Skip to content
Home » Long Novel » Page 16

Long Novel

Sarab by Aqsa Muhammadi Complete novel

  • by

میں آج آپکی بیوی لگ رہی ہوں لیکن تم اب بھی میرے شوہر نہیں لگ رہے. فجر نے بھی اس کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر شہریار نے برا سا منہ بنایا تھا. ہایے کتنی ان رومینٹک بیوی ملی ہے مجھے اور ساتھ میں کنجوس بھی. شہریار نے دہایی لی تھی اور اسکے کنجوس کہنے پر فجر کی آنکھیں پھیل گیی تھی. کیوں میں نے کیا کنجوسی دکھائی ہے. فجر اسکے تھوڑا قریب ہوکر تندہی سے بولی تھی. ہاں تو ہو نا تم کنجوس اتنا تو نہیں ہوتا تم سے کہ بے چارے شوہر کی تھوڑی تعریف ہی کرلو. یہ دیکھو اپنے اردگرد ساری لڑکیاں کیسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے مجھے اور ایک تم ہو.. شہریار نے اسے جلاتے ہوئے کہا تھا جس میں وہ کامیاب ہو بھی گیا تھا. ہاں تو جاؤ نہ انکے پاس میرے ساتھ کیوں کھڑے ہو جاؤ ان کے پاس.. فجر غصے سے بولی تھی. ٹھیک ہے وایفی جیسے آپکی مرضی. شہریار معصوم سا منہ بنا کر آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ فجر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا. شہریار نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا. وہ جو سامنے لڑکی ہے نہ اسکے ساتھ جو لڑکا بیٹھا ہے اس کا نمبر بھی لیتے آنا. فجر نے معصومیت سے کہا تھا اور شہریار جو کچھ اور ہی سننے کے لیے رکا تھا اسکی بات پر اسکی آنکھیں سرخ ہوگیی تھی. شہریار نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی تھی اور اس کے قریب ہوا تھا. تم میری ہو سمجھی صرف اور صرف شہریار آفندی کی. شہریار اسی طرح سرخ آنکھیں لیے کہہ رہا تھا. اور تم بھی میرے ہو سمجھے صرف فجر ملک کے. فجر بھی اسی کے انداز میں بولی تھی. شہریار کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی.

Zama Janaan by Tamana Noor Complete novel

  • by

“کیوں؟…کیوں کیا یہ سب؟میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟میرے معصوم بچے نے تمہارا ایسا کیا نقصان کیا ہے؟عدت کے بعد میں اپنے گھر چلی جاتی۔تم سب کو اپنی شکل بھی نہ دکھاتی۔پھر کیا دشمنی نکالی ہے تم نے؟”

وہ ہنسی۔

“ہائے ۔کیا بات پوچھ لی تم نے پیاری نند۔چلو بتا دیتی ہوں۔تمہارا تو پتا نہیں لیکن اس ہمائل خان نے ضرور میرا بہت کچھ بگاڑا تھا۔تو بس اسی کی سزا میں نے تمہیں دی ہے”

وہ چونک سی گئی۔

“حیرت ہو رہی ہے نا؟چلو سنو۔جب ہم ہمائل کے بھائی گلباز کی شادی پر گئے تھے نا…پہلی نظر میں مجھے بھا گیا تھا وہ…”

کانوں کو جیسے یقین نہ آیا کہ اس نے ابھی کیا سنا ہے اس کا منہ کھل سا گیا۔وہ کیا بکواس کر رہی تھی۔

“میں نے اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ تو بات بھی نہیں کرتا تھا۔ویسے نخرے تو سوٹ کرتے تھے اس پر…”

کس قسم کی گھٹیا عورت تھی جو اس کے شوہر پر فدا ہونے کے قصے اسے ہی سنا رہی تھی۔اسے شرم محسوس ہوئی کہ اس کی بھابھی جو بڑی بہن کی مانند تھی اسی کے شوہر پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

“میں نے اسے ایک شام اس کے کمرے میں اکیلا دیکھا تو میں نے اس سے بات کی کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔پتا ہے اس نے کیا کیا؟”

