Skip to content
Home » Long Novel » Page 18

Long Novel

Dastaan e mohabbat by Ameer Hamza Complete novel

  • by

وہ سترہ سال کی اسفندیار کے سامنے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہاتھ ملا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے بات کر رہی تھی اپنی ماں کے کہنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے باتیں کرتے اس کی عادت ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے اس سے محبت ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچی محبت!!!

مگر محبتیں کہاں ملا کرتی ہیں سائرہ!!!

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ

والنجم والشجر یسجدن (55: 6) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔

تسبیح لہ ……………. تسبیحھم (71 :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔

الم تر ………… وتسبیحہ (4 2 : 1 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ )

جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ پوری کائنات سجدہ ریز ہے اور اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہے تو انسانی قلب کو حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بہت بڑا زاد راہ ملتا ہے۔ وہ اپنے ماحول کو زندہ سمجھتا ہے ۔ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر اللہ کی طرف فرار اختیار کرتا ہے۔ یہ سوچ روح کائنات سے یہ ہم نشینی انسان کو اس کائنات کا دوست بنادیتی ہے۔

یہ نہایت ہی دوررس اشارہ ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔

وہ اب اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے سرخ لباس میں مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس نے اسے اپنے پیچھے آئینے میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔اب وہ اسے چھپا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیچے آکر برتھڈے کا کیک کاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی نگاہ اسفندیار کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے ساختہ!!!!

وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ

آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔

آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ ذرا اوپر کو دیکھو ، تمہارے اوپر ایک ہولناک فضا ہے۔ بہت بلند بہت دور ، بلا حدود وقیود ، اس فضا کے اندر ہزار ہا ملین عظیم الجثہ اجرام فلکی تیر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آپس میں نہیں ملتے۔ ان کا کوئی مجموعہ دوسر مجموعات سے متصادم نہیں ہوتا۔ ان مجموعات کی تعداد میں ایک ایک مجموعے کی تعداد بعض اوقات ایک ہزار ملین تاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کو جس مجموعے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس میں ہمارے سورج جیسے اجرام بھی ہیں اور اس سے ہزار ہا گنا بڑے بھی ہیں۔ فقط ہمارے سورج کا قطر 21۔ املین کلومیٹر ہے اور یہ سب ستارے اور یہ سب کا مجموعے اس کائنات کے اندر نہایت ہی خوفناک تیزی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں لیکن یہ سب اس عظیم اور محیرالعقول وسیع فضائے کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح زمین کی فضا میں ذرات تیرر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے دور دور چلتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ (اور اگر ہوجائے تو ؟ )

Amanat season 2 by Sidra Kmal Complete novel download pdf

  • by

میں میں تمہارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں لیکن تمہیں پہلے وعدہ کرنا ہوگا

کیسا وعدہ ہانیہ ؟؟

یہی کے تم میرے بچوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاٶ گے۔۔۔

ہاہاہا

چلو منظور ہے ہانیہ

جیسے ہی ہانیہ حمزہ کے پاس پہنچتی ہے حمزہ غصے سے ہانیہ کو سر کے بالوں سے پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے

یہ تمہاری بھول ہے ہانیہ

کہ میں ان دونوں کو ایسے ہی چھوڑ دونگا۔۔۔۔یہ یہ دونوں مجھ اُس ایان کی یاد دلاتے ہیں

وہ ان دونوں میں زندہ ہے ہانیہ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب جب انہیں دیکھتا ہوں

ہانیہ نہایت سمجھداری سے کام لیتے ہوۓ حمزہ کی جیب سے بندوق نکال لیتی ہے

اور پھر حمزہ کے پیٹ پر زور سے کونی مار کر حمزہ کو خود سے دور کردیتی ہے۔

حمزہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور وہ حیرانی سے ہانیہ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو بلکل نڈر بندوق تھامے کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیا لگا حمزہ کے میں تمہاری بات مان گٸ ہوں ؟؟؟

