Skip to content
Home » Complete novel » Page 130

Complete novel

Rang zindagi ke afsana by Nadia Anwar

  • by

کیا بات ہے احمد تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگی ہے دیا بلکہ یہ کہنا چاہے کہ بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے میں خود کو شاید کبھی معاف نہ کر پاو۔

ہوا کیا ہے احمد دیکھو تم یوں پریشان مت ہو مجھے بتاو کیا ہوا ہے اس کے کہنے پر احمد نے اسے ساری بات بتا دی۔

کل جب میں نے بھای کی بات سنی نا دیا تم سوچ بھی نہیں سکتی مجھے کتنی شرمندگی ہوی میں ان کا سامنا کیسے کرو گا کیا کچھ نہیں کیا انہوں نے میرے لیے اور میں کتنا کم ظرف نکلا مجھے لگتا تھا کہ اگر میں سب کو سچ بتا دو گا تو سب میرا مذاق بناے گے مجھے ایک جوکر کا بھای کہے گے اور تم بھی مجھ سے دور ہو جاو گی یہ سب جاننے کے بعد تم مجھ سے کبھی شادی نہیں کرو گی۔ لیکن اب مجھے کسی کی کوی پروا نہیں ہے کوی کچھ بھی کہے میرے لیے میرے بھای اہم ہے وہ بھای جو میری خوشی کے لیے ایک جوکر بن گیا وہ جوکر جو دوسروں کو ہنساتا تھا آج وی خود رو رہا ہے کس کے لیے اس بھای کے لیے جس کے لیے اس نے اتنا سب کیا ساری دنیا انہیں کچھ بھی کہتی تھی دیا انہوں نے کبھی کچھ نہیں کہا کبھی شکايت نہیں کی مگر میرے الفاظ نے انہیں بہت تکلیف دی میں اس سب کے لیے خود کو کبھی معاف نہیں کر پاو گا۔

Hina afsana by Khadija Irshad

  • by

“میم، کیا ہر چیز، میرا مطلب ہے کہ اللہ کی طرف سے ہونا فکس ہوتا ہے؟ میرا مطلب کہ ہر چیز فکس ہوتی جو ہماری زندگی میں ہونا ہوتا؟”

جو کہ اب مکمل خاموشی سے اسے سن رہی ہوتی ہے۔

کلاس میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ سب اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

نہایت شائستگی کے ساتھ مسکراتے ہوئے لب کھولتی ہے۔

“دیکھیں بیٹا، کسی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ ہر چیز فکس ہوتی ہے۔ کچھ چیزیں مکمل طور پر انسان کی بھی کوشش درکار ہوتی ہے۔”

“جو چیز فکس ہوتی ہے. جو ہماری نہ چاہتے بھی ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہماری لاکھ کوشش کے بعد بھی ہمیں اسے فیس کرنا پڑتا ہے۔”

“میں سمجھتی ہوں، یوں کہہ لیں کہ ایک شخص کا ایکسیڈنٹ سے موت ہونی ہے، وہ سڑک پر ہو جاتا ہے، اسے پتہ نہیں چلتا یہ فکس موت ہے۔ کچھ لوگ اوور سپیڈنگ سے مر جاتے، یہ فکس نہیں ہوتی۔”

Basil novel by Mahnoor Shahid Season 1

کچھ بتایا اس نے یا ابھی بھی زبان نہیں کھولی ؟ایک نظر وہ حسن پر ڈالتے ہوئے بولا

نہیں میجر ،اس نے کچھ نہیں بتایا ۔اس کے مطابق یہ نہیں جانتا یہ کس کے کہنے پر کام کر رہا تھا

انٹرسٹنگ !سعد مائنی خیز مسکراہٹ لیے بولا ۔۔اس دوران سات کے دونوں گالوں میں کچھ حد تک ڈمپلز نمایاں ہوئے ،وہ چلتے ہوئے سامنے موجود ٹیبل پر سے ایک فائل اٹھا کر واپس حسن کے سامنے کھڑا ہو گیا

جانتے ہو حسن اس میں کیا ہے وہ اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔حسن نے ایک نظر فائل پر دوڑائی اور سر نفی میں ہلایا

اس میں تمہارے انجام دیے گئے تمام گناہ درج ذیل ہیں اس میں تمہارے کالے کارناموں کی ایک طویل لسٹ موجود ہے جو تم ماضی سے لے کر اب تک سر انجام دیتے ائے ہو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں پھانسی ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ مرنے سے پہلے کوئی تو فائدہ پہنچاتے جاؤ اپنے ملک کو ۔۔

کس ملک کی بات کر رہے ہو میجر جس ملک میں ہم جیسے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہو ،جہاں کی گورنمنٹ خود اپنی عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں یا پھر وہ ملک جس میں انسان اگر جھوٹ کے خلاف اواز اٹھائے تو اسے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے ،جس ملک میں انسان رہتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اس ملک کے فائدے کی بات کر رہے ہو تم ؟؟

حسن مانا کے گورنمنٹ کچھ نہیں کر رہی لیکن ہمیں دیکھو ہم لوگ یہاں سرحدوں پر کیوں تعیینات کیے گئے ہیں تاکہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں ہم اپنے ملک کی عزت اور سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے ہر ایک فرد کے دل میں بھی اگر اتنا حوصلہ آ جائے نہ تو یقین مانو یہاں کی گورنمنٹ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔لیکن اس سے پہلے ہمیں خود پر اور ایک دوسرے پر یقین کرنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا ۔

حسن نے کہکا لگایا ،کیا کہا میجر تم نے۔ یقین ؟؟

چلو میجر یہ بتاؤ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس وقت تمہارے ساتھ اور تمہارے علاوہ جتنے بھی فوجی یاں جنرل یہاں کام کر رہے ہیں کیا وہ سب حق کے راستے پر ہیں، کیا ان کی سوچ بھی تمہاری سوچ کی طرح ملتی ہے بولو ؟

Ek khawab ek umeed afsana by Momina Zahra

آپی ہم بہت پریشان ہیں مجھے آپ سے بار بار کہتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے لیکن آپی یقین کریں مجھ سے میرے والدین کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی۔ ابو جی کی بیماری کی وجہ سے ہمارا پچھلے دو ماہ کا کرایہ ابھی دینے والا رہتا ہے۔ ابو ان دنوں کوئی کام نہیں کر پا رہے، بھائی چھوٹے ہیں، میں خود پرائیویٹ سکول میں جاب کرتی ہوں۔ گھر کا گزارہ تو جیسے تیسے مشکل سے کر رہے ہیں لیکن گھر کا کرایہ دینا آزمائش بنا ہوا ہے۔ آپ کو بتایا تھا کہ ابو جی کی رپورٹس میں دمہ بتایا ہے انھیں، کچھ دن پہلے ان کی میڈیسن بھی ایک کزن سے ادھار پیسے لے کر خریدیں ہیں۔ آپی اس گھر کا کرایہ پندرہ ہزار ہے ہم اتنا افورڈ نہیں کر سکتے ہم اور گھر ڈھونڈ رہے ہیں جس کا کرایہ کچھ کم ہو جیسے ہی ہمیں ملا ہم یہ گھر چھوڑ دیں گے لیکن تب تک اس گھر کے کرایے کا انتظام کرنا بہت ضروری ہے اب تو مالک مکان نے بھی پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ آپی انھوں نے اتوار تک کا ٹائم دیا ہے ہمیں کچھ نا کچھ کرایہ لازمی دینا ہو گا۔ آپ ہمارے بارے میں بات کریں کسی سے پلیز! آپی کیا ایسا نہیں ہو سکتا کوئی ہمارا دو یا تین ماہ کا کرایہ ادا کر دے کیا آپ کسی سے اس معاملے میں بات کر سکتیں ہیں؟ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی ہمیشہ آپ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھوں گی۔