Skip to content
Home » Complete novel » Page 116

Complete novel

Aur tum aaye by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

دل کی مطمئن کیفیت ، جو ہو گیا ہے اس پہ افسوس نہ کرنا جو ہونے جا رہا ہے اس کے نتائج کا ڈر نہ ہونا ھو گزر رہا ہے اس پہ لمبی سانس لینا ،اور کہنا زندگی تجھے میں نے بھرپور جیا تو ںے جو کیا تجھ پہ جچتا بھی ہے جو میں نے کیا میں ملال نہیں کرنا چاہتا ، بس اب دل آرام چاہتا ہے سکون قلبی، اکتاہٹ سے دور دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر بھی دیکھا میں نے خود کو بھیڑ میں گمنام بھی کیا مگر مجھے ڈھونڈںے فقط کچھ چہرے ہی آئے وہ کچھ شناسا تھے، مگر اپنوں نے ہی تو گمنام کیا وہ کہاں پھر سے خطرہ مول لیتے۔ مگر اب زندگی ساکت ہے اور میں مسکن نہ غم ہے نہ خوشی ہے نہ افسوس ہے ،نہ کوئی خواہش ، بس اب زندگی کے رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں یا اب مجھے رنگین سما بھاتا نہیں ہے ۔ بس جو بھی مجھے کچھ بھی حاصل نہیں ہے اور جو لا حاصل ہے وہ مقدر نہیں ہے ۔ بس یہی میری زندگی ہے، بغیر سر وساز کے، بغیر رازونیاز کے اک بے رونق مگر مطمئن زندگی۔۔۔۔۔

Qaswah by Dua Fatima Complete novel

  • by

زندہ ہے پر مانگ رہی ہے جینے کی آزادی

دیو کے چنگل میں شہزادی یہ کشمیر کی وادی

حد نظر تک سرو و صنوبر ہیں بھی اور نہیں بھی

ظالم کے دربار میں جیسے مہر بہ لب فریادی

چھینتے ہیں ہونٹوں سے دعائیں اور سروں سے ردائیں

دشمن نے جن بھیڑیوں کو جنگی وردی پہنادی

شاید ایسے اک میت پامالی سے بچ جائے

ماں نے کم سن بچی کی دریا میں لاش بہادی

سوئے ہوئے ضمیر نے ابتک دروازہ نہیں کھولا

ہم نے تو ظلم کے پہلے دن زنجیر عدل ہلادی

حسن لکیریں کھینچ رہا تھا سادہ سے کاغذ پر

آزادی کا لفظ لکھا کشمیر کی شکل بنادی

غلام محمد قاصر۔۔۔

Deewana mousam by Rimsha Ansari Complete novel

  • by

“یہ روشنی مجھے شروع دن سے ہی مشکوک لگی ہے ،یہ روشنی کوئی بہت بڑا راز ہے ،بی جان بھی اس کے ساتھ ملوث ہیں مگر یہ کرکیا رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا ،آیت اور جمال حسین کو دیکھ روشنی کے چہرے کے رنگ بھی اڑگئے تھے ،اسے شاید ڈر ہے کہ اس کی حقیقت نہ کھل جائے،یہ صلہ کی بہن نہیں ہے تو پھر ہے کون اور کس مقصد سے یہ سب کررہی ہے،اس کا جو بھی مقصد ہے وہ میں پتا کرلوں گی”

Intazar e izhar by Bint e Mehrban Complete novel

  • by

یہ میرا دوست ہے اسی وٹامن ایس کی کمی ہے_____ اس نے کہا

اس نے حیرانگئ سے ان دونوں کو دیکھا ____

جی ____اس نےحیرانگی سے زاریان کو دیکھا جیسے وٹامن ایس کی کمی تھی

زاریان نے پاس بیٹھے مرتضی کو دیکھا

مطلب انہیں وٹامن شادی کی کمی ہے____ مسلسسل خود کودیکھتا پاکر وہ بولا

اچھاپھر اس وٹامن کی مڈیسن ماریج بیورو سے ہی ملی گی____ سدرہ بولی

٭٭

یہ کیا بکواس کی تھی اندر____ زاریان بولا

کونسی والی____؟؟؟؟؟

وٹامن والی____اسنے کہا

وہ تجھے بکواس لگتی ہے ____؟؟؟

آئیندہ میری توبہ جومیں تیرے ساتھ کہی اوں زلیل کرکے رکھتا ہے تو ____ غصے سے بولا

ہاں ہاں اب لڑکی جو تجھےڈھونڈ کر دی ہے ایسا ہی کرے گا نا تو_____گاڑی کا دروازہ کھولتا وہ بولا

