Skip to content
Home » Complete novel » Page 118

Complete novel

Sarab by Aqsa Muhammadi Complete novel

  • by

میں آج آپکی بیوی لگ رہی ہوں لیکن تم اب بھی میرے شوہر نہیں لگ رہے. فجر نے بھی اس کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر شہریار نے برا سا منہ بنایا تھا. ہایے کتنی ان رومینٹک بیوی ملی ہے مجھے اور ساتھ میں کنجوس بھی. شہریار نے دہایی لی تھی اور اسکے کنجوس کہنے پر فجر کی آنکھیں پھیل گیی تھی. کیوں میں نے کیا کنجوسی دکھائی ہے. فجر اسکے تھوڑا قریب ہوکر تندہی سے بولی تھی. ہاں تو ہو نا تم کنجوس اتنا تو نہیں ہوتا تم سے کہ بے چارے شوہر کی تھوڑی تعریف ہی کرلو. یہ دیکھو اپنے اردگرد ساری لڑکیاں کیسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے مجھے اور ایک تم ہو.. شہریار نے اسے جلاتے ہوئے کہا تھا جس میں وہ کامیاب ہو بھی گیا تھا. ہاں تو جاؤ نہ انکے پاس میرے ساتھ کیوں کھڑے ہو جاؤ ان کے پاس.. فجر غصے سے بولی تھی. ٹھیک ہے وایفی جیسے آپکی مرضی. شہریار معصوم سا منہ بنا کر آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ فجر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا. شہریار نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا. وہ جو سامنے لڑکی ہے نہ اسکے ساتھ جو لڑکا بیٹھا ہے اس کا نمبر بھی لیتے آنا. فجر نے معصومیت سے کہا تھا اور شہریار جو کچھ اور ہی سننے کے لیے رکا تھا اسکی بات پر اسکی آنکھیں سرخ ہوگیی تھی. شہریار نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی تھی اور اس کے قریب ہوا تھا. تم میری ہو سمجھی صرف اور صرف شہریار آفندی کی. شہریار اسی طرح سرخ آنکھیں لیے کہہ رہا تھا. اور تم بھی میرے ہو سمجھے صرف فجر ملک کے. فجر بھی اسی کے انداز میں بولی تھی. شہریار کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی.

Jugnoo by SJ Writes Complete novel

  • by

آپی پارٹی کب ہے…؟

وہ جو اپنے ہی خیالوں میں گُم تھی…اُس کی بات پہ اچانک چونکی تھی…

پارٹی بہت جلد..میرے غلاب جامن..

آپی…

وہ جو مزے سے پارٹی لینے آیا تھا..

غالب جامُن سن کے اُس کا پارہ ہائی ہوا تھا…

آپی…

سب سے پہلے تو میرا نام “بُرہان جاوید” ہے…

اور سوسری بات عمر میں چھوٹا ہوں تو کیا قد میں آپ سے بڑا ہوں..

اور رنگ روپ میں بھی آپ سے گورا…

لہذا اب آپ مجھے غُلاب جامُن نہیں کہہ سکتی…

سمجھی آپ….وہ باقاعدہ اُنگلی اُٹھا کے بولا تھا…

عین نے اُس کی پوری بات سُنی تھی…

اور آخر میں آہستہ سے بولی تھی…

پارٹی چاھئے…؟

کیا عین آپی..

اب چھوٹا بھائی مذاق بھی نہیں کر سکتا..

