Kuch yaden bhooli basri si novel by Jaweria Binte Zubair download pdf
یہ کہانی ہے ایک معصوم بچی کی جس نے ہجرت کے دوران اپنا سب کچھ کھو دیا
اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
یہ کہانی ہے ایک معصوم بچی کی جس نے ہجرت کے دوران اپنا سب کچھ کھو دیا
اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
“محبت کے بانس” یخ بستہ جدائیاں اور مامتا کے بعد تیسرا ناول ہے ۔ رشتوں میں مٹھاس، اپنایت ، خلوص جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا جارہا ۔
رشتوں میں موجود محبت اور ہمارے رسم و رواج کو اپنا اصل کھو رہے ہیں اور ان کی جگہ مغربی رسم و رواج کو پذیرائی ملنے لگی ہے ۔
بس اسی بات نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا ۔ کہانی کے کرداروں میں زمل ثمن اور ارحم کا کردار کھٹا میٹھا سا ہے جبکہ بی جان میرا پسندیدہ کردار ہیں جنہوں نے خاندان اور روایات کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا
Zakham e iltafat novel by Saba Gulzar Zakham e iltafat novel by Saba Gulzar This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Zakham e iltafat novel by Saba Gulzar
Lapta hoa Dil Mera novel by Mahnoor Chaudhary Episode 1 to 3 Lapta hoa Dil Mera novel by Mahnoor Chaudhary This is social romantic Urdu… Read More »Lapta hoa Dil Mera novel by Mahnoor Chaudhary
” جب میں نے ہزار مرتبہ سب کو وارن کر رکھا تھا کہ میری پرمیشن کے بغیر کوئی اس لان میں سے ایک پتہ تک نہیں ہلائے گا تو پھر آپکی پوتی نے کس
کی اجازت سے پھول توڑا ہے ” گرے ٹریک سوٹ پ پہنے ہاتھوں میں باسکٹ بال لیے ، موٹی موٹی آنکھوں میں شدید غصہ لیے وہ وجودمالی بابا پر بری طرح برس رہا تھا ۔
“اسکی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں بیٹا یہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں سے پھول توڑنا منع ہے۔ یہ کل رات ہی گاؤں سے آئی ہے، اسے معاف
کردو” مالی بابا التجائیہ انداز میں سامنے کھڑے وجود کے آگے ہاتھ جوڑ رہے تھے ۔
” مجھے کچھ نہیں سننا ، اس گناہ کی تلافی یہ جڑے ہوئے ہاتھ نہیں کر سکتے۔”
وہ وجود انتہائی بپھرا ہوا نظر آرہا تھا تبھی تو ایک بزرگ شخص کےجڑے ہوئے ہاتھ بھی اس پر کوئی اثر نہیں کر رہے تھے ۔
“دامی بیٹا ، کیوں صبح صبح اتنا شور مچا رکھا ہے ” تبھی کاریڈور سے دردانہ داؤد کی آواز آئی تھی۔ وہ وجود کچھ دیر پہلے جاگنگ کر کے آیا تھا۔ گھر آتے ہی اُسکی نظر پھول توڑتی ہوئی بچی پر پڑ گئی تو وہیں پر اُس پر برس پڑا تھا۔
” مام ! جب میں نے منع کیا تھا کہ یہاں سے کوئی پھول نہیں توڑے گا توپھر اس بچی کو کس نے اجازت دی؟” اب وہ سہمی ہوئی بچی کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو مالی بابا کی اوٹ میں چھپی ہوئی تھی ۔ وائٹ فراک پرجگہ جگہ مٹی لگی ہوئی تھی ۔
“دامی کوئی بات نہیں ، ایک پھول ہی تو توڑا ہے ، پورالان تو خراب نہیں کیانا . وہ اپنے کسی فرینڈ کو دینے جا رہی ہوگی ۔ تمہیں پتا ہے ، تمہارے پاپا روز یونیورسٹی میں میرے لیے ڈھیروں پھول لایا کرتے تھے اور جو سب سے زیادہ کھلا ہوا ہوتا وہ بڑے پیار سے میرے بالوں