اپنی بائیک وہ اسکے گھر کھڑی کر ایا تھا کیونکہ زاریان کمزکم اج اس کے ساتھ ہوامیں نہیں اڑ سکتا تھا____

بکواس نا کر مرتضی مجھے اس طرح کی لڑکیاں بلکل بھی نہیں پسند اگر تو یہ سوچ رہا کہ میں اس سےشادی کروں گا تو یہ سوچ اپنے دماغ سے نکال دے_____ وہ بولا

میں نے کب کہا کہ تو اس سے شادی کر توخود ہی اپنےسے باتیں بنا رہا ہے____

اس نے حیرانگی سے اس ادمی کو دیکھا جو ایک لمحے میں بدلتا تھا____

اچھا تو پھر جو اندر بےغیرتیاں کی تھی وہ کیا تھی ____؟؟؟؟

کونسی بےغیرتئاں____انجان بنتا وہ بولا

یہ دیکھ تو مجھے اج سہی سلامت گھر چھوڑ دے _ اس کے اگے ہاتھ جوڑتے وہ بولا

کیا کرے گا پھر اگر شادی نا کی تو___؟؟؟؟ اس نے پوچھا

میں گزارا کرلوں گا تو اپنی بتا____ اسے کچھ یاد ایا

مجھے تو مل گئی ہے اپنی خوابوں کی ملکہ____ گاڑی چلاتا وہ مسکراتا ہوا بولا

اچھا کیا نام ہے اس کا____؟؟؟؟اس نے پوچھا

ان کا نام بہت خوبصورت ہے____

اچھا تو پھر بتا کتنا خوبصورت ہے___

ان کا نام اس قدر خوبصورت ہے کہ مجھے نہیں لگتا میں کبھی اپنی زبان سے ادا کرسکوں گا____ اس نے کہا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ruby by Dua Fatima Complete novel

  • by

“آفیسر ہارون اینڈ آفیسر انشرہ۔ یہ بہت ہی بڑی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے آپ دونوں نے۔”، ہیرے کا مالک، نوید درانی کاٹ دار انداز میں ان سے بولا تھا۔ وہ تقریبا پچاس سال تک کا آدمی تھا جو نہایت باوقار شخصیت کا مالک تھا۔بھوری آنکھوں اور بھورے بالوں والا۔ چہرہ پہ اس وقت سختی کے آثار صاف واضح تھے۔ہاتھ پیچھے باندھے، اپنی نظروں کو ان دونوں پر ٹکاۓ وہ کب سے انہیں اچھی خاصی سنا رہا تھا۔

“میڈیا پہ یہ بات لیک نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں کچھ بھی کر کے، پرسوں ایونٹ سے پہلے پہلے روبی واپس یہاں، اس بکسے کے اندر موجود چاہئے۔”، نوید درانی نے ایک بار پھر کڑکتی آواز میں کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گيا۔ پیچھے وہ چھ لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراتے کھڑے رہ گئے تھے۔ آفیسر ہارون اور آفیسر انشرہ کی کلاس ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

“Look officers. Find the diamond as soon as possible. My whole team is going to come tomorrow to attend the event. Or should i say, the whole world…I am still regretting that why i chose this country for this event.”

