Skip to content
Home » Complete novel » Page 120

Complete novel

Marwareed by Aqsa Batool Hayyat Complete novel

  • by

“کیا کسی کو دیکھنا گناہ ہے ؟” سامنے کھڑے شخص کا لہجہ سوالیہ ہوا۔ جانے اب وہ سوال تھا یا مزید گفتگو کا بہانہ۔

“نا محرم کو مسلسل گھورنا گناہ ہے۔” جواب بھی فوراً آیا تھا۔

“اور نا محرم کے ساتھ سفرکرنا۔۔۔؟” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔

“وہ بھی گناہ ہے۔” بیگ اسنے اپنے کندھے پر ڈلا۔ یعنی اب وہ جانے لگی تھی۔

اس سے پہلے کے وہ واقعی چلی جاتی، وہ چند قدم مزید آگے آیا ۔

“کیا اب ہم کچھ دیر کے لیے بھی بات نہیں کرسکتے؟”

جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ خفا سا ہوا۔

اس کی آنکھوں میں خفگی کا تاثر دیکھ کر اس لڑکی کی آنکھیں پھیلیں۔ وہ چند قدم چل کر اس کے سامنے آئی۔ پھر تھوڑا مزید آگے ہوئی، عین اس کے سامنے۔

“ہم بات کرسکتے تھے، لیکن آپ نے اعتماد قائم ہونے سے پہلے ہی کھو دیا۔” اس کا لہجہ زخمی ہوا۔

“آپ مجھے دس منٹ تو دے ہی سکتی ہیں۔” اسنے التجا کی۔

کئی سال پہلے وہ اسکی امید تھا، وہ اسے برا نہیں لگتا تھا لیکن اب اچھا بھی نہیں لگتا۔

اور مومنوں کی امیدیں نہیں مرتیں۔ وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔

“کیا وہ اسے مایوس کردے ،وہ جو کبھی واحد امید تھا۔”

“کیا وہ اسے واقعی دس منٹ دینے والی تھی؟”

Mohabbat ho to aesi by Rida Bint e Tahira Complete novel

  • by

“یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے۔ جو اپنے حسد اور لالچ کی وجہ سے جان نثار کرنے والے رشتوں کو نفرت کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے کردار بھی ملیں گے جو اپنی محبت اور جان نثاری سے یہ ثابت کر دیتے ہیں۔ کہ

“محبت ہو تو ایسی ہو”

Guzar basar afsana by Farah Anwaar

  • by

“ہاں بھئی! کیا نام ہے تمہارا کس لیے آئے ہو؟”

“میں یوسف ہوں۔ رپورٹ درج کرانے آیا ہوں.”

“کیا رپورٹ درج کرانی ہے؟” تھانے دار نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔

“میری سبزی والی ریڑھی چوری ہو گئی ہے آج رات کو.”

تھانے دار نے سر سے پاؤں تک یوسف کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔

“سبزی والے ہو؟”

“جی سبزی والا ہوں.”

“لگتے تو نہیں ہو۔ دکھنے میں تو کوئی ہیرو ہو اور بیچتے سبزی ہو___ ہہہم”

“اچھا تو یہ بتاؤ__ ریڑھی کو تالا لگایا تھا؟”

“جی اچھی طرح سے باندھا تھا۔” یوسف نے جواب دیا۔

“رسی سے باندھا تھا___پھر تو چوری ہونی ہی تھی۔”

Kasuri methi by Naina Malik Complete novel

  • by

زندگی میں ہمیشہ انسان کو دو مائیں ملتی ہیں۔۔۔۔ایک وہ جو حقیقی ہے اور ایک وہ جو ٹوٹ جانے پر بڑی محنت سے سمیٹ کر دوبارہ زندگی بخشتی ہے۔۔۔۔۔۔ مگر پلاٹ ٹوسٹ تو یہ تھا کہ مجھے زندگی دینے والی دوسری ماں ہی وہ عورت تھی جس نے مجھ کو توڑا تھا۔۔۔۔۔توڑ کر بکھیرا تھا۔۔۔۔پھر بڑی خوبصورتی سے سمیٹا تھا۔۔۔۔۔ مانو ایسے ٹوٹنے کی خاطر میں ہزار دفعہ اپنے رب کے آگے بھیک کیلئے جھولی پھیلاؤں۔

انسان کو اپنی تکمیل کی خاطر زندگی میں ایک بار ٹوٹنا لازم ہے۔۔۔۔۔ ٹوٹ کر بکھر جانا ۔۔۔۔۔ اور پھر ؟ اور پھر کوئی آکر آپ کو یوں سمیٹ دے جیسے آپ کبھی ٹوٹے ہی نہ تھے ۔