Zama Janaan by Tamana Noor Complete novel

  • by

“کیوں؟…کیوں کیا یہ سب؟میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟میرے معصوم بچے نے تمہارا ایسا کیا نقصان کیا ہے؟عدت کے بعد میں اپنے گھر چلی جاتی۔تم سب کو اپنی شکل بھی نہ دکھاتی۔پھر کیا دشمنی نکالی ہے تم نے؟”

وہ ہنسی۔

“ہائے ۔کیا بات پوچھ لی تم نے پیاری نند۔چلو بتا دیتی ہوں۔تمہارا تو پتا نہیں لیکن اس ہمائل خان نے ضرور میرا بہت کچھ بگاڑا تھا۔تو بس اسی کی سزا میں نے تمہیں دی ہے”

وہ چونک سی گئی۔

“حیرت ہو رہی ہے نا؟چلو سنو۔جب ہم ہمائل کے بھائی گلباز کی شادی پر گئے تھے نا…پہلی نظر میں مجھے بھا گیا تھا وہ…”

کانوں کو جیسے یقین نہ آیا کہ اس نے ابھی کیا سنا ہے اس کا منہ کھل سا گیا۔وہ کیا بکواس کر رہی تھی۔

“میں نے اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ تو بات بھی نہیں کرتا تھا۔ویسے نخرے تو سوٹ کرتے تھے اس پر…”

کس قسم کی گھٹیا عورت تھی جو اس کے شوہر پر فدا ہونے کے قصے اسے ہی سنا رہی تھی۔اسے شرم محسوس ہوئی کہ اس کی بھابھی جو بڑی بہن کی مانند تھی اسی کے شوہر پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

“میں نے اسے ایک شام اس کے کمرے میں اکیلا دیکھا تو میں نے اس سے بات کی کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔پتا ہے اس نے کیا کیا؟”

وہ مٹھیاں بھینچے اسے سنتی رہی۔

“اس نے میرے منہ پر تھپڑ مارا۔مجھے بد کردار کہا اور کہا کہ میرے جیسی عورتوں کو وہ دیکھنا بھی پسند نہ کرے”

دملہ نے شاک زدہ سے تاثرات لیے اسے دیکھا۔ہمائل نے اس سے کبھی اس بارے میں ذکر نہیں کیا تھا۔الٹا وہ تو حیران ہوتا تھا کہ مسکان کو ان دونوں سے مسئلہ کیا ہے؟

“پھر وہ میرے دل سے اتر گیا۔اسی وقت میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں کبھی موقع ملا تو اس کے یہ الفاظ اور تھپڑ اسے سود سمیت واپس لوٹاؤں گی۔شادی ہو گئی سب کچھ ٹھیک ہو گیا لیکن پھر وہ واجد کی شادی پر واپس آ گیا۔شک تو مجھے بہت پہلے سے تھا کہ وہ تم پر فدا ہے۔اسی لیے مجھے تم زہر لگتی تھی۔پھر جب تمہارا رشتہ آیا تو میں نے اپنے اس وعدے کو دہرایا۔تم سے شادی کے بعد وہ یہاں جب بھی آتا تھا ایسے ری ایکٹ کرتا تھا جیسے اسے وہ سب معلوم ہی نہ ہو۔جیسے وہ مجھے جانتا بھی نہ ہو۔مجھے موقع ہی نہیں مل رہا تھا کہ میں اسے سبق سکھا سکوں۔پھر دیکھو قسمت ،وہ مر گیا”

Junoon e mehram (S3 of ishq e mehram)By umm-e-omama Complete Novel

  • by

“سترہ سال چھوٹی ہے وہ تم سے”

“مجھے پروا نہیں ہے”

“زریام کبھی نہیں مانے گا”

“مجھے انکی اجازت نہیں چاہیے”

“حورم بھی نہیں مانے گی”

اسٹڈی روم میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی

”حورم مان جائے گی نہ مانی تو یہ اسکی اپنی غلطی ہے”

اسنے ضدی انداز میں کہا

“آپ جانتی ہیں نہ مام ڈیڈ ہمیشہ کہتے تھے کہ ارتضیٰ اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہے وہ غلط نہیں کہتے تھے میں واقعی میں اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہوں پھر چاہے وہ کوئی بےجان چیز ہو یا جاندار”

“حورم کوئی چیز نہیں ہے ارتضیٰ”

