Skip to content
Home » Complete novel » Page 126

Complete novel

Señorita kertenkele novel by Haniya Meow

  • by

خود کی دریافت کا سفر:**

یہ کہانی مسکراہٹ میں چھپی درر، اور اذیت کی۔۔ ایک ٹوم بوائے کی ، جو اپنے خود بین ماحول میں اپنے جذبات اور ادھوری خواہشات کو رنگوں کی مدد سے تصویر میں قید کرتی ہے۔ کہانی ایک پراسرار اجنبی سے اس کے روح پوش ہونے تک کے سفر کی ہے۔ ایک پراسرار روبوٹک انسان جو اپنے گہرے سوالات سے دوسروں کو کھردتا ہے۔ اور خود کو گہری تہوں میں بند کیا ہوا۔

یہ کہانی ہے دو انسانوں کی جن کا ماضی ایک دوسرے سے جوڑا ہوا ہے۔ کہانی ہے بدلے کی، ان کہی محبت کی، اذیت کی، روح پوش ہونے کی، انتظار کی۔۔۔

Sargoshiyan novel by Sarah Tahir

  • by

“تم چاند سے اتنے گھنٹوں تک باتیں کیسے کر لیتی ہو؟”

“جن کو آپ پسند کرتے ہیں، ان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے آپ کو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔”

“تم چاند کو پسند کرتی ہو ؟”

“ہاں بلكل .”

“اور چاند کے علاوہ؟”

“اماں، ابا، احمد ،علی ،صفیہ … اور ہاں کشمالہ خالہ اور طفیل چچا کو بھی۔”

کشمالہ خالہ اور طفیل چچا کا بیٹا مرمرا گیا ہے کیا؟ راحم کو بہت برا لگا مگر یہ بات وہ صرف دل میں ہی سوچ سکا .

“اور سب سے زیادہ کون پسند ہے تمھیں؟”

اس کے اس سوال پر عبیرہ نے جھٹ جواب دیا۔

“چندا”

“حالانکہ باقی سب تمھیں چاند سے زیادا پیار کرتے ہیں، پھر بھی؟ تم جانتی ہو ناں چاند بے جان ہے۔”

چاند بے جان نہیں ہے۔ تم سب کے لیے ہوگا مگر میرے لیے نہیں ہے۔”

Aseer e mohabbat novel by Angel Sani 

  • by

مجھ۔۔ مجھے۔۔ بھوک۔۔ لگی ہے۔۔ وہ چہرا ایک بار پھر جھکا کر شرمندہ لہجے میں بولی تھی۔۔

تم بیٹھو میں لے آتا ہوں۔۔ وہ کہتا ہوا بغیر اسکی جانب دیکھے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔ سنائیہ نے اسکی پشت کو نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔۔ اور ہچکیوں میں روتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی تھی۔۔ وہ اسکی بے رخی سہہ نہیں پا رہی تھی۔۔

