Skip to content
Home » Long Novel » Page 13

Long Novel

Tasawwur e musawir by Kainat Jameel Abbasi Complete novelette

  • by

کہتے ہیں کہ خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔

انسان کا خوبصورت ہونا لازم ہوتا ہے۔

مگر انسان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ۔۔

ہر انسان منفرد انداز میں خوبصورت ہوتا ہے۔

اور جان لو تم یہ بات کہ۔۔

خوبصورتی خوداعتمادی کا نام ہے۔

خوداعتمادی کے دو ہی اصول ہیں۔

یا تو تم خود کو جان کو

یا پھر اپنے خدا کو جان لو۔

خالق اور مخلوق کے درمیان

رشتہ صرف محبت کا ہے۔

جیسے کسی تصویر اور مصور کے درمیان

محبت کا تصور ہوتا ہے۔

تصویر کا حسن، مصور کے تصور کا حسن ہے

اور مخلوق کا حسن، خالق کی قدرت کا حسن ہے۔

کسی تصویر کی توہین دراصل مصور کی توہین ہے۔

اور کسی مخلوق کے حسن کی توہین، دراصل خالق کی قدرت کی توہین ہے۔

اگر تم خود سے کبھی محبت نہ کر سکے تو۔

تم حقیقی طور پر خدا سے محبت نہیں کر سکو گے۔

Insta I’d: @kainatjameelabbasi._.official

Kahani mukamal hui by Ayesha Tasneem Complete novel

  • by

طواف نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ غر ائی

وہ سب سے پاک تھی اس گھٹیا جگہ پر رہتے بھی وہ پاک تھی خدا نے اس کی حفاظت کی تھی اور تو۔۔۔۔ اس نے آنکھیں فرح بائی کی آنکھوں میں ڈالی اس کے منہ پر تھوکا فرح کا منہ نیچے جھک گیا

تجھے لگتا ہے کہ تم ہم سب کو بے بس کرے گی اور ہم سب تیری قید میں رہیں گے تو بھول گئی فرا بائی کے اوپر ایک خدا بھی بیٹھا ہے ہمارا خدا۔۔۔۔ وہ خدا جس کے پاس بے بس کرنے کی اور قید کرنے کی طاقت ہے جس کے پاس آزاد کرنے کی طاقت ہے تو نے وہ خدا بننا چاہا فرابا ئی تھی پر تو بھول گئی وہ خداقہر بھی برساتا ہے تجھ جیسے بندوں پر اور جب اس کا قہر آن پڑتا ہے فرح بائی اور ایک جھٹکے سے اس نے فرح کی گردن چھوڑ دی وہ نیچے جا گری

لیکن زارہ ابھی چپ نہیں ہوئی تھی تو سزا دے رہی تھی سوہا کو عبرت ناک تو میں بتاتی ہوں تجھے عبرتنات کسے کہتے ہیں جب خدا کا قہر آتا ہے نا تو تجھ جیسے بندوں کا حال کیا ہوتا ہے

فرہ بائی ابھی تک زمین پر گری تھی

اٹھ۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ جھک کر چیخی

فرا بائی اسی طرح پڑی تھی

اٹھ وہ پھر چیخی اور فرا بائی گڑبڑا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اب وہ اس کے بالکل قریب آئ ۔ اب اس کی اواز بھی دھیمی تھی

تجھے بہت شوق تھا نا سب کو بے بس کرنے کا آج تجھے میں بتاتی ہوں وہ اپنے سینے پر انگلی رکھ بولی بے بسی ہوتی کیا ہے

عابد استاد ۔۔۔۔۔ وہ زور سے بولی گن لائیں فرح بائی کی

فرا بائی کی خرا بھائی زور دے کر بولی وہ گن جو تم کبھی نہ چلا سکے کیونکہ اس پہ صرف اسی کا نام نقوش تھا اس سے صرف یہی مرے گی وہ فرح کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بول رہی تھی

عابد استاد سر ہلا کر فورا گیا اور دو منٹ بعد واپس ایا تو اس کے ہاتھ میں گن تھی بالکل پیک اس کا کور بھی نہیں اترا ہوا تھا گن کو دیکھ کر فرح کی ہوائیاں اڑی وہ ایک دم زہرا کے قدموں میں گر گئی