میں تاحیات صرف اور صرف ایان کی ہی ہوں۔

جھوٹ اسی لیے بولا تاکہ اپنے بچوں کی حفاظت کرسکوں سمجھے ؟

حمزہ ہانیہ کی طرف بڑھتا ہوا کہتا ہے۔

ہانیہ اسے مجھے واپس دے دو یہ کوٸ کھلونا نہیں ہے۔

خبردار جو میرے قریب آۓ حمزہ

لیکن جب حمزہ نہیں رُکتا تو ہانیہ حمزہ کے پاٶں پر فاٸر کردیتی ہے۔۔۔

یہ دیکھ کر حمزہ کا ساتھی ہانیہ کو مارنے کے لیے فوراً اپنی بندوق نکالتا ہے لیکن حمزہ جلدی سے چاقو نکال کر اپنے ساتھی کے ہاتھ پر مارتا ہے۔

جس سے اُسکا ہاتھ کافی زخمی ہوجاتا ہے اور وہ اپنا توازن کھو دینے کی وجہ سے نیچے گرجاتا ہے۔

ہانیہ دیکھو اب بس بہت ہوگیا خود کو میرے حوالے کردو۔

ہانیہ حمزہ کے دوسرے پاٶں پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ میرے بچوں کو انکے والد کے ساۓ سے محروم کرنے کے لیے ہے۔۔۔

حمزہ درد کی شددت سے نیچے بیٹھ جاتا ہے

ہانیہ بس بہت ہوگیا مذاق یہ مجھ دو ادھر

میری دھڑکن کو اتنی بے رحمی سے قتل کرنا کیا مذاق تھا ؟

ہانیہ غصے میں حمزہ کے بازو پر فاٸر کرتی ہے۔

یہ ایک ماں کو اُسکی اکلوتی اولاد سے دور کرنے، ایک بیوی کو شوہر سے جدا کرنے ، اس ملک کے ایک جانباز سپاہی کا قتل کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔

ہانیہ ایسا مت کرو پلیز رک جاٶ

یہاں تمہیں بچانے والا کوٸ نہیں ہے

ہانیہ حمزہ کے دوسرے بازو پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ ہر اُس شخص کی طرف سے جن کو تمہاری وجہ سے تکلیف ہوٸ

حمزہ کے دونوں بازو اور ٹانگیں بری طرح زخمی ہوتی ہیں۔

بہت تڑپ رہا ہوتا ہے۔

تم میرے تڑپانا چاہتے تھے حمزہ زرا خود کودیکھو

میں اگر چاہوں تو تمہیں اسی وقت مار سکتی ہوں لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرونگی

تم قانون کے مجرم ہو مجھے کسی کی جان لینے کا کوٸ حق نہیں۔

ہانیہ جانے لگتی ہے تو حمزہ اپنی جیب سے دوسری بندوق نکالتا ہے اور کہتا ہے۔۔

اگر تمہارے ساتھ جی نہیں سکتا تو مرنا ہی سہی

Señorita kertenkele novel by Haniya Meow

  • by

خود کی دریافت کا سفر:**

یہ کہانی مسکراہٹ میں چھپی درر، اور اذیت کی۔۔ ایک ٹوم بوائے کی ، جو اپنے خود بین ماحول میں اپنے جذبات اور ادھوری خواہشات کو رنگوں کی مدد سے تصویر میں قید کرتی ہے۔ کہانی ایک پراسرار اجنبی سے اس کے روح پوش ہونے تک کے سفر کی ہے۔ ایک پراسرار روبوٹک انسان جو اپنے گہرے سوالات سے دوسروں کو کھردتا ہے۔ اور خود کو گہری تہوں میں بند کیا ہوا۔

یہ کہانی ہے دو انسانوں کی جن کا ماضی ایک دوسرے سے جوڑا ہوا ہے۔ کہانی ہے بدلے کی، ان کہی محبت کی، اذیت کی، روح پوش ہونے کی، انتظار کی۔۔۔

Aseer e mohabbat novel by Angel Sani 

  • by

مجھ۔۔ مجھے۔۔ بھوک۔۔ لگی ہے۔۔ وہ چہرا ایک بار پھر جھکا کر شرمندہ لہجے میں بولی تھی۔۔

تم بیٹھو میں لے آتا ہوں۔۔ وہ کہتا ہوا بغیر اسکی جانب دیکھے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔ سنائیہ نے اسکی پشت کو نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔۔ اور ہچکیوں میں روتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی تھی۔۔ وہ اسکی بے رخی سہہ نہیں پا رہی تھی۔۔