میں لگا یا کرتے تھے ، اور وہ۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اپنی یونی کے قصے شروع کرنے لگیں
تھیں تھبی دامی نے انہیں روک دیا تھا۔
“اسٹاپ اٹ مام! آپ کے لیے یہ ایک پھول ہوگا مگر میرے نزدیک یہ بہت بڑی چیز ہے ، اگر کسی انسان کا سر اس کے جسم سے الگ کر دیا جائے تو جو تکلیف اُسے ہوتی ہے وہی تکلیف ایک پھول کو شاخ سے الگ کرنے پر ہوتی ہے اور آپ کہتی ہیں کہ ایک پھول ؟” اُس کا لہجہ ہنوز تلخ ہی تھا ۔۔ ” بیٹا ! اسے معاف کر دو، یہ معصوم ہے آئندہ سے
یہ ایسی غلطی نہیں کرے گی، اگر دوبارہ ایسا ہوا تو آپ مجھے نوکری سے نکال دیجئیے گا پھر وہ تکلیف میرے لیے ویسی ہی ہوگی جیسی انسان کے جسم سے سر اور پھول کے شاخ سے جدا ہونے کی ہوتی ہے “۔ وہ عاجزی سے سر جھکائے ہوئے کہہ
رہے تھے۔ اُس وجودکے دل کے کچھ ہوا تھا۔ وہ بنا کچھ کہے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا
” ارے دامی ! سنو تو میں کیا کہہ رہی تھی تمہارے پاپا میرے بالوں میں پھول لگانے کے بعد کیا کہتے تھے ؟ دردانہ داؤد اسے پکارتی رہ گئیں ۔۔
“راہی بیٹا آپ یہاں ہو میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں”
آمنہ بیگم کی آواز پر وہ مڑا سفید رنگ کے شلوار قمیض پر بھورے رنگ کی شال دونوں کندھوں پر ڈالے سرمئی آنکھوں میں کسی بھی قسم تاثر کے بغیر کھڑا وہ راہی تھا راہی مرزا بلوچ دس سال کا راہی لیکن اس کی شخصیت میں اس وقت بھی ایک رعب تھا
” میں یہیں تھا چھوٹی امی آپ کو کوئی کام تھا”
راہی نے آمنہ بیگم کو خاموش کھڑا پایا تو بولا اپنی باتوں اپنی عادتوں سے وہی کہیں سے بھی تو دس سالہ بچہ نہیں لگتا تھا
“ارے آج کے دن تم سے کیسا کام وہ تو بس تمہارے چاچو نے کہا کہ تمہیں اسٹیج پر لے آؤں تو اس لیے ڈھونڈ رہی تھی”
آمنہ بیگم نے مامتا بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس کی پیشانی چومی وہ آج بہت خوش تھیں آخر ہوتی بھی کیوں نہ آج ان کی اکلوتی بیٹی کی منگنی تھی وہ بھی ان کے جیٹھ کے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بیشک انیس بلوچ جانتے تھے کہ ابھی پریشہ اور راہی بہت چھوٹے ہیں منگنی کے لیے لیکن پھر بھی وہ یہ تقریب رکھنا چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ تمام گاؤں والوں اور خاندان والوں کو علم ہو جائے کہ پریشہ ان کے بھتیجے کی منگ ہے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے منگنی کی تقریب اتنے بڑے پیمانے پر منعقد کروائی تھی
“آپ چلیں چھوٹی امی میں آتا ہوں”
Izzat ki roti afsana by Farah Anwaar Izzat ki roti afsana by Farah Anwaar This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Izzat ki roti afsana by Farah Anwaar
“تو مسز عالیان شاہ کیا آپ کو کبھی کسی سے پیار ہوا ہے؟” وہ اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاتا بولا
وہ نظریں چرانے لگی
“پہلے آپ بتائیں کیا آپ سچ میں مجھ سے پیار کرتے ہیں؟” وہ چمکتی آنکھوں سے پوچھنے لگی
“ہاں” اس کے لب ہلکا سا مسکائے
“تو پھر آپ بتائیں کہ ‘میں آپ کیلیے کیا’ ہوں؟” وہ نادان لڑکی یہ کیا پوچھ بیٹھی تھی عالیان نے مسکراہٹ ضبط کرتے ایک گہری سانس لی تو سنو!