“دیکھو آفیسرز۔جتنی جلدی ہو سکے ہیرا ڈھونڈو۔ میری پوری ٹیم یہ ایونٹ اٹینڈ کرنے کے لیے آ رہی ہے۔یا مجھے کہنا چاہئے کہ پوری دنیا۔۔۔مجھے اب تک پچھتاوا ہو رہا ہے کہ کیوں میں نے اس ایونٹ کے لیے یہ ملک چنا۔”، آسٹریلین عورت نخوت سے کہتی سر جھٹک کر وہاں سے چلی گئی تھی۔ پاکستان میں ہونے والا اس طرح کا یہ پہلا ایونٹ تھا۔ اور وہ بھی تقریبا بربادی کے دہانے پہ کھڑا تھا۔

“میری تو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہیرا چوری ہوا کیسے۔۔۔بالکل آخری لمحہ پر سائرن بجا، وہ بھی بکسے والا۔ لیزر کا سائرن کیوں نہیں بجا۔”، ایونٹ آرگنائزر نے ان دونوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوۓ ایک اور کمنٹ پاس کیا۔وہ دونوں لب دبا کر خود اسی کشمکش کا شکار تھے کہ آخر ہیرا چوری ہوا تو کیسے ہوا۔ ہارون نے تو اپنا بندہ تک متعین کیا ہوا تھا کیمرہ روم میں۔ پھر کیسے؟

“دیکھو ہارون۔ کہیں سے بھی، کیسے بھی ہیرا پرسوں سے پہلے پہلے یہاں موجود ہونا چاہئے۔ ورنہ سر اور میم تم لوگوں پہ کیس بھی کر سکتے ہیں۔ تم لوگوں کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں رہے گی۔ تم دونوں کی جاب تک چلی جاۓ گی۔”، میوزیم مینجر نے ان دونوں کو دیکھتے ہوۓ کچھ نرمی سے کہا تھا۔ ان دونوں نے اب بھی سر جھکاۓ ہی سر اثبات میں ہلا دیا۔ وہ تمام ممکنات سے اچھی طرح واقف تھے۔اور یہی تو ساری ٹینشن تھی۔ ہیرا کہاں سے لے کر آئيں؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Muharar e dil short novel by Bint e Usman

  • by

کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو سیدھے راستے سے بھٹک گئی تھی۔جو اپنے ساتھ ظلم کر بیٹھی تھی۔جو اپنی صلاحیت کا انجانے میں غلط استعمال کر بیٹھی تھی۔کہانی ہے مہمل فاروقی کی جو گناہوں کی دلدل میں پھنسنے جا رہی تھی اگر اسے بروقت ہدایت نہ ملتی تو وہ مکمل طور پر اس دلدل میں دھنس جاتی جہاں سے واپسی شاید ہی ممکن ہو پاتی اس کے لیے۔

Lali aur bulbul afsana by Uqba Ahmed

  • by

مون سون اپنی رخصتی پر ہے، بہت سے غم تازہ ہوئے اور بہت سی کثافتیں دل پر سے بہہ گئیں۔ آج آسمان خوب برسا جیسے کہہ رہا ہو کہ سب بہا دو اس پانی کے ساتھ ہر غم، تکلیف، رنج، الم، درد، اور کسی کی یاد (پر یہ اب نہ ہو پائے).

کبھی بادل وار برس سائیں

میرا سینہ گیا ترس سائیں

میں توبہ تائب دیوانہ

کیا آباد کروں گا ویرانہ

میری بس سائیں،،

میری بس سائیں،، (منقول)

“بلبل” میری طرح کافی خود کو سنبھال چکی ہے پر دل کے کونے کھدرے میں ابھی بھی ہر شام دھواں اٹھتا ہے اور پھر خود کو جھڑکنے کے باوجود کوچۂ جاناں میں جھانک لیا جاتا ہے۔

Ishq Pardaaz by Sabreen Farooqui Complete novel

  • by

“ایاز آپ فضول کی ضد لگائے بیٹھے ہیں۔”

فائقہ نے قدرے سختی سے کہا۔

“تمھیں کیوں یہ ضد فضول لگ رہی ہے؟”

اس نے قدرے خفگی سے کہا۔

“نکاح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ملاقاتیں شروع کر دیں۔”

“میں نے ملاقاتوں کا نہیں ملاقات کا کہا ہے۔ نکاح والے دن اگر تم سیدھے منھ مجھ سے بات کر لیتی تو پھر میں یہ ضد بھی نہیں کرتا۔”

