Skip to content
Home » Long Novel » Page 15

Long Novel

Dastan-e-qalb by Maleeha Shah Complete novel

  • by

شادی کیسے کر سکتا ہے وہ؟؟ زرنش غصے سے پاگل ہورہی تھی۔

زینب تم نے روکا کیوں نہیں اسے؟ خدیجہ نے پوچھا۔

وہ زرنش کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟؟

دیکھو خدیجہ وہ اس لڑکی سے محبت کرتا ہے۔تو وہ اپنی خوشی سے جس کے ساتھ بھی رہنا چاہے رہ سکتا ہے۔زینب نے تحمل مزاجی سے سمجھایا۔

محبت۔۔؟مائ فٹ۔میری جگہ کوئ نہیں لے سکتا۔زرنش چلائ۔

تمہاری جگہ۔۔؟ایرک نے آیت کا ہاتھ ابھی تک نہیں چھوڑا تھا۔

تو یہ ہے وہ دو ٹکے کی لڑکی جس کے لیے تم نے مجھے ریجکٹ کیا۔زرنش ایرک کے قریب آئ۔

زبان کو لغام دو زرنش ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم ایک لڑکی ہو۔

آیت خاموشی سے بس تماشا دیکھتی رہی۔

اس نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ایرک نے اس کے ہاتھ پہ مزید دباؤ ڈالا۔

یہ کوئ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے۔۔ایرک ملک کی محبت ہےاور ایرک ملک جس سے محبت کرے وہ عام نہیں ہو سکتی۔

آیت کو تو گویا سانپ ہی سونگ گیا تھا،،محبت؟ یہ شخص مجھ سے محبت کرتا ہے سب جاننے کے باوجود بھی۔آیت خیران ہوئ۔

اس نے زندگی میں صرف ایک شخص کو چاہا اور وہ بھی نہیں ملا اس کو اور ایرک نے جس سے محبت کی وہ اسے مل گیا۔

یہ کیسا انصاف ہے اللہ؟؟

اب آپ دونوں یہاں سے جاسکتیں ہیں۔اور اس گھر میں تب آنا جب آیت کو دل سےقبول کر سکو۔

زرنش غصے سے اگ بگولہ ہو رہی تھی۔تمہیں میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔وہ آیت کو دیکھتی بولی اور چلی گئ۔

*******

آیت تم۔۔؟براک اسے ایسے دیکھ کے بہت خوش ہوا۔

آیت۔۔تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں کتنا مس کیا ہے؟براک فوراً سے بولا۔

جبکہ آیت کی نظر براک کے ساتھ کھڑے کاشان پر پڑی۔

جو سچ سامنے آنے والا تھا وہ بہت بھیانک تھا لیکن آج آیت کو سچ جاننا ہی تھا چاہے اس کے بعد اس کا دل کبھی نہ جڑنے کے لیے ٹوٹ جاتا۔

یہ تو۔۔وہی لڑکا ہے نا۔؟آیت نے بولنا شروع کیا۔

تم وہی ہو نا جو اس دن ہوٹل میں مجھ پہ جھوٹے الزام لگا کر گئے۔

آیت میں تمہیں بتاتا ہوں۔آو میرے ساتھ۔براک نے آیت کا ہاتھ پکڑنے کے لیے ہاتھ اگے بڑھایا ہی تھا کہ آیت نے ایک زور دار تھپڑ براک کے منہ پہ مارا۔

خبردار! جو اب مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو۔آیت نہیں جانتی تھی اتنی ہمت اس میں کیسے آگئ۔

یہ تمہارا دوست ہے؟؟آیت نے پوچھا۔

آیت میں تمہارے ہزار تھپڑ کھانے کو تیار ہوں پلیز پہلے میری بات تو سنو۔

جی میں براک کا دوست ہوں کاشان۔

آیت کو لگا جیسے اس کے سر پہ کسی نے آسمان گرا دیا ہو۔

اور تم سے۔۔تم سے کس نے کہا تھا سب کرنے کے لیے؟؟

کاشان خاموش رہا۔

بتاؤ۔آیت چیخی۔

میں بتاتا ہوں آیت تمہیں۔پہلے غصہ تو ٹھنڈا کرو۔

کاشان میں نے کہا ہے بتاؤ تمہیں کس نے کہا میرے ساتھ یہ سب کرنے کو؟

براک نے۔۔آیت کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔

براک نے۔۔؟آیت نے دوبارہ پوچھا

جی ۔۔!کاشان نے بتایا اور ادھر سے چلا گیا۔

گرم گرم سیال اب اس کا چہرہ،گردن بھگونے لگا۔

آیت میں اب سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔میرا یقین کرو۔

براک نے التجائیہ لہجے میں کہا۔

محبت کی بات تمہارے منہ سے اچھی نہیں لگتی براک۔

Mehram mohabbat by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“آپ یقیناً ،علیزے کے شوہر ہیں؟

(وہ منان کو شادی کی تصویروں میں دیکھ چکا تھا)”

اس نے معنی خیزی سے علیزے کو دیکھتے ہوۓ منان سے کہا تھا۔

“ہاں جی۔۔۔” علیزےکے رویے سے منان کے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ شہروز ہی ہے۔

“آپ جانتے ہیں میں کون ہوں اور آپکی بیوی سے میرا کیا تعلق رہا ہے؟”

شہروز نے پوچھا تھا۔

اور علیزے کو اپنے پیروں تلے سے زمیں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

بے شک وہ اپنے بارے میں منان کو سب کچھ بتا چکی تھی۔

مگر شہروز سے کیا بعید تھا کہ وہ اپنی طرف سے کہانیاں گھڑ کے منان کو علیزے سے متنفر کرنے کی کوشش کرتا۔

“میں اپنی بیوی کو جانتا ہوں میرے لیے یہی کافی ہے۔

اور آپ جیسا شخص جو بیچ بازار میں کسی لڑکی کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاۓ بغیر اسکی عزت کی پرواہ کیے،وہ کسی کی کم عمری کی نادانی تو ہو سکتا ہے،منزل نہیں ہو سکتا۔”

منان نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد علیزے کو لیکر باہر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔

اور علیزے کو یوں لگا تھا جیسے وہ تپتے صحرا سے ایکدم چھاؤں میں آ گئی ہو۔

Khalis ulfatein by Ayesha Suleman Complete novel

  • by

یہ ایسے کرداروں کی کہانی ہے جو زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہیں اور اس کہانی میں بتایا گیا کہ ہر انسان مکمل نہیں ہوتا ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی محرومی رکھی گئی ہے

Wehshi aurat by Samiya Hussain Complete novel

  • by

ایک ایسی کہانی جو حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اس میں دنیاوی زندگی کی تلخ حقائق پر مبنی لیکن سچ کا عنصر نمایاں کیا گیا ہے بار ہا قصے سنے اور کانوں میں پڑے لیکن کہتے ہیں نا جس پر گزرتی ہوئی جانتا ہے لوگ فقط منہ پر آپ کے ہوتے ہیں جبکہ آپکی پیٹھ پیچھے وہی لوگ اکثر برائیاں بیان کر رہے ہوتے ہیں ۔

Hidayat ki rah per gamzan by Mehk Kanwal Bhutta Complete novel

  • by

آج کی نوجوان نسل کے نام ۔اُن لوگوں کے نام جنہیں لگتا ہے اُنکے پاس سب کچھ ہے انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔جو لوگ کہتے ہے زمانہ بدل چکا ہے اُنکے نام ۔

یہ کہانی ہے غفلت کی،پچھتاوے کی،عشق کی ،دعاؤں پہ یقین کی،انا کی ،تکبر کی ،نفرت کی ،دوستی کی،محبت میں دھوکہ کھانے کی ، لالچ کی، سچی محبت کو پانے کی، سچی توبہ کی ، اولاد اور مال کی محبت میں حد سے بڑھ جانے والوں کی ، برائی کے انجام کی اور اللہ کی محبت کو پانے کی ۔ گمراہی سے ہدایت تک آنے کی۔

Deewana mousam by Rimsha Ansari Complete novel

  • by

“یہ روشنی مجھے شروع دن سے ہی مشکوک لگی ہے ،یہ روشنی کوئی بہت بڑا راز ہے ،بی جان بھی اس کے ساتھ ملوث ہیں مگر یہ کرکیا رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا ،آیت اور جمال حسین کو دیکھ روشنی کے چہرے کے رنگ بھی اڑگئے تھے ،اسے شاید ڈر ہے کہ اس کی حقیقت نہ کھل جائے،یہ صلہ کی بہن نہیں ہے تو پھر ہے کون اور کس مقصد سے یہ سب کررہی ہے،اس کا جو بھی مقصد ہے وہ میں پتا کرلوں گی”

Doodh wala by Saira Khan Complete novel

  • by

مجھے اندازہ نہیں تھا میری بیوی کے

دل میں میرے لیے اتنی محبت چھپی ہوئ ہے

میں تو سمجھتا تھا انتہائ مجبوری میں میرے ساتھ رہ رہی ہے ۔۔وو اس کے چہرے سے بال ہٹاتے اس کے روۓ روۓ چہرے کو

