Skip to content
Home » Long Novel » Page 15

Long Novel

Ibtada e Mohabbat by Umm e omama Complete

  • by

“کیا دیکھا تم نے”

اسکے قریب آکر وہ پسٹل اسکی شہہ رگ پر رکھتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا

“ک–کچھ نہیں”

“میں نے پوچھا کیا دیکھا تم نے”

”م–میں کسی کو کچھ ن-نہیں بتاؤں گی”

اسکی پہلے سے زیادہ سخت ہوتی آواز پر وہ جلدی سے کہنے لگی

“ڈیرل کسی سے ڈرتا نہیں ہے بھری دنیا کو بتا دو”

“مجھے جانے دو”

“میں نے تمہارا راستہ کب روکا تم خود اپنی موت کے انتظار میں کھڑی ہو جانا چاہتی ہو تو جاؤ اس سے پہلے میرا موڈ مزید خراب ہو اور اگر میرا موڈ مزید بگڑا تو میں یہاں پر دوسرا قتل کرنے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا”

اسکی بات پر وہ اپنے شل ہوتے وجود کو گھسیٹتی بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
اور آریز بس اسکے دور جاتے قدموں کی آواز اپنے کانوں میں سنتا رہ گیا
°°°°°

Ababeel by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

یہ کہانی خیالی کہانی ہے مگر اس میں جو لکھا ہے وہ ہمارے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے میں بہت شکر گزار ہوں لائبہ پرویز کی جو مجھے سپورٹ کرتی ہیں۔مس شانزہ کی جو ہمیں پڑھاتی ہیں! اس کہانی میں ، میں نے بہت سے پولیٹیکل ویوز دئیے ہیں جو کہ میم شانزہ کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

اس کے ساتھ میں شکر گزار ہوں میم آمنہ یونس کی جنھون نے مجھے بہت سراہا اور مدد کی۔

یہ کہانی آپ کو بہت کچھ سکھا جائے گی انشاء ، امید ہے اس کو پڑھنے کے بعد اپ کے دل و دماغ میں میں رہوں یا نہ رہوں مگر وطن کی محبت ضرور جاگ جائے گی۔

Dastan-e-qalb by Maleeha Shah Complete novel

  • by

شادی کیسے کر سکتا ہے وہ؟؟ زرنش غصے سے پاگل ہورہی تھی۔

زینب تم نے روکا کیوں نہیں اسے؟ خدیجہ نے پوچھا۔

وہ زرنش کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟؟

دیکھو خدیجہ وہ اس لڑکی سے محبت کرتا ہے۔تو وہ اپنی خوشی سے جس کے ساتھ بھی رہنا چاہے رہ سکتا ہے۔زینب نے تحمل مزاجی سے سمجھایا۔

محبت۔۔؟مائ فٹ۔میری جگہ کوئ نہیں لے سکتا۔زرنش چلائ۔

تمہاری جگہ۔۔؟ایرک نے آیت کا ہاتھ ابھی تک نہیں چھوڑا تھا۔

تو یہ ہے وہ دو ٹکے کی لڑکی جس کے لیے تم نے مجھے ریجکٹ کیا۔زرنش ایرک کے قریب آئ۔

زبان کو لغام دو زرنش ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم ایک لڑکی ہو۔

آیت خاموشی سے بس تماشا دیکھتی رہی۔

اس نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ایرک نے اس کے ہاتھ پہ مزید دباؤ ڈالا۔

یہ کوئ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے۔۔ایرک ملک کی محبت ہےاور ایرک ملک جس سے محبت کرے وہ عام نہیں ہو سکتی۔

آیت کو تو گویا سانپ ہی سونگ گیا تھا،،محبت؟ یہ شخص مجھ سے محبت کرتا ہے سب جاننے کے باوجود بھی۔آیت خیران ہوئ۔

اس نے زندگی میں صرف ایک شخص کو چاہا اور وہ بھی نہیں ملا اس کو اور ایرک نے جس سے محبت کی وہ اسے مل گیا۔

یہ کیسا انصاف ہے اللہ؟؟

اب آپ دونوں یہاں سے جاسکتیں ہیں۔اور اس گھر میں تب آنا جب آیت کو دل سےقبول کر سکو۔

زرنش غصے سے اگ بگولہ ہو رہی تھی۔تمہیں میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔وہ آیت کو دیکھتی بولی اور چلی گئ۔