وہ مٹھیاں بھینچے اسے سنتی رہی۔

“اس نے میرے منہ پر تھپڑ مارا۔مجھے بد کردار کہا اور کہا کہ میرے جیسی عورتوں کو وہ دیکھنا بھی پسند نہ کرے”

دملہ نے شاک زدہ سے تاثرات لیے اسے دیکھا۔ہمائل نے اس سے کبھی اس بارے میں ذکر نہیں کیا تھا۔الٹا وہ تو حیران ہوتا تھا کہ مسکان کو ان دونوں سے مسئلہ کیا ہے؟

“پھر وہ میرے دل سے اتر گیا۔اسی وقت میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں کبھی موقع ملا تو اس کے یہ الفاظ اور تھپڑ اسے سود سمیت واپس لوٹاؤں گی۔شادی ہو گئی سب کچھ ٹھیک ہو گیا لیکن پھر وہ واجد کی شادی پر واپس آ گیا۔شک تو مجھے بہت پہلے سے تھا کہ وہ تم پر فدا ہے۔اسی لیے مجھے تم زہر لگتی تھی۔پھر جب تمہارا رشتہ آیا تو میں نے اپنے اس وعدے کو دہرایا۔تم سے شادی کے بعد وہ یہاں جب بھی آتا تھا ایسے ری ایکٹ کرتا تھا جیسے اسے وہ سب معلوم ہی نہ ہو۔جیسے وہ مجھے جانتا بھی نہ ہو۔مجھے موقع ہی نہیں مل رہا تھا کہ میں اسے سبق سکھا سکوں۔پھر دیکھو قسمت ،وہ مر گیا”

Junoon e mehram (S3 of ishq e mehram)By umm-e-omama Complete Novel

  • by

“سترہ سال چھوٹی ہے وہ تم سے”

“مجھے پروا نہیں ہے”

“زریام کبھی نہیں مانے گا”

“مجھے انکی اجازت نہیں چاہیے”

“حورم بھی نہیں مانے گی”

اسٹڈی روم میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی

”حورم مان جائے گی نہ مانی تو یہ اسکی اپنی غلطی ہے”

اسنے ضدی انداز میں کہا

“آپ جانتی ہیں نہ مام ڈیڈ ہمیشہ کہتے تھے کہ ارتضیٰ اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہے وہ غلط نہیں کہتے تھے میں واقعی میں اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہوں پھر چاہے وہ کوئی بےجان چیز ہو یا جاندار”

“حورم کوئی چیز نہیں ہے ارتضیٰ”

“بلکل وہ کوئی چیز نہیں ہے وہ ایک انسان ہے جس کے احساسات ہیں جذبات ہیں لیکن میں کیا کروں اسے چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے”

“وہ لڑکی میری سانسوں میں بستی ہے وہ میری سانسوں کی ڈور ہے اور اگر حورم شاہ ارتضیٰ آفندی سے دور ہوئی تو یہ ڈور ٹوٹ جائے گی”

اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے چلا گیا جبکہ وہ بھیگی آنکھیں لیے وہیں بیٹھی رہی

اسنے اور احسان نے ارتضیٰ کو ہمیشہ لاڈوں میں پالا تھا وہ ضدی بچپن سے تھا اگر کسی خواہش کا اظہار کردیتا تو اسے پوری کرکے دم لیتا تھا اسکی ضد پر ان دونوں نے کبھی کچھ نہیں کہا تھا

لیکن اگر حفضہ کو اندازہ ہوتا کہ اسکی یہ ضد آگے جاکر یہ روپ اختیار کرنے والی ہے تو وہ کبھی بھی اسکی بےجا ضد پوری نہیں کرتی

یہ کیسی محبت تھی جس میں وہ اپنی محبت کی خوشی ہی نہیں دیکھ رہا

یہ بات وہ اسے سمجھا نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ خود جانتی تھی کہ ارتضیٰ کے لیے حورم محبت نہیں تھی

