Skip to content
Home » Long Novel » Page 11

Long Novel

Wolf mafia love by Maha Shah Complete Novel

  • by

کک کون ہو تم ؟؟ وہ شخص کپکپاتے لہجے میں بولا ۔

the wolf mafia king ۔ وہ شخص قہقہ لگا کر بولا ۔

مم مجھے چھ چھوڑ دو ۔ وہ شخص گڑگڑا کر بولا ۔ اس شخص نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیوں کو اپنے ماتھے پر بجانا شروع کیا جس سے وہ انگھوٹی اس شخص کی نظر میں آئی ۔اگلے ہی پل اس شخص نے اپنے ہاتھ کو اپنی دائیں آنکھ پر رکھ کر اس شخص کی طرف دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھ نے اپنا رنگ دو پل کے لیئے بدلا ہو ۔

نا ممکن بھیڑیا کبھی اپنے شکار کو چھوڑتا نہیں ۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنے جیب سے چاقو نکالا اور دھاڑ کر اس کے دل کے مقام پر دھڑا دھڑ کئی وار کیئے ۔ اس کی دلخراش چیخیں اس کمرے میں گونجیں اگلے ہی پل وہ دم توڑ گیا ۔

Fidaa e janaa by Beenish Arslan (Biya Writes) Complete

  • by

” معاشرے کی تلخ حقیقت، جرات مندانہ کردار،سکھ اور دکھ کے موڑوں سے بھرا ہوا، ماضی کے اسرار، پراسرار کردار، ایک ایجنٹ،ایک ٹیم، کئی دشمن اور بہت کچھ”۔۔۔۔۔

Ehd e Mohabbat by Fatima Noor Complete

  • by

“آرام سے کیوں طوفان مچایا ہوا ہیں۔۔” ڈاکٹر احمد نے ناک چڑھا کر کہا۔جبکہ ڈاکٹر لائبہ نے ہنسی ضبط کی۔۔

” مطلب میں طوفان ہوں۔۔” وہ حیرت سے بولی۔۔

“جی ڈاکٹر سجل مجھے آپ اس وقت طوفان سے کم نہیں لگ رہی۔۔” اسکی بات پر اس نے اپنی ڈارک براؤن آنکھوں کو چھوٹا کر کے گھورا۔۔

“پتا ڈاکٹر احمد مجھے نہ کھبی کھبی ایسا فیل ہوتا ہے۔۔” اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر سپ لیا۔۔

“کیسا۔؟” چائے کا کپ اس سے واپس لیا۔۔جبکہ لائبہ اب ان کی طرف متوجہ ہوئی۔۔

“یہی کہ مجھے کون سے کیڑے نے کاٹا تھا جو آپ سے نکاح کیا۔۔” وہ گھور کر بولی۔۔لائبہ جانتی تھی کہ یہی کہے گی۔۔

” مجھے بھی آخر میں نے کیوں قبول ہے کہا۔۔” وہ افسوس سے بولا۔۔

“تو قبول نہیں قبول نہیں کہہ دیتے۔۔” لائبہ نے اپنا حصہ ڈالا۔۔

“بس کیا کرو دل آیا گدھی پر تو حوریں کیا چیز ہے۔۔” ماتھے پر ہاتھ رکھا جیسے بہت افسوس ہو جبکہ وہ منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“گائیز میں جارہی تم لوگ لڑو۔۔” اپنا سامان اٹھاتے لائبہ مسکرا کر کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔

“میں بھی جارہی جا کر اپنی حوروں سے رابطہ کرو۔۔” غصے سے بولتی وہ کھڑی ہوئی اور اسکا چائے کا کپ اٹھا کر یہ جا وہ جا۔۔

“ہائےےےےے میری گدھی روکو تو ۔” اس کو آواز دیتا وہ بھی اس کے پیچھے گیا۔۔

Mohabbat Key Anokhey Rang by Misha Mushtaq complete novel

  • by

تم خوش ہو . . . .

آپ خوش ہیں اس نے الٹا اس سے سوال کیا

خوشیاں کبھی مکمل نہیں ملتیں غم ہمیشہ آس پاس منڈ لاتے رہتے ہیں اس لیے میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں خوش ہوں کیونکہ خوش ہوناضروری نہیں ہے لیکن ہاں کہیں نہ کہیں اب زندگی میں ٹھہراؤ آگیا ہے اور میں اس ٹھہراؤ پر پرسکون ہوں ماریہ مجھےآج بھی یاد آتی ہے پہلے دن کی طرح لیکن اب میں اسے سوچ کر غمگین نہیں ہوتا میں نے زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیاہے کیونکہ ضروری نہیں جس شخص سے آپ کو محبت ہو وه آپ کو ملے بھی بعض اوقات ان کو محسوس کرنا بھی کافی ہوتا ہے مصطفی نے کہہ کر گہری سانس لی اور سن بیٹھی رمشاہ کو دیکھا

اب تم مجھے بتاؤ تم خوش ہو اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا

آپ کو اپنی محبت سے جدائی ملی تو وہ قدرتی تھی لیکن میری محبت سے جدائی میں بے وفائی تھی نارسائی کا دکھ تھا لیکن ہم دونوں میں ایک چیز جو مشترکہ تھی وہ ہے اپنے پیاروں سے جدائی آپ نے صحیح کہا کہ خوش ہونا ضروری نہیں ہے دل کا پرسکون ہونا ضروری ہے اور میں پرسکون ہوں رمشا نے بہتی آنکھوں سے مسکراتےہوۓ مصطفی دیکھاوه اسے ہی دیکھ رہا تھاپوری توجہ سے اس کے دیکھنےپر ہلکے مسکرایا اور اس کے ہاتھ تھامےاس ہاتھ تھامنے میں ایک احساس تھا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ساتھ نبهانے کا کبھی نہ چھوڑنے کا . . . . . . .