Dil ke andar ik rasta hai novel by Samra Bukhari
Dil ke andar ik rasta hai novel by Samra Bukhari Dil ke andar ik rasta hai novel by Samra Bukhari This is social romantic Urdu… Read More »Dil ke andar ik rasta hai novel by Samra Bukhari
Dil ke andar ik rasta hai novel by Samra Bukhari Dil ke andar ik rasta hai novel by Samra Bukhari This is social romantic Urdu… Read More »Dil ke andar ik rasta hai novel by Samra Bukhari
Tu chahe hamain Urdu novel by Shazia Mustafa Tu chahe hamain Urdu novel by Shazia Mustafa This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Tu chahe hamain Urdu novel by Shazia Mustafa
کامران صاحب پولیس میں بطور سپاہی فائض تھے
وہ ایک بہادر پولیس افیسر تھا۔ان کے ماں باپ وفات پا چکے تھے وہ اپنی بیگم زینب اور ایک سالہ بیٹا ارحم کے ساتھ ایک مڈل کلاس ایریا میں رہتے تھے۔
بہت سے نامر دہشت گردوں کو خاک میں ملانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
ایک دن ان کے تھانے اطلاع ائی کہ کچھ دہشت گرد ایک ٹرک کے ذریعے اسلحہ سمگلنگ کر رہے ہیں۔
اس پر کامران صاحب اور ان کے ساتھیوں نے فوری عمل کیا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے۔
لیکن پھر جو اللہ کو منظور ان دہشت گردوں کے خاتمے میں کامران صاحب اور ان کے تین اور ساتھی شہید ہو گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر زینب بیگم پر پہاڑ بن کر ٹوٹی انہوں نے بہت مشکل وقت دیکھا ۔حکومت کی طرف سے ان کو کامران صاحب کی تنخواہ ملتی رہی جن سے وہ اپنا اور اپنے بیٹے کا گزر بسر صبر اور شکر کے ساتھ کرتی رہیں۔
یہ کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو مایوسی کے دلدل میں پھنسے ہوۓ تھا پھر خدا نے اسے ہدایت دی یہ کہانی ہے دوستوں کی یہ کہانی حسین یوسف کی یہ کہانی ہے یوسف کی نور کی یہ کہانی ہے یوسف اور نور کی ۔۔۔
ایک نابینا لڑکے کی مایوسی سے امید کا سفر
زایان تمیں چاہیے کہ تم اس سے آج اظہارِ محبت کر دو آخر کب تک اسے انجان رکھو گے ۔کیا تم یک طرفہ محبت کرنا چاہتے ہو۔۔ فلک اور عشوانی حال کے سائیڈ ایئریا پر کب سے اسے سمجھائے جا رہی تھی کہ آج وہ اپنے جذباتوں کو محالفہ کے سامنے بیان کرے کہ وہ اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہے۔۔
تم دونوں سمجھ نہیں رہی میں فی الحال ایسا نہیں کر سکتا!! اس نے چڑ کر کہا تھا.۔۔
کیوں نہیں کر سکتے کب بتاؤ گے اسے جب وہ کسی اور کی ہو جائے گی؟؟
نہیں ہوگی وہ کسی اور کی وہ میری ہوگی بلکہ وہ میری ہی ہے۔۔
عشوانی کی بات کاٹتے اس نے جیسے خود کو بھی یقین دہانی کروائی تھی۔
دیکھئے زایان بھائی آپ کو دیر نہیں کرنی چاہیئے ایسے معاملات میں دیری اچھی نہیں لگتی۔
فلک نے نرم لہجہ اختیار کیا۔
مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر اس نے انکار کر دیا تو میں اس کے انکار کے ساتھ کیسے جی پاؤں گا؟؟
زایان اب رو دینے کو تھا ۔
نہیں ایسا نہیں ہوگا آپ ایک بار ٹرائی تو کریں فلک کے کہنے پر اس نے ہاں میں گردن ہلائی مگر اس کا ڈر قائم تھا وہ پچھتانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس جنون کی حد تک عشق کرتا ہے وہ عشق میں تڑپتا ہے دن رات اس کے ساتھ خواب سجاتا ہے وہ اس کے دل و دماغ پر حاوی ہونے لگی ہے اور وہ اسے آج یہ سب بتا دینے کا ارادہ رکھتا تھا آر یا پار ۔۔ وہ اس کے انکار کو سننے کے بعد دوبارہ جی پائے گا یا نہیں وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا وہ ان کے ساتھ گارڈن ایریا میں انٹر ہوا۔ عشوانی اور فلک اس کی جانب بڑھ گئے مگر محالفہ نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا۔۔
