Skip to content
Home » Complete novel » Page 127

Complete novel

Ishq ki junoon kheziyan novel by Shifa Eman

  • by

ریشوووو۔۔۔ کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔ عادی نے اسے لان میں اکیلے بیٹھے دیکھ کر آواز دی۔۔۔

اوہ رئیلی؟ وریشہ نے طنز کیا۔۔۔

اچھے سے جانتی ہو کھانا اکٹھے کھاتے ہیں ہم۔۔۔ عادی نے اسکا طنز اگنور کرتے ہووے جواب دیا۔۔۔

اگر اتنا پتہ تھا تو یہ بھی پتہ ہو گا مما نے کہا تھا عادی وریشہ کے ساتھ ساتھ رہنا۔۔۔ اسنے غصہ ظاہر کیا۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔ عادی نے فورا کان پکڑے۔۔۔

معاف کیا۔۔۔ اسنے چہکتے ہوے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔۔۔

عادی ی ی ی۔۔۔۔ ویسے کیا سچ میں اچھی لگی تمہیں وہ چڑیل؟ وریشہ نے سرگوشی کی۔۔۔۔

اچھی تو ہے لیکن تم سے زیادہ نہیں۔۔۔۔ عادی مسکرایا۔۔۔۔

اچھی تو میں بہت ہوں مجھے پتہ ہے۔۔۔ برجستہ جواب آیا تھا۔۔۔

یہ بتاو جناب آپ جب نیچے آئیں تو موڈ کیوں آف تھا۔۔۔ عادی نے پوچھا

عادی وہ لڑکی نہ بہت گندی ہے۔۔۔ وریشہ نے منہ بسورتے ہووے گلہ کیا۔۔۔

اچھا جی وہ کیسے؟ عادی نے پوچھا

وہ ایسے شو کر رہی تھی جیسے وہ بہت شرمیلی اچھی ہے سہی ہے میں غلط۔۔۔۔ افففف کیسے بتاوں؟؟ اسنے دانت پیستے ہووے سر کو تھام لیا۔۔۔ عادی تم۔جانتے ہو مجھے نہیں بتانا آتا جو بھی فیل ہو ۔۔۔۔ مجھے نہیں سمجھانا آ رہا کچھ بھی لفظوں میں۔۔۔ لیکن عادی وہ بہت گندی ہے بس۔۔۔۔ اسنے فیصلہ سنایا

تم پاگل ہو ریشووو۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔

چلو کھانا کھائیں۔۔۔ عادی نے کھڑے ہوتے ہوے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔

نہیں مجھے کھانا یہیں بیٹھ کے کھانا ہے وریشہ نے بچوں سی ضد کی۔۔۔

اوکے مائی ڈئیر پارٹنر میں ابھی کھانا لے آتا ہوں۔۔۔ عادی نے اسکے آگے سر خم کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔

Chasham e tar short novel by Qurrat Ul Ain

  • by

“تم کیا سوچتی ہو۔۔۔۔تم یہ کیس جیت جاؤ گی۔۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گا”کرن اکبر کی اس بات کے جواب میں اسے تنزیہ مسکراہٹ دیتی ہے۔

“یہ کیس میں ہی جیتوں گا۔۔۔۔کشف میری بیٹی ہے اور میرے پاس ہی رہے گی۔۔۔سمجھجی تم”

کرن “اور اگر میں جیت گیٔ تو……؟؟؟” کرن اکبر کی بات ٹوکتے ہوۓ۔

” اور۔۔۔۔اگر۔۔۔۔اگر تم جیت گیٔ تو۔۔۔۔تو۔۔۔دیکھو بی بی اگر تم جیت گیٔ تو میں تمہاری بیٹی کا نام ونشان صفح ہستی سے مٹا دوں گا۔۔اور تم جانتی ہو میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔۔اگر اپنی بیٹی کی زندگی چاہتی ہو۔۔۔تو یہ کیس وآپس لے لو۔۔۔ورنہ ساری زندگی کے لیے تمہیں اپنی بیٹی کی موت کا پچھتاوا رہے گا۔۔۔سوچ لو”کرن اکبر کی یہ دھمکی سنتے ہی اہم سی جاتی ہے کیونکہ وہ اس انا پرست شخص سے اچھی طرح واقف ہوتی ہے۔کرن درد بھری آواز میں

