Skip to content
Home » Long Novel » Page 14

Long Novel

Golden Princess by Maham Baloch Complete novel

  • by

آج سے وہ لڑکی ‫نہیں تھی،آج سے وہ ماہیر خان تھی—

ایک ‫لڑکا ،جو دنیا کے سامنے اپنے لیے نئی شناخت ‫بنا کر کھڑا ہوگا۔

‫جلدی سے اُس نے شاور لیا‪ ،اور پھر نئے گیٹ ‫اپ میں تیار ہونے لگی۔ اُس نے وائٹ ٹی شرٹ پہن لی اُس کے ساتھ بلیک پینٹ اورجوگرز‪

‫ساتھ میں بلیک جیکٹ اُس کے بھورے بال اب ماتھے ‫پر بکھرے ہوئے تھے آئینے میں کھڑی ماہیر ‫اب ایک ٹین ایجر لڑکے کی طرح نظر آ رہی ‫تھی جو اپنی دنیا کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ‫ہو چکا تھا۔

اس نے اپنا ڈریسنگ اور حلیہ اس سے تبدیل کر لیا تھا کہ بالکل ہی لڑکا لگ رہی تھی۔

‫ہممم‪ …اب لگ رہے ہو نہ‪ ،ماہیر خان!” اُس ‫خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا‪ ،اور ‫اپنی بات پر خود ہی مسکرا دی۔

‫ماہیر نے گہری سانس لی اور دروازے کی طرف بڑھی۔

آج وہ پہلی بار اپنے نئے گیٹ اپ

‫میں دنیا کے سامنے جا رہی تھی۔ دروازے کے پار ایک ایسی دنیا تھی۔

‫جہاں دنیا کے سامنے اب ماہیر خان کھڑا ‫تھا—

Masoom sa Ishq by Rimsha Hussain Complete novel

  • by

“کیا لڑکی کو گولیاں لگیں ہیں؟

“لیکن آواز تو ہم نے نہیں سُنی

“بنا آواز کی ہوگی نہ

“پیٹھ اور کندھے پر لگتا ہے گولیاں لگیں ہیں

“ہر کوئی اپنے انداز مطابق بول رہا تھا لیکن ایک میثم تھا جو مشک کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر تڑپ رہا تھا

“مش آن آنکھیں کھولو شاباش۔۔”میثم نیچے بیٹھتا چلاگیا۔۔”مشک کا سر اپنی گود میں رکھتا وہ پاگلوں کی طرح اُس کو ہوش میں لانے کی ناکام کوشش کرنے لگا

“بیٹا دیکھا پہلے زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔”ورنہ جلدی سے ہسپتال لے جاؤ ٹائم ضائع نہیں کرو۔۔”ایک بزرگ نے اُس کی حالت کو دیکھ کر مشورہ دیا تو میثم نے سرخ نظروں سے اُنہیں دیکھا

“بیوی ہے میری اور زندہ ہے۔۔”مشک کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے سینے میں چُھپاتا وہ سب کو غُصے سے دیکھنے لگا

“کوئی پولیس اور ایمبولینس بلاؤ یہ لڑکا تو شاید ہوش گنوا بیٹھا ہے۔۔”ایک نے کہا تو سب نے اُس کی بات سے اتفاق کیا

“مش آنکھیں کھولو میں کیا بول رہا ہوں۔۔”آپ کو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟”آپ کو شیزی بھائی کو سی آف کرنا ہے تو آئے اُٹھے اُنہیں سی آف کرنے چلتے ہیں کالج جانا ضروری نہیں۔۔”آپ کی سالگرہ ہے نہ آج؟”سرپرائز ابھی سے بتادیتا ہوں اُس کے لیے آپ کو یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں جلدی سے مسکراکر اپنی آنکھیں کھولیں ورنہ میں بُرا پیش آؤں گا آپ سے۔۔”میثم اُس کے وجود سے بہتے خون کو جیسے دیکھ تک نہیں پارہا تھا۔ “یہ جو کچھ ہوا تھا وہ غیرمتوقع تھا جس کے ساتھ ہوا وہ اُس کی لاڈلی ہستی تھی اُس کو کچھ ہوا ہے یہ بات میثم جیسے سمجھدار مرد کے لیے قبول کرنا مشکل تھا میثم کا دماغ اِس بات کو ایکسپیٹ نہیں کرپارہا تھا۔۔”کچھ وقت بعد ایمبولینس آگئ تھی اسٹریچر لایا گیا تھا لیکن میثم مشک کو خود سے دور ہونے نہیں دے رہا تھا سختی سے اُس کو خود میں بھینچے میثم اُن سب پر برس رہا تھا جس سے مجبوراً کچھ آدمیوں نے اُس کو پکڑ کر روکا تو وہ سب مشک کو اسٹریچر پر ڈالنے لگے تو میثم خود کو آزاد کراتا اُن کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھتا مسلسل مشک کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا اُس کا گِرے فراک خون میں لت پت ہوگیا تھا خوبصورت چہرہ زردی مائل ہوگیا تھا۔۔”میثم کے کپڑوں تک مشک کا خون لگ گیا تھا

“یہ سب کیا؟”کیسے؟”اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا میثم بڑبڑانے لگا

“مش۔۔”میثم کھسک کر اُس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا

Ishq e kamil by Toqeer Zahra Complete novel

  • by

یار تمہیں یاد ہے جب اس طرح پہلے میں تمہیں شادی کرنے کے بعد گھر لے کے جا رہا تھا تو تم کتنا غصہ تھی مجھ پر۔۔۔اور آج دیکھو کیسے شرما رہی ہو ۔۔۔جون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

ویسے مجھے لگتا ہے میں اس دنیا میں اکلوتا بندہ ہوں جسکی دو شادیاں ہوئیں اور وہ بھی ایک ہی لڑکی سے۔۔۔

آپ اکلوتے نہیں ہیں۔۔۔۔زہرا آخر کار کچھ بولی ۔۔۔

اچھا تو اور کون ہے ایسا؟؟؟

میں ۔۔۔میرے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا ۔۔۔۔میری بھی دو شادیاں ہوئیں ایک ہی بندے سے۔۔۔۔اور وہ دونوں ہی ہسنے لگے۔۔۔۔۔

Yeh hain qismat ke faisly by Rida Bint e Tahira Complete novel

  • by

مجھے تمھاری پل پل کی خبر ہے اور یہ تم حنید کے ساتھ گھوم رہی بند کر دو مجھے ذرا بھی پسند نہیں ۔

اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے۔

وہ کہتی ہے

کیسا فیصلہ

کی ہمارا نکاح آج ہی ہوگا۔

ماہا ہونقوں کی طرح دیکھتی ہے ۔

یہ کیا کہہ رہے ہو۔

وہی جس کے لیے میں نے بیس سال انتظار کیا ۔

ماہا نے محسوس کیا کہ اس نےیہاں آکر کتنی بڑی غلطی کر دی۔

ایسا نہیں ہو سکتا۔

تم ایک دوکھے باز انسان ہو۔

تم نے مجھے یہاں کسی ثبوت کے لیے بلایا تھا ۔

وہ مسکراتا ہے ۔

کون سے اور کن ثبوتوں کی بات کر رہی ہو۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میری دسترس سے بھاگ نہیں سکتی ۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں ۔

یہ جتنے دن تم نے موج مستی کرنی تھی کر لی اب تم میری ہوں۔

تم میرا عشق ہو بچپن کا ۔

اتنے نازو سے رکھا ۔ آمنہ نے عابد نے ایک آنچ نہیں آنے دی ایک کلی کی سینچا۔

وہ چینخ کر کہتی ہے نام مت لو ان کا میں مر گئی ان دونوں کے لیے۔

ماہا اس وقت جتنی بے بس تھی وہ کبھی نہیں ہوئی کس کو بتاتی ۔

اس دنیا میں ہر کوئی اسے مطلبی لگتا تھا لیکن آج اسے حنید کی یاد آرہی تھی ۔

وہ بڑی مضبوط بن کر کہتی ہے میں یہ نکاح نہیں کروں گی ۔

جس کو تم عشق کہہ رہے ہو وہ تمھاری ضد ہے اور کچھ نہیں ۔

میرے ماما بابا سے مجھ کو دور کر دیا ۔ ساری زندگی میں ان سے دور رہی اور جنہوں نے مجھے پالا بڑا کیا کسی ماں کا پیار جھوٹا کیسے ہو سکتا ہے اور کوئی باپ اولاد کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔

صرف تمھاری وجہ راحیل شاہ صرف تمھاری وجہ سے مجھے تم سے بہت نفرت ہے ۔ اور شادی کا کہہ رہے ہوں ۔

٭٭٭٭

Girwi by Sundas Sheikh Complete novel

  • by

ہمیں وعدہ خلافی سے سخت نفرت ہے ۔ اگر بارہ بجے پیسے لوٹانے کا وعدہ کیا ہے تو بارہ بج کر ایک منٹ بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ سامنے والا کا کالر اپنے ہاتھوں میں دبوچے وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بولا

معاف کردیں سائیں بیٹی کی سسرال میں مسئلہ ہوگیا تھا سارے پیسے وہیں لگ گئے ۔ میلی کچیلی دھوتی میں ملبوس وہ ادھیڑ عمر مرد گڑگڑایا جسے ذمّہ داریوں نے اپنی عمر سے دوگنا بوڑھا کردیا تھا

ہم کچھ نہیں جانتے اپنے گھر کے کاغذات لاؤ ہمارے پاس جمع کرو اور ایک ہفتے کے اندر ہمارا پیسہ ہمیں مل جانا چاہیے ورنہ تمہارا گھر ہمارا ہوا ۔۔اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی

جی جی ۔ وہ آدمی روتا ہوا واپس ہوا

بھائی یہ کتنے دنوں سے ٹال مٹول کر رہا پیسوں کے لئے ۔ انور نے نیچے اوندھے پڑے شخص پر لاتوں اور

گھونسوں کی بارش کی

کیوں بے تجھے پتہ نہیں ہے کہ مجھے زبان کے پکّے لوگ ہی پسند ہیں پھر کیوں ٹال مٹول کر رہا ہے ۔ اس نے ایک لات خود بھی رسید کی اسے

مگر اس بے چارے میں اتنی طاقت کہاں تھی

کہ وہ کچھ بولتا

تب تک پیٹتے رہو جب تک کی یہ پیسے دینے کا قطعی فیصلہ نا کر لے ۔ وہ انور کو ہدایات کرتا آستین موڑتا اندر کی طرف بڑھ گیا

WAR by SJ Writes Part 2 Complete novel

  • by

ہاں تو مسٹر دران..آراء زخمی وجود کے ساتھ آگے آئی..

آپ نے پاشا ملک کے ساتھ مل کے اُن 109 لوگوں کا قتل کیا..اور پھر آپکی اُمید پہ پورا نہ اترنے والا پاشا ملک..

وہ بلند آواز سے بول رہی تھی..

کو آپ نے جان سے مار دیا..

اُسے رات کے پہر بُلوایا اور بُلوانے کے بعد اُسے اُس کی گن سے گولیاں ماری گئی..وہ تو قسمت اچھی تھی آپ کی کہ ایڈم کی لوکیشن اُس وقت بلکل قریب تھی..

ایڈم میرے کلائینٹ جو بے قصور ہونے کے ساتھ ساتھ آپکو بُرے کام سے روک رہے تھے..آپکے کام کی اڑاوٹ تھے..

Right mr Duran..

آراء نے طنزیہ لہجے میں کہا..

یہ جھوٹ ہے..دران ملک نے بے ساختہ کہا..

Objection my Lord..

غیلانی صاحب اٹھ گئے تھے..یہ میرے کلائینٹ پہ جھوٹا الزام ہے..یہ من گھڑت کہانی ہے..عدالت کو باتوں کی نہیں ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے..کیا آپکے پاس کوئی ثبوت ہے..؟

مسٹر غیلانی نے طنز سے زرا رک کے پوچھا تھا..

یہ عدالت ہے مسٹر غیلانی..آراء نے مضبوط لہجے میں کہا تھا..

ایڈم کا سر اب بھی جھکا ہوا تھا..صارم بھی خاموش تھا..

حُنین نے ایک نظر ولی کو دیکھا تھا..جو خود بھی صارم کے نمبر سے سپیکر پر آتی آواز سے پریشان تھا..حُنین نے ابھی صرف بازو پر مرحم رکھوایا تھا باقی چوٹ ابھی ویسے ہی تھی..ولی نے بھی اپنے زخموں پر پٹی نہیں کروائی تھی..

آراء کم اون تم کر سکتی ہو..

حُنین پریشان لہجے میں بولی تھی..

آپ جانتے ہیں نا مسٹر غیلانی..کہ عدالت میں تو ثبوت ہی چلتے ہیں..آراء کے چہرے پر اب دل جلا دینا والی مسکراہٹ تھی..ہر کوئی اس فیصلے سے پریشان تھا..حُنین کے گھر والے بھی سب انتظار میں تھے..

my Lord..

مسٹر دران نے نا صرف 110 قتل کئے اور ان کا بیٹا جو کہ سب کی نظر میں ایک بے گُناہ بزنس مین تھا اُس کے ساتھ مل کے کئے..وہ بے دردی سے قتل کرتا..اور مسٹر دران لاش کو غائب کرواتے..

وہ دران کو دیکھتے ہوئے چبا چبا کے بول رہی تھی..

یہ جھوٹ ہے..دران نے چیخ کے کہا تھا..

یہ سب..؟

Ishq by Arfa Awan Complete novel

  • by

زندگی میں کم از کم ایک بار تو سبھی پیار کرتے ہیں۔یہ ایک معارف جملہ ہے ۔جس کی سچائی سے مجھے کوئی بحث نہیں۔مگر میں سوچتی ہوں کہ ایک جملہ ایسا ہے جو سو فیصد سچ ہے لیکن اسے زبان پر لاتے ہوئے سب ہی گھبراتے ہیں شاید اس لیے جملہ اعتراف ہے اور تاہیؤں کا۔۔۔۔انسان خطا کا پتلا ہے اس لئے پچھتانا اس کا مقصد ہے۔۔۔۔!

Ibtada e Mohabbat by Umm e omama Complete

  • by

“کیا دیکھا تم نے”

اسکے قریب آکر وہ پسٹل اسکی شہہ رگ پر رکھتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا

“ک–کچھ نہیں”

“میں نے پوچھا کیا دیکھا تم نے”

”م–میں کسی کو کچھ ن-نہیں بتاؤں گی”

اسکی پہلے سے زیادہ سخت ہوتی آواز پر وہ جلدی سے کہنے لگی

“ڈیرل کسی سے ڈرتا نہیں ہے بھری دنیا کو بتا دو”

“مجھے جانے دو”

“میں نے تمہارا راستہ کب روکا تم خود اپنی موت کے انتظار میں کھڑی ہو جانا چاہتی ہو تو جاؤ اس سے پہلے میرا موڈ مزید خراب ہو اور اگر میرا موڈ مزید بگڑا تو میں یہاں پر دوسرا قتل کرنے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا”

اسکی بات پر وہ اپنے شل ہوتے وجود کو گھسیٹتی بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
اور آریز بس اسکے دور جاتے قدموں کی آواز اپنے کانوں میں سنتا رہ گیا
°°°°°

Ababeel by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

یہ کہانی خیالی کہانی ہے مگر اس میں جو لکھا ہے وہ ہمارے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے میں بہت شکر گزار ہوں لائبہ پرویز کی جو مجھے سپورٹ کرتی ہیں۔مس شانزہ کی جو ہمیں پڑھاتی ہیں! اس کہانی میں ، میں نے بہت سے پولیٹیکل ویوز دئیے ہیں جو کہ میم شانزہ کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

اس کے ساتھ میں شکر گزار ہوں میم آمنہ یونس کی جنھون نے مجھے بہت سراہا اور مدد کی۔

یہ کہانی آپ کو بہت کچھ سکھا جائے گی انشاء ، امید ہے اس کو پڑھنے کے بعد اپ کے دل و دماغ میں میں رہوں یا نہ رہوں مگر وطن کی محبت ضرور جاگ جائے گی۔