تقریباً پانچ منٹ بعد ہی وہ ہاتھ میں ایک ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوا جس میں ایک دودھ کا گلاس اور دو تین سینڈوچ تھے۔۔ سنائیہ نے اسے اندر آتے دیکھ اپنی گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور چہرہ جھکا کر بیٹھ گئی۔ سنان کو تکلیف تو ہوئی تھی اسے ایسے دیکھ کر پر فلحال وہ اپنے اوپر کھول چڑھائے ہوئے تھا۔۔ اس نے خاموشی سے ٹرے لے جا کر سنائیہ کے پاس رکھ دیا۔ اور خود واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے فوراً پلٹ کر اس کی جانب دیکھا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا خاموش اور سنجیدہ نگاہوں سے۔ کچھ اور چاہیے کیا؟ اسے خود کی جانب تکتا پا کر سنان نے نرمی سے پوچھا۔۔اس کا یہ نرم لہجہ اسے پھر سے رلا رہا تھا۔ اس کے گلے میں ایک گلٹی ابھر کا معدوم ہوئی۔ وہ محض نفی میں سر ہلا گئی۔۔ پھر کھا کیوں نہیں رہی ہو؟ اس نے فوراً پوچھا۔۔ آ۔۔ آپ نے کچھ کھایا تھا؟ وہ چور سے لہجے میں کہتی نظریں جھکا گئی۔ سنان بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اس وقت اسے سامنے بیٹھی اس لڑکی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ ہاں میں نے کھا لیا تھا۔ اس نے کہا تو سنائیہ نے پھر اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی وہ جھوٹ کہہ رہا تھا اس نے کچھ نہیں کھایا ہوگا اور نا ہی وہ اب کچھ کھانے والا تھا۔ اس لیے خود بھی ٹرے کو سائیڈ پر دھکیل کر رکھتی واپس لیٹنے لگی۔سنان نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔۔ سنائیہ کھانا کھا کر سونا نہیں تو میں بہت برا پیش آؤں گا۔۔ وہ ذرا سختی سے اسے دیکھ کر بولا جو تقریباً لیٹ ہی چکی تھی۔ مجھے نہیں کھانا۔۔ خفگی بھرے لہجے میں کہتی وہ اسکی جانب پشت کیے سسکیاں بھر رہی تھی۔ سنان نے اس کی پشت کو دیکھ کر ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا پھر اٹھ کے اس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔۔ سنائیہ چپ چاپ اٹھو یہ سینڈوچ کھاؤ اور دودھ پیو پھر میڈیسن کھا کر سونا۔۔ وہ قدرے سنجیدگی سے بولا۔۔ سنائیہ نے لیٹے لیٹے ہی نظروں کا زاویہ اسکی جانب گھمایا پھر صاف غضے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کروٹ دوسری جانب موڑ لی۔ سنان نے لب بھینچ تکیے پر بکھرے اس کے بالوں دیکھا پھر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے بخوبی اس کے اپنے پیچھے بیٹھتا محسوس کیا تھا۔ سنائیہ اٹھو۔۔؟ سنان نے اس کا کندھا ہلایا پر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ اس نے بغیر رخ موڑے کہا۔ سنان کا ضبط جواب دے رہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اسے زبردستی بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا۔ میں نے کہا نا مجھے نہیں کھانا کچھ بھی۔ آپ جائیں اور جا کر سو جائیں۔ آپ کو کیا ہے میں کھاؤں یا نا کھاؤں جیوں یا مرو۔۔ وہ با مشکل خود کو رونے سے باز رکھتے ہوئے بولی۔۔ تمہارے جینے مرنے یا کھانے یا نا کھانے سے مجھے ہی فرق پڑتا ہے اور پڑتا رہے گا سنا تم نے اب

فضول باتیں کرنا بند کرو اور چپ چاپ کھانا کھاؤ۔نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔وہ تنبیہ کرتا ہوا کہتا اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی اٹھانے لگا۔۔

