Skip to content
Home » Complete novel » Page 124

Complete novel

Pehli mohabbat by Malaa Ali Complete novel

  • by

دیکھاو اپنا ہاتھ ۔ کیسے جلا ہے ۔

آپ یہاں 😡😡 بحران کی آواز پر انمول نے آنکھیں کھولتے ہوئے غصے سے کہا ۔

جی میں ہی ۔ اب دیکھاو گی بھی ہاتھ کیسے جلا کر آئی ہو۔

کیوں آپ نے کیا نمک چھڑکنا ہے ۔ جو پوچھ رہے ہیں ۔

ہاں یہی سمجھ لو اب بتاو گی بھی ۔🤨

نہیں بتانا مجھے ۔ اور آج کے بعد میرے روم میں میری اجازت کے بنا مت آئیے گا ۔ انمول نے غصے میں کہا ۔جب کے بحران کو کوئی فرق ہی نہیں پڑھ رہا تھا ۔

مجھے یہاں آنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور رہی بات تمہارے ہاتھ کی جب آیا ہوں تو دیکھ کے ہی جاوں گا ۔

بحران نے زبردستی اس کا ہاتھ پکڑا تھا دیکھنے کے لئے ۔ لیکن اسے نہیں پتہ تھا کے وہ انجانے میں ہی سہی اسے تکلیف دہ رہا ہے ۔

میں نے بولا میرا ہاتھ چھوڑیں ۔ مجھے درد ہو رہا ہے 😢😢

درد کا نام سنتے ہی بحران نے فورن سے ہاتھ چھوڑا ۔

اور ادھر آدھر کچھ دیکھنے لگا ۔کوئی ٹیوب وغیرہ ہے ۔ دو ادھر لگا دوں۔

کچھ نہیں ہے ۔ اور اگر ہوا بھی تب بھی آپ کو نہیں بتاؤں گی ۔ دفعہ ہو جائیں یہاں سے اور اپنی شکل دوبارہ مجھے مت دیکھائیے گا۔ (نم آنکھوں سے وہ اس پر چلا رہی تھی ۔ اور ایک وہ تھا کے جسے اس کے درد کے اگئے نا کچھ سنائی دے رہا تھا ۔ اور نا ہی وہ اس وقت کچھ سنا چا رہا تھا ۔ )

میں بس دس منٹ میں آیا ۔ تم یہی رہو اور دروازہ بند کر دو لیکن لوک نہیں کرنا ۔ یہ بولتے ہی وہاں سے چلا گیا۔

اخر سمجتا کیا ہے یہ شیطان خود کو ۔میں تو کروں گی ۔ ہوتے کون ہیں مجھ پے آڈر چلانے والے ۔ بحران کے جاتے ہی وہ خود سے کہنے لگی ۔

بالاج وہاں کیا کر رہا ہے ۔ آکر سو جا نا ۔

فارس نے ونڈو میں کھڑے بالاج سے کہا جو کے بحران کی باتوں کو لے کر تھوڑا اداس تھا ۔

ہاں بس آیا۔ اچانک بالاج کی نظر ونڈو سے باہر بحران پر پڑی جو کے گاڑی میں بیٹھ رہا تھا ۔ فارس کو بنا دیکھے بولا

(یہ بحران بھائی اس وقت کہا جا رہے ہیں وہ بھی اتنی جلدی میں جا کے پوچھوں کیا ۔ نہیں نہیں کیا پتہ کچھ پرسنل کام ہو ۔ چلو صبح ہی پوچھوں گا ۔ من میں سوچتے ہوئے سونے لگا )

تمہیں اللہ پوچھے گا شیطان ۔ میرا ہاتھ پہلے سے ہی اتنا درد کر رہا تھا ۔ اوپر سے جاہلوں کی طرح پکڑا ہے ۔ اب تو لگتا ہے ہاتھ ساتھ ہے ہی نہیں ۔

انمول خود سے باتیں کر ہی رہی تھی کے اچانک دروازے سے بحران داخل ہوا ۔

آپ پھر سے اگئے ۔ 😡😡

جب بولا تھا ۔ دس منٹ میں آتا ہوں۔تو آنا ہی تھا نا ۔ اب

ہاتھ اگئے کرو ٹیوب لگا دوں۔ اس سے جلن کم ہو گی ۔ انمول کے بلکل سامنے بیٹھ کر ٹیوب اگئے کو کی ۔

