Skip to content
Home » Complete novel » Page 128

Complete novel

Intaqam e ishq novel by Maheen Ahmad

  • by

سر..؟

“ہمممم..”

سر وہ باہر کوئی لڑکی آئی ہے کہہ رہی ہے آپ سے ملنا چاہتی ہے۔

نام کیا بتایا؟ وہ ہنوز کام میں مصروف بولا تھا۔

اسکی خاموشی پر وقاص نے نظریں اٹھائے اسے گھورا۔

کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔حوالدار کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔

سس۔۔سر۔۔ووہ۔۔لڑکی بول رہی ہے کہ وہ آپ کی وائف ہے اور نام نہیں بتا رہی۔وقاص نے پچھلے دونوں سے جیسا برتاؤ اپنے تھانے میں سب کے ساتھ رکھ کھا تھا ان سب کی جان جاتی تھی وقاص کے سامنے آتے ہی اور اب یہ بات اسے پتہ تھا اسکے سر کی شادی بھی نہیں ہوئی ہے وہ تو اب اپنی خیر منا رہا تھا۔

اوکے اندر بھیجو اسے۔وقاص کے اتنے نارمل ری ایکٹ پر حوالدار کو تو جیسے کرنٹ ہی چھو گیا۔

کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو میرا جاؤ اب۔وقاص خاصے سخت لہجے میں دھاڑا۔

حوالدار جی سر بولتے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا۔

وہ باخوبی جانتا تھا اپنی نقلی بیوی کے بارے میں۔

اسلام علیکم۔وقاص نے آواز کے تعاقب میں سامنے کھڑی اس برقع پہنے لڑکی کو گھور کر دیکھا

جی فرمائیے۔کیا کام ہے آپ کو محترمہ۔۔۔؟

واقعی نہیں پہچانا یا جان کے انجان بن رہے ہو۔ملائکہ منہ پر سے برقع اٹھاتی اسکے ٹیبل پر ہاتھ رکھے اسکے سر پر پہنچی تھی۔

جی نہیں میں نہیں پہچانتا۔اپ کام بتائیے اور نکلیئے مجھے اور بھی بہت کام ہیں۔ وقاص فائل دیکھتا مصروف سے انداز میں بولا۔

توبہ توبہ استغفرُاللہ یہ کیسا انسپکٹر ہے اپنی بیوی کو ہی پہچاننے سے انکار کر رہا ہے۔ملائکہ اونچی آواز میں کہتی رونے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔

بیوی کے ذکر پر وقاص نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

وہ اسوقت اپنے آفس میں تھا جہاں اسکی اجازت کے بغیر کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ملائکہ یہ سب ڈرامہ کیوں کر رہی ہے مگر ملائکہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہ ڈرامہ کر کے کتنی بُری پھنسنے والی ہے۔

بیوی۔وقاص نے بہت دلچسپ لہجے میں دوہرایا۔

ملائکہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔چئیر پر سے اٹھتا اپنے قدم اسکی جانب بڑھائے تھے۔ اسکی آنکھوں میں ابھرتی چمک ملائکہ کا دل ہولا رہی تھی۔وقاص اسکی طرف بڑھتا ملائکہ اپنے قدم پیچھے کی جانب لے رہی تھی اتنے میں وہ دیوار سے جا لگی وقاص نے سرعت سے اپنے دونوں ہاتھ اسکے دائیں بائیں جوڑے تھے۔

تو آپ کا فرمانا ہےآپ میری بیوی ہیں۔

مم۔۔میں۔۔مذاق کر رہی تھی وقاص پلیز دور ہٹو۔

پر میں مذاق نہیں کر رہا۔میری بیوی ہو تو ظاہر ہے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔وہ تنفر سے کہتا قریب ہوا۔

ملائکہ کا دماغ پل میں گھوم گیا۔اپنی گن نکالے اسکے سینے پر رکھی۔

دور رہو مجھ سے ورنہ۔ ملائکہ نے بات اُدھوری چھوڑی۔

تم مجھے اپنے لفظوں سے پہلے ہی مار چکی ہو اس کھلونے سے کسی اور کو ڈرانا۔ اسکا لہجہ کوڑوں جیسا تھا۔

