Skip to content
Home » Social media writers » Page 121

Social media writers

Dushman-e-Nafas Season 2 by Saira Ramzan Complete novel

  • by

ان کو لگتا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزارے گے غلط فہمی ہے تو بہت بڑی پر کوئی نہیں بہت ہی جلد دور بھی ہو جائے گی۔

مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر وہ چین سے رہے اتنا شریف تو خیر کوئی مرد نہیں ہوتا۔

ایسا حشر کروں گا کہ اگلی ساتھ نسلوں تک ان میں سے کوئی مسکرا نا سکے گا پورا خاندان روئے گا تڑپے گا جینا بھول جائے گا۔ اور جب سارے زندہ لاش بن کر گھومیں گے تب جا کر میں مسکراؤں گا۔۔۔ میں ہنسوں گا۔

ہاں میں ہنسوں گا ان کے رونے پر ، تڑپنے پر، گھٹ گھٹ کے جینے پر، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا مرر میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر خود سے ہی باتیں کر رہا تھا۔

***

اب تم یہاں پر بیٹھ کر شاعری کرنا بند کرو اور میرے ساتھ چلو ازبیہ بھابھی تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہیں؟

آریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ وہ آج بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، وہی ماتھے پر بکھرے ہوئے بال، وہی شلوار قمیض پہنے، وہی ہلکی سبز آنکھوں والا خاموش مزاج لڑکا۔۔۔۔ اگرچہ حلیہ وہی تھا مگر اس ایک حادثے نے اس کی آنکھوں کی چمک چھین لی تھی وہ جو مسکراتا تھا تو کوئی بھی قائل ہو جاتا تھا وہ اب کہاں مسکرا سکتا تھا۔۔۔؟

ان تین مہینوں نے اس کے چہرے کی چمک چھین لی تھی اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نڈھال سا اٹھ کھڑا ہوا۔

آریز نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گیا گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔

زایان ۔۔۔!!!

Teri chahat mein bikhri hoon by Muslim Girl Complete novel

  • by

“رشتوں کا احساس”

یہ کہانی ہے ہر اس انسان کےلیے،جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنے عزیز رشتوں کو چھوڑ کے اپنی دنیا میں مگن ہے۔۔بظاہر تو وہ خود کو ہزار تسلیاں دے کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے بیٹھا ہوگا لیکن حقیقت میں اس کی اندرونی حالت ظاہر سے مختلف ہوگی۔۔

“یہ کہانی ہے ایسی لڑکی کی جو ہر رشتے کو دل سے نبھانا جانتی ہے، جو اپنے اخلاق کی بدولت ہر دل میں گھر کر جاتی ہے”

اس نے ہر رشتے کی اہمیت کو اجاگر کیا، اپنی زندگی کو بھلائے وہ دوسروں کی خوشیوں میں خوش رہنا جانتی تھی۔۔اپنی زندگی، اپنی خوشیاں، اپنی خواہشیں ، اپنے خواب۔۔وہ سب بھلائے دوسروں کی خوشیاں چاہتی تھی۔۔۔

اس کہانی میں ہر رشتے کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔۔چاہے وہ ماں بیٹی کا ہو، باپ بیٹی کا ہو، بہن بھائی کا ہو، یا بہنوں کی آپسی محبت۔۔۔

“بظاہر یہ کہانی فرضی ہے، اس میں موجود ہر کریکٹر فرضی ہے، لیکن رشتوں کا احساس فرضی نہیں ہے”

ہم انسان اپنے عزیز رشتوں کے بغیر ایک خوشحال زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ امید ہے اس ناول کو پڑھنے والا ہر انسان رشتوں کی اہمیت کو سمجھے گا۔۔

اللہ ہمیں ہر رشتے کو صحیح سے بغیر کسی حسد، بغض اور نفرت کے نبھانے کی ہمت عطا فرمائیں ۔۔

آمین ۔۔۔

Clay Pot by Zayan Thebo Complete novellette

  • by

زندگی کی تختی پر کندہ سب سے دلکش لفظ محبت ہے۔

کہانی ہے محبت کی۔۔۔

انتظار کی۔۔۔ فراق کی۔۔۔

درد کی۔۔۔ آہ کی۔۔۔

کہانی ہے محبت سے دیوانہ ہونے تک کی۔۔۔

کہانی ہے مٹی کی۔۔۔ چاک کی۔۔۔

کہانی ہے سُر کی۔۔۔ ساز کی۔۔۔ راگ کی۔۔۔

کہانی ہے اجنبیت سے انسیت کی۔۔۔

کہانی ہے چناب کی۔۔۔ جو ہر بات کا گواہ ہے۔۔۔

کہانی لیلیٰ کی۔۔۔ جس کی آنکھوں کا کوئی دیوانہ ہے۔۔۔

کہانی ہے علی کی۔۔۔ جو کسی کے صدقے اُتارتا ہے۔۔۔

کہانی ہے محبت کی تختی پر کندہ لفظ دکھ کی۔۔۔

Betab dil ki tamana hai by Rimsha Hussain Complete novel

  • by

“بکواس بند کرو اپنی میرے پاس اِتنا فضول ٹائیم نہیں جو میں تمہاری طرح نین مٹکا کرتا پِھروں۔۔”رائد نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

“آپ کا کتنا قیمتی وقت ہے اِس کا مجھے اندازہ اچھے سے ہوگیا ہے ہونہہ۔۔”آئے بڑے یہ پوچھنے والے کہ کیا باتیں ہوئیں۔۔”زیب نے سرجھٹکا

“تم انتہا کی کوئی بدتمیز اور گھمنڈی لڑکی ہو نجانے کس بات کا غرور ہے تم میں۔۔”اگر میری تمہاری جیسی کوئی بہن ہوتی تو اُس کا گلا میں خود اپنے ہاتھوں سے کاٹتا۔۔”رائد کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

“آپ کے سوال کا جواب آپ کے سوال میں ہیں۔۔”میں اونلی ایک پیس ہوں میرے بھائیوں کو اللہ نے جو بہن دی ہے وہ ہر آئے گئے کو اللہ نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے بس اللہ نے طریقے سے بنایا وہ طریقہ کسی اور پر نہیں کیا۔۔”آپ کے جیسے آپ کو بہت ملے گے لیکن میرے جیسا آپ کو کوئی نہیں ملے گا۔۔”زیب نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ایک دن تمہارا قتل میرے ہاتھوں سے ہوگا۔۔”رائد جو اُس کو تپانا چاہ رہا تھا اب خود آگ بگولہ سا ہوگیا “ڈریگن کی طرح منہ سے آگ نکل رہی ہے آپ سے اُففف گرمی۔۔”

Hijab e haya by Maryam Qaiser Complete novel

  • by

اوئےے زینی یہ کیا ہوا ہے سر پہ آریان پریشان ہوتا بولا تھا کچھ نہیں بس زرہ سی چوٹ ہے چل کلاس میں چلے زایان آگے بڑھنے لگا تو آریان نے شرٹ سے کھینچ کر روک لیا پہلے مجھے بتا کیا ہوا ہے یہ اور تجھے یہ زرہ سے چوٹ لگ رہی ہے آریان زایان کا سر پکڑ کے اِدھر اُدھر کر کے دیکھنے لگا

ارےےے آن چھوڑ دے کچھ نہ بھی ہوا تو تب بھی کچھ کر دے گا

اچھا پھر خود ہی بتا دے کیا ہوا کسی سے لڑا ہے تو

یاررر آن کل کچھ لڑکے ایک لڑکی کو تنگ کر رہے تھے تو بس غصہ آگیا

ہاں غصہ آگیا اور تو خود ان سے پٹ کر آگیا آریان نے حیرانی سے زایان کو دیکھتے ہوئے بولا

تجھے کس نے کہا میں پٹا ہوں وہ تو بھاگ نہیں پا رہے تھے مجھ سے جان چھڑا کے تو اینٹ اٹھا کر مار دی مجھے اور بھاگ گئے ڈرپوک کہیں کے زایان نے اپنا کالر ٹھیک کرتے ہوئے اس انداز میں بولا جیسے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔

اچھا چل اب آج میرا موڈ بہت اچھا ہے کلاس میں چلتے ہیں اور زایان کلاس کی طرف بڑھ گیا

اففف زینی آج تجھے اتنی جلدی کیوں ہے کلاس میں جانے کی

بس ویسے ہی وہ۔۔ وہ۔ دو مہینے بعد ایگزیمز ہیں نہ اس لیے کوئی لیکچر نہ مس ہو جائے چل اب زیادو سوال نہ کر

Kuch youn bhi hua by Zeenat Baloch Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے سہانے خواب دیکھنے والی لڑکی کی جو کسی کا نام کا جوڑا پہنے جو کسی کے نام کے مہندی لگائے بیٹھی تھی اس کے انتظار میں۔۔۔۔ لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا

Hum k masloob e wafa by Sumera Sarfaraz Complete Novel

  • by

میلمہ نے لالہ رخ کو اسی بدتمیز آدمی کی گاڑی سے اترتے دیکھا تھا۔
“کسے گھور رہی ہو؟”
اٰصال جبھی آیا تھا۔ میلمہ چونکی۔
“کچھ نہیں وہ فرسٹ ایئر کی لالہ رخ ہے۔۔”
اس نے اجلال کی گاڑی کی طرف اشارہ کیا جس سے لالہ رخ نکل کر اب شیشے میں جھکی اجلال سے کچھ کہہ رہی تھی۔ اٰصال نے دیکھا مگر غور کئے بنا اپنے موبائل پر جھک گیا۔ اجلال کی نظر میلمہ پر پڑ چکی تھی۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر اجلال کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ ابھری۔
“یہ حسینہ کون ہے؟”
اس نے لالہ رخ سے پوچھا جو اسے کچھ بتا رہی تھی۔ لالہ نے برا مانتے ہوئے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔
“وہ نک چڑھی میلمہ عسکری ہے۔۔ فائنل کی سٹوڈنٹ۔”
اس نے منہ بنایا۔
“سجتا بھی ہے غرور۔۔ میلمہ! ”
اجلال بدستور اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میلمہ کو غصہ آنے لگا۔ ساتھ کھڑے اٰصال کا دانستہ طور پر بازو پکڑے اسے دوسری طرف کھینچنے لگی۔ وہ کسی کو ٹیکسٹ کررہا تھا۔ چڑ گیا۔
“کیا مصیبت ہے کیوں کھینچ رہی ہو مجھے؟”
اسکا جھنجھلانا اجلال نے اچھی طرح دیکھ لیا تھا۔ پھر زیر لب مسکراتا ہوا گاڑی بهگا لے گیا۔ میلمہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے گھبرا رہی تھی۔ پتا نہیں کیوں؟