مجھے نہیں لگوانی کوئی ٹیوب وغیرہ۔ اور کس نے کہا تھا جا کے ٹیوب لائیں ۔ میرے پاس پہلے سے موجود ہے ۔ میں لگا سکتی ہوں خود ۔

لڑکی تم سنتی کیوں نہیں ہو میری بات کبھی بھی ۔ ہاتھ آگے کرو ۔ ورنہ مجھے اپنے طریقے سے لگانا پڑے گا۔

میں نے کہا نا میں لگا لوں گی ۔ اور جائیں اپنے روم میں ۔ انمول کا غصہ پہلے کب کم ہوا تھا بحران کو دیکھ کر جو آج ہوتا ۔

ٹھیک ہے میرے سامنے لگاو ۔چلا جاوں گا (بحران بھی ضد پے تھا ۔ آخر انمول کو ہار ماننی ہی پڑی )

اب لگا لیا ہے نا ۔اب جائیں یہاں سے ۔

اوکے چلتا ہوں ۔ یہ یہاں رکھ کے جا رہا ہوں ۔ پھر بھی لگانا ۔

ٹیوب کو ٹیبل پے رکھتے ہوئے باہر کو نکلا ۔ جبکہ انمول خیرانی سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔ پہلی بار کسی کی آنکھوں میں خود کے لیے اتنی فکر دیکھ کر خیران تو ہونا ہی تھا ۔ اور جب فکر کرنے والا بھی وہ شخص ہو جس سے سخت نفرت ہو ۔

Amanat season 2 by Sidra Kmal Complete novel download pdf

  • by

میں میں تمہارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں لیکن تمہیں پہلے وعدہ کرنا ہوگا

کیسا وعدہ ہانیہ ؟؟

یہی کے تم میرے بچوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاٶ گے۔۔۔

ہاہاہا

چلو منظور ہے ہانیہ

جیسے ہی ہانیہ حمزہ کے پاس پہنچتی ہے حمزہ غصے سے ہانیہ کو سر کے بالوں سے پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے

یہ تمہاری بھول ہے ہانیہ

کہ میں ان دونوں کو ایسے ہی چھوڑ دونگا۔۔۔۔یہ یہ دونوں مجھ اُس ایان کی یاد دلاتے ہیں

وہ ان دونوں میں زندہ ہے ہانیہ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب جب انہیں دیکھتا ہوں

ہانیہ نہایت سمجھداری سے کام لیتے ہوۓ حمزہ کی جیب سے بندوق نکال لیتی ہے

اور پھر حمزہ کے پیٹ پر زور سے کونی مار کر حمزہ کو خود سے دور کردیتی ہے۔

حمزہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور وہ حیرانی سے ہانیہ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو بلکل نڈر بندوق تھامے کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیا لگا حمزہ کے میں تمہاری بات مان گٸ ہوں ؟؟؟

میں تاحیات صرف اور صرف ایان کی ہی ہوں۔

جھوٹ اسی لیے بولا تاکہ اپنے بچوں کی حفاظت کرسکوں سمجھے ؟

حمزہ ہانیہ کی طرف بڑھتا ہوا کہتا ہے۔

ہانیہ اسے مجھے واپس دے دو یہ کوٸ کھلونا نہیں ہے۔

خبردار جو میرے قریب آۓ حمزہ

لیکن جب حمزہ نہیں رُکتا تو ہانیہ حمزہ کے پاٶں پر فاٸر کردیتی ہے۔۔۔

یہ دیکھ کر حمزہ کا ساتھی ہانیہ کو مارنے کے لیے فوراً اپنی بندوق نکالتا ہے لیکن حمزہ جلدی سے چاقو نکال کر اپنے ساتھی کے ہاتھ پر مارتا ہے۔

جس سے اُسکا ہاتھ کافی زخمی ہوجاتا ہے اور وہ اپنا توازن کھو دینے کی وجہ سے نیچے گرجاتا ہے۔

ہانیہ دیکھو اب بس بہت ہوگیا خود کو میرے حوالے کردو۔

ہانیہ حمزہ کے دوسرے پاٶں پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ میرے بچوں کو انکے والد کے ساۓ سے محروم کرنے کے لیے ہے۔۔۔

حمزہ درد کی شددت سے نیچے بیٹھ جاتا ہے

ہانیہ بس بہت ہوگیا مذاق یہ مجھ دو ادھر

میری دھڑکن کو اتنی بے رحمی سے قتل کرنا کیا مذاق تھا ؟

ہانیہ غصے میں حمزہ کے بازو پر فاٸر کرتی ہے۔

یہ ایک ماں کو اُسکی اکلوتی اولاد سے دور کرنے، ایک بیوی کو شوہر سے جدا کرنے ، اس ملک کے ایک جانباز سپاہی کا قتل کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔

ہانیہ ایسا مت کرو پلیز رک جاٶ

یہاں تمہیں بچانے والا کوٸ نہیں ہے

ہانیہ حمزہ کے دوسرے بازو پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ ہر اُس شخص کی طرف سے جن کو تمہاری وجہ سے تکلیف ہوٸ

حمزہ کے دونوں بازو اور ٹانگیں بری طرح زخمی ہوتی ہیں۔

بہت تڑپ رہا ہوتا ہے۔

تم میرے تڑپانا چاہتے تھے حمزہ زرا خود کودیکھو

میں اگر چاہوں تو تمہیں اسی وقت مار سکتی ہوں لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرونگی

تم قانون کے مجرم ہو مجھے کسی کی جان لینے کا کوٸ حق نہیں۔

ہانیہ جانے لگتی ہے تو حمزہ اپنی جیب سے دوسری بندوق نکالتا ہے اور کہتا ہے۔۔

اگر تمہارے ساتھ جی نہیں سکتا تو مرنا ہی سہی

Hala e mohabbat by Sidra Chaudhary Complete novel

  • by

دعایہ کیا کر رہی ہو تم؟

رقیہ بیگم جیسے ہی ڈائننگ ٹیبل پہ آئی تھیں،دعا کو دیکھ کر حیرانی سے چلا اٹھی تھیں۔

کیا ماما آرام سے بولیں نہ ،آپکا بی پی شوٹ کر جائے گا، اور میں ناشتہ کر رہی ہوں ،جیسے ہر گھر میں یونیورسٹی جانے والے کرتے ہیں۔

ناشتہ،کون پاگل ایسا ناشتہ کرتا ہے،جیسا تم کر رہی ہو؟ پاگل پن کی بھی حد ہوتی ہے۔

کیا ماما آپ مجھے پاگل کہہ رہی ہیں؟ مما آپ جانتی ہیں ،یہ میں ہوں آپکی اکلوتی بیٹی دعا،جسے آپ نے منتوں،مرادوں اور دعاؤں سے مانگا ہے،کتنی معصوم اور بھولی بھالی ہے۔آپ مجھے صرف میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ کھانے پہ پاگل کہہ رہی ہیں۔

دعا نے دنیا جہان کی معصومیت،دکھ اور ملال چہرے پہ سجا کر ماں کو دیکھا تھا اور اسکی اس قدر چالاکی پہ رقیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ تھیں۔

ہاں تمہارے جیسا معصوم تو اس دنیا میں ہے ہی نہیں کوئ،روزانہ ایک نیا شوشہ چھوڑ رکھا ہوتا ہے تم نے،اور اب تو تم نے انتہا کردی ہے،کون کھاتا ہے میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ،اور ہردوسرے دن ڈرائیور کو بیووقوف بنا کر گاڑی لے کر نکل جاتی ہواور چھٹی کے وقت آج تک تم ڈرائیور کے ساتھ نہیں آئی،بلکہ آنا تو دور ڈرائیور کو نظر تک نہیں آتی تم،جانے دوستوں کے ساتھ کہاں کہاں سے آوارہ گردی کرتی ہوئ پیدل واپس آتی ہو۔رقیہ بیگم

اب جو شروع ہوئ تو بولتی چلی گئ تھیں،اور انکی ساری باتیں سن کر دعا ہنستی چلی گئ تھی۔

جس پہ رقیہ بیگم نے گھور کر دیکھا تھا۔

بس بس مما باقی طعنے بعد میں دے لیجیے گا، میرا جانے کا وقت ہوگیا ہے۔دعا نے کہتے ساتھ ہی اٹھ کر بیگ اٹھایا تھا اور ماں کے گلے لگ کر پیار کیا تھا۔

Anjan rahen lagen apni si by Sloni Fayyaz Complete novel

  • by

“ہیپی اینی ورسری ” موم اینڈ پاپا “مسڑ اینڈ میسسز اوبان

اپنی بیٹی کی چہکتی ہوئی آواز پہ دونوں کی آنکھیں کھول گئی

تم کبھی سرپرائز کرنے سے باز نہ آنا, کتنی دفعہ بولا ہے ہم دونوں کو یہ سب نہیں پسند ,اور وہ ہمشہ کی طرح کا لیکچر سمجھ کہ دونوں کو اٹھا کر ٹیبل کے پاس لائی اور ان دونوں سے کیک کٹ کروایا

ابھی کیک کٹ کیا ہی تھا کہ احمد کا میسج آیا “ہیپی اینی ورسری ” جگر ,

خوش رہ میرے دوست …….

دونوںکیوں کر رہی ہو تم یہ،کیوں تم بے رحم ہو گئی ہو،تمھارا یہ فیصلہ مجھے خون کے آنسو رلا رہا ہے،زارا میں نہیں کر پاو گا۔

تم اتنی خوبصورت لگتی ہو مجھے،میں تمھارے علاوہ اپنے پہلو میں کیسے کسی اور کو دیکھوں گا۔

تمھارا مسکراتا چہرہ ،شرمیلی آنکھیں ،ن،ن۔۔نہیں ، میں یہ نہیں کر سکتا تم مانا کر دو،

کندھے پہ سر رکھ کہ مسلسل روتا ہوا اس سے پب کہہ رہا تھا ،

ہم جدا نہیں ہورہے ایک چھت تلے ہی تو ہیں ،مسکرا کر زارا نے کہا ۔۔۔

Meri Jeet Amar kar do by Binte Kousar Complete novel

  • by

یہ ایک رومانوی ناول ہے جس میں ہماری سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں،خاندانی رشتوں ،مختلف جذبات محبت،عشق ،دوستی،نفرت کو پیش کیا گیا ہے۔۔۔۔یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس نے اپنے بچپن کی محرومیوں کو اپنے وجود میں بھر دیا اور اپنے خول میں بند ہو گیا۔۔۔۔یہ دو پیار کرنے کرنے والوں کی خوب صورت کہانی ہے۔ یہ کہانی ہے محبت کو پانے اور پا کر کھو دینے کی جس میں محبت نفرت ،لالچ اور قربانی کو اس انداز میں دکھایا گیا ہے کہ قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔۔۔۔۔

Gum hain hum tery pyar main by Abdulahad Butt Complete Season 1

  • by

” کون ہو تم اور کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر ؟ ”
سادان اس شخص کی طنزیاتی آواز سنتا ہوا ایک لمحے میں ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔ اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا تو سامنے کھڑا شخص طنزیہ مسکرایا اور اس کی آواز صاف طور پر سادان درانی کے کانوں تک پہنچی تھی۔۔۔۔!
” میں کون ہوں ؟ دیکھنا چاہتے ہو تم ؟ ”
ایک آواز اس کے کانوں میں آئی تو سادان نے حیرانگی سے اس پرچھائی کی طرف دیکھا جو اندھیرے میں نظر آ رہی تھی!!!
وہ ایک لمحے میں ہی سادان کے بالکل سامنے آیا لیکن اندھیرا اس قدر چھایا ہوا تھا کہ سادان اب بھی اس شخص کا چہرہ دیکھ نہیں سکا تھا۔۔۔۔
” بوم !!! ”
اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے سادان کے تو جیسے ہوش ہی اڑ سے گئے تھے۔۔۔۔! اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ سامنے کھڑا شخص وہ ہو گا۔۔۔ جب کہ مقابل کی طرف ایک شوخ آواز اسے سننے کو ملی تھی۔۔۔۔
” و۔۔ج۔۔د۔۔ان ت۔۔م ؟ ” ( وجدان تم )
سادان نے حیرت انگیز انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے حیرانگی سے بھرپور لہجے میں کہا۔۔۔ اس کےکچھ الفاظ تو اس کے گلے میں ہی اٹک گئے تھے۔۔۔۔
جب ہی ڈان یعنی کہ وجدان درانی ایک قہقہ لگا گیا۔۔۔۔
” نو نو نو !!! وجدان نہیں ہوں میں یہاں پر ! یہاں پر تو میں ڈان ہوں۔۔۔۔ وجدان تو میں درانی ہاؤس میں یوں تمھیں شائید معلوم نہیں ہے”
وجدان کے اس روپ کو دیکھتے ہوئے ادان کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔۔۔ جیسے اسے اپنی آنکھوں اور کانوں سے سنی ہوئی باتوں پر یقین ہی نا آ رہا ہو !!!
” م۔۔طل۔۔۔ب ؟ ” ( مطلب )
وہ حیرانگی سے سوال کر گیا۔۔۔۔

Adamzad or Bintehawa novel by Umaima Shafeeq Qureshi

  • by

“زارون چلو گھر چلتے ہیں۔”یہ وہی جانتی تھی کہ اس نے یہ بات کیسے کہی تھی۔

“ٹھیک ہے تو چلتے ہیں۔پہلے تمہاری غنڈی کزن کے ہاتھ کی چائے تو پی لوں۔”

“اپنے گھر جا کر نا اپنی معصوم بیوی کے

ہاتھ کی کافی پی لیجیے گا۔”انارا نے تڑک کر جواب دیا تھا۔

“تم مجھے گھر سے نکال رہی ہو؟”زارون نے بےیقینی سے پوچھا تھا۔

“ہاں نکال رہی ہوں۔”اس کے جواب پر وہ جل بھن گیا تھا۔

“مجھے پینی بھی نہیں ہے تمہارے ہاتھ کی بدمزہ چائے۔جا رہا ہوں میں…!”زارون نے اٹھتے ساتھ کہا تھا۔

“اگر اتنے ہی غیرت مند ہیں نا تو واپس اس گھر کا رخ مت کیجیے گا۔”انارا نے شان بےنیازی سے کہا تھا۔

“چند پیسے کیا آ گئے ہاتھ میں،لوگ خود کو پتا نہیں کیا سمجھنے لگ گئے ہیں؟”اسے ایک گھوری سے نوازتے زارون نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی تھی۔ذکیہ بیگم نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر وہ داریاء کا ہاتھ پکڑے جا چکا تھا۔اس کے گھر سے جانے کے بعد انارا نے مسکرا کر اپنے ہاتھ جھاڑے تھے۔زندگی اپنے معمول پر لوٹ آئی تھی۔ان دونوں کی دشمنی کا آغاز پھر سے ہو چکا تھا۔

Woh meri qismat ka sitara novel by Noor Baig

  • by

حورین تمہیں پتہ ہے جب تمہاری کال ائی تو میں کتنا ڈر گیا تھا۔ اگر میں وقت پر نہ پہنچتا یا میں نہ فون اٹھاتا تو کیا ہوتا تم کس کو کہتی ؟

حورین پوری انکھیں کھولے حیرانگی سے عباس شاہ کو دیکھ رہی تھی۔ یہ تو کوئی اور عباس شاہ تھا یہ وہ نہیں تھاجس کو وہ دیکھتی ا رہی تھی۔۔۔۔”مجھے پتہ ہے تم حیران ہو” لیکن میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بیویوں پہ ہاتھ اٹھاتے ہیں یا پھر اپنی انا کی تسکین کے لیے ان کو نیچا دکھاتے ہیں۔ ہاں میں تیار نہیں تھا اس سب کے لیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں اس کا بدلہ تم سے لیتا۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہو رہی کہ تم نے پہلے دن سے ہی میرے دل میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ بس میں یہ کہنے سے ہچکچار رہا تھا یا پھر میں خود پہ بھی یہ بات ظاہر نہیں کر رہا تھا لیکن اج مجھے لگا کہ مجھے کہہ دینا چاہیے ۔یہ کہتے ہوئے اس نے ایک گہری سانس لی جیسے اپنے اپ کو تیار کر رہا ہو کہ وہ اس کو کہہ سکے ۔۔۔۔میں تم پہ یقین کرنا چاہتا ہوں حورین میں چاہتا ہوں کہ میں تمہارا ہاتھ پکڑوں اور سب پریشانیوں کو بھلا دوں۔ لیکن ایک برے تجربے نے میرے دل میں میاں بیوی کے رشتے کو لے کر جو گرہ لگائی ہے وہ پتہ نہیں کیوں لیکن وہ کھل نہیں پا رہی اور میں چاہتا ہوں کہ ہم دونوں مل کے اس رشتے کو ٹھیک کریں۔ میں تمہارے ساتھ ایک خوشحال اور بہت اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں لیکن میں فوری طور پر اس پہ عمل نہیں کر پا رہا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میرا یقین کرو اور میرا ساتھ دو۔ تھوڑا وقت لگے گا حورین لیکن مجھے یقین ہے کہ اس وقت میں تم میرے ساتھ ہوگی اور اگے بھی ہم بہت اچھی اور خوشحال زندگی گزاریں گے ۔اس نے یہ کہتے ہوئے حورین کی طرف دیکھا۔ “کیا تم میرا ساتھ دو گی