اسکا عشق اسکا جنون تھی محبت ہوتی تو وہ شاید چھوڑ دیتا

لیکن وہ محبت نہیں تھی وہ اسکا پاگل پن تھی جسے وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا تھا

Dil e Zaar by Arfa Ali Complete novel

  • by

یہ کہانی دو لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو کزن ہونے کے ساتھ دوست بھی ہیں ان کی بچپن کی دوستی، کزنوں کی کہانی۔

یہ کہانی امل امجد اور فرقان حیدر کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔

یہ کہانی ہے ارہا کی جس نے اپنی محبت کو پانے کے لیے اپنی بھابھی پر الزامات لگائے۔

یہ کہانی ہے احسن ارسل کی جو یکطرفہ محبت میں مبتلا رہا، اس کی محبت اسے ملی یا نہیں یہ آپ ناول پڑھ کر جان پائیں گے۔

Marze isqa by Hira Nisar Complete novel

  • by

انمول مجھے تم سے بات کرنی ہے ارمان ملک مجھے تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کرنی تم اپنی بیوی کی عیادت کرو ویسے بھی اسے تمہاری ضرورت ہے جاؤ اس کے بعد اب تو خیر سے خوشخبری انمول تم میری بات سنو گی میں نہیں سونے والی انمول تم میری بیوی ہو اپ پاگل ہے میں اپ کی بیوی کیسے ہو سکتی ہوں میں اپ کی بیوی نہیں ہوں لوگ اسے بولی تھی تم میری بیوی ہو جیسے اس نے نکانی نامہ دکھایا تھا ٹھیک ہے اپ مجھے بھی ڈوز دیں ابھی اس کے منہ میں یہ بات ہی کہ رحمان کا ہاتھ اٹھا تھا اج دوسری دفعہ زندگی میں تم پاگل ہو میں تمہیں ڈوز نہیں کروں گا اپ مجھے بلا لوں گی ٹھیک ہے تم لوگ یہ بات بولنے کے ساتھ کمرے سے باہر انے لگا تھا جب اس کو دماغ میں کچھ لکھا ہوا تھا اس نے انمول کے بازو پکڑی اور اس کو جکڑ کے باہر لایا تھا جبکہ انور مسلسل اپنا باز چھڑوا رہے تھے ارمان نے کیا کرے چھوڑو انمول کہاں تھا اب اگر کوئی میرے یا انمول کے بیچ ایا تو قسم سے جو میں کرنے والا ہوں نا اس کے بعد اپ سب لوگ سوچتے رہیں گے چلو میرے ساتھ اس کو اپنے کمرے میں لے کر جا چکا تھا انڈے جانے کے ساتھ بالکل اپ کر چکا تھا تو اس سے بڑھا کر ویڈیو دکھا رہا تھا ان کا کہ یہ دیکھو دیکھو تم لیکن ارمان ملک تمہاری بیوی ون سیکنڈ ون سیکنڈ تم نے میرے ساتھ دوسری شادی کی ہے ہادیہ بھی تمہاری کام ہے اور یہیں سے اس کی غلت بہن بڑی تھی

Marwareed by Aqsa Batool Hayyat Complete novel

  • by

“کیا کسی کو دیکھنا گناہ ہے ؟” سامنے کھڑے شخص کا لہجہ سوالیہ ہوا۔ جانے اب وہ سوال تھا یا مزید گفتگو کا بہانہ۔

“نا محرم کو مسلسل گھورنا گناہ ہے۔” جواب بھی فوراً آیا تھا۔

“اور نا محرم کے ساتھ سفرکرنا۔۔۔؟” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔

“وہ بھی گناہ ہے۔” بیگ اسنے اپنے کندھے پر ڈلا۔ یعنی اب وہ جانے لگی تھی۔

اس سے پہلے کے وہ واقعی چلی جاتی، وہ چند قدم مزید آگے آیا ۔

“کیا اب ہم کچھ دیر کے لیے بھی بات نہیں کرسکتے؟”

جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ خفا سا ہوا۔

اس کی آنکھوں میں خفگی کا تاثر دیکھ کر اس لڑکی کی آنکھیں پھیلیں۔ وہ چند قدم چل کر اس کے سامنے آئی۔ پھر تھوڑا مزید آگے ہوئی، عین اس کے سامنے۔

“ہم بات کرسکتے تھے، لیکن آپ نے اعتماد قائم ہونے سے پہلے ہی کھو دیا۔” اس کا لہجہ زخمی ہوا۔

“آپ مجھے دس منٹ تو دے ہی سکتی ہیں۔” اسنے التجا کی۔

کئی سال پہلے وہ اسکی امید تھا، وہ اسے برا نہیں لگتا تھا لیکن اب اچھا بھی نہیں لگتا۔

اور مومنوں کی امیدیں نہیں مرتیں۔ وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔

“کیا وہ اسے مایوس کردے ،وہ جو کبھی واحد امید تھا۔”

“کیا وہ اسے واقعی دس منٹ دینے والی تھی؟”

Mohabbat ho to aesi by Rida Bint e Tahira Complete novel

  • by

“یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے۔ جو اپنے حسد اور لالچ کی وجہ سے جان نثار کرنے والے رشتوں کو نفرت کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے کردار بھی ملیں گے جو اپنی محبت اور جان نثاری سے یہ ثابت کر دیتے ہیں۔ کہ

“محبت ہو تو ایسی ہو”

Ishq E Borzam (Season 2 Of Jaan e Bohram) by Sam Asif Complete novel

  • by

آئزہ کیا ہوا ہے؟

کچھ نہیں بس اندر گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اس لیے باہر آگئی

وفا کا سوال سنتے آئزہ مسکراتے بولی تو وفا بھی اس کے پاس آتی جھولے

پر بیٹھی تبھی باقی بچے(برزم،الیحا،برہان،ارمغان،روحیل،زوبیا،عارب،

حوریہ) بھی باہر آتے ان دونوں کے پاس اردگرد کے صوفوں پر بیٹھے

اسے کیا ہوا ہے؟

روحیل بھائی بابا کے ایک دوست نے آئزہ کا رشتہ بھیجا ہے اور بابا نے

انہیں ہاں بھی کر دی ہے اگلے ہفتے اس کی منگنی کی رسم رکھی ہے بابا

آج یہ بات سب کو بتانے والے ہیں بس اسی لیے اس کا منہ بنا ہوا ہے

روحیل کے سوال پر برہان فوراً بولا تو سب نے آئزہ کو مبارکباد دی جسے

آئزہ نے بجھے دل سے وصول کیا

کیا بات ہے پرنسیس کیا تم اس شادی سے خوش نہیں ہو؟

آئزہ کی خاموشی دیکھتے برزم فوراً اس کے پاس بیٹھتا اس کے گرد اپنا بازو

پھیلاتا بولا تو آئزہ نے سے جھکاتے نفی میں سر ہلایا

اور کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟

برزم بھائی مجھے یہ شادی نہیں کرنی

کیوں تم کیا کسی کو پسند کرتی ہو بتاؤ بتاؤ

آئزہ کے ہلتے سر کو دیکھ کر برزم نے سوال کیا تو آئزہ فوراً بولی جس پر حوریہ

ایکسائٹڈ سی ہوتی بولی

ہممم اگر ایسی کوئی بات ہے تو بتا دو میں بڑے بابا سے بات کر لونگا

نہیں بھائی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

آپ سب کو چھوڑ کر ابھی نہیں جانا

حوریہ کی بات سنتے برزم بھی مسکراتے بولا تو آئزہ نے فوراً جواب دیا جس

پر سب نے مسکراتے اسے دیکھا اس سے پہلے کے کوئی کچھ بولتا آئزہ فوراً

برزم کے سینے سے لگتی رونے لگی اور سب کو پریشان کر گئی

آئزہ یار کچھ نہیں ہوا ابھی تو ویسے بھی انگیجمینٹ ہو رہی ہے تو اس میں

رونے کی ضرورت نہیں ہے شادی ہم تمہاری مرضی سے کر لیں گے

جب تم کہو گی ہم بڑے بابا سے بات کر لیتے ہیں

سچ میں بات کرو گے نا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی