Skip to content
Home » Long Novel » Page 12

Long Novel

Last bulit club by Alishma Nisa Comlpete novel download pdf

  • by

“مومو آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا.”کافی دیر بعد بھی جب مہرماہ کچھ نہیں بولی تو اس سے رہا نہیں گیا اور دوبارہ سوال کیا۔

“کچھ خاص نہیں بس اتنے کم پودوں کو لان میں دیکھ کر حیران ہوں.”اقراء نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔مطلب وہ ابھی تک یہ سوچے جارہی تھی کہ لان اتنا چھوٹا کیوں ہیں۔اس نے دل ہی دل میں ایک قہقہ لگایا تھا یعنی اسکی مومو بھی اسکی طرح فضول ہی سوچنے لگی ہیں۔مہرماہ کی کافی تقریبا ختم ہوچکی تھی۔تبھی کے سامنے رکھے میز پر رکھا اور شال اپنے کندھوں سے ہٹاکر ساتھ والی کرسی پر رکھا۔

“شاید آغا کو پودے پسند نا ہو۔”اس نے اپنے طرف س مدعا پیش کیا۔جس پر مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا۔

“بابا جان کو پودے کافی پسند ہیں۔اور یہی خوبی ان سے رجب بھائی اور آغا میں منتقل ہوئی ہیں۔اغا کو پودے کافی پسند تھے۔میں نے رجب بھائی سے سنا تھا۔جو پودا میں آغا کی پیدائش پر لگایا تھا۔اغا نے اسکا بہت خیال رکھا تھا۔”اقراء کو دلچسپی ہوئی تھبی ننگے پیر گھاس پر چلتے ہوئے آکر ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔انکی نظریں اپنے بائیں طرف کے پودوں پر تھیں۔لان کافی وسیع تھا مگر پودے اس میں نا ہونے کے برابر تھے۔

اقرا نے انکی نظروں کی تعاقب میں دیکھا تھا جہاں ایک پودے پر ننھی ننھی کھلیاں آگئی تھی۔جب اس نے مومو جو دوبارہ بولتے سنا۔

“بعد میں جب وہ پندرہ سال ہوا تب اس نے رجب بھائی کے گھر پر اسی پودے کے بہت سے قسمیں لگائی تھی بلکہ داؤد صاحب کہہ رہے تھے کہ اس نے تو اپنے نانا کے گھر پر بھی اپنا لان بنا رکھا تھا۔”بولتے ہوئے وہ پل بھر کو روکی تھی پھر دوبارہ بولنا شروع کیا”پنار بھابھی سے دور ہونے کے بعد تو اسکا زیادہ تر وقت کی پودوں کے ساتھ ہی گزرتا ۔اسے گارڈننگ بہت پسند تھی اقراء۔میں حیران ہوں کہ اس نے اپنے گھر پر اتنے کم پودے کیوں لگائے ہیں؟”وہ پریشان ہوئی تھی۔اقرا کو آج احساس ہوا تھا کہ مومو کو صرف اس سے ہی نہیں آغا سے بھی محبت تھی۔سورج کی کرنیں لان میں پڑتے ہی گرمی کا احساس ہوا۔تو اقراء نے شال خود پر سے ہٹاکر تہہ کرکے اپنے گود میں رکھا۔

“مومو آپ باخبر ہیں انکے بچپن سے کہ انکا بچپن عام بچوں کے بچپن سے قدرے مختلف گزرا ہیں۔چھوٹی عمر میں ہی وہ اس دلدل میں پھنس گئے تھے۔زندگی نے ان سے بہت تلخ امتحان لیا ہیں۔جس میں انکے سارے شوق دم توڑ چکے ہیں۔”مہرماہ کی نظریں اب اس پر تھی۔اپنے اوپر انکی نظروں کی تپش محسوس کرکے اقراء نے انہیں دیکھا۔

