Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima
Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima This is social romantic Urdu novel based… Read More »Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima
Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima This is social romantic Urdu novel based… Read More »Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima
جاؤ یہاں سے ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ زین کو اس کے لفظوں پے اور دکھ ہوا ۔۔
ایسے کیسے چلا جاؤں روشنال ۔۔ یہ کس طرح کا سلوک کر رہی ہو میرے ساتھ ۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔ اس کی آواز میں نمی آنے لگی تھی ۔۔ وہ رخ موڑ گئی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں مرچیں لگنے لگیں تھیں ۔۔۔
روشنال میں اس طرح نہیں جاؤں گا ۔۔ کوئی وجہ تو ہو اس طرح کے سلوک کی ۔۔ ہمارے بیچ تو کوئی لڑائی کوئی جھگڑا نہیں ہوا ۔۔ پھر اس طرح سے منہ موڑ کر کیوں کھڑی ہو ۔۔ وہ اس کے لہجے سے ٹوٹ کر بولا ۔۔ روشنال ابراہیم سے اس نے دل کی گہرائیوں سے محبت کی تھی ۔۔۔ اس کا اس طرح کا رویہ اسے دکھی کر گیا تھا ۔۔۔
یہ لو اپنی امانت اور میری جان چھوڑ دو ۔۔ روشنال نے اچانک مڑ کر منگنی کی انگوٹھی اس کی ہتھیلی پے رکھ دی تھی ۔۔۔ وہ ساکت رہ گیا ۔۔ انگوٹھی اس کی ہتھیلی میں کانپ کر رہ گئی تھی ۔۔ پھر اچانک وہ آتش فشاں کی طرح پھٹا تھا ۔۔
یہ کیا ہے روشنال ابراہیم ۔۔ وہ اس کو بازو پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔ روشنال کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں ۔۔
چھوڑو مجھے زین ۔۔ درد ہو رہا مجھے ۔۔۔ وہ اس کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑاتے ہوئے چیخ کر بولی ۔۔
اور جو تم نے مجھے ابھی تکلیف دی اس کا کیا روشنال ابراہیم ۔۔۔ اس نے جنونی انداز میں کیا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہیں تھیں ۔۔۔
میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا چاہتی ۔۔ اس لیے تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ شیرنی کی طرح دھاڑی تھی ۔۔۔ زین کی گرفت نرم پڑی تھی ۔۔۔ اس کے بے رحم لفظوں سے وہ ڈھے گیا تھا ۔۔
کیوں ۔۔ آخر کیوں نہیں رکھنا چاہتی کوئی رشتہ کوئی وجہ تو ہو ۔۔ وہ بےبسی سے بولا تھا ۔۔ روشنال اس کی گرفت سے آزاد ہو چکی تھی ۔۔۔
کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں ۔۔۔ اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔ روشنال ابراہیم نے دل پے پتھر رکھ کے اپنے دل سے محبت کو نوچ ڈالا تھا ۔۔ زین کے قدم لڑکھڑا گئے ۔۔
دیکھیں آپ کی بہن نے ہمارے ٹرسٹی پر ہاتھ اٹھایا ہے یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔
لیکن ٹرسٹی نے میری بہن کے ساتھ بد تمیزی کی تھی جب ہی اس نے ہاتھ اٹھایا ورنہ اسے کیا ضرورت پڑی ہے ، اصغر پرنسپل سے غصے میں بولا ۔
مسٹر اصغر پہلے تو آپ کی بہن نے ہمارے ٹرسٹی کے ساتھ بد تمیزی کی اور اب آپ مجھ سے بد تمیزی کر رہے ہیں ، پرنسپل بھی چلایا ۔
انسان کی شخصیت بتاتی ہے اسے عزت دینی ہے یا نہیں ۔
تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں یعنی کالج کا پرنسپل اور ہمارے ٹرسٹی عزت کے قابل نہیں ہیں ؟ پرنسپل کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے ۔
میں نے ایسا نہیں کہا لیکن آپ کو ایسا لگ رہا تو میں اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا ۔
مسٹر اصغر آپ نے بہت بڑی بات کہی ہے اب نتیجے کے لیے تیار رہیے گا ، پرنسپل نے دھمکی آمیز الفاظ کہے ۔
