Skip to content
Home » Complete novel » Page 115

Complete novel

Jam e mohabbat by Maleeha Shah Complete novel

  • by

کدھر رہ گئ یہ لڑکی وہ غصے سے ٹہل رہییں تھیں۔بھاگ گئ ہوگی شائستہ بولی۔ہممم لگتی تو ایسے ہی ہے کہ کبھی کسی ٹائم بھی بھاگ جائے گئ۔ارے ماں فکر کیوں کرتی ہو اچھا ہے نا چلی گئ ہمارے سر سے مصیبت ٹلی یہ بولنے والا حسیب تھا۔وہاں بیٹھا ہر شخص اس کے لئے زہر اگل رہا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ کس مصیبت میں پھس گئ دروازے کی بیل بجی۔جاؤ دیکھ کے آؤ حسیب کون ہے دروازہ کھولا تو سامنے ہی وہ کھڑی تھی ارے کدھر رہ گئ تھی تم چچی جان بولیں تمہیں یہ پاس والی دکان سے دہی لینے بیجا تھا کس سے باتیں کرتی رہئ ہو باہر نہیں چچی جان وہ میرے پیچھے کچھ لوگ لگ گۓ تھے وہ رونے لگی۔بند کرو اپنا یہ ناٹک ضرور کسی کے ساتھ باہر لگی ہوگی اب بہانے دیکھو اسکے شائستہ نے اور زہر اگلا۔

وہ اس کو ادھر اکیلا چھوڑ کر اندر چلے گۓ اور وہ سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئ۔اس کا کمرہ کم اور وہ سٹور زیادہ لگتا تھا جہاں ایک پرانا سنگل بیڈتھا جو اس کودیا گیا تھا بس ایک سنگل بیڈ رکھنے کی ہی جگہ تھی اس کے کمرے میں۔وہ اکر اپنے کمرے میں بیٹھ گئ وہ کافی ڈری ہوئ تھی جو اس کے ساتھ ہوا اسے لےکے۔شکریہ اللہ جی آج آپ نے مجھے بچا لیا۔

پتا نہیں میری زندگی کبھی بدلے گی یا نہیں وہ سوچتے سوچتے سو گئ۔

*****************

Dil wafa ki saltanat short novel by Anisha Nawaz

  • by

میرا ناول لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ غلط فہمیوں کا شکار نہ بنیں بلکہ بات کو کلئیر کریں۔ چھوٹی سی غلط فہمی کی وجہ سے آپ کبھی کبھار انمول چیزیں یا لوگ کھو دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بھی یہ بات عام ہے اکثر گھروں میں چھوٹی سے چھوٹی غلط فہمی کی بنا پر ہم اپنے اہم اور انمول رشتے اور ان کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں ۔ اس لیے کبھی بھی خود سے بات گھڑنے کی بجائے دوسرے سے پوچھیں چاہے وہ آپکے دوست ہوں، استاد ہوں ، والدین یا کوئی بھی رشتہ سب اہم ہیں!

(مصنفہ :انیشہ نواز)

**************

Falaq afsana by Ameer Hamza Rajpoot

  • by

“میرا وجود گناہوں کی زد میں ہے۔ میرا ایک ایک خلیہ برائی کی نظر ہو چکا ہے۔میں خطاؤں کا مجسمہ بن چکی ہوں۔ پر۔۔ تو۔۔۔ تو رحمان ہے ۔تیری رحمتوں کا چرچہ تو دونوں جہاں میں ہے۔ تو رحیم ہے ۔۔۔اے اللہ۔۔۔۔۔ تو بخش دے۔۔ تو رحیم ہے تو بخش دے ۔”اس کے الفاظ اب دم توڑ رہے تھے۔ انکھوں کا منظر دھندلا ہو رہا تھا ۔جب کہ بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ اچانک ہر طرف اندھیراچھا گیا۔ کسی گہرے راز کی طرح یا اس کی خوبصورت سیاہ زلفوں کی طرح ۔

وہ ہسپتال کے کشادہ کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی اس کے بازو سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک ڈاکٹر اس کی سرہانے کھڑا اس کا معائنہ کر رہا تھا ۔ چند لمحے تک س کی بینڈیج کر دی گئی۔ پھر ڈاکٹر کمرے سے باہر نکل ۔وہ سیاہ شلوار قمیض زیب تن کیے پریشانی کی حالت میں دائیں بائیں چکر کاٹ رہا تھا ۔ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ فورا رک گیا اور ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔

Zindagi ke dou chehray by Sawera Naz Muhammad Ayaz Complete novel

  • by

کاش یہ تهپڑ میں تجهے پہلے مار دیتا بدبخت تو نہ آج ماہل گمشدہ ہوتی اور نہ تیری ماں مرتی. تجهے ذرا سا بهی محسوس نہیں ہوا کہ تیرے ساتھ یہ سب عین اسی دن کیوں ہوا؟ تو نے بهی اس دن کسی کی بیٹی، کسی کی بہن اس سے چهین لی تو تیرے ساتھ یہ ہونا تو طے تها. بدبخت یہ تیرا مکافات عمل ہے. اب بهی وقت ہے سدهر جا. ماں تو تیری رہی نہیں شاید بہن رہ جائے. تجهہ سے بڑا کم بخت تو میں ہوں جو میں نے تجهہ جیسے انسان کی تربیت کی. میری شہ پہ ہی تو نے اتنا بڑا کالک میرے منہ پہ ملا ہے. میں نے تجهے شہ دے کر ناصرف تجهہ سے زیادتی کی بلکہ خود سی بهی زیادتی کر بیٹها نتیجہ آج میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں. وڈیرہ صاحب کی بات پہ روزان نے شرمندگی سے سر جهکا لیا. اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تهے شاید اب اس نے خود کو ضمیر کی عدالت میں کهڑا محسوس کیا.

وڈیرہ صاحب اب صلہ سے مخاطب تهے انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے :

معافی چاہتا ہوں میں بچے. انسان پہ جب تک خود نہیں گزرتی تب تک وہ سنهبلتا نہیں. بات میری بیٹی پہ آئی تو جیسے میری جان پہ بن گئی اور میں تڑپ اٹها. تمہارا باپ بهی تڑپا ہوگا مگر یہ بدبخت بہرہ بن کر ان کی بے بسی کا تماشہ دیکهتا رہا. دیکهو وقت نے کیسا پلٹا کھایا کہ آج اس کا پورا خاندان تماشہ بن چکا ہے. ہماری لاکھ کوششوں اور کئی اثر و رسوخ کے باوجود ماہل کو ہم ڈهونڈ نہ پائے. خدا جانے اسے زمین کها گئی یا آسمان نگل گیا. کسی کو کچھ خبر نہیں. تمہارے باپ کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ اس کی بیٹی کو کون اٹھا کر لے گا جبکہ میں بدنصیب اپنی بیٹی کا مجرم کسی کو نہیں ٹہرا سکتا کیونکہ میں نے ماہل کو کسی کے ساتھ جاتے نہیں دیکھا شاید میں خود ہی مجرم ہوں. جو باپ اپنی اولاد کی ٹهیک طرح سے تربیت نہ کر سکے اس کے ساتھ ایسا ہونا تو بجا ہے. میں اور روزان طاقت کے نشے میں غرق یہ بات بهول گئے تھے کہ سب سے عظیم طاقت تو رب العالمین کی ہے. اس پاک اور برتر ذات کے آگے ہم جیسے ادنیٰ مخلوق کی کہاں چلتی ہے. دیکهو کیسا انصاف کیا رب کریم نے. تم یقیناً ان کی محبوب بندی ہو گی تبهی تو تمہیں نقصان پہنچانے والوں کی پکڑ فوراً ہوگئی. بچے ہو سکے تو مجھ مجبور باپ کو معاف کر دینا. تم چاہو تو میں تمہیں اس بدبخت سے آزادی دلا سکتا ہوں. وڈیرہ صاحب کی آواز بهرائی ہوئی تهی وہ رو رہے تهے

. *************

Siyah Nagri by Areeba Azam Complete novel

  • by

سیاہ نگری کہانی ہے ایسے کردار کی جو پراسرار ہے۔ کائنات کے چھپے رازوں کو تلاش کرنے کی۔ ایسے میں کیا ہوگا اس کا مقدر؟

کامیاب ہوگا یا پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ تو وقت بتائے گا۔

Koh noor afsana by Maha Khan Bhittani

  • by

‘ بابا اپ کیوں چلے گئے بابا دیکھے اپ کی زینی کتنی تھک چکی ھے ھمیں اپ کی ضرورت ھے بابا ‘ تصور میں باپ کو مخاطب کرکے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

‘دیکھے ہم کتنے اکیلے ھیں کوئی نہیں ھے ھمارا اپ کی زینی ٹوٹ چکی ہے اللہ نے اپ کو ھم سے کیوں لے لیا کیوں بابا ہمارے پاس اور تھا ہی کیا’

Khudi afsana by Rida Maryam

  • by

مجھے کچھ نہیں سمجھ آرہی ۔ میں میں میں۔ کچھ بھی نہیں۔ آج میری میں نے مجھے زمین کے اوپر ہوتے ہوئے بھی زمین سے اندر اندر کہیں دھنس دیا ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میری ہر اگلی سانس آخری ہے۔

آج میری “میں” نے ، میری محبت نے میری خود سے محبت نے مجھے دو کوڑی کا کردیا۔

میرا دل ڈوب رہا ہے اور میرا دماغ وہ تو پھٹنے کو ہے۔ میں کس کو پکاروں ۔ ابو کو ، امی کو ، لالہ کو، یا اللہ کو؟

میں زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ رو رو کر میری آنکھیں سوجھ چکی تھیں۔ گرم سیال اب تک آنکھوں سے رواں تھا۔ اور دماغ صرف ایک نقطے پر منجمد تھا۔