Nisa by Umaima Shafeeq Qureshi Complete novel

  • by

“مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں….”نسوانی آواز پر سب مردوں کو ہی جیسے دھچکہ لگا تھا۔وہ بزرگ انسان فورا چارپائی سے اٹھے تھے۔اپنی بیٹی کو اپنے سامنے دیکھ ایک غصہ کی شدید لہر ان کے جسم میں ڈور گئی تھی۔برسوں کی عزت آج جیسے خاک میں ملی تھی۔وہاں موجود سب مردوں کے چہروں پر ناگواری چھائی تھیں۔سب نے ہی اپنی نگاہیں پھیر لی تھیں۔جو چہرہ آج تک سات پردوں میں چھپا ہوا تھا،آج ہر کوئی باآسانی اس کا طواف کر سکتا تھا۔

“میرے ساتھ یہ ظلم نا کریں ابا۔آپ کی بیٹی اجڑ چکی ہیں۔مجھے طلاق ہو گئی ہے۔مجھے واپس مت بھیجیں۔”وہ بھاگتی ہوئی اپنے باپ کے پیروں میں گری تھی۔اب ان کے جوتوں پر ہاتھ رکھے وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔

“مجھے اسی آنگن میں زندہ دفنا دیں مگر مجھے واپس نا بھیجیں۔آپ کی بیٹی نے ہمیشہ آپ کا ہر حکم مانا ہے۔آج اپنی بیٹی پر اعتبار کر لیں ابا!”جوتوں پر رکھے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔صحن کی کچی اور گیلی مٹی نے اس کے سفید سوٹ کو گردآلود کر دیا تھا مگر اصل داغ تو اس کے ماتھے پر لگ چکا تھا،طلاق کا داغ….

“ہمارے خاندان میں طلاقیں نہیں ہوا کرتیں۔میرے بیٹے نے بھی تمہیں طلاق نہیں دی۔ حاجی جی!آپ کی بیٹی میرے بیٹے کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تبھی اس قسم کا جھوٹ باندھ رہی ہے۔”سماعتوں سے اب اس کے سسر کی آواز ٹکرائی تھی۔وہ سختی سے آنکھیں میچے مزید سر جھکا گئی تھی۔آسمان پر سرخ ابر کی جگہ اب کالی گھٹاؤں نے لے لی تھی۔گھر کے آنگن میں اب بجلی گرج رہی تھی۔

“کیا ثبوت ہے طلاق کا،نا کوئی گواہ اور نا ہی کچھ اور….!”

“عورت ناقص العقل ہوتی ہے۔یقینا سننے میں غلطی ہوئی ہو گی۔”اب مختلف لوگ مختلف قسم کی سرگوشیاں کر رہے تھے۔جس کے لباس پر آج تک گندگی کا ایک چھینٹا بھی نہیں پڑا تھا،آج اس کا لباس،اس کی عزت معنوں تار تار ہو رہی تھی۔

“کہا تھا نا کہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔”دروازہ بند کرتے اس کا شوہر اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا تھا۔

چادر کے اندر چھپے چاقو پر اس لڑکی کی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی۔ہاتھ لرز رہے تھے مگر اس کے پاس اب دوسرا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔

“اپنے دماغ میں یہ بات بٹھا لو کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، لوٹ کر تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے۔”بستر پر اپنا کوٹ اچھالتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا تھا۔

“جاؤ جا کر چائے بنا کر لاؤ۔”گھڑی اتارتے اس نے حکم صادر کیا تھا۔اس لڑکی کی آنکھوں میں اب خون اتر آیا تھا۔طیش کی وجہ سے وہ اب گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔

“آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے۔میں اب حرام ہوں آپ پر….”کچھ تامل کے بعد اس کے لب ہولے سے ہلے تھے۔

“ہاں دی ہے میں نے طلاق،اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس؟”اس کی جانب پلٹتے وہ تمسخرانہ انداز میں گویا ہوا تھا۔آنکھوں میں شیطانیت ہی شیطانیت تھی۔اس لاچار کی بےبسی اسے سکون دے رہی تھی۔

“آپ مان رہے ہیں کہ آپ نے مجھے طلاق دی ہے؟”وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بستر سے اٹھی تھی۔

“ہاں مان رہا ہوں۔ابھی تو تم میرے لیے چائے بنا کر لے کر آؤ اس کے بعد….”وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب گیا تھا۔وہ سہم کر پیچھے ہٹی تھی۔

