Skip to content
Home » Complete novel » Page 121

Complete novel

Ishq E Borzam (Season 2 Of Jaan e Bohram) by Sam Asif Complete novel

  • by

آئزہ کیا ہوا ہے؟

کچھ نہیں بس اندر گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اس لیے باہر آگئی

وفا کا سوال سنتے آئزہ مسکراتے بولی تو وفا بھی اس کے پاس آتی جھولے

پر بیٹھی تبھی باقی بچے(برزم،الیحا،برہان،ارمغان،روحیل،زوبیا،عارب،

حوریہ) بھی باہر آتے ان دونوں کے پاس اردگرد کے صوفوں پر بیٹھے

اسے کیا ہوا ہے؟

روحیل بھائی بابا کے ایک دوست نے آئزہ کا رشتہ بھیجا ہے اور بابا نے

انہیں ہاں بھی کر دی ہے اگلے ہفتے اس کی منگنی کی رسم رکھی ہے بابا

آج یہ بات سب کو بتانے والے ہیں بس اسی لیے اس کا منہ بنا ہوا ہے

روحیل کے سوال پر برہان فوراً بولا تو سب نے آئزہ کو مبارکباد دی جسے

آئزہ نے بجھے دل سے وصول کیا

کیا بات ہے پرنسیس کیا تم اس شادی سے خوش نہیں ہو؟

آئزہ کی خاموشی دیکھتے برزم فوراً اس کے پاس بیٹھتا اس کے گرد اپنا بازو

پھیلاتا بولا تو آئزہ نے سے جھکاتے نفی میں سر ہلایا

اور کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟

برزم بھائی مجھے یہ شادی نہیں کرنی

کیوں تم کیا کسی کو پسند کرتی ہو بتاؤ بتاؤ

آئزہ کے ہلتے سر کو دیکھ کر برزم نے سوال کیا تو آئزہ فوراً بولی جس پر حوریہ

ایکسائٹڈ سی ہوتی بولی

ہممم اگر ایسی کوئی بات ہے تو بتا دو میں بڑے بابا سے بات کر لونگا

نہیں بھائی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

آپ سب کو چھوڑ کر ابھی نہیں جانا

حوریہ کی بات سنتے برزم بھی مسکراتے بولا تو آئزہ نے فوراً جواب دیا جس

پر سب نے مسکراتے اسے دیکھا اس سے پہلے کے کوئی کچھ بولتا آئزہ فوراً

برزم کے سینے سے لگتی رونے لگی اور سب کو پریشان کر گئی

آئزہ یار کچھ نہیں ہوا ابھی تو ویسے بھی انگیجمینٹ ہو رہی ہے تو اس میں

رونے کی ضرورت نہیں ہے شادی ہم تمہاری مرضی سے کر لیں گے

جب تم کہو گی ہم بڑے بابا سے بات کر لیتے ہیں

سچ میں بات کرو گے نا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

Watan ki matti gawah rehna by Memona Noman Complete novelette

  • by

“شیرازی صاحب آپ کو یاد ہے کہ چند مہینوں پہلے میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک لڑکے نے خود کو آپ کا بیٹا کہا تھا؟”

اس سوال پر ان کی رنگت اڑ چکی تھی۔

” تت۔۔ تم کس ویڈیو کی بات کر رہے ہو۔ میری یادداشت میں ایسی کوئی ویڈیو نہیں ہے؟”

ان کے ہکلانے کا وقت شروع ہو چکا تھا۔

“اگر آپ کو یاد نہیں پڑتا تو میں آپ کو یاد کروائے دیتا ہوں کہ آپ کا ایک اور بیٹا ہے جس کا نام زین شیرازی ہے جو آپ کی پرانی محبوبہ سمینہ بٹ کا بھی بیٹا ہے۔۔۔ ویسے آپ دونوں کی شادی کب ہوئی تھی۔ سمینہ بٹ نے اطلاع نہیں دی اور نہ ہی آپ نے؟؟”

میں انجان بنتے ہوئے ان کے تاثرات سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ مجھے مزا آرہا تھا۔ شیرازی صاحب کی بینڈ بجنا شروع ہو چکی تھی۔ ان کا چہرہ پسینے سے تر ہو رہا تھا۔ انہوں نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی۔ شاید ان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

“آپ کی جانب سے مستقل خاموشی ہے۔ کیا میں اپنے سوال کا جواب یہ سمجھوں کہ آپ دونوں کے درمیان شادی ہی نہیں ہوئی تھی؟”

“وہ میرا بیٹا نہیں ہے۔”

وہ ضبط سے بولے ورنہ ان کی آنکھیں مجھے سالم نگلنے کو بےتاب تھیں۔

“کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس ان گھٹیا الزامات کا؟”

“ارسلان آفریدی ثبوت کے بغیر کوئی بات نہیں کرتا۔ ثبوت ہے آپ کی اور آپ کے بیٹے کی ڈی این اے ٹیسٹنگ رپورٹ جو کہ 95 پرسنٹ پوزیٹو ہے۔”

میں ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔

“آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں۔”

اپنے ہاتھ میں پکڑی رپورٹ پر نظریں دوڑائے بغیر انہوں چہرے پر بمشکل مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے کہا لیکن چہرے کے برعکس ان کی نظریں آگ اگل رہی تھیں۔

” آپ کی انسلٹ کرنے والا میں نہیں آپ خود ہیں، آپ کے کرتوت ہیں۔ انسان وہی کاٹتا ہے شیرازی صاحب جو وہ بوتا ہے۔” میں نے اپنی بات دہرائی جو میں نے ان سے اپنی پہلی ملاقات پر کہی تھی۔

“ہاں جی تو ناظرین اب وقت ہوتا ہے ایک چھوٹے سے بریک کا۔ پھر ملتے ہیں۔”

میں نے بریک کا کہا کیونکہ میری پیچھے اسٹوڈیو میں طوفان برپا ہوچکا تھا۔ شیرازی کے بیٹے کے ذکر پہ جو ہلچل شروع ہوئی تھی وہ صدیقی صاحب کے آجانے پہ بھی نہیں تھمی تھی۔ اب مجھے مستقل بریک لینے کی ہدایات موصول ہورہی تھیں۔

“بریک کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے ارجنٹ کام ہے۔ میرے پاس صرف آدھے گھنٹے کی فراغت تھی.ل اور وہ آدھا گھنٹہ میں آپ کو دے چکا ہوں تو اب میں چلتا ہوں۔”

وہ سکون سے گویا ہوۓ لیکن یہ سکون آگے آنے والے طوفان کی پیش گوئی تھا۔

“چلیں شیرازی صاحب آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں آج کا پروگرام یہیں ختم کرتا ہوں۔ وہ الگ بات ہے کہ مجھے آپ سے ابھی مزید کئی سوالات پوچھنے تھے۔”

میں نے آخر میں بھی ان کو جتانا ضروری سمجھا کہ ابھی تو میں آپ کو چھوڑ رہا ہوں لیکن اگلی دفعہ باندھ کے رکھوں گا۔ جب کہ وہ مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے مجھے بہت کچھ باور کرواتے ہوئے وہاں سے واک آؤٹ کر چکے تھے۔ اب انہیں باہر بے شمار رپورٹرز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بے شمار سوالات ان کے سامنے رکھے جائیں گے، جن کے جواب یقیناً ان کے پاس نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے جھوٹ بولنا جتنا آسان ہے سچ بولنا اتنا ہی مشکل۔

Safar zindagi ka by Amna Tariq complete novel

  • by

“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟”۔

بڑی مشکل سے ٹائپ کیا تھا

چند ثانیے بعد اس کی کال آگئی۔

“ہاں تو کیا پوچھ رہی تھی تم؟”۔

وہ خاموش رہی۔

“تو تم پوچھ رہی تھی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کہ نہیں؟”۔

“جی”۔

“آفکورس محبت کرتا ہوں تم سے”۔

“آپ شادی بھی مجھ سے کریں گے؟”

چند سیکینڈ خاموشی رہی پھر اس کا قہقہہ ابھرا

“حیات یہ کیسا سوال ہے؟”۔

“آپ بس جواب دیں”۔

“تم سے پیار کرتا ہوں تو شادی بھی تمہی سے کروں گا حیات”۔

دل کا اک گوشہ پرسکون سا ہوا

“مامی مان جائیں گی؟”۔ ڈر بجا تھا

“تم ٹینشن مت لو۔ امی کو میں منالوں گا۔۔ تم مجھ پر بھروسہ رکھو آئی پرامس شادی میں تمہی سے کروں گا”۔

اس کا دل مطمئن ہوا۔

امید تھی وہ اپنا پرامس پورا کرے گا ۔۔۔

پر کیا انسانوں سے امید لگانی چاہئے؟؟

کیا انسان ہمیشہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں؟؟

کیا انسان بھروسہ کرنے کے قابل ہیں؟؟

Dastan e mohabbat saleem anarkali novel by Fatima Nazir Khan

  • by

یہ ایسی داستان کی کہانی ہے جو

کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہی

سنی ہوگی مگر یہ داستان

کیا اس داستان کی طرح ہوگی کیا

اُسکی طرح اُسکا نصیب ہوگا

یا یہ داستان بلکل مختلف ہوگی

جاننے کیلئے پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