مجھے معاف کر دو زارا دیکھو جیسا تم کہو کہ میں ویسا کروں گی تم مجھے اپنا غلام بنا لو میں تمہارے غلامی کر لوں گی لیکن مجھے مت مارو وہ کانپ رہی تھی اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی زارا نے پاؤں کی ٹھوکر سے ا سے پیچھے کیا

وہ عابد کے پاؤں میں تھی اور زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی عابد میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کیا تم پلیز مجھے بچا لو اس کے پاؤں پکڑ رہی تھی عابد نے بھی بالکل زارہ کی طرف پاؤں کی ٹھوکر سے اسے پرے کیا تھا اب وہ التمش کے قدموں میں آئی تھی دیکھو میں نے تمہارے ساتھ برا کیا لیکن میں تمہیں سب کچھ دوں گی میں سوہا جیسی ہزار لڑکیاں تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی میرے پاس بہت پیسہ ہے وہ بالکل اس وقت کوئی پاگل لگ رہی تھی

Aye ishq e junoon by Arfa Khan Complete Novel

  • by

“اے عشقِ جنون” از ارفا خان – مکمل ناول
ایک ایسی محبت جس میں ہو جنون، شدت، قربانی… اور بےقراری۔

کبھی محبت عبادت بن جاتی ہے، اور کبھی جنون۔
“اے عشقِ جنون” ایک ایسی کہانی ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے — یہ عشق کی شدت اور جذبات کی انتہا کی داستان ہے۔

Dastan e qalb e ishq by Samra Nadeem Complete novel

  • by

داستان قلب عشق۔۔۔۔

دوستی کی داستان۔۔۔ پیار کی داستان۔۔۔ قربانی کی داستان۔۔۔

وہ داستان جس میں دو دل ملیں تو ایک دل ٹوٹتا ہے۔

داستان ہے یہ انمول دوستی کی ۔۔۔

محبت کی۔۔۔

عشق کی۔۔۔

داستان ہے یہ تقدیر کے فیصلوں پر یقین کی۔۔۔

وہ داستان جس میں دو دل ملیں تو ایک دل ٹوٹتا ہے۔

Ghasiq by Mahira Zaynab Khann Complete novel

  • by

یہ ناول سعدین حویلی کے مکینوں کی کہانی ہے جس میں کئی کرداروں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انتقام، دھوکے، دوستی، نفرت، محبت اور ایک جن زادے کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، ناول میں مافیا کے عناصر بھی شامل ہیں اور گرے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے، جو اپنے پیچیدہ تعلقات اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہیں۔ کردار اپنے ماضی، خواہشات اور تاریک پہلوؤں کا سامنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذبات، رازوں اور تقدیر کے ساتھ ایک طاقتور سفر شروع ہوتا ہے۔

Beast ka ishq Season 2 by Mahi Shah Complete novel

  • by

یہ اٹلی کی شام کا حسین منظر تھا جہاں سب مرد اور عورتیں اس شام کے حساب سے خوبصورت ملبوسات میں ملبوس دنیا کی سب سے بڑی نیلامی کی تقریب میں موجود تھے بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدان کے ساتھ شاہی خاندانوں کے بڑے بڑے لوگ لیونیراوڈو دا ونسی( Leonardo da Vinci)

کے آرٹ کی تخلیق کی دنیا کی دوسری مہنگی پینٹنگ کی نیلامی ہونے جا رہی تھی اور دنیا کے خرب پتی اور ارب پتی لوگ

بے چینی سے اس نیلامی کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے

لیو نیراوڈو ر دا ونسی کے آرٹ کی بہترین تخلیق میں سے ایک تھی جسے Salvator Mundi کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس وقت اسکا مالک “بدر بن عبدا ﷲ بن السعود” تھا جو کہ سعودی عرب کا کلچر منسڑ اور شاہی خاندان سے تھا۔ اسنے اٹلی

کے Doge’s Place میں اس نیلامی کی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔

اتنے میں پیلس کے مین گیٹ پر نیوی بلیو رنگ کی

Mercedes Maybach Exelero

آ کر رکی تھی۔اور اسکے پیچھے اسکے گارڈز کی گاڑیوں بھی موجود تھی ایک گارڈ نے آ کر گاڑی کا ڈور اوپن کیا۔

جس میں سے تقریباً پینتیس برس کا جوان آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے باہر نکلا تھا جو اس وقت آف وائٹ برانڈڈ فور پیس میں ملبوس تھا ہاتھوں میں مہنگی ترین گھڑی پہنے پیروں میں براؤن لیدر کے شوز پہنے بالوں کو نفاست سے جیل سے سیٹ کیے

وہ پیلس کے مین دروزے کی طرف بڑھا جہاں ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک انگریز لڑکی جو یونیفارم میں پہنے سب کے انیوٹیشن کارڈ کو سکین کرتے انہیں ویلکم کر رہی تھی۔

Welcome Sir please Show me your Invitation card…!

وہ لڑکی مسکراتے ہوئے بولی تو اسنے اپنے کوٹ کی پاکٹ سے اپنا انیوٹیشن کارڈ نکال کر اس لڑکی کو دیا جو وہ ڈیوائس پر سکین کرتے چیک کرنے لگی ڈیوائس سے اپروول ہونے کے بعد اس لڑکی کے انیوٹیشن واپس کیا۔

Thanks Goldy Sir Her The way you can go and

Have a good day…!

وہ لڑکی ہاتھ کے اشارہ سے اسے راستہ بتاتے مسکراتے ہوئے دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔

اسنے اندر داخل ہوتے اپنی شارپ نگاہوں سے چارو طرف کا جائزہ لیا سکیورٹی کا ہائی انتظام کیا گیا تھا۔

جب وہی کی انتظامیہ لڑکی نے اسے چہرے پر لگانے کے لیے ماسک کی ٹرے پکڑے ماسک آفر کیا۔

No Grazie

(نہیں شکریہ)

وہ اٹالین زبان میں بولتے شکریا ادا کرتے آگے بڑھنے لگا تو وہاں پاس کھڑے پچاس برس افریقن آدمی نے اسے روکا۔

آپکو یہ ٹرائے کرنے چاہیے دیکھیں کتنے خوبصورت ہیں اس افریقن حبشی آدمی نے اسے فرینڈلی لگانے کا کہا یقیناً وہ بھی کوئی بزنس مین تھا جو اس نیلامی میں آیا تھا۔

نہیں شکریا میں ایسے ہی ٹھیک ہوں وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

تو وہ افریقن حبشی آدمی اسے دیکھ کر مسکرایا جیسے اسے بہت اچھے طریقے سے جانتا ہو ۔۔۔۔

ہال میں سب کیسا لگ رہا ہے وہ آگے بڑھتے وہ اپنے کان میں لگے ائیر پیس میں ہال میں موجود بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدانوں کو دیکھتے بولا ان میں کہی لوگ شاہی گھرانوں سے بھی موجود تھے۔

بہت رئیسوں والی فیلنگ آ رہی ہے ایک خوبصورت نسوانی آواز گولڈی نے اپنے ائیر پیس میں سنی جو یقیناً ایما کی تھی

وہ لیڈیز تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھی وہاں موجود کئی لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھتے وہ ایک خوبصورت بلونڈ بالوں کے ساتھ سبز آنکھوں والی خوبصورت لڑکی تھی اور کوبرا کی ٹیم کا حصہ تھی لیکن کوبرا کی ٹیم کا حصہ ہونا وجہ اسکی خوبصورتی نہیں بلکہ اسکی کام میں قابلیت کے ساتھ مہارت تھی۔

اتنے میں بدر بن عبدا ﷲ السعود بھی وہاں آ گیا تو سب لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے اور نیلامی کی تقریب کا آغاز ہوا۔

اور ایک ہوسٹ سٹیج پر آ کر وہاں موجود ڈائیس پر کھڑی ہوئی…!!!!