دیکھتے مبتسم ہو کر بولا ۔۔

یو نو نویرہ؟

بچپن سے میں نے جس سے بھی شدید محبت کی اور اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے کی خواہش کی وو ہی مجھ سے دور ہو گۓ ۔۔پہلے بابا

پھر امو جان ۔اور اب تم ۔۔مجھے لگا آج نہیں تو کل تم مجھے چھوڑ کر اپنے گھر چلی جاؤ گی ۔ان کے بعد میں تمہیں خود سے دور ہوتا نہی دیکھ سکتا تھا

اس لیے میں نے سوچا میں خود ہی ہمت

کر کے تمہیں ابھی جانے دوں ۔۔

وو سر جھکاۓ ہونٹ کاٹتے زمین کو گھورتا بول رہا تھا۔۔

مگر پھر قسمت نے مجھے اولاد کی خوش خبری دے کر ایک اور آزمائش میں ڈال دیا۔

میں تو تمہیں خود سے دور کرنے کی ہمت

نہیں کر پا رہا تھا ہر پل یہ ہی کھٹکا رہتا

اگر تم نے واقعی پیپر پر سائن کر دیے تو

اگر تم واقع مجھے چھوڑ کر چلی گئ تو ۔۔

ہر پل یہ ہی سوچتا کاش ٹرین اور ہوٹل میں

ہماری ملاقات نا ہوتی۔۔تو ہم بھی آج نارمل

کپل کی طرح رہتے

وو مظبوط مرد اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے

اس کے سامنے ٹوٹ رہا تھا ظبط کے باوجود

پلکیں نم ہو رہی تھی ۔

جبکہ نویرہ خود اسکے دل کی باتیں سن کر دکھی ہو رہی تھی ۔۔

اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ریہان شاہ کا سر اوپر کیا

میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگی

Ehd e intezar (Part 1 of hiyat beismik) by Bint e Aijaz Complete novel

  • by

“خدا کرے تجھے بھی محبّت تڑپاۓ

تیری سانسوں میں میرا نام آۓ

تیری دھڑکن کو میری صدا آۓ

تیری نظر میں اک حجاب آۓ

اس حجاب میں جھکی وہ پلکیں یاد آئیں

جو قدم تونے موڑ لیے…

ان قدموں کو دیکھ تو روز پچھتاۓ

خدا کرے تجھے بھی محبّت ترپاۓ

تو لوٹ کر پھر اس نگر میں جائے

وہ خالی میدان دیکھ تو چیخے چلاۓ

میری خاموشی میں چھپی میری ہسی تجھے یاد آۓ

تو بن چاہے لوٹ آۓ… بس ایک بار لوٹ آۓ

خدا کرے میری طرح تجھے میری محبّت ترپاۓ”

(بنتِ اعجاز)

Al qamar makhzoob by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

تم کب مجھے یہاں سے چھٹکارا دلاؤ گے ، گوری نہ جانے کتنی بار اس سے پوچھ چکی تھی، وہ اس کے پیروں کی طرف بیٹھی ہوئی تھی ۔

کیا مصیبت ہے یار! عادی کوفت سے اٹھا جھٹکا لگنے سے گوری پیچھے کو گری۔کہنی زمین پہ لگنے سے کراہی

اب اتنی بھی نہیں لگی جو آوازیں نکال رہی ہو۔وہ بیزارگی سے بولا ۔

بعض اوقات چھوٹی چھوٹی چوٹیں بڑے بڑے درد یاد دلا دیتی ہیں ، عادی، وہ زہریلی مسکراہٹ سے بولی۔

یہ کیا عادی عادی لگا رکھا ہے ، تم جیسی طوائفوں کے منہ سے مردوں کے نام نہیں اچھے لگتے سمجھی، اس نے اس کا بازو مروڑا تو وہ سسکی۔

ہم جیسی ؟ عورت جسم بیچے تو طوائف! اور اس جسم کے خریدار کو کیاکہتے ہوں گے صاحب؟ وہ طنزیہ ہنسی!

شٹ اپ وہ چلایا۔

جانتے ہیں اس کو کہتے ہیں درندہ ، سور اس سے بہتر ہوتا ہے ، گند میں منہ مارتا ہے مگر اس کا صفایا بھی خود کرتا تم جیسا نہیں ہوتا ، ہاں جو عورتوں کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے شادی کی لالچ دیں ، اور پھر کام بن جائے تو نمازی ہونے کا ڈھونگ کریں۔ وہ بھی حلق کے بل چلائی۔

عادی نے ہتھوڑے جیسے ہاتھوں میں اس کا نازک جبڑا زور سے پکڑا، ضبط سے اس کی انکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کی آنکھیں بند تھیں۔رخسار گلابی ہو رہے تھے۔ہونٹ پھڑپھڑا رہے تھے مگر ظالم کی گرفت اس کیلے گھٹن بن رہی تھی۔

ھا ھا تم سے شادی؟ وہ بھی عادی خان ؟ طوائف سے ؟ تم جیسی عورتیں صرف باہر کی زینت ہوتی ہیں جس زینت کا ہم مرد اچھے سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اور رہی بات خوبصورتی کی ، تو پرنسس یہی تو تمھاری دشمن ہے، بیوی میری تمھاری طرح تھوڑی ہو گی! وہ نحوست سے اسے جھٹک گیا۔

باہر کی عورت کو ناپاک کر کے تمھیں بیوی پاک چاہیے واہ کمال ! وہ استھزا سے اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔

چچ برا ہوا میں نے تمھیں ناپاک کیا؟ کیا اس سے پہلے تمھیں کسی نے نہ چھوا ہاں؟ وہ اسے مزاحیہ نظر سے جانچنے لگا ۔

اس نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا جو اس کو محرم بننے کا وعدہ دے چکا تھا۔

کیا انسان اتنی جلدی وعدوں کو پس پشت ڈال دیتے ، وہ اذیت میں تھی۔

کیا ہوا غصہ اریا ہے ؟ ھا ھا آنا بھی چاہیے تم جیسی معصوم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ تمھارا گاہک تمھارا محرم بنے گا ! کیا واہیات ہے ، مرد جس چیز کو خریدتے ہیں ، اس کو استعمال کے بعد مڑ کے دیکھتے تک نہیں ، جب تک وہ کام کی ہے یا جب تک دل نہ بھر جائے ، وہ اس کے کان میں سرگوشی کر کے بولا اور پیچھے ہٹ کے قہقے لگانے لگا۔

خدا تم سے حساب لے گا! وہ ضرور لے گا ، وہ ڈھے سی گئی ، اس کی آواز گھٹ گئ۔

عادی طیش سے اس کی طرف بڑھا اس کا منہ دبوچا۔

تم کون سی پارسا ہو ہاں تم بازار* عورت اس نے تپھڑ جڑ دیا،

مار دو مجھے چھین لو سانیسں، ازاد کر دو مجھے ، کر دو آزاد وہ روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھ گئ۔

عادی نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔

کوئی بھی نکاح نہیں کرتا ، کرنا ہوتا تو یہان نہ آتا اس لیے جو کام کرتی آرہی ہو وہی کرو زیادہ ہوا میں مت اڑو خاص طور پہ جب تمھارے پر کٹے ہوں وہ چبا چبا کے بولا۔

خدا تمھیں بھی تمھارے پیار سے دور کرے گا عادی مکافات عمل ہوگا تمھارے ساتھ ، وہ روتے ہوئے خود کو چھڑانے لگی۔

ھا ھا مکافات عمل ؟ یہ تو صرف کہاوت ہے پرنسس ، اجکل دوسروں کو رلانے والے مخلفیں لگاتے ہیں ، سکون میں ہوتے ہیں، عیش کرتے ہیں ، اور تم جیسے بیوقوف لوگ بس مکافات عمل کا انتظار کرتے ہیں، وہ استھزا سے بولا۔

تم اس ہستی کو بھول گئے عادی تم سفاک ہوگے تم لاپروا ہو گے وہ تمھیں گھٹنوں پہ لے آئے گا، وہ تم سے تمھاری انا غرور چھین لے گا ، پھر تم اسی در پہ تم ، تم عادی آو گے تب میں تمھیں دھتکاروں گی،وہ اس کے سینے پہ انگلی رکھ کر بولی اس کی انکھوں میں خون تھا۔

عادی نے اسے دور کیا اسے خوف آیا ، اس گھن آئی خود سے اسے کچھ سمجھ نہیں آئی ، وہ لمبا سانس لے گیا۔

تمھاری ہنسی جب چھن جائے گی تب تمھیں پتا چلے گا خوف خدا کیا ہوتا ہے، وہ غرائی۔

وہ کانپتے ہوئے پیچھے ہوا اس نے ماتھے پہ آیا پسینہ پونچھا اب وہ ہنس رہی تھی۔ اسے اور ڈر لگنے لگا اس نے شرٹ پہنی اور بھاگ آیا ، پہلی بار اسے طوائف نے ڈرایا تھا ، اسے خدا یاد آیا تھا ، اس نے گندگی میں پاکی تلاش کرنی چاہی ، یہ پہلی بار تھا۔مگر ابھی اسے سفر کرنا تھا