وقاص پلیز میری بات سنو۔ضبط کے باوجود وہ رو پڑی۔

کیا بات سنوں ہاں۔۔کیا سناؤ گی۔میں نے بھی ایسے ہی منتیں کی تھی نا تمہاری ایک بار نہیں بار ہا دفعہ کہا تھا۔ایک بار میری بات سن لو۔۔تم نے سنی تھی۔۔تو آج میں کیوں سنوں۔

تم سنو گے کیونکہ تم میرے جیسے بےحس نہیں ہو۔ملائکہ نے اسکا بازو تھاما۔

بدلے میں وقاص نے اسکا بازو پوری قوت سے جھٹک دیا۔

بےحس تو تم ہو مگر بےرحم بھی انتہا کی ہو ملائکہ صدیقی۔اسکے لہجے کی نفرت ملائکہ کو اپنا دل کرچی کرچی ہوتا محسوس ہوا۔

دفع ہو جاؤ یہاں سے اور اب میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا میں اب وہ انسپکٹر وقاص نہیں رہا جو تمہارے سامنے کتے کی طرح دم ہلاتا پھرتا تھا۔بہت کر لی تم نے میری تذلیل اب بس میرے سہنے کے حد بس اتنی ہی ہے۔میں کوئی سخت قدم اٹھاؤں اس سے پہلے میری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور چلی جاؤ۔

Zeesham e ishq novel by Rida Writes

  • by

اس نکمی اولاد کی بھی کوئی خبر لی ہے کہ نہیں،، بی اماں نے دانت پیستے مراد سے رامز کے بارے میں استفسار کیا۔۔ جی بی اماں وہ ابھی فریحہ کے ساتھ وہی رہنا چاہتا ہے کچھ ٹائم۔۔ اور اس کے کہے کہ مطابق اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ اپنی بیوی کے ساتھ وہاں اکیلا بہت خوش ہے،، پہلہ جملہ مراد نے جب کہ دوسرا جملہ حریم نے کسی رٹو طوطے کی طرح بتایا۔۔ مراد نے اس کو گھوری سے نوازا جسے اس نے اگنور کیا۔۔ جب مراد کی رامز سے بات ہوئی تو حریم بھی موجود تھی۔۔ سب بے شرم اولاد اس گھر کی پیداوار ہے مجال جو زرا بھی شرم و حیا رکھ لے وہ نواب تو نمبر ون پر آتا ہے اس کام میں،، بی اماں نے حریم کی بات پر رامز کو خوب سلواتے سنائی ساتھ ساتھ ولی کو بھی آڑے ہاتھوں لیے،، جو شام میں ہی اقصیٰ کو لے کر حویلی آیا تھا۔۔ یار بی اماں مجھے تو مت گھسیٹا کریں درمیان میں کام آپ کا وہ کمینہ پوتا کرتا ہے واٹ میری بھی ساتھ فری میں لگتی ہے،، ولی نے سلگتے ہوئے رامز کو گالیوں سے نوازتے بی اماں سے جھنجھلاتے کہا۔۔ دیکھ یہ تیرے منہ سے پھول جھر رہے نہ جو میں تمہیں نہ گھسیٹوں بیچ میں ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ ہے اس گھر میں،، بی اماں کا غصہ کسی بھی صورت کم نہیں ہو رہا تھا جس کی زد میں ولی آیا ہوا۔۔ جب کہ غصہ حریم کی بات سنتے اپنے لاڈلے سپوت پر تھا۔۔ اب کیا کر سکتے ہیں یہ تو بابا کو پہلے سوچنا چاہیے تھا،،ولی نے کندھے اچکاتے بے باکی سے جواب دیا۔۔ بغ۔۔۔۔یرت بے شرم انسان باپ کو بھی نہیں بخش رہا،، بی اماں نے اس کی بے باکی پر سرخ ہوتے پاس پڑا اپنا موبائل اس کی طرف مارا جو اس نے مہارت سے کیچ کر لیا۔۔ زرنش بیگم بھی اپنے سپوت کو دیکھتے دانت پیسے بیٹھی تھی اگر کچھ بولتی تو ضرور سب کا سامنے انہیں اپنی بے شرمی دیکھا کر شرمندہ کر دیتا۔۔ باقی سب نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔۔ ارے مائے ڈیئر لیڈی اگر موبائل کو کچھ ہو گیا تو داجی کیسے گاؤں کے کام نبٹا سکے گے وہ تو زوجہ سے دن میں دس بار محبت بھرے لفظ اپنی لیڈی کے کان میں نہ ڈال لیں ان کا دن نہیں گزرتا،، ولی نے داجی کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر آنکھ ونک کرتے اپنی زبان کے جوہر دیکھائے۔۔ مراد خاموش بیٹھا خود بھی ان کی نوک جھوک کو انجوائے کر رہا تھا۔۔ تو روک زرا بے شرم کہی کہ آج میرے ہاتھوں نہیں بچو گے،، بی اماں ولی کو لاؤنچ سے ڈور لگاتے دیکھ کر اس کی پیٹھ کا نشانہ لیتے بولی جو کہ چونک گیا۔۔ دیکھ لے اپنے مزاجی خدا کو دیکھ کر آج آپ کا نشانہ بھی چونک کگیا،،