میں ہو اپ کی ہوسٹ ایما۔۔۔۔۔

جی تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین آپکے آنے کا بہت شکریہ جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں آپکو یہاں صدی کی سب سے شاندار پینٹنگ کی نیلامی کے لیے مدعو کیا گیا دیکھتے ہیں کون قسمت والا ہوگا جو اسے حاصل کرے گا لیکن باقی سب دیدار کر سکتے ہیں اس شاہکار کا وہ اپنے ہاتھ سے سامنے موجود لال کپڑے ڈھکی ہوئی پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا اور وہ لال کپڑا پینٹنگ سے ہٹا دیا گیا پینٹنگ ایک ڈیجیٹل تجوری میں موجود تھی جسکے لاک کو ان لاک کرنے کے تین مراحل تھی پہلا مرحلہ صرف اسکے مالک کے چہرے کو سکین کرتی تھی پھر دوسرے مرحلے میں اسکی مخصوص آواز کے کوڈ سے اور تیسرا مرحلہ اسکے فنگر پرنٹس سے کھلتی تھی پینٹنگ کو دیکھتے سب لوگ تعریف کرتے تالیاں بجانے لگے۔جی تو باقاعدہ نیلامی کا آغاز کرتے ہیں۔

کیوں نا پچاس پانچ کروڑ سے شروع کیا جائے وہ ہوسٹ پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا

ٹائیگر پوزیشن پر پہنچ گئے وہ سامنے موجود پینٹنگ کو اپنی شارپ نگاہوں سے دیکھتے بولا جسے وہ جیسے شکاری اپنے شکار کو دیکھتا ہے۔

ہاں میں پہنچ گیا ہوں کوبرا اور سکارپیو کے قریب لوکیشن لے رہا ہوں وہ جیٹ بوٹ میں موجود سامنے ٹاور پر موجود اپنے سنائیپر ساتھی کو دیکھتے بولا جو دور بین کی مدد سے آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا

تو پھر آج انہیں ڈی گینگ کا کمال دکھا دیتے ہیں وہ سامنے موجود پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بولا۔

برو تجھے یاد ہے نا اپنی شرط اگر یہ پینٹنگ تو نا لے پایا تو تیری وہ

بلیک لگژری یاٹ میری ہوگی سکارپیو کی آواز ائیر پیس سے گونجی۔

دنیا کا ایسے کوئی کام نہیں ہے جو کوبرا نا کر سکے تم لوگ پارٹی کی تیاری کرو کیوں کہ آج یہ پینٹنگ تو ہم حاصل کر کے رہیں گے وہ سائیڈ سمائل پاس کیے بولا تو دوسری طرف سے ٹائیگر اور سکارپیو کا قہقہہ اسکے ائیر پیس میں گونجا۔

بالکل پیلس کے سامنے موجود بلڈنگ میں سی۔آئی۔اے کی ساری ٹیم موجود تھی جو کیمروں کی مدد سے اس تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھی انہیں مخبری کی گئی تھی کہ آج یہاں دنیا کی

دوسری مہنگی ترین پینٹنگ گولڈی چورانے والا ہے اس لیے وہ پوری ٹیم اپنی انسپکٹر ریچل کے ساتھ وہاں موجود سب لوگوں پر نظر رکھ رہی تھی وہ کتنے مہینوں سے گولڈی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ تھا کہ قابو آنے سے پہلے فرار ہو جاتا تھا۔

ذرا اس آدمی پر زوم کرنا انسپکٹر ریچل کمپیوٹر پر بیٹھے اپنے ٹیم میمبر کو دیکھتے بولی تو اسنے زوم کیا۔

مطلب خبر پکی تھی وہ گولڈی کے چہرے کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھتے دانت پیستے بولی۔

Sono un agente di polizia, Rachel, dell’Unità Culturale Haritage, sei qui?

میں پولیس آفیسر ریچل ہوں کلچر ہیری ٹیج یونٹ سے کیا تم لوگ وہاں موجود ہو وہ کان میں لگے ائیر پیس میں بولی۔

تو نیلامی کی تقریب میں موجود پولیس والے جو عام کپڑوں میں ملبوس تھے انہیں نے اوکے بولا۔

آج دیکھتی ہوں گولڈی تم کیسے میرے ہاتھوں سے بچ کر جاتے ہو وہ غصے سے گولڈی کے چہرے کو سکرین پر دیکھتے ہوئے بولی۔

آج کی شام کے سب سے خاص مہمان کا بھر پور تالیوں میں سے استقبال کریں جو نا صرف سعودی عرب کے کلچر منسڑ ہیں بلکہ اس شاہکار کے مالک بھی ہیں وہ ہوسٹ بدر بن عبدا ﷲ السعود کو سٹیج میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے بولا تو سب نے تالیاں بجاتے اس سعودی منسٹر کا استقبال کیا۔

جی تو قیمت لگانا شروع کرتے ہیں ایما پینٹنگ کی طرف دیکھتے بولا۔

تو وہاں موجود ایک آدمی اپنا ہاتھ اٹھاتے مائک میں پانچ ملین بولا۔

جی تو جرمنی سے پانچ ملین ایما بولی تو وہاں موجود دوسرے آدمی نے ہاتھ اٹھاتے بیس ملین بولا۔

جی تو آسڑیلیا سے بیس ملین ایما پھر سے بولی

پولیس والوں کی نظر گولڈی پر تھی جو ان آدمیوں کو بولی لگاتے دیکھ رہا جو کہ پچاس ملین تک پہنچ گئی تھی۔

Doosri mohabbat by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

خبر آئی کہ اس کا جنازہ آرہا ہے میرے جسم سے روح پرواز کرنے کی صدا ائی۔یہ کیا ہو گیا کیوں میں تو اس کی امانت ؟ کون سی امانت ! ہمارا نکاح؟ کیا ہوا تھا۔؟

میں نے اس کے جنازے پہ دل کھول کے آنسو بہائے ماتم کیا ، اس کی قبر پہ جا کر پوچھا کہ میرے ساتھ کیوں کیا۔مجھے کسی کے لئے کیوں چھوڑا، پھر میں نے اس کے قبر سے ایک ہیولہ دیکھا۔مجھے خوف خدا آیا ۔

میں وہاں سے بھاگی میں جب گھر آئی تو مجھے بخار تھا ۔مجھے سمجھ ائی میں نے گناہ سر زد کر لی ہے بہت بڑا ہاں میں نے نا محرم سے محبت کی پینگیں باندھی ، پھر مجھے اللہ کی پکڑ سے خوف آیا ۔

میں مے نمازیں شروع کیں ۔

میں اسے بھولنے کی کوشش کرنے لگی کافی مشکل کام۔تھا۔

میں مے توبہ کی مگر مجھے لگا کبھی قبول نہ ہو گی پھر اچانک ایک دن میں نے قرآن ایسے ہی بے دھیانی میں کھولا تو سورہ توبہ کھلی تھی

: کیا انھیں خبر نہیں ہے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتا ہے اور وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے:

یہاں تک کہ اتنی وسیع زمین ان پہ تنگ ہو گئی اور وہ اپنی جان سے بھی تنگ اگئے اور انھیں یقین ہوا کہ خدا سے پناہ نہیں پھر انھوں نے توبہ کی اور بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے

i: کیا انھیں نہیں خیال آتا ہے ہر سال ایک دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو یہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں نہ اسے یاد کرتے ہیں

مجھے تھوڑا حوصلہ ملا اور پھر سے کھڑی ہوگی ۔کہ۔بے شک وہ ذات غفور ہے تو مجھے معاف کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Dushman-e-Nafas Season 2 by Saira Ramzan Complete novel

  • by

ان کو لگتا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزارے گے غلط فہمی ہے تو بہت بڑی پر کوئی نہیں بہت ہی جلد دور بھی ہو جائے گی۔

مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر وہ چین سے رہے اتنا شریف تو خیر کوئی مرد نہیں ہوتا۔

ایسا حشر کروں گا کہ اگلی ساتھ نسلوں تک ان میں سے کوئی مسکرا نا سکے گا پورا خاندان روئے گا تڑپے گا جینا بھول جائے گا۔ اور جب سارے زندہ لاش بن کر گھومیں گے تب جا کر میں مسکراؤں گا۔۔۔ میں ہنسوں گا۔

ہاں میں ہنسوں گا ان کے رونے پر ، تڑپنے پر، گھٹ گھٹ کے جینے پر، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا مرر میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر خود سے ہی باتیں کر رہا تھا۔

***

اب تم یہاں پر بیٹھ کر شاعری کرنا بند کرو اور میرے ساتھ چلو ازبیہ بھابھی تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہیں؟

آریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ وہ آج بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، وہی ماتھے پر بکھرے ہوئے بال، وہی شلوار قمیض پہنے، وہی ہلکی سبز آنکھوں والا خاموش مزاج لڑکا۔۔۔۔ اگرچہ حلیہ وہی تھا مگر اس ایک حادثے نے اس کی آنکھوں کی چمک چھین لی تھی وہ جو مسکراتا تھا تو کوئی بھی قائل ہو جاتا تھا وہ اب کہاں مسکرا سکتا تھا۔۔۔؟

ان تین مہینوں نے اس کے چہرے کی چمک چھین لی تھی اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نڈھال سا اٹھ کھڑا ہوا۔

آریز نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گیا گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔

زایان ۔۔۔!!!

Teri chahat mein bikhri hoon by Muslim Girl Complete novel

  • by

“رشتوں کا احساس”

یہ کہانی ہے ہر اس انسان کےلیے،جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنے عزیز رشتوں کو چھوڑ کے اپنی دنیا میں مگن ہے۔۔بظاہر تو وہ خود کو ہزار تسلیاں دے کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے بیٹھا ہوگا لیکن حقیقت میں اس کی اندرونی حالت ظاہر سے مختلف ہوگی۔۔

“یہ کہانی ہے ایسی لڑکی کی جو ہر رشتے کو دل سے نبھانا جانتی ہے، جو اپنے اخلاق کی بدولت ہر دل میں گھر کر جاتی ہے”

اس نے ہر رشتے کی اہمیت کو اجاگر کیا، اپنی زندگی کو بھلائے وہ دوسروں کی خوشیوں میں خوش رہنا جانتی تھی۔۔اپنی زندگی، اپنی خوشیاں، اپنی خواہشیں ، اپنے خواب۔۔وہ سب بھلائے دوسروں کی خوشیاں چاہتی تھی۔۔۔

اس کہانی میں ہر رشتے کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔۔چاہے وہ ماں بیٹی کا ہو، باپ بیٹی کا ہو، بہن بھائی کا ہو، یا بہنوں کی آپسی محبت۔۔۔

“بظاہر یہ کہانی فرضی ہے، اس میں موجود ہر کریکٹر فرضی ہے، لیکن رشتوں کا احساس فرضی نہیں ہے”

ہم انسان اپنے عزیز رشتوں کے بغیر ایک خوشحال زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ امید ہے اس ناول کو پڑھنے والا ہر انسان رشتوں کی اہمیت کو سمجھے گا۔۔

اللہ ہمیں ہر رشتے کو صحیح سے بغیر کسی حسد، بغض اور نفرت کے نبھانے کی ہمت عطا فرمائیں ۔۔

آمین ۔۔۔

Teri nazar ke hisar mein by Jaweria Rafaqat Khak Complete novel

  • by

یہ کہانی ہمارے اردگرد موجود حقیقی کرداروں میں سے کسی کی بھی ہو سکتی ہے… حقیقت سے کافی حد تک قریب تر ہیں اس کے کردار “کچھ حقائق اور کچھ حد تک محبت بھی”… آج کل کے دور میں محبت کو بہت ہی سستا سا احساس بنا دیا گیا ہے جس کے نام پہ سب ہی ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں پھر چاہے وہ دھوکہ کسی بھی رشتے کو دیا جائے.. ایسا ہی کچھ ہے اس کہانی میں.. کھوکھلی محبت کی خاطر دوستی کا سودا….

جس دور میں عورت کی عزت محفوظ نہیں یہ کہانی بتاتی ہے کہ ہر مرد کی نظر بری نہیں ہوتی کوئی ایک نظر جو ہمیشہ آپ کو تحفظ کا احساس دلائے اور نہ ہی پولیس کا شعبہ اتنا برا ہے جتنا بدنام ہم لوگوں نے کر دیا ہے… نیکی کے ساتھ برائی برابر میں نہ ہو تو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط؟