کیا کرینگے میری بہن کو کالج سے نکال دینگے اسکا پیپر کینسل کروا دینگے ، آپ لوگ اور کر بھی کیا سکتے ہیں ؟
مسٹر اصغر یہ تو آپ کو وقت آنے پر پتا چلے گا ۔
مسٹر پرنسپل یہ آپ کو بھی وقت آنے پر ہی پتا چلے گا کہ کون کیا کر سکتا ہے ، اسغر نے پرنسپل کے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کھڑا ہوا ۔
گیٹ آؤٹ آف مائی آفس ۔
ابھی جا رہا ہوں بہت جلد آونگا پھر کہیں آپ کو اس آفس سے جانا نہ پڑ جائے ۔
جائیے جائیے بہت دیکھے ہیں آپ جیسے ۔یقیناً مجھ جیسے بہت دیکھے ہونگے لیکن اب جسے دیکھو گے تو پھر اپنی سیٹ پر بیٹھنا مشکل ہو جائے گا یہ میرا چیلینج ہے ،
فاتح مجھے معلوم ہو گیا ہے محبت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی دل پہ کسی کا زور نہیں چلتا دیر سے ہی سہی مگر مجھے پتہ لگ چکا ہے اس لیے میں آپ پہ زبردستی مسلط ہونے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔ بس آپ سے ایک التجا ہے آپ بے شک مجھے محبت نہ دیں مگر مجھ سے میری محبت نہ چھینے ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ کہتے ساتھ وہ بلک بلک کر رو دی ۔۔ غم کی شدت سے فاتح کی آنکھیں بھی بہنیں لگیں تھیں وہ بھی بکھر رہا تھا گڑیا کو اس حال میں دیکھ کے ۔۔ مگر اس میں اتنی ہمت اتنی طاقت نہیں تھی کہ اٹھ کر اس کے بکھرے وجود کو سمیٹ سکے ۔۔ اسے دلاسا دے سکے تسلی دے سکے ۔۔ اس کی محبت نے فاتح کو بھی جلا کے راکھ کر دیا تھا ۔۔
حوریہ ۔۔ بے اختیار فاتح کے لبوں سے یہ لفظ ادا ہوا تھا وہ اچانک ساکت ہوئی تھی پہلی بار فاتح نے اس کو اس کے نام سے پکارا تھا اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر فاتحہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔
میرے دل میں اپنی محبت ڈال کر خود کہاں جا رہی ہو ۔۔ فاتح کے لفظوں سے گڑیا نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔
بتاؤ کہاں جا رہی ہو اپنے فاتح کو چھوڑ کر۔۔ تم رہ لو گی اس کے بغیر ۔۔ مگر تمہارا فاتح تمہارے بغیر نہیں رہ پائے گا ۔۔ فاتح کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا ۔۔ وہ تو جیسے پتھر ہو گئی تھی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آپ کا موبائل میرے پاس رہے گا۔۔۔۔۔
جب تک آپ یہاں ہیں آپ یہ فون استعمال کر سکتی ہیں ۔۔۔اس میں صرف میرا نمبر ہے۔۔۔
کچھ بھی چاہیے ہو تو مجھے بتائیے گا۔۔۔میں حاضر ہو جاؤں گا ۔۔۔
پر آپ میرے لئے یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔رومان احمد کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت کے ہاتھوں انسان بہت مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔میرے لئے سب سے پہلے میری ڈیوٹی ہونی چاہیے ۔۔۔
لیکن میں ڈیوٹی کی بجائے یہاں بیٹھا ہوں ۔۔۔کیونکہ میں مجبور ہوں ۔۔۔
میرے لئے سب سے پہلے آپ ہیں ۔۔۔۔احمد اپنی بات مکمل کرتا رومان پر اک نظر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔۔
اور رومان ہکا بکا سی اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ثمام آپ اتنی جلدی آ گئے ۔۔۔؟؟
مجھے لگا کھانا کھا کر آئیں گے۔۔۔۔۔
طہور اسے کمرے میں آتے دیکھ کر بولی۔۔۔نہیں طہور میں کھانا ہمیشہ گھر سے ہی کھاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں فاتحہ کو کہتی ہوں کہ آپ کے لئے بھی لے آئے ۔۔۔
طہور کہتی ہوئی اٹھی۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔؟؟ فاتحہ کو کیوں کہنا ہے۔۔۔؟؟
ثمام نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔تو کیا ہوا۔۔۔؟؟
اگر فاتحہ کھانا لے آئے گی تو۔۔۔پر طہور میری بیوی تم ہو۔۔۔۔ہاں ثمام۔۔۔۔
یہی تو میں آپ کو کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔کہ میں آپ کی بیوی ہوں ۔۔۔۔
اس گھر کی نوکرانی نہیں ۔۔۔اور نا ہی مجھے کام کرنے کی عادت ہے۔۔۔
طہور غصے سے بولی۔۔۔اور ثمام اس کی بات پر فوراً پلٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب نوکر نہیں ہو۔۔۔؟؟ تم میری بیوی ہو۔۔۔میرے کام تم نہیں کرو گی۔۔۔
تو کیا نوکرانی کرے گی ۔۔۔؟؟ ثمام غصے سے دھاڑا ۔۔۔ہاں تو رکھ لیں نوکرانی ۔۔۔
مجھ سے نہیں ہوتے یہ کام۔۔۔۔تو ٹھیک ہے پھر شادی بھی نوکرانی سے کر لیتا ۔۔۔
ہاں تو کر لیتے ۔۔۔میری زندگی کیوں برباد کی پھر۔۔۔؟؟ پتا نہیں کیا سوچ کر ان جاہلوں میں شادی کر دی میری ماما نے۔۔۔اونہہہ۔۔۔۔
طہور منہ بناتی بولی ۔۔۔تبھی ثمام کا بھاری ہاتھ اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔
اپنی زبان پر قابو رکھو۔۔۔بھائی ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟ فاتحہ جو طہور کے لئے کھانا لے کر آئی تھی جلدی سے کھانا سائیڈ پر رکھتی ثمام کی طرف بڑھی۔۔۔
بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟
بیوی ہے وہ آپ کی۔۔۔نہیں ہوں میں بیوی اس کی۔۔۔
مجھے نوکرانی سمجھ کر اس گھر میں لائے تھے ۔۔۔اب میں اک منٹ اور یہاں نہیں رہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔
بھابھی پلیز بات تو سنیں ۔۔۔رات ہو چکی ہے۔۔۔آپ کیسے جائیں گی۔۔۔۔
صبح بات کر لیں گے۔۔۔اور ثمام غصے سے اک نظر طہور پر ڈالتا باہر نکل گیا ۔۔۔
میم کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔۔۔۔۔ نہیں حق ملتا تو چھین لو۔۔۔۔ شانزے آج پھر جانے کتنے سوال سوچ کہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
نہیں بلکل نہیں اگر کچھہ آپ کے مقدر میں لکھہ دیا گیا ہے تو اسے چھیننے کی ضرورت نہیں اور اگر مقدر میں ہی نہیں تو پھر چھیننے سے بھی زلت ملتی
ہے حق نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار مجھے بھی شک ہوا جیسےارمغان کسی لڑکی سے باتیں کرتا ہےمیرا بھی دل کیا اس لڑکی کو سناوں۔۔۔
محبت میں نے لٹائی ہے تو حق بھی میرا ہے لیکن پتہ ہے جب میں نے نماز پڑھی تو مجھہ پہ حقیقت کھلی
ہمارے ہاتھہ چھیننے کے لئیے نہیں ہیں ہمارے ہاتھہ تو دعا کرنے کے لئیے ہیں ہمیں تو ہر حال میں دعا کرنی ہے پھر وہ محبت ہو یا چیز اگر ہمارے حق میں اچھی ہے تو وہ پرفیکٹ بنا کہ ہمارے مقدر میں لکھہ دی جائے گی
چھیننے کی نوبت نہیں آئے گی۔۔۔ امن اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔ میم ایک بات پوچھوں؟؟ ہاں پوچھو۔۔۔
آپ تو اتنی بہادر ہیں آپ کو نروس بریک ڈاون کیسے ہو گیا ۔۔۔۔
بہادر ہوتے نہیں شانزے بہادر بننا پڑتا
ہے خواب جب حقیقت نہیں بن پاتے یا پھر ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔ اس وقت اپنوں کا زرا سا وار بھی آپکا کام تمام کر
سکتا ہے۔۔۔۔
میم آپکو کبھی ایسا نہیں لگا کہ بس اس محبت کی قید سے نکلنا ہے اب چھوڑ
دینا ہے ارمغان کو ؟؟؟
لگتا تھا ایسا بہت سی باتوں پر غصہ بھی آ جاتا تھا جی چاہتا تھا بس اب چھوڑ دوں گی ارمغان کو۔۔۔ یہ بات تو بلکل نہیں براداشت کروں گی ۔۔۔۔
لیکن جو محبوب ہوتا ہے نہ وہ آپکو کبھی آزاد نہیں کرتا جب کبھی آپ تڑپنے لگو اسے ترس آنے لگے آپ کی حالت پر تو وہ آذاد نہیں کرتا بلکہ زنجیر بدل دیتا ہے وہ صرف رہائی کا فریب دیتا ہے۔۔۔۔
یہ بلکل ایسے ہی ہے کہ بلبل پنجرے میں قید ہو اور جب کبھی وہ زیادہ گریہ و زاری کرے اسکا مالک اسکا پنجرہکمرے سے باہر صحن میں رکھہ دے