تم وہ ہو
جس کو دیکھ کر
میرے دل کی خالی ٹہنی پر
پھول گلابی کھل جاتے ہیں
جس کو دیکھ کر
مجھ کو اپنی مرضی کے
سارے موسم مل جاتے ہیں!°
عائشہ کے چہرہ سرخ ہوگیا
“آی ایم سوری اس رات جو کچھ میں نے کیا تھا میں اس کیلیے بہت شرمندہ ہوں آپ وہ تھپڑ دیزرو نہیں کرتے تھے” عائشہ کی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی
“تو پھر میں کیا ڈیزرو کرتا ہوں؟”
“ایک ایسی لڑکی جو آپ سے آپ ہی کی طرح سچا پیار کرے” وہ نجانے کس خیال کے تحت یہ بول رہی تھی
” ہاں پر شاید میری قسمت ہی خراب ہے کیونکہ مجھے تو ایسی لڑکی ملی ہی نہیں” وہ افسوس کرتا کاندھے اچکا گیا
“آپ جانتے ہی کیا ہیں میرے بارے میں؟” وہ آنکھیں سکیڑ کر پوچھنے لگی
“وہ سب کچھ جو تم خود بھی نہیں جانتی”
“اچھا جیسے کہ؟”
“جیسےکہ تم جھوٹ بہت بولتی ہو” وہ سنجیدہ تھا
اس کی مثال میں تمہیں ابھی دے دیتا ہوں”تو بولو کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتی؟”
” نہیں”
“دیکھا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم جھوٹ بہت بولتی ہو پر تمہاری آنکھیں سب سچ بتا دیتی ہیں
“آپ میرے منہ سے اقرار سننے کی حسرت میں رہ جائیں گے پر میں کبھی نہیں بولوں گی اور ویسے بھی یہ ضروری تو نہیں کہ جس کو میں پسند کروں وہ آپ ہی ہوں” عائشہ ہنس کر بولتی اسے تپا گئ
“میرے علاوہ کس کو پسند کرتی ہو تم؟”اس نے عائشہ کا بازو تھام کر خود کے قریب کرلیا “جواب دو” اب کی بار وہ سختی سے بولا عائشہ اچھل پڑی “کس سے پیار کرتی ہو تم؟” غصے سے پوچھا گیا عائشہ اپنے دل کی بغاوت پر کانپ اٹھی تھی جو دھڑک دھڑک کر سامنے کھڑے شخص کو پکار رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کب سے اس کو پسند کرتی تھی بس خوف کی سبب کبھی بول نا پائ
“اپنے ش..شاہ کو” عائشہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی اقرار کر گئ عالیان کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ ابھری تھی
“تبھی تم مجھے کلاس میں چور نظروں سے دیکھتی رہتی تھی؟” اس کی آنکھوں میں شرارت اتری
“جی نہیں میں آپ کو نہیں دیکھتی تھی” وہ شرم سے سرخ پڑتی اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکل کر باہر بھاگ گئ عالیان نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے مسکراتی نگاہوں سے اس دشمن جاں کو فرار ہوتے دیکھا
“جھوٹی!”
ہائے ائی ایم اجر یور کزن اج اچانک یاد انے پر اس نے پھوپھو کے دیے ہوئے نمبر پر میسج کیا چند منٹ بعد ہی جوابی ٹیکس اگیا ہائے ائی ایم علیزے مجھے بہت شوق تھا اپ سے بات کرنے کا۔ امی نے بتایا تھا مجھے کہ وہ اپ کو میرا نمبر دے کے نہیں ہے بس اسی دن سے میں اس انتظار میں ہوں کہ کب اپ کا میسج ائے اجر کیا اپ مجھے اپنی تصویر بھیج سکتے ہیں دیکھیں نا کتنی عجیب بات ہے کہ ہم دونوں کزنز ہیں اور ہم نے ابھی تک ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ہے اگر اپ کو کوئی ایشو نہیں ہے تو پلیز اپ مجھے اپنی پک بھیج دیں۔ اور بالاخر اج اپ نے مجھے میسج کر ہی لیا۔