“اس کے بعد میں تمہیں وہ سبق سکھاؤں گا کہ تم ساری زندگی یاد رکھو گی۔تمہاری وجہ سے میری جو بےعزتی ہوئی ہے،اس کا حساب تو تم دو گی۔چمڑی ادھیر دوں گا میں تمہاری….” اسے بازو سے دبوچے وہ سرد لہجے میں متکلم ہوا تھا۔

Raaz e dil by Kinza Khan Complete novel

  • by

رات کا تیسرا پہر تھا اور وہ اندھا دھند بھاگتی جا رہی تھی۔ بکھرے بال اور بکھرے سراپے کے ساتھ بہت ڈری سہمی قدم اٹھا رہی تھی۔ چار لڑکے اس کے تعاقب میں اس کے پیچھے آ رہے تھے۔ وہ اپنی عزت کی حفاظت کے لیے لگاتار بھاگ رہی تھی اور اس قدر ڈری ہوئی تھی کہ اسے کسی بھی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا اس سناٹے میں وہ اکیلی ان سے بھاگ رہی تھی اور لگاتار اللّٰہ سے اپنی آبرو کی حفاظت کی دعا کر رہی تھی۔ وہ بھاگنے میں اس قدر مگن تھی کہ اپنے سامنے سے آتی ہوئی گاڑی نہ دیکھ سکی اور اس سے ٹکرا کر بہت بری طرح زمین پہ گری اس کا سر پھٹ گیا اور ہلکا ہلکا خون رسنے لگا۔ وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرا گئی اور اس جگہ ہاتھ رکھ لیا جہاں سے سرخ مادہ بہہ رہا تھا۔

گاڑی میں سے ایک شخص باہر آیا اور پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ پریشانی سے پوچھا۔

“آپ ٹھیک ہیں؟۔۔۔۔”

Ar-Rahman by Hoor Ain Sikandar Complete novel

  • by

“یار کیوں اتنے الٹے کام کرتی ہو؟” وہ دانت ہچکچاتے اسے گھوریوں سے نواز رہا تھا۔

“بس مزہ آتا ہے۔” مقابل نے کندھے اچکائے۔

“تمہارے مزے کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔تمہیں سیدھا کرنا پڑے گا۔” عیسیٰ نے نچلے لب کا بایاں کنارہ دانتوں تلے دبایا۔

“آپ ہی کی ٹیڑھی پسلی ہوں کر سکتے ہیں سیدھا تو کر لیں۔” وہ ایک ادا سے بولتی عیسیٰ کو حیران کر گئی۔ عیسیٰ نے اس کی حاضر جوابی آنکھوں سے داد دی تھی اور آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔

“ٹیڑھی چیزوں کو ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی قبول کرنا چاہیے۔ سیدھا کرنے کی کوشش انہیں توڑ دیتی ہے۔ اور عیسیٰ سکندر کو حورعین عیسیٰ سکندر اپنے ٹیڑھے پن کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے، دل و جان سے قبول ہے۔” وہ مسکرا کر کہتا مقابل کو معتبر کر گیا تھا۔

Tasawwur e musawir by Kainat Jameel Abbasi Complete novelette

  • by

کہتے ہیں کہ خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔

انسان کا خوبصورت ہونا لازم ہوتا ہے۔

مگر انسان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ۔۔

ہر انسان منفرد انداز میں خوبصورت ہوتا ہے۔

اور جان لو تم یہ بات کہ۔۔

خوبصورتی خوداعتمادی کا نام ہے۔

خوداعتمادی کے دو ہی اصول ہیں۔

یا تو تم خود کو جان کو

یا پھر اپنے خدا کو جان لو۔

خالق اور مخلوق کے درمیان

رشتہ صرف محبت کا ہے۔

جیسے کسی تصویر اور مصور کے درمیان

محبت کا تصور ہوتا ہے۔

تصویر کا حسن، مصور کے تصور کا حسن ہے

اور مخلوق کا حسن، خالق کی قدرت کا حسن ہے۔

کسی تصویر کی توہین دراصل مصور کی توہین ہے۔

اور کسی مخلوق کے حسن کی توہین، دراصل خالق کی قدرت کی توہین ہے۔

اگر تم خود سے کبھی محبت نہ کر سکے تو۔

تم حقیقی طور پر خدا سے محبت نہیں کر سکو گے۔

Insta I’d: @kainatjameelabbasi._.official