Charagar complete by Shaista Waheed
Digest Novels – A Gateway to Engaging Stories Charagar complete by Shaista Waheed Available to read online and Download PDF . This is digest story Digest… Read More »Charagar complete by Shaista Waheed
Digest Novels – A Gateway to Engaging Stories Charagar complete by Shaista Waheed Available to read online and Download PDF . This is digest story Digest… Read More »Charagar complete by Shaista Waheed
یہ کہانی محبت، قربانی اور تقدیر کے سنگم پر کھڑے ان کرداروں کی ہے جو زندگی کی کٹھن راہوں میں اپنے جذبات، خوابوں اور رشتوں کی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ انسان کی خواہشات اور قسمت کے درمیان چلنے والی جنگ، امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے لمحات، اور محبت کے رنگوں میں لپٹی تلخ حقیقتیں اس کہانی کی روح ہیں۔
“تیری راہوں میں” نہ صرف ایک دلکش رومانی کہانی ہے بلکہ یہ زندگی کے حقیقی مسائل اور جذباتی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ محبت کی ان راہوں کی داستان ہے جہاں راستے ہمیشہ ہموار نہیں ہوتے، قربانیاں دی جاتی ہیں، صبر آزمایا جاتا ہے اور کبھی کبھی محبت کے باوجود بھی جدائی مقدر بن جاتی ہے۔
Sneak
وہ چاروں نشے میں دھت پڑے تھے ۔۔ شراب کی بوتلیں ان کے اردگرد پڑی ماحول میں بو پھیلا رہیں تھیں ۔۔ سمندر کی لہریں رات کے سناٹے میں شور مچا رہیں تھیں ۔۔
یار بس کر دو پینا ۔۔ گھر کیسے جائیں گے ۔۔ جازب آفندی نے ماہر کو شراب کو پھر سے شراب منہ کو لگاتے دیکھ کر ٹوکا تھا ۔۔ ان تینوں کی بانسبت جازب نے کم پی رکھی تھی ۔۔ جبکہ وہ تینوں اپنے ہواس غواہ رہے تھے ۔۔
یار آج کی رات تو عیش کرنے دے ۔۔ میرے باپ الیکشن جیت گیا ہے ۔۔ ماہر بولتے ہوئے لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا تھا ۔۔ جبکہ یمن اور زین سمندر کی خشک مٹی پے گرے پڑے تھے ۔۔ وہ اس قدر شراب پی چکے تھے کہ اٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے ۔۔
رات بہت ہو گئی ہے چلو اٹھو گھر چلیں ۔۔ جازب گاڑی کی چابی اٹھ کر ان کو بھی اٹھاتے ہوئے بولا ۔۔ جو ایک انچ نہیں ہلے تھے ۔۔
نہیں آج کی رات یہیں رہتے ۔۔ چاندنی رات کے نیچے ۔۔ یمن نشے میں دھت ہوتا بولا تھا ۔۔ اس کی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں ۔۔ نشہ آہستہ آہستہ اس کے حواس سلب کر رہا تھا ۔۔
****************
Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel Jantar Mantar by Sumaiya Moin – A Haunting Tale of Black Magic Urdu literature has long been… Read More »Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel
یہ ایک ایسے غیر مسلم جوان کی کہانی ہے جس کو اللّہ نے معجزہ دکھایا۔ میں جب بھی ٹائم ٹائم ٹریول کا لفظ پڑھتی یا سنتی تو میرے ذہن میں اصحاب کہف کاواقعہ آتا۔ اب اس کہانی میں ایک نوجوان ہے جس کے مطابق اس نے بھی ٹائم ٹریول ایکسپیرینس کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے بھی صدیوں کا سفر طے کیا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے؟ یہ جاننے کےلئے تو آپ کو پوری کہانی پڑھنی پڑے گی۔ ارے آپ تو پوری کہانی کا سنتے ہے بھاگنے لگے فکر نہ کریں یہ بہت مختصر سی کہانی ہے۔آپ کو بور نہیں کرے گی۔ تھوڑے الفاظ میں ساری بات مکمل کی ہے۔ پڑھیں سیکھیں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔ جزاک اللّہ
عمریں گزر جاتی ہیں مگر من ادھورے رہتے ہیں۔
” غم ہلاک کر نے آجاتا ہے، اگر کبھی خوشیاں آبھی جائیں روشنی کے باوجود بھی اندھیرے ختم نہیں ہوتے ۔چند روزوصال کے بدلے صدیوں کا ہجر مل جاتا ہے ۔ تب چہرے نامکمل ہی رہتے ہیں۔ پھر خوشیاں بھی چہرے کے مسخ حصے کو واپس نہیں لا سکتیں ۔سب ادھورا رہ جاتا ہے۔ “وہ ویران آنکھیں پینٹنگ پر جمائے اس کی خدوخال بیان کر رہی تھی۔ جبکہ وہ پس پردہ ہر غم کا محرم تھا ۔
’’شاندار لڑکی۔ بائی دا وے۔ اس پینٹنگ کا ٹائٹل کیا ہے؟” اس لڑکی کا تجسس بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔ مرحا نے پلٹ کر برف نظر ریحان پر ڈالی۔ وہ اب بھی نظر زیر کیے کٹہرے میں کھڑا تھا ۔
اب وہ لڑکی مرحا سے باتوں میں مصروف تھی۔ وہ اس سے پینٹنگ سے متعلق گفتگو کر رہی تھی۔ اس تصویر میں وہ لڑکی کتنی ادھوری اور کتنی نامکمل لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے سے کتنی مایوسی اور دکھ جھلک رہا تھا۔ کتنی نامکمل تھی وہ تصویر۔ مگر اس کے اس آدھے چہرے سے سب مکمل طور پر عیاں تھا۔اس نے غور سے دیکھا تھا، تو تصویر کے نیچے چند الفاظ نے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔
’’پتھروں تلے پسا کانچ سا من ‘‘وہ چونک کر اسے دیکھ رہا تھا۔
“دلوں کا میل” ایک جذباتی کہانی ہے جو محبت، قربانی، اور اندرونی کشمکش کے پیچیدہ رشتوں کو بیان کرتی ہے۔ یہ کہانی ایال اور عیشان کے گرد گھومتی ہے، جن کی زندگی کے راستے مختلف ہیں لیکن تقدیر انہیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے۔
ایال، ایک پُرامید اور خوابوں سے بھرپور لڑکی، جس کی زندگی خوشیوں سے جُڑی ہے، مگر اندرونی طور پر وہ اپنے وجود کے گہرے سوالات کا جواب تلاش کر رہی ہے۔ عیشان، ایک ایسا شخص جس کی شخصیت بظاہر مضبوط اور پرسکون دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے دل کے اندر ماضی کے دکھ اور تلخ حقیقتوں کا بوجھ چھپا ہوا ہے۔
کیا جو اللہ کے لیے چھوڑا جائے، وہ کبھی لوٹ آتا ہے؟
کیا جو رب کے خوف سے قربان کیا جائے، وہ پھر نصیب بن سکتا ہے؟
کیا خاندانی مسائل اتنے گہرے زخم دے سکتے ہیں کہ انسان خود کو ہی کھو بیٹھے؟
کیا حق کی راہ واقعی اتنی کٹھن ہوتی ہے کہ ہر قدم ایک نئی آزمائش بن جائے؟