جی وہ بس میرے ذہن سے نکل گیا تھا اس کا دل کھٹک رہا تھا اور دماغ کسی خطرے کا پیغام دے رہا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کسی بپھرتے سمندر کا بند کھول دیا گیا ہو اور ایک طوفان اس کی جانب آ رہا ہو۔آپی آپ رات کو اتنی دیر تک دیر کس سے باتیں کر رہی تھیں۔ وہ میں علیزے بات کر رہی تھی۔ اپ بھی اپ کو پتہ ہے نا کہ اگر بابا کو معلوم ہوا تو وہ کتنا غصہ کریں گے اچھا اچھا ٹھیک ہے میرا سر پہلے ہی درد سے پھٹ رہا ہے مزید میرا دماغ خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اجر کیسی ہیں اپ۔الیزے پلیز تم نا یہ مجھے اپ مت کہا کرو اب تو ہم دوست ہیں اور دوستی میں تکلف سے نہیں محبت سے بنتی ہے۔وہ اس کے اپ کہنے سے زچ ہو کر بولی۔
مگر اجر احترام بھی تو ضروری ہوتا ہے۔
وہ تو ٹھیک ہے علیزے مگر احترام چاہنے والے اور چاہت کے درمیان ایک دیوار ہوتا ہے اور دوستی میں اگر احترام ا جائے تو پھر وہ دوست نہیں مروت بن جاتی ہے۔ویسے اجر ایک بات کہوں اگر تم مائنڈ نہ کرو تم نہ مجھے بہت اچھی لگتی ہو اگر میں لڑکا ہوتی تو تم سے شادی کرتی۔ اجر! سجاد صاحب کے آتے ہی اس نے جھٹ سے موبائل بند کر کے تکیے کے نیچے چھپا دیا۔ ج ،ج، جی بابا وہ اپنی گھبراہٹ پرقابو پاتے ہوئے بولی۔علایہ بتا رہی تھی کہ مہوش تمہیں اپنا نمبر دے کر گئی ہے۔ اجر میری باتk کان کھول کر سن لو وہ عورت کسی کی سگی نہیں ہے۔خبردار اگر تم نے اس سے کوئی رابطہ رکھا۔وہ اپنی بات کہ کر اُسکے سر پر ہاتھ رکھ کر چلے گئے مگر اس کا چہرہ یہ سنکر خوف کی وجہ سے نہ صرف پیلا پر گیا تھا بلکہ ایسا لگتا تھا کے جیسے اسکی رگوں میں دوڑتا ہوا خون بھی کسی نے نچوڑ لیا ہو۔
بولو کیوں بلایا ہے ؟ ارسلان سلور شرٹ بلیک پینٹ میں ملبوس ماتھے پہ تیوریاں لیے ہانیہ کے سامنے کھڑا تھا۔
ارے سانیس تو بحال کریں۔ آرام سے بیٹھ جائیں ۔ ہانیہ ڈھٹائی سے بولی ۔
وہ سامنے کی سیٹ پہ براجمان ہوا ۔ چہرے پہ ناگواری کے تاثرات تھے۔
بولو جلدی ٹائم نہیں ہے! وہ گھڑی دیکھتے بولا ۔
ارسلان آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں اپ سے بہت پیار۔۔۔۔
ہانیہ تمھارے دماغ میں یہ بات کب بیٹھے گی ہاں کہ میں نہیں کرتا پیار وار کچھ بھی۔
دیکھو ارسلان ؟ اس نے بے باکی سے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا ارسلان نے جھٹک دیا۔
ہاتھوں کو قابو میں رکھو ہانیہ ۔ مجھ سے دور رہا کرو میں نہیں کرتا پیار ۔
تو کیا اس عنائشہ سے کرتے ہو ہاں ۔ سننا چاہو گے کہ وہ تمھارے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ سنو گے تو سنو پھر۔ اس نے ریکارڈنگ چلا دی۔
وہ اک دن پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ارسلان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔مگر سن کے وہ مسکرایا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے فون لیا ۔
کیوں اپنے آپ پہ ہنس رہے ہو کیا؟ وہ استہزاء سے تکنے لگی۔
ارے نہیں تم پہ۔ تمھیں کیا لگا تمھاری اس حرکت سے تم پہ دل آجاے گا۔ ہاں وہ پاک ہے تم سے بے باک نہیں ، وہ مردوں سے نہیں چپکتی اور مجھے فخر ہے اپنی پسند پہ۔ اور ہاں آئندہ اس کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا ورنہ ۔ اس نے انگلی سے تنبیہ کی۔وہ اک دم سہم گئی ۔