تقریباً پانچ منٹ بعد ہی وہ ہاتھ میں ایک ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوا جس میں ایک دودھ کا گلاس اور دو تین سینڈوچ تھے۔۔ سنائیہ نے اسے اندر آتے دیکھ اپنی گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور چہرہ جھکا کر بیٹھ گئی۔ سنان کو تکلیف تو ہوئی تھی اسے ایسے دیکھ کر پر فلحال وہ اپنے اوپر کھول چڑھائے ہوئے تھا۔۔ اس نے خاموشی سے ٹرے لے جا کر سنائیہ کے پاس رکھ دیا۔ اور خود واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے فوراً پلٹ کر اس کی جانب دیکھا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا خاموش اور سنجیدہ نگاہوں سے۔ کچھ اور چاہیے کیا؟ اسے خود کی جانب تکتا پا کر سنان نے نرمی سے پوچھا۔۔اس کا یہ نرم لہجہ اسے پھر سے رلا رہا تھا۔ اس کے گلے میں ایک گلٹی ابھر کا معدوم ہوئی۔ وہ محض نفی میں سر ہلا گئی۔۔ پھر کھا کیوں نہیں رہی ہو؟ اس نے فوراً پوچھا۔۔ آ۔۔ آپ نے کچھ کھایا تھا؟ وہ چور سے لہجے میں کہتی نظریں جھکا گئی۔ سنان بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اس وقت اسے سامنے بیٹھی اس لڑکی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ ہاں میں نے کھا لیا تھا۔ اس نے کہا تو سنائیہ نے پھر اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی وہ جھوٹ کہہ رہا تھا اس نے کچھ نہیں کھایا ہوگا اور نا ہی وہ اب کچھ کھانے والا تھا۔ اس لیے خود بھی ٹرے کو سائیڈ پر دھکیل کر رکھتی واپس لیٹنے لگی۔سنان نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔۔ سنائیہ کھانا کھا کر سونا نہیں تو میں بہت برا پیش آؤں گا۔۔ وہ ذرا سختی سے اسے دیکھ کر بولا جو تقریباً لیٹ ہی چکی تھی۔ مجھے نہیں کھانا۔۔ خفگی بھرے لہجے میں کہتی وہ اسکی جانب پشت کیے سسکیاں بھر رہی تھی۔ سنان نے اس کی پشت کو دیکھ کر ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا پھر اٹھ کے اس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔۔ سنائیہ چپ چاپ اٹھو یہ سینڈوچ کھاؤ اور دودھ پیو پھر میڈیسن کھا کر سونا۔۔ وہ قدرے سنجیدگی سے بولا۔۔ سنائیہ نے لیٹے لیٹے ہی نظروں کا زاویہ اسکی جانب گھمایا پھر صاف غضے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کروٹ دوسری جانب موڑ لی۔ سنان نے لب بھینچ تکیے پر بکھرے اس کے بالوں دیکھا پھر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے بخوبی اس کے اپنے پیچھے بیٹھتا محسوس کیا تھا۔ سنائیہ اٹھو۔۔؟ سنان نے اس کا کندھا ہلایا پر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ اس نے بغیر رخ موڑے کہا۔ سنان کا ضبط جواب دے رہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اسے زبردستی بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا۔ میں نے کہا نا مجھے نہیں کھانا کچھ بھی۔ آپ جائیں اور جا کر سو جائیں۔ آپ کو کیا ہے میں کھاؤں یا نا کھاؤں جیوں یا مرو۔۔ وہ با مشکل خود کو رونے سے باز رکھتے ہوئے بولی۔۔ تمہارے جینے مرنے یا کھانے یا نا کھانے سے مجھے ہی فرق پڑتا ہے اور پڑتا رہے گا سنا تم نے اب

فضول باتیں کرنا بند کرو اور چپ چاپ کھانا کھاؤ۔نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔وہ تنبیہ کرتا ہوا کہتا اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی اٹھانے لگا۔۔

Ahmed ki Hoor novel by AS Writer

  • by

بابا آپ ایسا نہیں کر سکتے”۔”

“میں یہ کیوں نہیں کر سکتا”

“بابا وہ بچی ہے۔ ”

”میں جانتا ہوں”

”پھر”

وہ ایک سمجھدار بچی ہے وہ آپ کے بچوں کا خیال رکھے گی۔

بابا ہر عورت بے وفا ہوتی ہے۔

آپ اس کی شادی میرے ساتھ کیوں کر رہے ہے؟

کیونکہ وہ ایک ذمہ دار لڑکی ہے اور اس کے والد نے اس کی اچھی تربیت کی ہے۔

بابا پلیز

پچھلی بار تم نے اپنی پسند سے شادی کی تھی لیکن اب تم میری پسند سے شادی کرو گے مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے لیے پر فیکٹ ہے۔