*******

آیت تم۔۔؟براک اسے ایسے دیکھ کے بہت خوش ہوا۔

آیت۔۔تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں کتنا مس کیا ہے؟براک فوراً سے بولا۔

جبکہ آیت کی نظر براک کے ساتھ کھڑے کاشان پر پڑی۔

جو سچ سامنے آنے والا تھا وہ بہت بھیانک تھا لیکن آج آیت کو سچ جاننا ہی تھا چاہے اس کے بعد اس کا دل کبھی نہ جڑنے کے لیے ٹوٹ جاتا۔

یہ تو۔۔وہی لڑکا ہے نا۔؟آیت نے بولنا شروع کیا۔

تم وہی ہو نا جو اس دن ہوٹل میں مجھ پہ جھوٹے الزام لگا کر گئے۔

آیت میں تمہیں بتاتا ہوں۔آو میرے ساتھ۔براک نے آیت کا ہاتھ پکڑنے کے لیے ہاتھ اگے بڑھایا ہی تھا کہ آیت نے ایک زور دار تھپڑ براک کے منہ پہ مارا۔

خبردار! جو اب مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو۔آیت نہیں جانتی تھی اتنی ہمت اس میں کیسے آگئ۔

یہ تمہارا دوست ہے؟؟آیت نے پوچھا۔

آیت میں تمہارے ہزار تھپڑ کھانے کو تیار ہوں پلیز پہلے میری بات تو سنو۔

جی میں براک کا دوست ہوں کاشان۔

آیت کو لگا جیسے اس کے سر پہ کسی نے آسمان گرا دیا ہو۔

اور تم سے۔۔تم سے کس نے کہا تھا سب کرنے کے لیے؟؟

کاشان خاموش رہا۔

بتاؤ۔آیت چیخی۔

میں بتاتا ہوں آیت تمہیں۔پہلے غصہ تو ٹھنڈا کرو۔

کاشان میں نے کہا ہے بتاؤ تمہیں کس نے کہا میرے ساتھ یہ سب کرنے کو؟

براک نے۔۔آیت کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔

براک نے۔۔؟آیت نے دوبارہ پوچھا

جی ۔۔!کاشان نے بتایا اور ادھر سے چلا گیا۔

گرم گرم سیال اب اس کا چہرہ،گردن بھگونے لگا۔

آیت میں اب سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔میرا یقین کرو۔

براک نے التجائیہ لہجے میں کہا۔

محبت کی بات تمہارے منہ سے اچھی نہیں لگتی براک۔

Mehram mohabbat by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“آپ یقیناً ،علیزے کے شوہر ہیں؟

(وہ منان کو شادی کی تصویروں میں دیکھ چکا تھا)”

اس نے معنی خیزی سے علیزے کو دیکھتے ہوۓ منان سے کہا تھا۔

“ہاں جی۔۔۔” علیزےکے رویے سے منان کے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ شہروز ہی ہے۔

“آپ جانتے ہیں میں کون ہوں اور آپکی بیوی سے میرا کیا تعلق رہا ہے؟”

شہروز نے پوچھا تھا۔

اور علیزے کو اپنے پیروں تلے سے زمیں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

بے شک وہ اپنے بارے میں منان کو سب کچھ بتا چکی تھی۔

مگر شہروز سے کیا بعید تھا کہ وہ اپنی طرف سے کہانیاں گھڑ کے منان کو علیزے سے متنفر کرنے کی کوشش کرتا۔

“میں اپنی بیوی کو جانتا ہوں میرے لیے یہی کافی ہے۔

اور آپ جیسا شخص جو بیچ بازار میں کسی لڑکی کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاۓ بغیر اسکی عزت کی پرواہ کیے،وہ کسی کی کم عمری کی نادانی تو ہو سکتا ہے،منزل نہیں ہو سکتا۔”

منان نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد علیزے کو لیکر باہر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔

اور علیزے کو یوں لگا تھا جیسے وہ تپتے صحرا سے ایکدم چھاؤں میں آ گئی ہو۔

Khalis ulfatein by Ayesha Suleman Complete novel

  • by

یہ ایسے کرداروں کی کہانی ہے جو زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہیں اور اس کہانی میں بتایا گیا کہ ہر انسان مکمل نہیں ہوتا ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی محرومی رکھی گئی ہے

Wehshi aurat by Samiya Hussain Complete novel

  • by

ایک ایسی کہانی جو حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اس میں دنیاوی زندگی کی تلخ حقائق پر مبنی لیکن سچ کا عنصر نمایاں کیا گیا ہے بار ہا قصے سنے اور کانوں میں پڑے لیکن کہتے ہیں نا جس پر گزرتی ہوئی جانتا ہے لوگ فقط منہ پر آپ کے ہوتے ہیں جبکہ آپکی پیٹھ پیچھے وہی لوگ اکثر برائیاں بیان کر رہے ہوتے ہیں ۔

Hidayat ki rah per gamzan by Mehk Kanwal Bhutta Complete novel

  • by

آج کی نوجوان نسل کے نام ۔اُن لوگوں کے نام جنہیں لگتا ہے اُنکے پاس سب کچھ ہے انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔جو لوگ کہتے ہے زمانہ بدل چکا ہے اُنکے نام ۔

یہ کہانی ہے غفلت کی،پچھتاوے کی،عشق کی ،دعاؤں پہ یقین کی،انا کی ،تکبر کی ،نفرت کی ،دوستی کی،محبت میں دھوکہ کھانے کی ، لالچ کی، سچی محبت کو پانے کی، سچی توبہ کی ، اولاد اور مال کی محبت میں حد سے بڑھ جانے والوں کی ، برائی کے انجام کی اور اللہ کی محبت کو پانے کی ۔ گمراہی سے ہدایت تک آنے کی۔

Deewana mousam by Rimsha Ansari Complete novel

  • by

“یہ روشنی مجھے شروع دن سے ہی مشکوک لگی ہے ،یہ روشنی کوئی بہت بڑا راز ہے ،بی جان بھی اس کے ساتھ ملوث ہیں مگر یہ کرکیا رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا ،آیت اور جمال حسین کو دیکھ روشنی کے چہرے کے رنگ بھی اڑگئے تھے ،اسے شاید ڈر ہے کہ اس کی حقیقت نہ کھل جائے،یہ صلہ کی بہن نہیں ہے تو پھر ہے کون اور کس مقصد سے یہ سب کررہی ہے،اس کا جو بھی مقصد ہے وہ میں پتا کرلوں گی”

Doodh wala by Saira Khan Complete novel

  • by

مجھے اندازہ نہیں تھا میری بیوی کے

دل میں میرے لیے اتنی محبت چھپی ہوئ ہے

میں تو سمجھتا تھا انتہائ مجبوری میں میرے ساتھ رہ رہی ہے ۔۔وو اس کے چہرے سے بال ہٹاتے اس کے روۓ روۓ چہرے کو

دیکھتے مبتسم ہو کر بولا ۔۔

یو نو نویرہ؟

بچپن سے میں نے جس سے بھی شدید محبت کی اور اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے کی خواہش کی وو ہی مجھ سے دور ہو گۓ ۔۔پہلے بابا

پھر امو جان ۔اور اب تم ۔۔مجھے لگا آج نہیں تو کل تم مجھے چھوڑ کر اپنے گھر چلی جاؤ گی ۔ان کے بعد میں تمہیں خود سے دور ہوتا نہی دیکھ سکتا تھا

اس لیے میں نے سوچا میں خود ہی ہمت

کر کے تمہیں ابھی جانے دوں ۔۔

وو سر جھکاۓ ہونٹ کاٹتے زمین کو گھورتا بول رہا تھا۔۔

مگر پھر قسمت نے مجھے اولاد کی خوش خبری دے کر ایک اور آزمائش میں ڈال دیا۔

میں تو تمہیں خود سے دور کرنے کی ہمت

نہیں کر پا رہا تھا ہر پل یہ ہی کھٹکا رہتا

اگر تم نے واقعی پیپر پر سائن کر دیے تو

اگر تم واقع مجھے چھوڑ کر چلی گئ تو ۔۔

ہر پل یہ ہی سوچتا کاش ٹرین اور ہوٹل میں

ہماری ملاقات نا ہوتی۔۔تو ہم بھی آج نارمل

کپل کی طرح رہتے

وو مظبوط مرد اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے

اس کے سامنے ٹوٹ رہا تھا ظبط کے باوجود

پلکیں نم ہو رہی تھی ۔

جبکہ نویرہ خود اسکے دل کی باتیں سن کر دکھی ہو رہی تھی ۔۔

اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ریہان شاہ کا سر اوپر کیا

میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگی