Skip to content
Home » Social media writers » Page 122

Social media writers

Teri yaad by Sloni Fayyaz Writer Complete novel

  • by

شکایت نہیں اب کوئی اس سے

غصہ اب ججتا ہے اس پہ

وہ ناکرے باتیں اب گلہ نہیں

جب قسمت میں ہی وہ ملا نہیں

ہر موڑ گفتگو کا آخری لمحہ لگتا ہے

مجھے یہیں پہ ختم ہوتی ہے کہانی

جدا ہو رہا ہوں زندگی سے

کھول دی محبت کی ساری گرہیں تم پہ

اللہ سے دعا ہے تمہیں سکون خوشی ہر عطا ہو

ماضی کی یاد اسے کتنے ہی سالوں سے سونے کہاں دیتی تھی۔

اب وہ ہر رات دیکھے گئے خواب سے تنگ بھی تو آچکی تھی ۔

سب کچھ تو چھن گیا تھا اس روز

اب آخر ایسی کیا چیز تھی جیسے کھونے کا ڈر ابھی بھی باقی تھا

ن نں نہیں وہ ہمیں چھوڑ کہ نہیں جا سکتے وہ بوکھلائی سی بستر سے اٹھی تھی۔

اور بے ساختہ نیچے کی جانب دوڈ لگائی تھی۔

Teri nazar ke hisar mein by Jaweria Rafaqat Khak Complete novel

  • by

یہ کہانی ہمارے اردگرد موجود حقیقی کرداروں میں سے کسی کی بھی ہو سکتی ہے… حقیقت سے کافی حد تک قریب تر ہیں اس کے کردار “کچھ حقائق اور کچھ حد تک محبت بھی”… آج کل کے دور میں محبت کو بہت ہی سستا سا احساس بنا دیا گیا ہے جس کے نام پہ سب ہی ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں پھر چاہے وہ دھوکہ کسی بھی رشتے کو دیا جائے.. ایسا ہی کچھ ہے اس کہانی میں.. کھوکھلی محبت کی خاطر دوستی کا سودا….

جس دور میں عورت کی عزت محفوظ نہیں یہ کہانی بتاتی ہے کہ ہر مرد کی نظر بری نہیں ہوتی کوئی ایک نظر جو ہمیشہ آپ کو تحفظ کا احساس دلائے اور نہ ہی پولیس کا شعبہ اتنا برا ہے جتنا بدنام ہم لوگوں نے کر دیا ہے… نیکی کے ساتھ برائی برابر میں نہ ہو تو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط؟

Rabba ve mohabbatan Kiyun baniyan by KSA and Luna Rose Complete novel

  • by

ویسے ہم تینوں یہاں کرنے کیا آئے تھے۔۔۔۔۔

یہ تو عالیان سے پوچھ۔۔۔۔شہیریار نے جواب دیا جب شہرام نے عالیان کی طرف منہ کیا تو اس نے نفی میں سر ہلایا

واو مطلب ہمیں یہ ہی نہیں پتا ہم یہاں کیوں ہیں۔۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولا

ہاں تو تمہاری کون سا بیوی ہے جس کو تمہارے گھر لیٹ آنے سے پرابلم ہو گی۔۔۔۔۔وہ بھی پھر شہریار خان تھا

ہاں سوچ رہا ہوں تیری بہن کو بنا لوں۔۔۔۔وہ بھی جل کر بولا

ہاں بنا لے رومینس تو ویسے بھی نہیں ہو گا جتنا وہ تجھ سے ڈرتی ہے۔۔۔۔وہ بھی پُرسکون سا بولا

ویسے وہ مجھ سے ڈرتی کیوں ہے اتنا۔۔۔۔

پتا نہیں۔۔۔۔

یار چھورو سب۔۔۔۔اب کی بار عالیان بولا جو کہ کچھ سوچ رہا تھا

ہاں چھوڑو سب عالیان اپنی محبوبہ ایمیجن کر لے۔۔۔۔شہریار قہقہ لگاتا بولا