Izn e ishq by Fareeda Batool Complete Novel Izn e ishq by Fareea Batool Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Izn e ishq by Fareeda Batool Complete Novel
یہ کہانی دو لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو کزن ہونے کے ساتھ دوست بھی ہیں ان کی بچپن کی دوستی، کزنوں کی کہانی۔
یہ کہانی امل امجد اور فرقان حیدر کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔
یہ کہانی ہے ارہا کی جس نے اپنی محبت کو پانے کے لیے اپنی بھابھی پر الزامات لگائے۔
یہ کہانی ہے احسن ارسل کی جو یکطرفہ محبت میں مبتلا رہا، اس کی محبت اسے ملی یا نہیں یہ آپ ناول پڑھ کر جان پائیں گے۔
اسکو اپنا اپ ایک غار میں محسوس ہو رہا تھا ایک ایسا غار جہاں سوائے اندھیرے کے کچھ نہ ہو اسکو اپنے سینے میں ایک درد محسوس ہوا جسے کوئی کانٹے چبو رہا ہو اسکو لگا وہ پھر کھبی سانس نہیں لے سکے گی اسکا خون اسکو جمتا ہوا معلوم ہو رہا تھا اسکے ماتے پر نھنی نھنی پسینے کی بوندے ایی ہوئی تھی یوں جسے ایک ہی پل میں آسمان اور زمین دونوں اس پر ایک کر دی گی ہو اتنی بڑی اذیت اتنا بڑا دکھا وہ ہاتھوں میں لئے ان تین تصویروں کو دیکھی جا رہی تھی آنکھوں سے پانی نکل کر اسکے گالو پر آتا ہوا معلوم ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے یاد تھا جب وہ پہلی بار خوبصورت پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے تھے اور گاڑی تنگ راستے سے گزرتے نیچے جا گری تھی ۔ اس حادثے میں اس کے بابا جان اور ننھی بہن ہادیہ چل بسے تھے ابھی وہ زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ والدہ کی موت نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا لیکن یہ امی کے ساتھ یہ اچانک حادثہ ہوا تو ہوا کیسے؟ یہ سوال اسے بے چین کیے ہوۓ تھا ۔ گیس اس دن لیک کیسے ہوگئی ؟ جہاں تک اسے معلوم تھا اس کی والدہ بہت محتاط خاتون تھیں۔
انمول مجھے تم سے بات کرنی ہے ارمان ملک مجھے تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کرنی تم اپنی بیوی کی عیادت کرو ویسے بھی اسے تمہاری ضرورت ہے جاؤ اس کے بعد اب تو خیر سے خوشخبری انمول تم میری بات سنو گی میں نہیں سونے والی انمول تم میری بیوی ہو اپ پاگل ہے میں اپ کی بیوی کیسے ہو سکتی ہوں میں اپ کی بیوی نہیں ہوں لوگ اسے بولی تھی تم میری بیوی ہو جیسے اس نے نکانی نامہ دکھایا تھا ٹھیک ہے اپ مجھے بھی ڈوز دیں ابھی اس کے منہ میں یہ بات ہی کہ رحمان کا ہاتھ اٹھا تھا اج دوسری دفعہ زندگی میں تم پاگل ہو میں تمہیں ڈوز نہیں کروں گا اپ مجھے بلا لوں گی ٹھیک ہے تم لوگ یہ بات بولنے کے ساتھ کمرے سے باہر انے لگا تھا جب اس کو دماغ میں کچھ لکھا ہوا تھا اس نے انمول کے بازو پکڑی اور اس کو جکڑ کے باہر لایا تھا جبکہ انور مسلسل اپنا باز چھڑوا رہے تھے ارمان نے کیا کرے چھوڑو انمول کہاں تھا اب اگر کوئی میرے یا انمول کے بیچ ایا تو قسم سے جو میں کرنے والا ہوں نا اس کے بعد اپ سب لوگ سوچتے رہیں گے چلو میرے ساتھ اس کو اپنے کمرے میں لے کر جا چکا تھا انڈے جانے کے ساتھ بالکل اپ کر چکا تھا تو اس سے بڑھا کر ویڈیو دکھا رہا تھا ان کا کہ یہ دیکھو دیکھو تم لیکن ارمان ملک تمہاری بیوی ون سیکنڈ ون سیکنڈ تم نے میرے ساتھ دوسری شادی کی ہے ہادیہ بھی تمہاری کام ہے اور یہیں سے اس کی غلت بہن بڑی تھی