Skip to content
Home » Complete novel » Page 129

Complete novel

Qasi al qalb novel by Maliha Shah

  • by

یہ میں کہاں ہوں؟وہ اس پاس کی جگہ دیکھتے ہوئے بولی۔وہ ایک نہایت شاندار کمرہ تھا جیسے کوئی محل ہو باہر کے منظر کچھ یوں جھیل بہہ رہئ تھی اور برف باری ہورہی تھی ایسے جیسے وہ کسی جنت میں ہو اس وقت تو داریہ کو یہ لگا کہ وہ جنت میں ہے۔

مجھے یہاں کون لایا وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ دروازے پر دستک ہوئ۔یہ لو کھانا کھاؤ ڈیمن کمرے میں داخل ہوا لیکن وہ اپنے آپ کو کور کئے ہوئے تھا اس طرح کے داریہ کو صرف اس کی نگاہیں نظر آرہیں تھیں۔کون ہوتم؟مجھے کہاں لاۓ ہو؟یہ کون سی جگہ ہے؟اور میری بی جان!ایک دم سے وہ رونے لگی۔بی جان مجھے کیوں چھوڑ کہ چلیں گئیں۔وہ سفید فراک پہنے اور تنگ پاجامہ پہنے بہت خوبصورت لگ رہئ تھی ڈوپٹہ گلے سے غائب تھا جو کہ شاید ڈیمن کو انجانے میں بھی بہکا رہئ تھی۔ ڈیمن نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور چلا گیا۔داریہ روتی رہئ۔ایک گھنٹہ اسے یوں ہی بیٹھے بیٹھے گزر گیا۔جب دوبارہ دستک ہوئ۔اب کی بار ڈیمن کے ہاتھ میں ڈوپٹہ تھا جو اس نے داریہ کی طرف پھینکا۔یہ لو ڈوپٹہ یہاں تم مخفوظ ہو پریشان مت ہو جلد ہی تمہارے رہنے کی جگہ کا بندوبست ہوجائے گا تو میں تمہیں چھوڑ آؤں گا تب تک تمہیں یہیں رہنا ہوگا۔اور ایک ضروری بات تمہیں بتا دوں تم اس وقت روس میں ہو۔یہ کہہ کے ڈیمن چلا گیا اور داریہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔اس نے اس چیز کی بہت دعا کی تھی مگر وہ اس طرح سے پوری ہوگی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔جب رو رو کے وہ تھک گئ تو خاموشی سے کھانا کھایا اور باہر کھڑکی سے پار دیکھنے لگی شاید اس کی زندگی اب ایسے ہی گزرنے والی تھی،لیکن قسمت کا کسے پتا ہوسکتا ہے۔اسے یہاں آۓ ہوئے مہینہ ہوگیا تھا،ایسے ہی ڈیمن روز آتا کھانا دیتااسےاور چلا جاتا۔

Khawab qaid nahi kiye ja sakte afsan by Sana Ramzan

  • by

ڈاکٹر تو میں بن کے رہو ں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے نفرت کرتی ہو ں میں تم جیسے اوچھے انسان سے طلحہ ہو نق بنا کھڑا اسے خود پہ چیختے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر اچانک اسکا بازو پکڑ کر کمرے میں دھکا دے کر دروازہ بند کر دیا وہ غم و غصے سے چیختے اسے دروازہ کھولنے کا کہ رہی تھی جبکہ وہ تو کانوں پہ پردے ڈال چکا تھا ۔جب دروازے سے نکلتے اسکے قدم تھمے اسنے مڑ کر بند دروازے کو دیکھا جہاں سے آواز آرہی تھی

تم مجھے تو قید کر سکتے ہو لیکن میرے خوابوں کو نہیں میں ڈاکٹر بن کے رہوں گی یہ میری ضد ہی ہے میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر غصے سے تنی رگوں کے ساتھ وہاں سے نکل گیا بند آنکھوں سے کون خواب دیکھتا ہے خواب تو وہ ہو تے ہیں جو انسان کو سونے نے دے وہ بس سوچتا ہی رہے کہ خواب کو پورا کیسے کرنا ہے ۔اسکا خواب تھا ڈاکٹر بننا جسک ا سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😥

وہ ہاتھ میں پکڑے اپنا شاندار رزلٹ دیکھ رہی تھی جس کے لئے اسکی نے پوری جان لگا دی تھی وہ اللہ سے دعا گو تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ میرے پیارے اللہ———–!تھام لے نہ مجھے آپ پتھروں سے چشمے نکال سکتے ہیں منزل میرے سے تھوڑے قدم دور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں قدم نہیں بڑھا پا رہی کچھ تو ایسا کر دیں کہ میں اپنے خواب کو پا لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسمان سے بارش کا قطری اسکے دعا مانگتے ہاتھوں پہ گرا تھا یقیناً اس کی سنلی گئ تھی۔۔۔۔

Gul e siyah afsana by Rabail Saleem

  • by

گل لالہ مجھے عشق ہے تم سے ہمارے بیچ پاک رشتے اور تمہارے ان سرخ گلابوں سے ۔۔۔

علی مجھے بھی عشق ہے تم سے تمہاری محبت سے اور ہر اس گل سرخ سے جس میں تمہاری محبت موجود ہے ۔

یہ آوازیں تو حسین تھیں مگر نہ جانے کیوں اس کو لگا تھا کہ اس کا دل پھٹ جائے گا۔

اس نے ان آوازوں کی سرسراہٹ کو روکنے کے لیے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور زور سے چلائی

خاموش ہو جاؤ خدا کا واسطہ ہے خاموش ہو جاؤ ورنہ میں مر جاؤں گی ہاتھ میں موجود سرخ محملی سکارف جو پوٹلی کی صورت بندھا تھا نیچے گر گیا تھا

مگر ہنوز وہ ان آوازوں کو روکنے کے لیے چلا رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ قدرت اس کا تمسخر اڑا رہی ہے یہ حسین وادیاں اور جنت نما راستے اس کی قسمت پر چپکے چپکے مسکرا رہے ہیں ۔۔

جب وہ ان آوازوں کی بازگشت سے لڑنے میں ناکام ہو گئی تو خود سے ہار کر ادھر ہی زمین پر بیٹھ گئی اور محملی سکارف کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا

کہیں سے لوٹ آؤ علی دیکھو اب ان راستوں پر سے گزرتی ہوں نہ تو مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں یہ اکیلے

مجھ سے یہ وادی کے کنارے چیخ چیخ کر پوچھتے ہیں کہ گل اکیلے کیوں آتی ہو ہمیں تم علی کے ساتھ ہی بھاتی ہو اکیلے مت آیا کرو۔

۔آنسو بھی نہ جانے کہاں سے راستہ بنا کر نکل آئے تھے ۔۔

مگر اسے ہوش کہاں تھی ۔؟

Shiddat by Bareera Shah Complete Novel

  • by

کیسے رہوگی اکیلے پنے تو سنبھلتی نہیں ۔۔۔دارم دکھ سے مسکرایا

جب کے اُس کی بات پر اہانا نے حیران ہوتے اُسے دیکھا

کیا مطلب اکیلے آپ کے ساتھ رہونگی نا ۔۔۔

یعنی تم چاہتی ہو تم مجبوری کی زندگی گزارو ؟؟لیکن میں ایسا نہیں چاہتا

وہ اس کے بالوں سے آخری پن نکلتا ہوا بولا

دارم آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں ۔۔۔وہ کھڑی ہوتی دارم کے قریب جاتی بولی

اسلئے کیونکہ شاید ہم لوگ اک دوسرے کیلئے بنے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔

دارم کی بات پر اہانا نے تڑپ کر اُسے دیکھا جو پہلے ہی اُسے دیکھ رہا تھا

اہانا کی آنکھوں میں تڑپ دیکھ دارم کو کچھ ہوا تھا

ک۔کیا مطلب ۔۔؟؟

مطلب میں تمہیں تمھاری زندگی واپس دینا چاہتا ہوں جس میں کوئی مجبوری نا ہو میں تمہیں اس مجبوری کی شادی سے آزاد کرنا چاہتا ہُوں لیکن گھر والوں کا سوچ میں خاموش ہوجاتا ہُوں ۔۔۔سب گھر والوں پر کیا گزرے گی لیکن میرا وعدہ ہے میں تمہیں اس مجبوری سے بہت جلد آزاد کردونگا ۔۔۔

د۔دارم ا۔آپ۔۔۔اہانا کہتے کہتے رکی جب کے دارم کی بات پر انسوں تو آنکھوں میں جمع تھے ۔۔۔

دارم آپ کو ہوا کیا ہے اک بار بتائے تو مجھے آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔۔وہ دارم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی

چھوڑو ۔۔۔۔تم اب بھی مجھ سے پوچھ رہی ہو مجھے کیا ہوا ہے تم خود سے پوچھو کے کیا ہوا ہے ۔۔۔دارم اپنا ہاتھ پیچھے کرتا سنجیدگی سے بولا

آپ میرے ساتھ ایسا مت کرے دارم میں مرجاونگی آپ کے بغیر ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی

مر تو میں گیا ہُوں اہانا تمہیں مزید یہ مجبوری کے تحت باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے اک بار میں نے پہلے بھی یقین کیا تھا لیکن اب نہیں میں جانتا ہوں یہ شادی تم نے گھر والوں کے کہنے پر مجبوری سے کی ہے ۔۔۔۔۔

Shehmaat novel by Fareeha Mirza

  • by

اگر وقت ٹھر جائے۔ سانس ساکن ہو جائے۔ آنکھ نم ہو جائے۔ تو خاموش رہنے کی بجائے اپنی کہانی کہہ ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اور جس پل تمہیں لگے کہ اب کوئی تمہیں سننے نہیں آئے گا۔ اس پل لکھ ڈالو۔ اپنی کہانی کو۔ جو اک راز کی صورت ، اک بری یاد کی طرح تمہارے سینے میں دفن ہے۔

صوفیہ سکندر کہانی کا وہ کردار ہے جس نے میرے ہاتھ میں قلم تھما کر مجھ سے اپنی کہانی لکھوائی ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جو بہت سے لوگ سنانا چاہتے ہیں مگر سنا نہیں سکتے ۔۔۔کچھ کہانیاں ممنوعہ ہوتی ہیں۔ وہ لفظوں میں کہی نہیں جا سکتیں۔ اور میں اس ممنوعہ کہانی کو رقم کرتی ہوں۔ کچھ سچ، کچھ جھوٹ۔ کچھ حقیقت، کچھ افسانہ۔

اس کہانی کے سب کردار فکشن ہیں، کہانی من گھڑت ہے ۔۔۔مگر ۔۔۔عزیز قارئین ؟

کیا کرداروں پر بیتنے والی اذیت جھوٹی ہوتی ہے؟

بعض کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہوتیں۔ کسی کی زندگی ہوتی ہیں۔ کسی کا ماضی ہوتی ہیں۔ کسی کے اوپر بیتنے والی قیامت ہوتی ہیں ۔ یہ کہانیاں سننے میں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں مگر جو اس ٹارچر سے گذرتا ہے وہی جانتا ہے ۔۔۔بس وہی جانتا ہے کہ ازیت کیا ہوتی ہے۔

“شہہ مات” کو لکھنا بھی کسی ازیت سے کم نہیں۔ کوئی مجھ سے پوچھے کہ ٹارچر کیا ہے؟ میں کہوں گی اپنے احساسات کو قلم کے ذریعے کاغذ کی سطح پر اتارنا ۔۔۔۔اور پھر کسی تاریک گوشہ میں بیٹھ کر اس ان کہی کو پڑھنا۔ اس درد کو پڑھنا جو آپ کی آنکھیں نم کر ڈالے۔

Qalb bari novel by Areeba Sikander

  • by

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا

بات نکلی تو ہر بات پہ رونا ایا

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو

کیا ہوا اج پھر کس بات پر رونا ایا

کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں

بار بار ایسے سوالات پر رونا ایا

کون روتا ہے کسی کے خاطر اے دوست

سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا ایا

Jaan e Bohram novel by Sam Asif

  • by

آؤ آؤ زرخان تمہارا ہی انتظار تھا..کیا چاہتے ہو تم کیوں ہماری فیملیز کے پیچھے پڑے ہو؟ارین کی بات سنتے زرخان غصے سے بولا تو ارین ہلکہ سا مسکرایا

ادا فاروقی چاہئیے مجھے.. مگر یہاں صرف ادا بہرام خانزادہ رہتی ہے ادا فاروقی اسی دن مر گئی تھی جس دن تم نے اسے مری کی سڑک سے کیڈنیپ کروایا تھا..ارین کے مسکرا کر بولنے پر ادا غصے سے بولی تو ارین نے اسے دیکھا

ٹھیک ہے پھر مجھے ادا بہرام خانزادہ ہی چاہئیے مگر اس بار نکاح کےلیے نہیں بس ایک رات کے لیے میرا بستر۔۔۔شٹ اپ..ابھی ارین کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ بہرام غصے سے چلایا جس پر ارین نے نا گواریت سے اسے دیکھا..کان اپنا ہے میرا کرائے پر تو نہیں لیا ہوا جو تم چلا رہے ہو..ارین کی بات سنتے بہرام نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا تو ارین فوراً کھڑاہوتا اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال گیا

یور پلیس اور مائین ڈیسائیڈ کر لو پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس..میں تمہارے ساتھ کہیں بھی نہیں جانے والی..ارین کی بات سنتے ادا فوراً بولی تو ارین کو غصہ آنے لگا..بیوٹی مجھے غصہ مت دلاؤ..جو کرنا ہے کرو مجھے کوئی فکر نہیں ..ارین کی بات سنتے ادا فوراً بولی تو ارین نے اپنی جیب سے گن نکالی اگر تم ابھی کے ابھی میرے ساتھ نہیں چلی تو میں اسے مار کر تمہیں بیوہ کر دونگا تمہارے بیٹے کے سر سے باپ کا سایہ چھین لونگا اورتمہیں میں اپنے ساتھ لے جاؤنگا ارین گن بہرام کے اوپر رکھتے بولا تو ادا نے پریشانی سے بہرام کو دیکھاادا کو مسلسل بہرام کی طرف دیکھتے اور اپنے نہ چلتے دیکھ کر ارین نےغصے سے گولی چلائی جو سیدھا بہرام کے کندھے پر لگی بہرام جو ادا کودیکھنے میں مصروف تھا گولی لگتے ہی کندھا پکڑتا درد سے کراہ اٹھا جس پر لاؤنج میں بیٹھے سب لوگ ہی بہرام کی طرف بھاگےاگر کوئی بھی بہرام کے پاس گیا تو میں اس بچے کو شوٹ کر دونگاروحیل ارین کی بات سنتے سب نے پریشانی سے ارین کی گن پوائنٹ پر کھڑا بچہ دیکھا تو مرجان فوراً چلائی جبکہ روحیل کھڑا روتا اپنی ماں کو بار باربلا رہا تھا پھر تبھی ارین نے روحیل سے گن ہٹاتے دوبارہ بہرام پرچلائی تو زوبیا بہرام کو دھکا دیتے بیچ میں آگئی جس کی وجہ سے بہرام کولگنے والی گولی سیدھی جا کر زوبیا کو لگی تو زوبیا دھڑام سے نیچے گر گئی زوبیا کو نیچے گرتا دیکھ کر سب لوگ اس کی طرف بھاگے جبکہ ارین کھڑا ہنستا اس موت کے کھیل کا مزا لیتا قہقہ لگا کر ہنسنے لگا

**********

ادا تجھے ہمیشہ امی کہتی رہی کھانا بنانا سیکھ لے پر تمہیں کوئی فکر نہیں ہوئی ہمیشہ رانیہ آپی بنا تو لیتی ہے کرتی بات ختم کر دیتی تھی اب بھگتو کیا کرو گی اب تم اپنے چند گھنٹوں کے شوہر کو کیا کھلاؤ گی.ادا کھڑی خود کو کوستی منہ بناتی باہر نکلی اور آ کر سیدھے بہرام کے سر پر کھڑی ہوئی

کیا ہوا؟میں کیا بناؤں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا آپ کو جو کھانا ہے بتا دے میں بنا دیتی ہوں..ادا کو سر پر کھڑا دیکھ کر بہرام فوراً بولا تو ادا نے جواب دیا تو بہرام اسے دیکھتا کچھ سوچنے لگا

ایک کام کرو بیف سٹیک ود میشڈ پوٹیٹوز اور تریاکی سوس بنا دو..بہرام کی بات سنتے ہی ادا پریشانی سے کیچن میں واپس آئی

یہ کونسی جیپنیز ڈیش بتا دی انہوں نے مجھے تو نام بھی یاد نہیں ہوا تو بناؤں کیسے..ادا سوچ ہی رہی تھی کہ بہرام اس کے پیچھے اندر آیا

کیا ہوا تم نے ابھی تک بنانا شروع نہیں کیا؟میں بس بنا ہی رہی تھی..بہرام کے سوال پر ادا فوراً بولتی فریزر کی طرف بڑھی اور ایک پیکٹ نکال کر اس میں سے گوشت کاٹنے لگی

یہ تم کیا کر رہی ہو؟بیف کاٹ رہی ہوں..تم اسے بیف کہتی ہو؟بہرام کی بات سنتے ادا فوراً بولی تو بہرام نے پریشانی سے سوال کیا

ہاں میں تو بیف کہتی ہوں آپ اسے کیا کہتے ہیں..میں اسے چکن کہتا ہوں..بہرام کا سوال سنتے ادا تپ کر چھری گھماتی بولی تو بہرام نے اسے انتہائی تسلی سےجواب دیا جس پر ادا رونے والی ہو گئی آج تو بےعزتی کی حد ہی ہو گئی تھی اسےچکن اور بیف میں بھی فرق نہیں پتہ تھا ادا کی شکل دیکھ کر بہرام کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا اس سے پہلے کہ بہرام کچھ بھی بولتا ادا چھری شیلف پر پھینکتی زمین پر بیٹھ گئی اور پھر اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا

کیا ہوا ادا تم رو کیوں رہی ہو؟ اچھا ٹھیک ہے آج سے میں بھی اسے بیف ہی کہوں گا اب رونا تو بند کرو.. اپنی کچھ گھنٹوں کی بیوی کو اس طرح روتے دیکھ کر بہرام کو سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا کرے وہ پریشانی سے ادا کے پاس بیٹھتا پہلے تو سوال کر گیا پھر یہ سوچتا کہ کہیں اسے اس کی بیف والی بات تو بری نہ لگی ہو فوراً سے بولا تو ادا نے روتے ہوئے سر اٹھایا اور پھر ادا کی ہجکیاں بندھ گئی

مجھے کھانا بنانا نہیں آتا مجھے نہیں پتہ اسے چکن کہتے ہیں یا بیف امی ہمیشہ کہتی تھی کھانا بنانا سیکھ لو مگر میں ہمیشہ بس کھاتی تھی بناتی تو رانیہ آپی تھی مجھے نہیں آتی آپ کی وہ جیپنیز ڈیش بنانی..ادا دونوں ہاتھ اپنے منہ رکھتے بولی تو بہرام کو اس بات سنتے اپنی ہنسی کنٹرول کرنامشکل ہو گیا وہ سٹیک کو ایک جیپنیز ڈیش بول رہی تھی اور اس بات پر رو بھی رہی تھی بہرام کی طرف سے کوئی جواب نہ سن کر ادا نے سر اٹھایا بہرام کو اپنی ہنسی کنٹرول کرتا دیکھ کر ادا کو غصہ آنے لگا

آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں..نہیں۔۔نہیں تو میں بھلا اپنی پھوہڑ بیوی کا مذاق کیسے اڑا سکتا ہوں..میں پھوہڑ نہیں ہوں ادا ہوں..ادا کے غصے سے بولنے پر بہرام فوراً بولا تو ادا نے جواب دیا اور اس کا جواب سن کر بہرام کو لگا کہ آج وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہی مر جائے گا اس کی بیوی کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ پھوہڑ کا مطلب نکمی ہوتا ہے

Mohtaaj afsana by Uyoon Abdul Sattar

  • by

“عائشہ پتر مینو معاف کردے۔ میں تیرے نال چنگی نہیں کیتی۔ میری دھی کاش میں تیری گل من لئی ہوندی۔ کاش میں اپنیاں دا محتاج نہ ہوندا۔ کاش میں محتاج نہ ہوتا۔ مجھے پیسوں کی محتاجی سے زیادہ اپنوں کے ساتھ کی محتاجی مارگئی۔ میرا تو سب کچھ چلا گیا۔ میں خالی ہاتھ رہ گیا۔ پتر میں تیری قدر نہیں کیتی۔ کاش میں تجھے نوکری کرنے دیتا۔ تجھے اپنے قدموں پہ مضبوط ہو لینے دیتا۔ کاش میں محتاج پرست نہ ہوتا۔ کاش میں اپنے فیصلوں میں محتاج نہ ہوتا۔” وہ اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتا جاتا ۔ اپنی بیٹی کی قبر پر بیٹھے اور آنسو بہاتا جاتا تھا۔