“بلکل وہ کوئی چیز نہیں ہے وہ ایک انسان ہے جس کے احساسات ہیں جذبات ہیں لیکن میں کیا کروں اسے چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے”

“وہ لڑکی میری سانسوں میں بستی ہے وہ میری سانسوں کی ڈور ہے اور اگر حورم شاہ ارتضیٰ آفندی سے دور ہوئی تو یہ ڈور ٹوٹ جائے گی”

اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے چلا گیا جبکہ وہ بھیگی آنکھیں لیے وہیں بیٹھی رہی

اسنے اور احسان نے ارتضیٰ کو ہمیشہ لاڈوں میں پالا تھا وہ ضدی بچپن سے تھا اگر کسی خواہش کا اظہار کردیتا تو اسے پوری کرکے دم لیتا تھا اسکی ضد پر ان دونوں نے کبھی کچھ نہیں کہا تھا

لیکن اگر حفضہ کو اندازہ ہوتا کہ اسکی یہ ضد آگے جاکر یہ روپ اختیار کرنے والی ہے تو وہ کبھی بھی اسکی بےجا ضد پوری نہیں کرتی

یہ کیسی محبت تھی جس میں وہ اپنی محبت کی خوشی ہی نہیں دیکھ رہا

یہ بات وہ اسے سمجھا نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ خود جانتی تھی کہ ارتضیٰ کے لیے حورم محبت نہیں تھی

اسکا عشق اسکا جنون تھی محبت ہوتی تو وہ شاید چھوڑ دیتا

لیکن وہ محبت نہیں تھی وہ اسکا پاگل پن تھی جسے وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا تھا

Yaram biya by Eman Babar Complete novel

  • by

“بھائی آپ کی اُس بہن کا کیا نام تھا بیہ ….؟” یارم بات گھمائیں بنا بولتا ۔

“عبیرہ ؟” علی تصدیق کرتا ۔

“ہاں وہی مجھے اُس سے بات کرنی ہے ” یارم کا سانس پھولا ہوا تھا۔ وہ بہت جلدی میں اپنے گھر ایا تھا ۔

“ہیں ؟؟ سب ٹھیک ہے نا ؟” علی حیران ہوتا۔

“بھائی ۔۔” یارم بس اتنا بول پاتا ۔

“مجھے بتاؤ یارم کیا بات ہے ایسے ایک دم سے عبیرہ سے بات کرنے کا کیا خیال آگیا تمہیں ؟” وہ اب بڑے بھائی کی طرح پوچھتا۔

” بھائی وہ یہاں ہیں ۔” یارم کی آواز ایسی ہو جاتی جیسے وہ رو دے گا ۔”یہ کیا بول رہے وہ وہاں کیسے ہو سکتی پاگل تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے” علی ہس دیتا ۔

“آپ سمجھ نہیں رہے بھائی وہ ہر جگہ ہوتی ہے اسکی نقاب والی آنکھیں اُسکی آواز بھائی وہ مجھے نہیں بُھول پا رہی مجھے پہلے لگا تھا یہ میرا وہم ہے مگر ایک مہینہ ہوگیا بھائی یہ وہم نہیں ہے یہ……” وہ بولتے ہوئے روکتا ۔

“یارم تم ٹھیک ہو نا؟” علی اب صحیح معنی میں پریشان تھا ۔

“نہیں بھائی میں ٹھیک نہیں ہوں مجھے عبیرہ چاہیے وہ میرا سکون ہے وہ مل گئی تو میں ٹھیک ہی جاؤں گا مجھے اُس سے محبت ہوگی گا۔ میں اُس کی نہیں دیکھا مگر میں اُس کے بغیر نہیں رہ سکتا اب۔ ” وہ رونے لگ جاتا اور روتے ہوئے موبائل بند کر دیتا۔

“ہیلو یارم؟” علی کال بند ہونے پر اُس کو آواز دیتا مگر موبائل بند ہو چکا تھا۔

Mila jo tera sath mujhy by Faria Ghazi Complete novel

  • by

“یہ جاسم اقبال تیرا کیا لگتا ہے؟”

عالیان کا ساتھی بائیکر اس کے پاس کسی کام کے سلسلے میں آیا اور وہیں لائونج میں کزنز کی رونق کی شادی پر لی گئی گروپ فوٹو دیکھ کر وہ چونکا اور پوچھے بنا نا رہ سکا۔

“ایک نمبر کا ایڈیٹ اور فراڈ ہے۔”

عالیان نے دانت پیس کر کہا۔

“یہ بھی تو بائیکر تھا۔” کاشف نے اسے آگاہ کیا۔

“کیا بات کر رہا ہے۔ یہ نائن ٹو فائی جاب کرتا ہے۔ کوئی بائیکر نہیں ہے یہ۔” عالیان نے اس کی بات کا کوئی اثر نہیں لیا۔

“ارے میں کیا جھوٹ بول رہا ہوں۔ اور اس کا نام بھی کیا غلط بتایا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں سو فیصد یقین سے کہہ رہا ہوں۔ اس کی میرے کلب میں پکچرز موجود ہیں۔ چیمپئن تھا اپنے ٹائم کا۔ بہت ٹریجڈی ہوئی تھی اس کے ساتھ بس تب سے یہ منظرسے غائب ہے۔”

“کیسی ٹریجڈی؟”

یونیورسٹی میں اسے اپنی کلاس فیلو سے بڑا زرو و شور کا عشق ہوگیا۔ آئی تھنک نبیلہ۔ ۔ ۔(اس نے کچھ وقت سوچا) ہاں یاد آیا نائلہ نام تھا۔ دونوں کی محبت کے چرچے پوری یونیورسٹی میں مشہور تھے۔ لیکن لڑکی کے والدین اس بائیکر سے کو اپنی بیٹی دینے کے حق میں نہیں تھے۔ بہت کوششوں کے باوجود جب وہ راضی نہیں ہوئے تو دونوں نے کورٹ میرج کا سوچا اور لڑکی اپنے والدین کو چھوڑ کر اس کے پاس آگئی۔ لیکن قسمت ان پر مہربان نہیں تھی۔ جس دن یہ کورٹ جارہے تھے راستے میں دونوں کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ پھر اس کے بعد اسے کسی نے ریسنگ کرتے نہیں دیکھا۔”

“”تُو یہ سب کیسے جانتا ہے؟

“میرے کوچ اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے ہی ہمیں اس کی ٹریجک لوو اسٹوری سنائی ہے۔”

Aansoo bolty hain afsana by Muqadas Qudrat Ullah

  • by

محبت ہونا فطری امر ہے۔ کبھی کسی بچے سےہو جاتی ہے,

کبھی کسی پرند چرند سے ، کبھی کسی دوست سے…..

محبت ہونے کی پندرہ وجوہات بیان کی جاتی ہیں ۔ اس میں سے ایک وجہ بھی آپ کی ذات کے ساتھ یا اس کے کسی ایک حصے کے ساتھ مماثلت اختیار کر جائے تو محبت ہو جاتی ہے۔ اب یہ بعد کا معاملہ ہے کہ محبت کو کیا رنگ دیا جاتاہے,بغاوت کا یا پھر حلال سفر کا ۔

وہ اپنی خوبصورت آواز اور خوبصورت الفاظ سے سحر طاری کر رہی تھی. کچھ لمحوں کے لئے ضامن بھی بھول گیا تھا کہ اس کے علاوہ بھی ارد گرد کوئی ہے ۔

محبت ہونا اختیار میں نہیں ہے, محبت کے بعد کا معاملہ آپ کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ اپ چاہیں تو حرام کر دیں اور چاہیں کو حلال کر دیں ۔

میں کوئی فلمی کہانی سنا کر داد وصول کرنے نہیں آئی میں ایک حقیقت کو آج کے زمانے کے مطابق بتانے کی کوشش کرنا چاہ رہی ہوں ۔