Pyaar hua tha by Zeenia Sharjeel Complete

  • by

“آج ریان کافی خوش دکھائی دے رہا ہے”
وہ عرا کو مخاطب کرتی چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی عرا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی سے اٹھ گئی
“ویسے تمہیں تو خوش رکھا ہوا ہے ناں ریان نے”
مائے نور کے دوبارہ مخاطب کرنے پر عرا کو حیرت ہوئی
“جی ریان ہر لحاظ سے کوشش کرتا ہے کہ میں خوش رہو بہت کیرئنگ ہے میرے لیے”
مائے نور کے پوچھنے پر عرا اس کی بات کے جواب میں بولی
“اور پھر بدلے میں تم کیسے خوش کرتی ہو ریان کو، مطلب ایسا کیا کرتی ہو جو وہ تم سے خوش رہے”
مائے نور کے عجیب سے سوال پر عرا کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ مائے نور اس سے پوچھنا کیا چاہ رہی تھی
“بہت بھولی ہو ناں تم، سمجھ میں نہیں آرہی میری باتیں کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ واہ بھئی واہ بچہ پیدا کرلیا، دو مختلف مردوں سے محبت پالی مگر معصومیت وہی کی وہی برقرار ہے ابھی تک”
مائے نور باقاعدہ تالی بجاتی ہوئی عرا پر طنز کرتی بولی جس پر عرا کو ڈھیروں شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا
“اتنی جلدی بھول گئی تم زیاد کی محبت کو، اسی کے بھائی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے تمہیں زیاد کی یاد نہیں آتی یہ بھی یاد نہیں آتا کہ زیاد کس قدر محبت کرتا تھا تم سے۔۔۔ ایسے ہی کل کو ریان کو بھول کر کسی تیسرے مرد کے پاس بھی چلی جانا جو تمہیں ریان سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کرے دراصل تم جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والی لڑکیاں ایسی ہی تربیت حاصل کرتی ہیں اپنے بڑوں سے، وفا نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں تم تھرڈ لڑکیوں کے اندر۔۔۔ میں نے اپنی ساری جوانی، اپنی ساری عمر اس شخص کی وفا میں گزار دی جس نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی اہمیت دینا ضروری ہی نہیں سمجھا اور ایک میری بہو ہے جو آرام سے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اب اسی کے بھائی سے محبت وصول کرنا اپنا حق سمجھ رہی ہے۔۔۔ تف ہے تمہارے اوپر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں”
مائے نور کی باتیں سن کر وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پہ گرتی ہوئی بری طرح سسکنے لگی آج مائے نور نے جس طرح اس کو ذلیل کیا تھا اتنی ذلت اور سبکی اُس کو آج سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی

Ishq pagal kar deta hai by Sapna Gul Complete novel download pdf

  • by

کیا کہا تم نے تم یہ منگنی توڑ رہے ہو؟”پریسہ اس کے سامنے چیخی ۔

“ایم سوری پریسہ بٹ میں مجبور ہوں ۔”بہلول نے انگوٹھی اس کے سامنے رکھی۔

“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا بہلول! تم آخر ایسا کیوں کررہے ہو؟”

“پریسہ تمہیں کوئی اور چاہنے والا مل سکتا ہے لیکن سرینہ کو سرینہ کو میری ضرورت ہے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ۔”

“واٹ ڈڈ یو جسٹ سیڈ “پریسہ ساکت ہوکر پھر بولی ۔

“میرا کل سرینہ کے ساتھ نکاح ہے۔” بہلول تحمل سے بولا ۔

“ہاو کڈ یو؟” پریسہ نے آگے بڑھ کر اسے تھپڑ مارا ۔

بہلول کو اس قدر شدید ریکشن کی توقع نہیں تھی۔

“تم نے سمجھ کیا رکھا ہےایک دن مجھے پروپوز کرتے ہوئے اور دوسری طرف اس گھٹیا لڑکی کے ساتھ نکاح کرتے وے یو چیٹر۔”پریسہ زہر خند لہجے میں بولی ۔

“اسٹاپ اٹ پریسہ! میں جانتا ہوں اس وقت تم غصے تم کبھی سرو کے لیے ایسے لفظ نا استعمال کرتی تم جانتی ہو وہ تکلیف میں ہے وہ مر رہی ہے اسے میری ضرورت ہے۔”

