Skip to content
Home » Long Novel » Page 11

Long Novel

Aashnay gham by Aqsa Tehreem Complete Novel

اس منحوس کو کب رخصت کرنا ہے پانچ سال ہو گئے اس کے نکاح کو ۔۔ زرتاج بیگم کی زہر میں ڈوبی آواز وہ بھی باآسانی سن سکتی تھی ۔۔ جو اندر احمد صاحب کو بول رہیں تھیں مگر پس پردہ وہ اسی کو سنا رہیں تھیں ۔۔ اس نے جلدی سے کھانا بنایا اور کمرے میں بند ہو گئی ۔۔ یہ تو روز کا معمول بنتا جارہا تھا ۔۔ وہ ضبط کی انتہا پے تھی ۔۔ زرتاج بیگم کے یہ طعنے اب اس کو زخمی کرنے لگے تھے ۔۔ وہ پانچ بیٹیوں کی ماں ہونے کے باوجود اس کا دکھ اس کی تکلیف کو نہیں سمجھ سکیں تھیں ۔۔ وہ اپنی مرضی سے تھوڑی ان کی دہلیز پے بیٹھی تھی۔۔ مگر وہ ان سے شکوہ کس بنیاد پے کرتی جب اس کا اپنا باپ ہی ظالم اور سفاک نکلا تھا ۔۔ جو اس کی ماں کی وفات پے بعد اس کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔ اور وہیں اپنی دنیا بسا لی تھی ۔۔ اس کو اپنے بھائی بھابھی کے رحم و کرم پے چھوڑ دیا تھا ۔۔ اس نے کرب سے سوچا اور آنکھیں موندھ لیں ۔۔ اور یہی سب اس کے ساتھ فاران کر رہا تھا ۔۔ جو اس سے نکاح کر کے اس کو بھول ہی گیا تھا ۔۔ اس کی ماں کی حیات میں یہ نکاح ہوا تھا ۔۔ اس کے بعد فاران بھی بیرون ملک چلا گیا ۔۔ وہ روکنا چاہتی تھی ۔۔ مگر وہ جلد واپس آنے کا کہہ کر لوٹ گیا تھا ۔۔ اور اب پانچ سال کا عرصہ گزر گیا تھا مگر اس کا کچھ اتا پتا نہ تھا ۔۔

Wolf mafia love by Maha Shah Complete Novel

  • by

کک کون ہو تم ؟؟ وہ شخص کپکپاتے لہجے میں بولا ۔

the wolf mafia king ۔ وہ شخص قہقہ لگا کر بولا ۔

مم مجھے چھ چھوڑ دو ۔ وہ شخص گڑگڑا کر بولا ۔ اس شخص نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیوں کو اپنے ماتھے پر بجانا شروع کیا جس سے وہ انگھوٹی اس شخص کی نظر میں آئی ۔اگلے ہی پل اس شخص نے اپنے ہاتھ کو اپنی دائیں آنکھ پر رکھ کر اس شخص کی طرف دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھ نے اپنا رنگ دو پل کے لیئے بدلا ہو ۔

نا ممکن بھیڑیا کبھی اپنے شکار کو چھوڑتا نہیں ۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنے جیب سے چاقو نکالا اور دھاڑ کر اس کے دل کے مقام پر دھڑا دھڑ کئی وار کیئے ۔ اس کی دلخراش چیخیں اس کمرے میں گونجیں اگلے ہی پل وہ دم توڑ گیا ۔

Fidaa e janaa by Beenish Arslan (Biya Writes) Complete

  • by

” معاشرے کی تلخ حقیقت، جرات مندانہ کردار،سکھ اور دکھ کے موڑوں سے بھرا ہوا، ماضی کے اسرار، پراسرار کردار، ایک ایجنٹ،ایک ٹیم، کئی دشمن اور بہت کچھ”۔۔۔۔۔

Ehd e Mohabbat by Fatima Noor Complete

  • by

“آرام سے کیوں طوفان مچایا ہوا ہیں۔۔” ڈاکٹر احمد نے ناک چڑھا کر کہا۔جبکہ ڈاکٹر لائبہ نے ہنسی ضبط کی۔۔

” مطلب میں طوفان ہوں۔۔” وہ حیرت سے بولی۔۔

“جی ڈاکٹر سجل مجھے آپ اس وقت طوفان سے کم نہیں لگ رہی۔۔” اسکی بات پر اس نے اپنی ڈارک براؤن آنکھوں کو چھوٹا کر کے گھورا۔۔

“پتا ڈاکٹر احمد مجھے نہ کھبی کھبی ایسا فیل ہوتا ہے۔۔” اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر سپ لیا۔۔

“کیسا۔؟” چائے کا کپ اس سے واپس لیا۔۔جبکہ لائبہ اب ان کی طرف متوجہ ہوئی۔۔

“یہی کہ مجھے کون سے کیڑے نے کاٹا تھا جو آپ سے نکاح کیا۔۔” وہ گھور کر بولی۔۔لائبہ جانتی تھی کہ یہی کہے گی۔۔

” مجھے بھی آخر میں نے کیوں قبول ہے کہا۔۔” وہ افسوس سے بولا۔۔

“تو قبول نہیں قبول نہیں کہہ دیتے۔۔” لائبہ نے اپنا حصہ ڈالا۔۔

“بس کیا کرو دل آیا گدھی پر تو حوریں کیا چیز ہے۔۔” ماتھے پر ہاتھ رکھا جیسے بہت افسوس ہو جبکہ وہ منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“گائیز میں جارہی تم لوگ لڑو۔۔” اپنا سامان اٹھاتے لائبہ مسکرا کر کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔

“میں بھی جارہی جا کر اپنی حوروں سے رابطہ کرو۔۔” غصے سے بولتی وہ کھڑی ہوئی اور اسکا چائے کا کپ اٹھا کر یہ جا وہ جا۔۔

“ہائےےےےے میری گدھی روکو تو ۔” اس کو آواز دیتا وہ بھی اس کے پیچھے گیا۔۔