ٹھیک ہے بابا احمد نے غصے سے یہ کہا اور اپنے کمرے میں چلے گیا

Safar masoomiyat se qaid tak short novel by Muskan Khan

  • by

ہوئی ایک صبح ایسی سی۔۔

ہوا تھی جس دن نم۔

بارش کا تھا موسم۔

جنمی ایک ننھی سی جان۔

چہرہ اس کا حوروں سے کم نہ تھا۔

وہ معصوم ہوئی جب ایک برس کی۔

گھر میں خوشیوں کا سما تھا۔۔

وہ معصوم کب کس کو پتہ تھا۔

اس کی زندگی کے نصیب و راز کا۔

جب وہ حسین بڑی ہوئی۔

18 برس کی ۔آیا اس کی زندگی میں ایسا موڑ۔۔

لڑنا تھا اسے اپنے نصیبوں سے میں نے کیا۔

جیت گئی وہ ہر لڑائی میں لیکن خود کو ہار بیٹھی وہ معصوم نادان لڑکی۔

اسے نہ پتہ تھا جیت کے کھیلوں میں وہ ایک دن خود کو ہار بیٹھے گی۔

خود کی لگائی بازیوں سے وہ کیسے جیت پائے گی۔

وہ معصوم نادان لڑکی!

جو خود کو ہار بیٹھی۔

وہ ہر قید سے آزاد تھی۔

اسے نہ پتہ تھا کہ وہ سفر قید کی مجرم ہوگی۔

ایک دن قید اس کا مقدر ہوگی۔

وہ ہر قید اسے آزاد تھی اسے نہ کسی راجا کی ضرورت تھی۔ نہ کسی شہزادے کا خواب تھا۔

وہ خود کے لیے فقط خود ہی کافی تھی۔

اس کی زندگی میں جب آیا وہ معصوم شہزادہ۔وہ کوئی شہزادہ نہ تھا لیکن وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا۔

اس کی محبت میں گرفتار ہوئی کہ مجرم بنی۔

وہ محبت کے آغاز میں بھول گئی۔ اپنی سرکشیاں، جدوجہد، قربانیاں، جو کھویا تھا وہ بھی بھول گئی۔

معصوم تھی نادان لڑکی۔

بھورے بال ہری انکھیں تھی۔ اس کی گوی رنگت یوں مانو جسے آسمان سے اترا ہو دیکھنے میں زمین زادہ نہ لگتا تھا۔ کوئی جیسے چاند کا ٹکڑاؤ۔

اس کی ہری آنکھیں جان لیتی تھی۔

وہ دل ہار گئے اس پر تب سے شروع ہوا ہے یہ سفر “سفر معصومت سے قید تک” ۔

Pyaar hua tha by Zeenia Sharjeel Complete

  • by

“آج ریان کافی خوش دکھائی دے رہا ہے”
وہ عرا کو مخاطب کرتی چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی عرا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی سے اٹھ گئی
“ویسے تمہیں تو خوش رکھا ہوا ہے ناں ریان نے”
مائے نور کے دوبارہ مخاطب کرنے پر عرا کو حیرت ہوئی
“جی ریان ہر لحاظ سے کوشش کرتا ہے کہ میں خوش رہو بہت کیرئنگ ہے میرے لیے”
مائے نور کے پوچھنے پر عرا اس کی بات کے جواب میں بولی
“اور پھر بدلے میں تم کیسے خوش کرتی ہو ریان کو، مطلب ایسا کیا کرتی ہو جو وہ تم سے خوش رہے”
مائے نور کے عجیب سے سوال پر عرا کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ مائے نور اس سے پوچھنا کیا چاہ رہی تھی
“بہت بھولی ہو ناں تم، سمجھ میں نہیں آرہی میری باتیں کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ واہ بھئی واہ بچہ پیدا کرلیا، دو مختلف مردوں سے محبت پالی مگر معصومیت وہی کی وہی برقرار ہے ابھی تک”
مائے نور باقاعدہ تالی بجاتی ہوئی عرا پر طنز کرتی بولی جس پر عرا کو ڈھیروں شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا
“اتنی جلدی بھول گئی تم زیاد کی محبت کو، اسی کے بھائی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے تمہیں زیاد کی یاد نہیں آتی یہ بھی یاد نہیں آتا کہ زیاد کس قدر محبت کرتا تھا تم سے۔۔۔ ایسے ہی کل کو ریان کو بھول کر کسی تیسرے مرد کے پاس بھی چلی جانا جو تمہیں ریان سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کرے دراصل تم جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والی لڑکیاں ایسی ہی تربیت حاصل کرتی ہیں اپنے بڑوں سے، وفا نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں تم تھرڈ لڑکیوں کے اندر۔۔۔ میں نے اپنی ساری جوانی، اپنی ساری عمر اس شخص کی وفا میں گزار دی جس نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی اہمیت دینا ضروری ہی نہیں سمجھا اور ایک میری بہو ہے جو آرام سے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اب اسی کے بھائی سے محبت وصول کرنا اپنا حق سمجھ رہی ہے۔۔۔ تف ہے تمہارے اوپر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں”
مائے نور کی باتیں سن کر وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پہ گرتی ہوئی بری طرح سسکنے لگی آج مائے نور نے جس طرح اس کو ذلیل کیا تھا اتنی ذلت اور سبکی اُس کو آج سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی

Hasad novel by Rimsha Riaz

  • by

بات کم کرتی ہے چیختی بہت ہے ، بٹ تم کوشش کرنا یہ تمھیں کچھ بتا دے ہماری بھی مدد ہو جایے گی، کالا چشمہ سر پہ ٹکائے وہ اس کے ہم قدم تھی

افکورس لیڈی! میں پوری کوشش کروں گی اوکے! ناؤ لے چلو مجھے اس کے پاس مالا!

ہہمم دوست ہو تم تب ہی لے کر جا رہی ورنہ! اس نے منہ بنایا

اب ایموشنل بلیک میل مت کرو اور چلو ! وہ اسے تقریبا گھسٹتے ہوئے لے کر جانے لگی

٭٭

سب دھوکہ ہے،

جو ہوا کھیل پھیل رہی ہے نحوست ہے،

یہ جو حال ہے میرا حسد ہے

کھا ہی جاتا ہے سپنے بھی

اپنے بھی لے ڈوبتا ہے

گر تم جانو! یہ مرض تمھیں راکھ کر دیتا ہے

کچھ نہیں بچتا تمھارے ہاتھ میں ۔

سلور رنگ کے شلوار قمیص بکھرے الجھے بال ہاتھوں میں ناخنوں کے نشانات ، مردہ چہرہ اس پہ چھائیاں ہونٹ پھٹے ہوئے ماتھے پہ نیل پڑا ہوا وہ بے نیاز زمین پہ لیٹی بڑبڑا رہی تھی اس کے پتلے سے ناک میں لونگ تھے جو اس کسی کی آخری نشانی تھی ۔

پھر سے اگی تم ! دروازے کی چاپ پہ وہ بنا اٹھے بولی

Jo tu na mila novel by Sidra Younas

  • by

“وہ میں”

“تم اب بہانے مت بناؤ۔” وہ اس کی بات کاٹ کر بولا۔

“نہیں ایسے نہیں ہے۔” وہ دھیمی آواز میں بولی۔

“اچھا ویسے اس دن میرے سوال کا جواب تو بیچ میں ہی رہ گیا تھا۔” وہ یاد کرکے بولا۔

“ابھی آپ نے لے تو لیا جواب۔” وہ خفگی سے بولی۔

“اچھا تو اب پیار سے جواب دو ناں۔” وہ لاڈ سے بولا۔

“مجھ سے نہیں کیا جائے گا۔” وہ روہانسی ہو کر بولی۔

“مجھے نہیں پتا مجھے سننا ہے۔” وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔

“روحام” وو راہانسی ہوئی۔

“ہاں روحام کی جان۔ ” وہ اتنے ہی پیار سے بولا تو نوال شرما گئی۔

“آپ کام کریں مصروف ہوں گے۔ ” وہ روحام کو ٹالنے لگی۔

“نہیں میں بالکل فری ہوں۔ ” وہ آرام سے بولا۔

“اچھا مجھے بھوک لگی ہے۔” جب کوئی بات نہ بن پڑی تو اس نے فوراً بولا۔

“تو کھانا کھاؤ ناں۔ ” اس کا طریقہ کارگر ہوا۔

“چلو کھانا کھا لو پھر میں دوبارہ کال کروں گا۔” روحام نےکہا۔

“اللّہ حافظ” وہ مسکرا دی اور فون رکھ دیا۔

روحام کی باتیں سن کر وہ بلش ہو جاتی تھی اور جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو اس نے بہانہ بنا کر کال کاٹ دی۔