یہ سوالات ایال اور عیشان کی کہانی کی بنیاد ہیں—ایک ایسی کہانی جو قربانی، محبت، اور ایمان کی آزمائشوں سے لبریز ہے۔ ایال کے خواب اور عیشان کے اصول، ان کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا کر دیتے ہیں جہاں صرف اللہ کی رضا کا نور ہی رہنمائی کر سکتا ہے۔ لیکن کیا وہ اپنے خوابوں اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر اس روشنی تک پہنچ پائیں گے؟
یہ کہانی آپ کے دل کو چھو لے گی اور آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ کیا حق کی راہ پر چلنے والوں کو ان کی منزل واقعی ملتی ہے؟
کہانی کا خلاصہ.. A۔J
سلسبیل جو بہت خوبصورت لڑکی ہے،جرمنی میں اپنے دادا دادی اور باپ کے ساتھ رہتی ہے۔دادی بیكری چلاتی ہیں اور گاؤں میں یہ لوگ جانور بھی پالتے ہیں۔س کا ایک بھائی ڈینی ہے اور دوست ڈی سوزا جس کی ماں نے اس کے باپ کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔
سلسلبیل کی ماں وفات پا گئی تھی تو دوسری شادی باپ نے کی اور سوتیلی ماں کا رویہ اس کے ساتھ بہتر نہیں جس کا باپ روبرو اور بھائی روسی اکثر ان کے گھر ملنے آتے ہیں اور ان کا آنا دادا دادی کو پسند نہیں۔
ہیرو ہشام بھی جرمنی میں ڈاکٹر ہے جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے جس کی ماں شراب نوشی کرتی ہے اور مر جاتی ہے۔
ہشام کی سوتیلی ماں پاکستان میں ہیں جو نرجس بیگم ہیں اور پیار سے انھیں جی جی کہتے ہیں جو اس سے بہت محبت کرتی ہیں اور کافی سالوں سے منتظر ہیں کہ سوتیلہ بیٹا پاکستان آجاۓ اور جائیداد اس کے حوالے کردیں وہیں وہ شافیہ کی شادی ہشام سے کرانا چاہتی ہیں۔
شافیہ نرجس یعنی جی جی کے محلے میں اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہن عرشیہ کے ساتھ رہتی ہے جن کا رویہ شافیہ کے ساتھ اچھا نہیں اور اس کی جی جی سے بہت بنتی ہے اور یہ بھی ہشام کو پسند کرتی ہے اور اس کے آنے کی منتظر ہے۔
اسی گلی میں غوثیہ اپنے بیٹے شاہ ویز کے ساتھ رہتی ہیں جو شافیہ کو پسند کرتا ہے اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں جن کے والدین نہیں ہیں۔یعنی خداداد بڑا بھائی ہے جو سب بہن بھائیوں کو والدین کی طرح کیئر کرتا ہے شایان،داؤد،سلیم اور ایک بہن سنہرے گھر کے فرد ہیں۔
سنہرے کی شافیہ سے دوستی ہے شافیہ کی ماں سمیرا چاہتی ہیں کہ عرشیہ کی شادی خدا داد سے ہوجاۓ۔
خطیب فلسطینی ہے جس کاسارا خاندان شہید ہوگیا اور اب یہ جرمنی آگیا ہے اور ہشام سے اس کی دوستی ہے وہیں کالج میں وہ سلسبیل اور ڈی سوزا سے بھی ملتا ہے۔خدا داد جو سلسبیل کو پسند کرتا ہے یہ اپنی فیملی کے ساتھ جرمنی شفٹ ہوجاتا ہے جس کی دوستی ہشام اور خطیب سے ہوجاتی ہے کہ ایک ہی کالج میں پڑھ رہے تھے۔
ہشام کی سگی ماں نشے کی وجہ سے مر جاتی ہے تو وہ پاکستان جاتا ہے اور نرجس بیگم کی خواہش کو پورا کر کے شافیہ سے نکاح کرتا ہے .