“نکاح والے دن نہیں کی تھی پر اب تو کر رہی ہوں ناں؟”

فائقہ کو اس کی منطق عجیب لگی۔

“پر مجھے روبرو تمھیں اپنے سامنے دیکھ کر بات کرنی ہے۔”

“لگتا ہے اب آپ نے پاکستانی ڈرامے بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔”

شادی سے پہلے اس کے ڈائیلاگز سن کر فائقہ نے اسے بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کا طعنہ دیا تھا اور اب اس کے لب وہ لہجے پر پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا۔

اپنے جذبات کو دوسری مرتبہ اپنی محبوبہ کے ہاتھوں سے رندھتا دیکھ ایاز کو خود پر ترس آیا تھا۔

“بڑی نا شکری بیوی ملی ہے مجھے۔”

تاسف سے سر ہلاتے ایاز نے تبصرہ کیا۔

“بڑا بے صبرا شوہر ملا ہے مجھے۔”

فائقہ نے بھی منھ در منھ جواب دیا۔

Tabeer e khwab by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

ترجمہ:

”اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اس کے نور کی مثال یوں جسے ایک طاق میں ایک چراغ (رکھا) ہو (وہ) چراغ (شیشے کے) ایک فانوس میں ہو (وہ)فانوس گویا موتی کی طرح ایک چمکتا ہوا تارا ہے وہ(چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت کے تیل سےروشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل اپنے آپ ہی روشن ہو جائے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے یہ نور پر نور ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر شے کو خوب جاننے والا ہے۔“( آیت ٣٥)

وہ بہت انہماک سے آیت کا ترجمہ کر رہی تھی اس کی آواز اِس پر نور ماحول کو راحت بخش رہی تھی۔

حارث مبہو ت سا اُسے سن رہا تھا اس نے سورۃ مکمل کی تو حارث اس کے پاس چلا آیا۔

”ماشاءاللہ! واہ بھٸی میری بہن کی آواز تو بہت پُرکشش ہے ویسے ایک بات ہے تم بالکل اس خوبصورت ماحول کا حصہ لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

حارث نے اس سے کہا۔

جس پر وہ مسکرا دی۔

”بھائی ہم اللہ کا کلام پڑھتے ہیں تو ہماری آواز خود باخود پُرکشش اور پیاری ہو جاتی ہے یہ کلام ایسا ہے کہ کوئی سنے یا اِسے پڑھے دل کو سکون ہی بخشتا ہے۔۔۔“ اس نے کہا۔

٭٭٭

”نور دیکھ کون آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نور کو دیکھ خوشی سے بولی تھی۔

شازیہ بیگم کی نظروں کے تعاقب میں جب اس شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ فورا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔

جبکہ نور اس شخص کو دیکھ اپنے جگہ ساکت ہوئی تھی۔

”دیکھ نور میں کہتی تھی نا حاشر آئے گا دیکھ میرا حاشر آگیا تیرا باپ آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نے خوشی سے نم آواز میں کہا۔

جس پر سب کی ہی متفکر نظر نور پر ٹھہری تھی۔

جب کہ نور کی آنکھوں سے ایک موتی اس کے رخساروں سے لڑکھڑاتا ہوا زمین بوس ہوا تھا۔

حاشر صاحب نے نور کی طرف بڑھنا چاہا جب نور نے ہاتھ کھڑا کرتے وہیں روکا تھا جس پر انہوں نے بے بسی سے نور کو دیکھا اور نور کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی۔

”دادی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے صرف آپ کا بیٹا آیا ہے میرا باپ نہیں میں تو بہت سال پہلے یتیم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ نور نے خود پر ضبط کیے سپاٹ لہجے میں کہا۔

نور کے الفاظ تھے یہ کھ نجڑ حاشر صاحب کا سینہ چیڑ گئے۔ جبکہ اس کی بات پر سب اپنی جگہ ٹھہر سے گئے تھے۔

نور ایک نظر سب کو دیکھتے اپنے کمرے کی طرف بڑی تھی جب اسفند نے اسے پکارا تھا۔

” نور !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

”اسفند نے ابھی کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