپنے گھر کے کاغذات لاؤ ہمارے پاس جمع کرو اور ایک ہفتے کے اندر ہمارا پیسہ ہمیں مل جانا چاہیے ورنہ تمہارا گھر ہمارا ہوا ۔۔اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
جی جی ۔ وہ آدمی روتا ہوا واپس ہوا
بھائی یہ کتنے دنوں سے ٹال مٹول کر رہا پیسوں کے لئے ۔ انور نے نیچے اوندھے پڑے شخص پر لاتوں اور
گھونسوں کی بارش کی
کیوں بے تجھے پتہ نہیں ہے کہ مجھے زبان کے پکّے لوگ ہی پسند ہیں پھر کیوں ٹال مٹول کر رہا ہے ۔ اس نے ایک لات خود بھی رسید کی اسے
مگر اس بے چارے میں اتنی طاقت کہاں تھی
کہ وہ کچھ بولتا
تب تک پیٹتے رہو جب تک کی یہ پیسے دینے کا قطعی فیصلہ نا کر لے ۔ وہ انور کو ہدایات کرتا آستین موڑتا اندر کی طرف بڑھ گیا