سلسبیل کی سوٹیلی ماں بھی اس کے باپ سے بے وفائی کر کے بھاگ جاتی ہے اور ایک رات کے اندیهرے میں کوئی آ کر سلسبیل کے ساتھ زیادتی کرتا ہے وہ سمجھتی ہے یہ روبرو ہے جو اس کی سوتیلی ماں کا شوہر ہے۔
ہشام شافیہ کو بتا دیتا ہے کہ وہ سلسبیل کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کر کے اسے سہارہ دے گا۔
باقی کہانی میں پڑھیں کہ
سلسبیل کا مجرم کون ہے؟
کیا شافیہ ہشام کے ساتھ رہے گی؟
ہشام کا راز بھی ہے وہ کیا ہے؟
بہت زیادہ فلاسفی سے بھرپور کہانی ہے جس میں رائیٹر نے بہت منفرد انداز میں ناول لکھا ہے جسے سمجھنا کچھ مشکل ہے مگر رائیٹر کی علمی قابلیت قابل تعریف ہے۔
Ummid e Subh Jamal by Umme Maryam – A Beacon of Hope and Resilience Ummid e Subh Jamal by Umme Maryam is a heartwarming Urdu… Read More »Ummid e subh Jamal by Umme Maryam Complete Novel
اس منحوس کو کب رخصت کرنا ہے پانچ سال ہو گئے اس کے نکاح کو ۔۔ زرتاج بیگم کی زہر میں ڈوبی آواز وہ بھی باآسانی سن سکتی تھی ۔۔ جو اندر احمد صاحب کو بول رہیں تھیں مگر پس پردہ وہ اسی کو سنا رہیں تھیں ۔۔ اس نے جلدی سے کھانا بنایا اور کمرے میں بند ہو گئی ۔۔ یہ تو روز کا معمول بنتا جارہا تھا ۔۔ وہ ضبط کی انتہا پے تھی ۔۔ زرتاج بیگم کے یہ طعنے اب اس کو زخمی کرنے لگے تھے ۔۔ وہ پانچ بیٹیوں کی ماں ہونے کے باوجود اس کا دکھ اس کی تکلیف کو نہیں سمجھ سکیں تھیں ۔۔ وہ اپنی مرضی سے تھوڑی ان کی دہلیز پے بیٹھی تھی۔۔ مگر وہ ان سے شکوہ کس بنیاد پے کرتی جب اس کا اپنا باپ ہی ظالم اور سفاک نکلا تھا ۔۔ جو اس کی ماں کی وفات پے بعد اس کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔ اور وہیں اپنی دنیا بسا لی تھی ۔۔ اس کو اپنے بھائی بھابھی کے رحم و کرم پے چھوڑ دیا تھا ۔۔ اس نے کرب سے سوچا اور آنکھیں موندھ لیں ۔۔ اور یہی سب اس کے ساتھ فاران کر رہا تھا ۔۔ جو اس سے نکاح کر کے اس کو بھول ہی گیا تھا ۔۔ اس کی ماں کی حیات میں یہ نکاح ہوا تھا ۔۔ اس کے بعد فاران بھی بیرون ملک چلا گیا ۔۔ وہ روکنا چاہتی تھی ۔۔ مگر وہ جلد واپس آنے کا کہہ کر لوٹ گیا تھا ۔۔ اور اب پانچ سال کا عرصہ گزر گیا تھا مگر اس کا کچھ اتا پتا نہ تھا ۔۔
کک کون ہو تم ؟؟ وہ شخص کپکپاتے لہجے میں بولا ۔
the wolf mafia king ۔ وہ شخص قہقہ لگا کر بولا ۔
مم مجھے چھ چھوڑ دو ۔ وہ شخص گڑگڑا کر بولا ۔ اس شخص نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیوں کو اپنے ماتھے پر بجانا شروع کیا جس سے وہ انگھوٹی اس شخص کی نظر میں آئی ۔اگلے ہی پل اس شخص نے اپنے ہاتھ کو اپنی دائیں آنکھ پر رکھ کر اس شخص کی طرف دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھ نے اپنا رنگ دو پل کے لیئے بدلا ہو ۔
نا ممکن بھیڑیا کبھی اپنے شکار کو چھوڑتا نہیں ۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنے جیب سے چاقو نکالا اور دھاڑ کر اس کے دل کے مقام پر دھڑا دھڑ کئی وار کیئے ۔ اس کی دلخراش چیخیں اس کمرے میں گونجیں اگلے ہی پل وہ دم توڑ گیا ۔