Skip to content
Home » Social media writers » Page 173

Social media writers

Woh qadir hai by Minahil Ali Complete Novel

  • by

تھک ہار کر وہ عربہ کی جانب بڑھی جو وہاں موجود سیلز مین سے کسی جوڑے کی قیمت پوچھ رہی تھی۔
حالانکہ اس پر لگا ٹیگ وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی لیکن نہ جانے کیا کنفرم کرنا چاہ رہی تھی۔
عربہ کے پوچھنے پر سیلز مین منہ کے زاوے بگاڑتا ہوا بولا
Mam 15 Thousand only.
اس کے کانفیڈنس پر عربہ نے آئی برو اچکا کر اسے داد دی۔ کس بیس پر آپ لوگ اس ڈریس کی اتنے قیمت چارج کر رہے ہیں۔
برینڈڈ ہے میم سیلز مین کوفت سے بولا۔
مجھے نہ بتاؤ کہ یہ برانڈڈ ہے یا نہیں کیونکہ میں تو خود ایک برینڈ کی شیئر ہولڈر ہوں اور روزانہ کئی برینڈز کو پروموٹ کرتی ہوں۔
عربہ کے اس طرح کہنے پر سامنے موجود سیلز مین ہنسنے لگا لیکن اس کی ہنسی کو بریک تو تب لگی جب ظفر کا ڈرائیور مسکراتے ہوئے عربہ کی جانب آیا اور سلام کیا۔
میم سر کہہ رہے ہیں پہلے کچھ کھا لیں پھر شاپنگ کر لیجئے گا۔
عربہ: اچھا کہاں پر ہیں بابا؟
تھرڈ فلور پر میم ڈرائیور بولا۔
اس کے بابا کہنے پر تو سیلز مین کے پسینے ہی چھوٹ گئے یعنی وہ اس مال کے اونر کی بیٹی تھی۔
نہیں میں تمہاری شکایت نہیں کروں گی بابا سے عربہ اس کا سپید پڑتا چہرہ دیکھ کر بولی۔
ظفر کے آفس میں تسلی سے روزہ افطار کرنے کے بعد اگلے دو گھنٹوں میں ان دونوں نے بمشکل اپنی شاپنگ مکمل کی اور باہر کی جانب بڑھی۔

Basil novel by Mahnoor Shahid Season 1

کچھ بتایا اس نے یا ابھی بھی زبان نہیں کھولی ؟ایک نظر وہ حسن پر ڈالتے ہوئے بولا

نہیں میجر ،اس نے کچھ نہیں بتایا ۔اس کے مطابق یہ نہیں جانتا یہ کس کے کہنے پر کام کر رہا تھا

انٹرسٹنگ !سعد مائنی خیز مسکراہٹ لیے بولا ۔۔اس دوران سات کے دونوں گالوں میں کچھ حد تک ڈمپلز نمایاں ہوئے ،وہ چلتے ہوئے سامنے موجود ٹیبل پر سے ایک فائل اٹھا کر واپس حسن کے سامنے کھڑا ہو گیا

جانتے ہو حسن اس میں کیا ہے وہ اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔حسن نے ایک نظر فائل پر دوڑائی اور سر نفی میں ہلایا

اس میں تمہارے انجام دیے گئے تمام گناہ درج ذیل ہیں اس میں تمہارے کالے کارناموں کی ایک طویل لسٹ موجود ہے جو تم ماضی سے لے کر اب تک سر انجام دیتے ائے ہو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں پھانسی ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ مرنے سے پہلے کوئی تو فائدہ پہنچاتے جاؤ اپنے ملک کو ۔۔

کس ملک کی بات کر رہے ہو میجر جس ملک میں ہم جیسے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہو ،جہاں کی گورنمنٹ خود اپنی عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں یا پھر وہ ملک جس میں انسان اگر جھوٹ کے خلاف اواز اٹھائے تو اسے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے ،جس ملک میں انسان رہتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اس ملک کے فائدے کی بات کر رہے ہو تم ؟؟

حسن مانا کے گورنمنٹ کچھ نہیں کر رہی لیکن ہمیں دیکھو ہم لوگ یہاں سرحدوں پر کیوں تعیینات کیے گئے ہیں تاکہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں ہم اپنے ملک کی عزت اور سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے ہر ایک فرد کے دل میں بھی اگر اتنا حوصلہ آ جائے نہ تو یقین مانو یہاں کی گورنمنٹ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔لیکن اس سے پہلے ہمیں خود پر اور ایک دوسرے پر یقین کرنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا ۔

حسن نے کہکا لگایا ،کیا کہا میجر تم نے۔ یقین ؟؟

چلو میجر یہ بتاؤ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس وقت تمہارے ساتھ اور تمہارے علاوہ جتنے بھی فوجی یاں جنرل یہاں کام کر رہے ہیں کیا وہ سب حق کے راستے پر ہیں، کیا ان کی سوچ بھی تمہاری سوچ کی طرح ملتی ہے بولو ؟