Skip to content
Home » Social media writers » Page 172

Social media writers

Kaash novel by Nataliya Gull Tamweel

  • by

آپ نے کہا اسے میں تصویر اچھی نہیں لیتی تمویل اور اس کی تھوڑی کر پکڑتی مسکرائی تھی ؛!!

اس نے مجھ سے سوال کیا تھا جیسیرا —

بس میں نے جواب دیا یہاں کہیں بھی تمھارا زکر نہیں تھا

پر ہاں اس نے کہا تھا وہ کسی نا کسی کو ایک دن یہ بات بولے گا

ضرور اور فلاسفر میں اپنا نام لکھوائے گا یعنی اس نے تمھیں بول دیا تم اس کی کسی نا کسی بن گئی !!

جیسیرا تمویل کی بات سن کر ہنسی تھی اب وہ غصہ کر کے بھی کیا کرتی

کیا تھامس پر اثر کر جاتا یقینن نہیں !

جیسیرا تمویل کو دیکھتی ہوئی بولی تھی میں بہت تھک گئی ہوں

اب گھر چلیں ؟ تمویل مسکرائی تھی جیسی ہوٹل گھر نہیں ہوتے

جیسیرا نے نفی میں سر ہلایا تھا ہم بنجاروں کے لئے گھر ہی ہوتے ہیں تمویل ! تمویل ہنسی تھی اور کہا تھا تم میں سے اب بنجاروں کی خوشبو آتی ہے جیسیرا میں نے تمھیں چھپ چھپ کر روتے بھی

دیکھا تھا گھر کے لئے ایک وہ وقت تھا اور ایک یہ کہ تمھاری روح اب دنیا کو ہی اپنا گھر کہتی ہے

جیسیرا ہنسی تھی ایک کھوکھلی ہنسی کبھی کبھی خواب پورے کرنے کے لئے کچھ چیزوں کو لوگوں کو بھولنا پڑتا ہے نا !

Be panah ishq e tawaif novel by Fatima Nazir Khan

  • by

اس کہانی میں آپکو مجبوری کی خاطر اور صبر کی انتہا کا پیمانہ لبریز سے بڑا ہؤا دکھایا جاے گا معصوم کے نام پر دہبا مگر ہمیشہ کہا سب اسا ریتا ہے کوئی اے گا اور ضرور اے گا مگر دیر سی بہت دیر سے لیکِن اے گا ضرور پر مشکلات سے بھر پور آخر کیا ہوگا اس معصومانہ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Noor e Ashnayi novel by Dur e Nayab

  • by

“یاااہوووو! میں اس بار بھی جیت گیا۔” وہ چہکتے ہوئے بولا۔

“یار میں نہیں مانتا، تم نے اس بار بھی چیٹنگ کی ہے۔”

وہ اس کے سامنے کھڑا سینے پر بازو لپیٹے خفگی سے کہہ رہا تھا۔

“ہا ہا ہا۔۔ ارے مان لیں حامد ماموں! میں باسکٹ بال میں چیمپئن ہوں اور آپ مجھ سے نہیں جیت سکتے۔” وہ ایک ہاتھ میں فٹبال پکڑے سینے سے لگائے اور دوسرا ہاتھ پیٹ پر رکھے قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔ وہ جو منہ پُھلائے دوسری طرف دیکھ رہا تھا اس کے اس طرح ہنسنے پر اسے آنکھیں سُکیڑتے ہوئے دیکھنے لگا۔

ایسا کرتے ہیں میں آپ کا ایک مینٹلی ٹیسٹ لیتا ہوں، دیکھتے ہیں آپ کتنے ذہین ہیں۔” وہ ابھی مزید اس کی ٹانگ کھینچنے کے موڈ میں تھا۔

“مم۔۔ میرے خیال سے ماما ویٹ کررہی ہیں۔” وہ جانے کے لیے ُمڑا۔ وہ ہمیشہ اس کے سوالوں سے یوں ہی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بچ جاتا تھا۔

“حامد ماموں۔۔ یار آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں۔” وہ چِڑ کر بولا۔

“یااار۔۔ حماد بھائی سے پوچھنا نا سارے سوال۔۔ پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈتے ہو اتنے ٹف کویسچنز۔۔ جو میں نے بچپن میں بھی اپنی اسلامیات کی کتاب میں کبھی نہیں پڑھے۔” اس نے پریشانی سے سر کُھجاتے ہوئے جواب دیا۔

“سیدھا کہیں نا حماد ماموں آپ سے زیادہ ٹیلنٹڈ ہیں۔”

Ishq e dewan novel by Amara Qureshi

  • by

ساری دنیا کے رواجوں سے بغاوت کی تھی
تم کو یاد ہے جب ہم نے محبت کی تھی
ایک دوسرے کو رازدار مان کر بتایا تھا حالِ دل اپنا
پھر دنیا نے ہم سے عداوت کی تھی
جب ہماری یادوں نے آنکھوں کو بھگو دیا
تب تسبیح پہ محبت کے نام کی تلاوت کی تھی
محبت چھوڑ کر جب ہنستے ہوئے گھر آئے
اتنا روئے کہ آنکھوں نے شکایت کی تھی
ہمارے اجڑنے کا سبب جب کوئ پوچھتا ہے اب
بس اتنا کہہ ديتے ہیں اس دنیا میں محبت کی تھی_