اس سے فقط منظر بدلتا ہے لیکن قید اسُی طرح برقرار رہتی ہے۔۔۔۔ اسی طرح جب آپ محبوب کی کسی ایک بات سے ہرٹ ہو جاو جانے لگو تو وہ
کسی اور ادا سے کسی اور کمزوری سے آپ کو موم کر لیتا ہے جانے نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔
اور آج بیس سال بعد وہ آیا تھا مداوا کرنے۔
وہ کہتا ہے کہ مداوا کرنے آیا ہوں۔
لیکن یہ کیسا مداوا ہے کہ وہ میرے لیے نہیں،اپنی روح،اپنے وجود اپنی عزت اپنی بیٹی کے لیے آیا ہے۔
خبر آئی کہ اس کا جنازہ آرہا ہے میرے جسم سے روح پرواز کرنے کی صدا ائی۔یہ کیا ہو گیا کیوں میں تو اس کی امانت ؟ کون سی امانت ! ہمارا نکاح؟ کیا ہوا تھا۔؟
میں نے اس کے جنازے پہ دل کھول کے آنسو بہائے ماتم کیا ، اس کی قبر پہ جا کر پوچھا کہ میرے ساتھ کیوں کیا۔مجھے کسی کے لئے کیوں چھوڑا، پھر میں نے اس کے قبر سے ایک ہیولہ دیکھا۔مجھے خوف خدا آیا ۔
میں وہاں سے بھاگی میں جب گھر آئی تو مجھے بخار تھا ۔مجھے سمجھ ائی میں نے گناہ سر زد کر لی ہے بہت بڑا ہاں میں نے نا محرم سے محبت کی پینگیں باندھی ، پھر مجھے اللہ کی پکڑ سے خوف آیا ۔
میں مے نمازیں شروع کیں ۔
میں اسے بھولنے کی کوشش کرنے لگی کافی مشکل کام۔تھا۔
میں مے توبہ کی مگر مجھے لگا کبھی قبول نہ ہو گی پھر اچانک ایک دن میں نے قرآن ایسے ہی بے دھیانی میں کھولا تو سورہ توبہ کھلی تھی
: کیا انھیں خبر نہیں ہے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتا ہے اور وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے:
یہاں تک کہ اتنی وسیع زمین ان پہ تنگ ہو گئی اور وہ اپنی جان سے بھی تنگ اگئے اور انھیں یقین ہوا کہ خدا سے پناہ نہیں پھر انھوں نے توبہ کی اور بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے
i: کیا انھیں نہیں خیال آتا ہے ہر سال ایک دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو یہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں نہ اسے یاد کرتے ہیں
مجھے تھوڑا حوصلہ ملا اور پھر سے کھڑی ہوگی ۔کہ۔بے شک وہ ذات غفور ہے تو مجھے معاف کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کون ہو تم ۔۔ وہ مٹھیاں بھینچے غصے سے دھڑا تھا معتبر سہم کر پیچھے ہوئی ۔۔
م ۔۔ می ۔۔ میں معتبر شاہ ۔۔ میرا آج اس آفس میں پہلا دن ہے ۔۔ وہ اپنے ڈر پہ قابو پاتے کانپتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
تمہیں آفس میں بیٹھنے کے مینرز نہیں ہیں کیا ۔۔ پہلے تم نے میرے آنے پر کھڑی نہیں ہوئی۔۔ اور پھر تم نے میری ساری شرٹ خراب کر دی ۔۔ وہ چبا چبا کر بولا تھا۔۔
سر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی آپ کی شرٹ خراب کی یہ مانتی ہوں مگر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی ۔۔ اس کی زبان سے پھسلا تھا مقابل کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ ہو گیا تھا ۔۔ مطلب وہ اس آفس میں آگئی تھی اور اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ اس آفس اس کمپنی کا مالک تھا ۔۔
کس نے ۔۔ کس نے اس لڑکی کو رکھا ہے ؟ ۔۔ وہ شیر کی طرح داڑھا تھا پورے آفس کا سٹاف سہم کے رہ گیا ۔۔ اس نے معتبر کی میز پہ رکھی ساری فائلز اٹھا کر زمین پہ ماری تھیں معتبر ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔ اس کی آنکھوں میں خوف لہرایا تھا ۔۔ وہ ہونقوں کی طرح اس پاگل کو دیکھ رہی تھی جو نجانے کس بات پر اس قدر غصہ دکھا رہا تھا ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Kun Faya Kun by Ayesha Arif Epi 1 Kun Faya Kun by Ayesha Arif Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Kun Faya Kun by Ayesha Arif Complete novel