“ٹھیک ہے میں اپنا کیس وآپس لیتی ہوں۔۔۔مگر تمہیں خدا کا واسطہ میری بچی کو کویٔ نقصان مت پہنچانا”

“دیکھو تم ہار گیٔ اور میں جیت گیا” اکبر فخریہ انداز میں قہقہ لگاتے ہوۓ۔

“آج ایک عورت ہار گیٔ مگر ایک ماں جیت گیٔ”کرن درد بھرے لہجے میں یہ کہتے ہوۓ تھوڑے ہی فاصلے پر پڑے بنچ پر بیٹھی کشف اور روبینہ کی طرف بھاگتی ہے اور کشف کو سینے سے لگاتے ہوۓ دھارے مار مار کر رونا شروع کر دیتی ہے۔پھر کشف کے ماتھے پر چومتی ہے اور صرف اور صرف اپنی بیٹی کی زندگی کی خاطر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ کر کمرہ عدالت سے باہر نکلنے لگتی ہے پھر مر کر اپنی معصوم بیٹی کو دیکھتی ہے اور وہاں سے چلی جاتی ہے۔

Ajooba house novel by Sidra Chaudhary

  • by

آؤ آؤ بے بی،تمہاری جیسی قیامت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی، اور اس شادی کے جوڑے میں تو آہ آہ ہاکیا مست چیز لگ رہی ہو۔

سردار نے ارحا کی اپنی زہنیت کے مطابق تعریف کی تھی، اور ارحا نے فٹ سے مہر کو خود سے الگ کیا اور سردار کی طرف قدم بڑھا دیے۔اور پھر جیولر کے شو پیس کے پاس ایک دم رک گئ۔

مجھے تو تم نے پہچانا ہی نہیں، میں تمہاری کال فرینڈ love،جس نے تمہیں اس میجر کے یہاں ہونے کا بتایا اور اسکی اصلی تصویریں تمہیں دیں۔

کیا اوہ بے بی وہ love تم ہو، تمہارا احسان تو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا، تم نے مجھ سے محبت کا ثبوت دیا ہے آج۔

تو پھر میری خواہش پوری کرو نہ، مجھے یہ پازیبیں لے کے دو نہ اور اپنے ہاتھوں سے پہناؤ بھی،تب میں مانوں گی کی تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو۔

ارے میری love بس اتنی سی خواہش لو ابھی پوری کیے دیتا ہوں۔

کہتے ہی سردار نے گن اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو پکڑائ اور خود چلتا ہوا ارحا کے پاس آیا۔

(تو اسکا مطلب ارحا ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئ ہے،اس دن ارحا رات کو ،مطلب اس دن

بھی وہ انکے کام سے نکلی تھی، ارحا تم ایسا کیسے کر سکتی ہو،میرے ملک سے غداری تمہیں بہت مہنگی پڑے گی،اپنے ملک کے لیے مجھے تمہاری بھی جان لینی پڑی تو نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں)مائل نے سوچتے ہوئے لال انگارہ آنکھوں سے ارحا کو دیکھا جو شو کیس میں سے پازیبیں نکال رہی تھی ۔

لاؤloveتمہاری یہ خواہش بھی پوری کروں ،سردار نے ارحا سے پازیبیں پکڑتے ہوئے کہا،اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

ارحا نے جھک کر اپنا ہاتھ سردار کے کندھے پہ رکھا اور اپنا پاؤں اس کے گھٹنے پہ۔سردار نے زرا سا لہنگا اٹھا کر جیسے ہی ارحا کا پاؤں ننگا کیا حیران رہ گیا۔

اس کے پاؤں پہ پسٹل بندھا تھا،اور پھر ہنس پڑا اور پسٹل کھول کر ارحا کی طرف بڑھا دیا۔