“تو اس کا منگیتر کہاں مر گیا ؟”پریسہ چیخ کر بولی ۔

“منگیتر نے اس سے منہ موڑ لیا لیکن میں نہیں موڑوں گا ۔”

“ہماری منگنی ٹوٹی کوئی نکاح نہیں اب بس بھی کرو تم کوئی بھی چاہنے والا مل سکتا ہے پری اس لیے پلیز جسٹ فورگیٹ اٹ فرگیٹ اوریتھنگ وچ ہپین بٹویین اس۔”بہلول کو یہ سب کہتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی۔

“اوکے فائن جسٹ گو ٹو ہیل تین دن میں تمہیں نکاح کر کے دکھاؤں گی ایسی گری پڑی نہیں ہوں سرینہ کی طرح تم سے ہزار بہتر مجھے مل جائیں گے ناو گیٹ لوسٹ۔” پریسہ زور سے دھاڑی۔

بہلول نے ایک دکھ بھری نگاہ پریسہ پہ ڈالی اور وہاں سے چلا گیا ۔

“اللہ کرے تم برباد ہوجاؤ سرینہ تم نے میرا بہلول چھین لیا تمہیں موت آجائے ابھی اسی وقت مر جاؤتم ۔”

پریسہ ہر چیز کمرے میں اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی اور ساتھ میں سرینہ کو بددعا دئے رہی تھی ۔

“ارے بھئی کیا کررہی ہو بہلول نے کچھ کہا ہے تمہیں؟” پریسہ کی مام اندر داخل ہوئیں۔

“امی اس ڈائن نے میرا بہلول چھین لیا میں اسے مار دو ں گی۔” پریسہ منہ چھپا کر رونے لگی۔

“پری جانو! کون ڈائن ؟بتاؤ مجھے ۔”

اس کی امی کو جھٹکا لگا ابھی منگنی کو ایک ہفتہ ہوا ہے اور یہ سب ۔۔

“مام آئی ول ڈسٹروئے ہر شی روئین مائی لائف۔” پریسہ امی کے گلے لگتے ہوئے بولی۔

“پری ڈارلنگ مجھے سب کچھ بتاؤ ایک دم یہ سب۔”

اور پریسہ نے انہیں روتے ہوئے سب کچھ بتا دیا۔

Humsafar novel by Sitara Ahmed

  • by

”التمش نام ہے لڑکے کا۔۔گھبرو جوان ہے۔۔لاکھوں میں بھی ڈھونڈو تو نہ ملے۔۔

”اُف۔۔“ابریشم نے دل میں کہا اور کھانا نکالنے لگی۔۔

”اچھا بھلا خاندان ہے۔اس کے ابا کی تو پہلے ہی وفات ہو چکی ہے۔۔نہ نندوں کو جھنجھٹ ہے۔۔بس ماں اور بیٹا ہی ہیں۔۔“

”امی بس کردیں۔۔آپ کی کوٸ بات مجھے نہیں پگھلا سکتی۔۔مجھے شادی نہیں کرنی کسی فوجی سے۔۔۔“

”تم جو بھی بولو لڑکی۔۔تمہارے ابا نے تو فیصلہ کرلیا ہے۔۔ایک میں ہی تھی جو تمہیں راضی کرنے پر تلی تھی۔۔تم نے نہ ماننا تو نہ مانو۔۔شادی تو تمہاری التمش سے ہی ہوگی۔۔“

ابریشم نے غصے سے پلیٹ سِلپ پر دھری اور کچن سے باہر نکل گٸ اور جاتے جاتے امی کی آواز سنی۔۔

”اور سنو آج لڑکے والے آرہے ہیں۔۔اچھا سا تیار ہوجانا۔اور خبردار جو کوٸ حرکت کی تو۔۔ابا چھوڑیں گے نہیں تمہیں۔۔“

ابریشم نے کھٹاک سے کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔آخر اس کی مرضی کیوں نہیں دیکھی جارہی۔۔اکلوتی بیٹی ہونے کے ناتے اس کا اتنا بھی حق نہیں تھا کہ وہ شادی اپنی مرضی سے کرتی۔۔