Sarma ki jalti raat afsana by Uqba Ahmed

عیسیٰ احمد اور سکینہ بی بی کا کنبہ بچوں سمیت آٹھ افراد پر مشتمل تھا، ساری زندگی صبر و شکر سے گزار دی اور یہی درس بچوں کو دیا پر بھلا کیا سب نہیں جانتے کہ پانچوں انگلیاں کاہے کو برابر ہوویں، اور کہاں لکھا ہے کہ ماں باپ مشکل صبر و شکر سے کاٹ لیں تو اولاد سکھی رہتی ہے۔ جو دنیا میں آگیا، اس نے مشکل بھی دیکھنی ہے اور خالق ساتھ آسانی بھی رکھتا، پرآسانی تلاشنی پڑتی ہے۔ بچے جوں جوں جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے گئے، دونوں میاں بیوی سر جوڑ کے بیٹھ جاتے۔ بڑی حمیرا اور سمیرا تو خاندان میں ہی مانگ لی گئیں، پھر بیٹوں کے لئے بھی نظر میں خاندان کی لڑکیاں موجود تھیں اور دونوں میاں بیوی کی عادات ایسی تھیں کہ کوئی بھی بن مانگے دے دے پر مہرو کے معاملے میں کوئی بھی مہرو کے ماں باپ کے مزاج کی صرف گارنٹی پر مطمئن نہ تھا۔ سب اس کی سستی، جو منہ میں آیا کہہ دینا، اور ایسی ہی لاپرواہی والی عادات سے خوب واقف تھے اور اب جبکہ وہ بھی بڑے بہن بھائیوں کی طرح میٹرک سے نبردآزما ہو چکی تھی اور اس کو کھونٹے سے لگانے کا سوچا جا رہا تھا خواہ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہی کرنا پڑے، خواہ گھر میں بڑوں کی شادی کے ارمان کو ابھی تک کے لئے ملتوی کرنا پڑے۔ کیونکہ مہرو کو عقل دینے اور سگھڑ بنانے کا یہی تو صحیح وقت تھا پھر جو وہ اور بے لگام ہو جاتی تو کون سے کھونٹے باندھا جاتا، ماں باپ کو ہی لتاڑتی۔

Mera ishq ho tum novel by Aneesa Shafqat

کہاں جا رہی ہو تاشہ؟

زرتاشہ : اپنے گھر۔

برہان : اب تمہارا گھر یہی ہے۔

زرتاشہ: اپنی امی کے گھر۔

اب کی بار تو برہان اسے ہرگز نہیں جانے دینا چاہتا تھا ۔

برہان : تم نہیں جاؤ گی تاشہ ۔

زرتاشہ نے بھی ہمیشہ کی طرح ضد کی۔ مگر آج برہان بھی زرتاشہ کی ضد تسلیم کرنے والا نہیں تھا۔

زرتاشہ : میں تو جاؤں گی اور ضرور جاؤں گی۔

برہان: کبھی تو میری بات مان لیا کرو زرتاشہ ۔ چار دن سے ہماری آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی کیا تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ کیا تمہیں میری یاد نہیں آئی ؟ یا میں یہ سمجھوں کہ میری محبت اب بھی یک طرفہ ہے اور تمہیں مجھ سے کوئی سروکار نہیں۔

زرتاشہ نے بھی اپنے دل کی بھراس نکال دی۔

زرتاشہ : تو کیا میں اتنی بے مایا ہوں کہ جب جس کا دل چاہے گا مجھے اپنا لے گا اور جب جس کا دل چاہے گا وہ مجھے چھوڑ دے گا۔

انسان ہوں میں کوئی مٹی کا کھلونا نہیں کہ جب دل چاہا اس سے کھیل لیا اور جب دل چاہا اسے چھوڑ دیا ۔

برہان : میں نے تمہیں چھوڑنے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تاشہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے۔

زرتاشہ : تو پھر شایان کے کہنے پر آپ مجھے وہاں کیوں چھوڑ آئے تھے؟

بقول آپ کے میں تو آپ کی محبت تھی، مجھ میں تو آپ کی جان بستی تھی۔ تو پھر آپ کیوں اپنی محبت کو وہاں چھوڑ آئے ؟

کیوں آپ نے مجھے وہ میسج کیا؟

کیوں اپنا موبائل بند کر لیا؟

آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ مجھ پر کیا گزرے گی ۔ جب آپ میرا فون نہیں اٹھا رہے تھے تو میرا دل پھٹ رہا تھا ۔ آپ جانتے ہیں مجھے کتنی فکر ہو رہی ہے کہ آپ کی۔

برہان : سوری تاشہ! آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں۔

وہ برہان کی بات ماننے کے بالکل موڈ میں نہیں تھی ۔

زرتاشہ : سوری ناٹ ایکسیپٹڈ! (Sorry not accepted)

Namehram novel by Umme Ibrar

یہ اسلامک ناول ہے جسے معاشرے میں ٹرینڈنگ کرتے ایک ٹاپک ” اٹریکشن” پر لکھا گیا ہے
کہانی کا اصلی کردار نور جو اسی بیماری شکار ہوتی ہے اور وہ گہرائی میں گرتی ہے اور پھر اس کا انجام بتایا گیا ہے

Mohib mohabbat by Zunaira bano Complete Novel

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میری “ہونے والی بیوی” کس قدر زہر اگلتی ہے۔ مجھ سے کس قدر جلتی ہے۔” ابوبکر نے دل میں سوچا۔
“جلتی نہیں ہے۔۔۔۔ بس تم سے پیار کرتی ہے۔۔۔۔”
“میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر تم چاہتی کیا ہو ساریہ۔۔۔ دو سال ہونے کو ہیں۔ اس کے باوجود تم اس وکیل کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ اس کی اب ایک بیوی ہے، بچی بھی ہے۔ وہ آزاد تھا تب تمہارے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔ اب کیا خاک اٹھاۓ گا۔۔۔”
وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا تھا۔
“تم مجھے گلاب کا پھول دینا اور میں تمہیں گوبھی کا پھول دوں گی۔ پھر تمہیں ہمیشہ یاد رہے گا میں کتنی اچھی شیف ہوں۔۔۔” حمائل نے ہنستے ہوۓ کہا۔ ابوبکر کے چہرے پر مصنوعی غصہ طاری ہوا:
“اچھی شیف؟ تمہاری کنکر والی کافی بھولا نہیں ہوں میں ۔۔۔”
“ایک بار کہو۔۔۔ جو مانگو گی وہ تمہیں پل بھر میں لا کر نہ دیا تو میرا نام بھی احمر گیلانی نہیں۔”
“احمر۔۔۔” رومانی کے ہاتھ کانپیں۔ آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔
“جب آپ جیسا مرد دست درازی کرنے کے باوجود ڈھٹائی کے ساتھ سینہ تان کر میرے سامنے کھڑا ہے تو میں اپنی عصمت کو اپنی کمزوری جان کر گھر کے کسی تاریک گوشے میں کیوں جا چھپوں۔”
وہ غرائی۔ حسن قادری مسکرا کر رہ گیا۔
ابوبکر نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ رو رہی تھی اور آنسو بے شمار تھے۔
“مت۔۔۔ جاؤ۔” اس نے بلک کر کہا اور ہاتھ جوڑ لیے۔
“ہُما۔۔۔” وہ بے بس سا نظر آیا:
“میں واپس آجاؤں گا۔”
“میرے سامنے نقاب کیوں نہیں کرتیں؟” احمر نے اچنبھے سے پوچھا تھا۔ رومانہ نے گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں کرچیاں ہی کرچیاں تھیں۔
“تم سے کیا چھپاؤں احمر؟ چہرہ یا جسم؟”

Mohabbat hui mehram novel by Maryam

“صحیح کہا تم نے! پاکستان میں حسن کی کمی نہیں

ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ جوتوں اور تھپڑوں کی بھی

کوئی کمی نہیں ہے” …..کہتے ساتھ ہی ہانیہ نے اس پہ

تھپڑوں اور مکوں کی برسات کر دی جبکہ وشمہ نے

بھی دوسرے لڑکے پہ ہاتھوں اور مکوں کا خوب

استعمال کیا ۔۔۔۔ وہ دونوں مخض پانچ منٹ میں

پہچانے ہی نہیں جا رہے تھے ۔۔۔۔ان میں اٹھنے کی بالکل

ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔۔

“بھائی! اور حسن دیکھنا ہے یا یہ ہی کافی ہے ۔۔۔” ہانیہ

نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“نن۔۔۔۔ نہیں! اتنا ہی کافی ہے” ایک نے ہاتھ جوڑتے

ہوئے کہا ۔۔۔

“چلو ہنی ہم چلتے ہیں” ۔۔۔ وشمہ نے ہانیہ کا

ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔ اور کار کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔

“مزے کی کچھ لگتی۔۔۔۔ یہ تو آنٹی تمہیں بتائیں گی

نا ۔۔۔۔جب اس وقت تک باہر رہنے کا جواز بتاؤ گی” ۔۔۔

“کیا مطلب اس وقت تک! اوہ نو” ۔۔۔واچ پہ نظر پڑتے

ہی اسکے منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔واچ رات کے آٹھ

بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“آج تو شامت پکی” ۔۔۔اسنے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ کبھی کبھی خود کو ماؤں کا شکار

بھی بناننا چاہیے” ۔۔۔وشمہ نے سیل فون پر گیم کھیلتے

ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

Vlogger girl novel by Eman Babar

  • by

“میں نے سنا لوک ڈاؤن کی وجہ سے ہماری کلاسز اب آنلائن ہوا کریں گی ۔” آمنہ نور العین کو کہتی ہے جو بوریت سے کاپی پر پھول بنا رہی ہوتی۔

“ہاں میں بھی سنا ہے یہ ۔۔۔۔ ہائے کاش ایسا ہو جائے یار صبح اٹھ کر یہاں آنے سے تو جان چھوٹے ہماری ” نور مزے سے کہتی ۔

“ہاں یار اور نوری تم نے وہ نیو ٹرینڈ جو ٹک ٹوک پر آیا اُس پر ویڈیو بنائی ہے بہت مزے کا ہے یار میں نے تو کل ہی بنائی ہے تمہیں گھر جاکر دیکھاؤ گی.” آمنہ جوش سے کہتی ۔ ٹک ٹوک کا نام سن پر نور کا منہ بن جاتا۔

“یار ماما نے منع کر دیا ویڈیو بنانے سے کہتی اچھی بات نہیں ہے ” وہ اُداس تھی۔

“لو تو تم کونسی اپلوڈ کرتی تھی۔ ہم تو اپنے انجوئمنٹ کے لئے بناتے ہیں ۔” آمنہ حیران ہوتی ۔

“وہی نا ۔ لیکن اب اما کو کون سمجھائے ” وہ پھول بنانے میں مصروف ہو جاتی ۔۔

“تُو تم یوٹیوب پر try کرو ہمارے بڑے لوگوں کو یوٹیوب سے مثلا نہیں ہوتا اکثر۔ یار تم میں کنفیڈنس ہے ۔ اور بول بھی اچھا لیتی ہو۔ میری منو تو ولوگر بن جاؤ۔شکل نہ دیکھانا بس جو روز روز کرو گئی اُس کی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر دینا ۔ ویسے بھی اب لوک ڈاؤن میں لوگوں نے یوٹیوب دیکھ کر ہی ٹائم پاس کرنا تمہارا بھی مشہور ہونے کا شوق پورا ہو جائے گا ” آمنہ کچھ سوچ کر بولتی۔ اُس کی بات سن کر نوری کے چہرے پر آئی اُداسی اب جوش میں بدل گئی تھی ۔

“تمہیں لگتا میں یہ کر سکتی ہوں ؟” وہ خوشی سے پوچھتی ۔