ارے love اب یہ پسٹل یہاں چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔

ہاں صحیح کہا،یہ پسٹل اب چھپانے کی کیا ضرورت ہے، کہتے ہی ارحا نے سردار کو دھکا دیا جس سے وہ ایک دم پیچھے کی طرف گرا،ارحا نے تیزی سے اپناپاؤں جس میں اس نے وہ سنیکرز جو وہ ہمیشہ گھر سے باہر نکلتے وقت پہنے رکھتی تھی،جو کسی کو بھی قتل کرنے کے لیے کافی تھے،اس کے سینے پہ رکھ دیا اور پسٹل اس پہ تان لی تھی۔

اور اونچی آواز میں ایک دم ایکشن بولا تھا، اور ارحا کے ایکشن کہنے کی دیر تھی کہ ایک دم بیت سے آرمی کے لوگ جو سویلین کے روپ میں تھے ،انہوں نے تمام ڈاکوؤں کو قابو کر لیا تھا۔

سر آپ ٹھیک تو ہیں؟ ایک آرمی آفیسر جلدی سے مائل کے پاس آیا تھا ۔اور مائل نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

کیوں کیسا لگ رہا مسٹر عظیم چوہدری، اپنی بازی پلٹتے دیکھ کر،کیا کہا کہا تھا کہ اس ملک کو برباد کرو گے اور وہ بھی میجر مائل کے ہاتھوں،ارحا نے اسے زور سے کک کی تھی اور وہ چیخ پڑا تھا(آخر ارحا نے یہ سپیشل سنیکرز لوگوں کی حالت خراب کرنے کے لیے ہی بنوائے تھے)۔

تتتتتم تم تو میری love پھر اتنا بڑا دھوکا۔

ہاہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں ، سیکرٹ ایجنٹ love queen، نام تو سنا ہی ہو گا۔

_____________________________________

ہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں،سیکرٹ ایجنٹ love queen ,نام تو سنا ہوگا۔

ارحا ہنستے ہوئے اس کے پاس بھیٹتے ہوئے سرگوشی میں کہا تھا، اور یہ جان کر وہ ایجنٹ love qeen اسکا منہ کھلے کاکھلا رہ گیا تھا۔

ایییییییییءءی ایسا نہیں ہو سکتا میں نے خود پتہ کیا وہ ملک سے باہر گئ ہے،اس نے تڑپنے والے انداز میں کہا تھا۔

Ishq pagal kar deta hai by Sapna Gul Complete novel download pdf

  • by

کیا کہا تم نے تم یہ منگنی توڑ رہے ہو؟”پریسہ اس کے سامنے چیخی ۔

“ایم سوری پریسہ بٹ میں مجبور ہوں ۔”بہلول نے انگوٹھی اس کے سامنے رکھی۔

“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا بہلول! تم آخر ایسا کیوں کررہے ہو؟”

“پریسہ تمہیں کوئی اور چاہنے والا مل سکتا ہے لیکن سرینہ کو سرینہ کو میری ضرورت ہے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ۔”

“واٹ ڈڈ یو جسٹ سیڈ “پریسہ ساکت ہوکر پھر بولی ۔

“میرا کل سرینہ کے ساتھ نکاح ہے۔” بہلول تحمل سے بولا ۔

“ہاو کڈ یو؟” پریسہ نے آگے بڑھ کر اسے تھپڑ مارا ۔

بہلول کو اس قدر شدید ریکشن کی توقع نہیں تھی۔

“تم نے سمجھ کیا رکھا ہےایک دن مجھے پروپوز کرتے ہوئے اور دوسری طرف اس گھٹیا لڑکی کے ساتھ نکاح کرتے وے یو چیٹر۔”پریسہ زہر خند لہجے میں بولی ۔

“اسٹاپ اٹ پریسہ! میں جانتا ہوں اس وقت تم غصے تم کبھی سرو کے لیے ایسے لفظ نا استعمال کرتی تم جانتی ہو وہ تکلیف میں ہے وہ مر رہی ہے اسے میری ضرورت ہے۔”

“تو اس کا منگیتر کہاں مر گیا ؟”پریسہ چیخ کر بولی ۔

“منگیتر نے اس سے منہ موڑ لیا لیکن میں نہیں موڑوں گا ۔”

“ہماری منگنی ٹوٹی کوئی نکاح نہیں اب بس بھی کرو تم کوئی بھی چاہنے والا مل سکتا ہے پری اس لیے پلیز جسٹ فورگیٹ اٹ فرگیٹ اوریتھنگ وچ ہپین بٹویین اس۔”بہلول کو یہ سب کہتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی۔

“اوکے فائن جسٹ گو ٹو ہیل تین دن میں تمہیں نکاح کر کے دکھاؤں گی ایسی گری پڑی نہیں ہوں سرینہ کی طرح تم سے ہزار بہتر مجھے مل جائیں گے ناو گیٹ لوسٹ۔” پریسہ زور سے دھاڑی۔

بہلول نے ایک دکھ بھری نگاہ پریسہ پہ ڈالی اور وہاں سے چلا گیا ۔

“اللہ کرے تم برباد ہوجاؤ سرینہ تم نے میرا بہلول چھین لیا تمہیں موت آجائے ابھی اسی وقت مر جاؤتم ۔”

پریسہ ہر چیز کمرے میں اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی اور ساتھ میں سرینہ کو بددعا دئے رہی تھی ۔

“ارے بھئی کیا کررہی ہو بہلول نے کچھ کہا ہے تمہیں؟” پریسہ کی مام اندر داخل ہوئیں۔

“امی اس ڈائن نے میرا بہلول چھین لیا میں اسے مار دو ں گی۔” پریسہ منہ چھپا کر رونے لگی۔

“پری جانو! کون ڈائن ؟بتاؤ مجھے ۔”

اس کی امی کو جھٹکا لگا ابھی منگنی کو ایک ہفتہ ہوا ہے اور یہ سب ۔۔

“مام آئی ول ڈسٹروئے ہر شی روئین مائی لائف۔” پریسہ امی کے گلے لگتے ہوئے بولی۔

“پری ڈارلنگ مجھے سب کچھ بتاؤ ایک دم یہ سب۔”

اور پریسہ نے انہیں روتے ہوئے سب کچھ بتا دیا۔

Nazar novel by Laiba Musarat

  • by

اسفی سراسر ظلم کر رہے ہو علی نے ایک لمبے لیکچر کے بعد یہ کہا تھا کیونکہ یہاں وہ اسفی تھا ہی نہیں جو تحمل سے سنتا ۔

ظلم ۔کونسا ظلم وہ ظلم نہیں تھا جو میری ماں کیساتھ کیا گیا تھا۔

اسفئ انھوں نے اپنے رضا اور اپنئ خوشی سے یہ سب کیا تھا کیا ہوگیا ہے تمہیں پلیز اسفی اتنے سنگ دل مت بنو علی اسکی مننتئں کر رہا تھا ۔

بس بس جانتا ہو کیسئ رضا تھی وہ اکے بیڈ پے بیٹھا علئ اسے تھوڑی دیر دیکھتا رہا پھر نیچے آگیا تھا۔

اسے دیکھ کے علیزے جو علیشہ نے اسے تھاما تھا بھاگ کے اس کے پاس ائ تھئ۔

بھائ اپنے سمجھایا نا اسفئ بھائ کو وھ کیسے۔ وہ بلک رہی تھی ٹوٹ رہی تھی ۔علی نے اسکے سر پھر ہاتھ رکا تھا اور علیشہ اسے سنبھال رہی تھی

اسفی کا بیگ تیار تھا اور وہ جا رہا تھا ۔

نا کسی سے ملا تھا نا اس سے کوئ ملا تھا۔بڑے چھوٹے سب اس سے بےضار ہوگئے تھے وہ پیار وہ پروٹوکول وہ رشتے اسے محسن صاحب کے رو سے ملے تھے ۔اسفئ۔ اسفئ انکی بدولت بنا تھا اور آج وھ اسی شخص کو توڑ کے جا رہا تھا شاید اسکے بعد اسفی کبھی جوڑ جاے ۔

ماں کمرے کئ کھڑکیوں سے اسے دیکھ رہی تھی رو رہی تھی بلک رہی تھی ختم ہو رہی تھی ۔

محسن صاحب کے پاس علئ اسکے بابا نظر موجود تھے اور وہ پھر بھی اکیلے تھے کندھے جھک گئے تھے ۔انکی حالت اور آنکھوں کو دیکھ کر پرایوں کو رونا ارہا تھا اور وہ اپنا آنھیں چھوڑ کے چلا گیا تھا ۔

علیزے کا برا حال تھا سنبھل کے نہیں سنبھل رہی تھی۔علیشہ کا دل بھی توڑا گیا تھا مگر جو اسنے کیا تھا وھ اپنو کا نا ہوا تو اسکا کیا ہوتا ۔

Humsafar novel by Sitara Ahmed

  • by

”التمش نام ہے لڑکے کا۔۔گھبرو جوان ہے۔۔لاکھوں میں بھی ڈھونڈو تو نہ ملے۔۔

”اُف۔۔“ابریشم نے دل میں کہا اور کھانا نکالنے لگی۔۔

”اچھا بھلا خاندان ہے۔اس کے ابا کی تو پہلے ہی وفات ہو چکی ہے۔۔نہ نندوں کو جھنجھٹ ہے۔۔بس ماں اور بیٹا ہی ہیں۔۔“

”امی بس کردیں۔۔آپ کی کوٸ بات مجھے نہیں پگھلا سکتی۔۔مجھے شادی نہیں کرنی کسی فوجی سے۔۔۔“

”تم جو بھی بولو لڑکی۔۔تمہارے ابا نے تو فیصلہ کرلیا ہے۔۔ایک میں ہی تھی جو تمہیں راضی کرنے پر تلی تھی۔۔تم نے نہ ماننا تو نہ مانو۔۔شادی تو تمہاری التمش سے ہی ہوگی۔۔“

ابریشم نے غصے سے پلیٹ سِلپ پر دھری اور کچن سے باہر نکل گٸ اور جاتے جاتے امی کی آواز سنی۔۔

”اور سنو آج لڑکے والے آرہے ہیں۔۔اچھا سا تیار ہوجانا۔اور خبردار جو کوٸ حرکت کی تو۔۔ابا چھوڑیں گے نہیں تمہیں۔۔“

ابریشم نے کھٹاک سے کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔آخر اس کی مرضی کیوں نہیں دیکھی جارہی۔۔اکلوتی بیٹی ہونے کے ناتے اس کا اتنا بھی حق نہیں تھا کہ وہ شادی اپنی مرضی سے کرتی۔۔

Rah e safar novel by Omaima Ayaz

  • by

ایمان۔۔۔ایمان مڑی۔۔۔۔جی۔۔۔ آپ سے میں نے کچھ پوچھا تھا۔۔کیا۔۔ایمان انجان بن رہی تھی یہی کہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان نے احمر کی بات کاٹ دی۔۔۔۔ احمر آہستہ بولو پہلی بات اگر حدید بھائی کو پتہ چلا تو پھر جانتے ہو تم کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ دوسری بات اس بار ایمان کے لہجے میں بہت نرمی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر تم بہت اچھے ہو میرے سے زیادہ اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہو میں نے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا تم۔۔۔۔۔ میرے بھائی کے جیسے ہو آئندہ اس طرح کی بات مت کرنا پلیز کہہ کر چلی گئی احمر اپنی گاڑی میں ا کر بیٹھا سٹیرنگ پر سر رکھ کر اپنے دوست کی باتیں سوچنے لگا ہے احمر پتہ ہے جب بھی کوئی لڑکی کسی کو ریجیکٹ کرتی ہے تو پتہ ہے کیا کہتی ہے تم بہت اچھے ہو میں تمہارے لائق نہیں ہوں تم میں سے زیادہ اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہو یہ سب سوچتے ہوئے احمر کی انکھوں میں انسو اگئے احمر نے انسو صاف کیا اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔۔۔۔۔

******

الرحمن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ما کان و مایکون کا بیان انہیں سکھایا سورج اور چاند حساب سے ہیں اور سبزے اور پیڑ سجدے کرتے ہیں اور اسمان کو اللہ نے بلند کیا اور طرح زور کھی کے تراز میں بے اعتدالی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ اور زمین رکھی مخلوق کے لیے اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں اور بھس کے ساتھ اناج اور خوشبو کے پھول تو۔ اے جن و انس تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اس نے آدمی کو بنایا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری اور جن کو پیدا فرمایا اگ کے لوکے سے تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے دونوں پو رب کا رب دونوں یچھپم کر رب تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اس نے دو سمندر بہائے کے دیکھنے میں معلوم ہو ملے ہوئے اور ہیں ان میں روک کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کے دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے اور باقی ہیں تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اسی کے منگتا ہیں جتنے اسمانوں اور زمین میں ہیں اسے ہر دن ایک کام ہے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اے جن و انس کہ گروہ اگر تم سے ہو سکے کہ اسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ جہاں نکل کر جاؤ گے اس کی سلطنت ہے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے تم پر چھوڑی جائے گی بے دهو یں کی اگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں تو پھر بدلہ نہ لے سکو گے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے پھر جب اسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول سا ہو جائے گا جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال) تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے

Rah e noor by Maheen Sheikh Qureshi Complete novel download pdf

  • by

“کیا بات ہے ماریہ؟” اسے خاموش کھڑا دیکھ کر وہ خود ہی بولی۔

“زمل باجی وہ۔۔ ذیشان صاحب آپ کو اوپر بلا رہے ہیں۔” زرد رنگ کا سادہ سا لباس پہنے اور چادر اوڑھے کھڑی اس ملازمہ نے کچھ ہچکچاتے ہوئے پیغام دیا تھا۔

“اوپر؟ یعنی چھت پر؟” اس کی بات پر ماریہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی۔ زمل کو حیرانی ہوئی تھی۔ وہ اسے اوپر کیوں بلا رہا تھا؟

چند منٹ بعد وہ سیڑھیاں چڑھ کر کشادہ چھت پہ قدم رکھ رہی تھی۔ چھت پر پہلا قدم رکھتے ہی اس نے تازی ہوا کا جھونکا اپنے چہرے سے ٹکراتا محسوس کیا۔ اس کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔ تھورا اگے آئی تو ڈوبتے سورج کا منظر اس کے سامنے تھا۔ وہ وہیں ساکت ہوگئی۔ اس منظر کی وہ دیوانی تھی۔ لیکن آج یہ منظر اس کے اندر توڑ پھوڑ مچا رہا تھا۔ یہ منظر بڑی شدت سے اسے اچانک کسی کی یاد دلا رہا تھا۔ اس کے دل میں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ آنکھوں سے شفاف موتی نکل کے گالوں پر پھسلنے لگے۔

“کون یاد آرہا ہے؟” اچانک آنے والی آواز پر وہ چونک کے پلٹی۔ جینز پر خاکی رنگ کی شرٹ پہنے وہ ہاتھوں میں سگریٹ دباۓ کھڑا اسے شکی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ زمل نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیے۔ “کوئی نہیں۔” وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔

“موسم اچھا تھا تو سوچا تمھیں بھی اوپر بلا لوں۔” وہ آسمان کو دیکھتا سادہ سے انداز میں بولا۔ پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا۔ یوں کے ذیشان کے وجود نے آسمان کی خوبصورتی کو چھپا دیا۔ “لیکن شاید تم یہاں اپنے ساتھ کسی اور کو دیکھنا چاہتی ہو۔” آخر میں اس کی آواز سرد ہوئی تھی۔ زمل نے افسوس سے اس نفس کے قیدی کو دیکھا۔

“کبھی تو مجھے تکلیف دینے سے باز آجائیں۔” وہ تکان سے بولی تھی۔ وہ اس سب سے تھک چکی تھی۔ یہ بےبسی کی انتہا تھی۔

“تم کبھی تو اسے یاد کرنے سے باز آجاؤ۔ اور تمھارا کیا بھروسہ میرے پیچھے اس سے ملتی بھی رہتی ہو۔” اس کے طنز پر وہ سلگ ہی تو گئی تھی۔ مگر ہمیشہ کی طرح غصہ پی گئی۔