Skip to content
Home » Complete novel » Page 122

Complete novel

Hum kyun chaly iss rah per by Wisha Nadeem Complete novel

  • by

یہ ایک فرضی کہانی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسے فرضی کہانی کی طرح ہی پڑھا جائے۔۔اس میں بہت سے سینز ایسے ہوں گے جو کہ آپ کو تب تک فضول لگیں گے جب تک کہ آپ ان کو سمجھ نہ لیں۔۔اس ناول میں موجود ہر ٹاپک کو لکھنے کے پیچھے کوئی مقصد ہے اور جو وہ سمجھ جائے وہی عقل مند ہے۔۔علاوہ ازیں جب تک کہانی مکمل نہ ہو جائے اس کے بارے میں کوئی رائے اختیار نہ کریں کیونکہ آخر میں آپ کو پچھتاوا ہو سکتا ہے۔۔یہ کہانی راستوں کو پہچاننے کی ہے۔۔ان راستوں کو پہچاننے کی کہانی جہاں ہمیں جانا تھا مگر ہم بھٹک گئے تھے۔

Rab ka faisla N۔D Khan Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو صبر کا پیکر تھی ۔اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگنے والی اپنے حقیقی ماں باپ کی جستجو میں اپنی زندگی میں بہت سے دکھ دیکھنے والی،لیکن ہر حال میں اللہ کی رضا میں خوش رہنے والی۔

یہ کہانی ہے ایک بزنس ٹائیکون کی جو ایک معمولی سے استانی پر دل ہار بیٹھا اس کی انکھوں اورمعصومیت سے پیار کرنے لگا.

یہ کہانی ہے خونی رشتوں سے پیار اور عزت کی.

یہ کہانی ہے دوستوں کی کھٹی میٹھی باتوں کی ۔.

یہ کہانی ہےاپنے رب سے مضبوط تعلق جوڑنے کی یہ کہانی ہے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ایک کرنے کی۔

Shehr e ashob ki pukar afsana by Uqba Ahmad

  • by

سب اپنی “قیمتی زندگی”، کو اس “سبز پاک ملک” جیسے مفتے کا مال سمجھے بیٹھے ہیں۔ سب جیسے ہے، چلتا رہے پر مطمئن ہیں اور سب اس وطن کے خرابے میں برابر کے شریک ہیں۔ پچھلے دنوں اخبار میں پڑھا کہ ملک کا ایک پڑھا لکھا نوجوان طبقہ ملک کو چھوڑ کر چلا گیا ہے تو شبیر بدر کے دیوں کی جوت بجھتے دیکھی اور پھر خود کو دلاسہ دیا کہ “شبیر بدر” سالوں بعد جنم لیتے ہیں، جیسے ایک “نہال بخاری” کی جھلک میں آن موجود ہوا۔ ہر کوئی یہاں کی تہذیب، تنگ نظری کو نشانہ بناتا ہے خواہ اندر کے لوگ ہوں یا باہر کے، پر جب قدم اٹھانے کی باری آتی ہے تو سب ڈرپوک گیدڑ کی طرح چھپ جانا چاہتے ہیں۔ اور مغرب کی تعریفوں کے راگ الاپنے والے وقتی سہولتوں کے پیچھے زندگی داؤ پر لگائے، “شاطر دماغوں” کے بھروسے “تیز گام” دنیا میں محو ہیں۔ چلو لوٹ لو مزے، کیونکہ “جس کا چابک، اسی کا گھوڑا۔” تم لوٹ آؤ گے، تم لوٹ آؤ گے اور ہم مل کر شبیر بدر کے مشن آزادی کا تحفظ کریں گے۔ ہم مل کر سبز ہلالی پرچم کے سائے میں پھر سے “ایک” ہو جائیں گے۔