Skip to content
Home » Social media writers » Page 174

Social media writers

Ra’ad by Esha Afzal Complete novel download pdf

  • by

“تم یہ سب کیسے جانتے ہو؟”

اس نے بھی مروت کو بالائے طاق رکھا۔

“میں تم سے گیارہ سال بڑا ہوں۔عمر کا ہی لحاظ کر لو۔ تم کہنا کچھ عجیب نہیں لگے گا؟”

وہ مصنوعی سنجیدگی سے مشورہ دیتے ہوئے بولا۔

“آپ ؟ مائی فٹ” وہ اس پہ چلائی۔

“تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔”

نفی میں سر ہلا کر بڑبڑایا۔

“حدید عالم میں نے پوچھا تم یہ سب کیسے جانتے ہو؟”

اس نے حدید کی جانب قدم بڑھائے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔

“سب جان جاو گی۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے۔ اور وہ ہے مجھ سے شادی”

لہجہ اٹل تھا۔

“تم مجھے بلیک میل کر رہے ہو؟”

وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے بولی۔

“جو سمجھنا ہے سمجھ لو۔”

اس نے نور کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں لیا۔

“بھاڑ میں جاو تم اور تمہاری شرط”

وہ پیر پٹخ کر جانے لگی جب حدید کی آواز نے اس کے قدم منجمند کیے۔

“جاننا چاہو گی کہ تمہارے اور میرے بابا کے درمیان کیا تعلق تھا؟”

اور یہاں زخرف نور پگھل گئی۔ اور اس موم کو حدید عالم نے اپنی ہتھیلی کا حصہ بنا لیا۔

Jan e aziz by Soni Mirza Complete novel download pdf

  • by

“سر وہ۔۔۔۔ہم جس انسان کو ڈھونڈ رہے تھے اس کا پتہ چل گیا ہے۔”
“کس کا؟” وہ الجھ کر پوچھنے لگا۔
“ٹائیگر کا۔” جواب سن کر اس نے اپنی بھنویں چڑھا لی تھیں۔
“کوئی ثبوت بھی ملا اس کے خلاف؟”
“نہیں سر۔۔۔۔۔وہ کوئی ثبوت چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ بڑی مہارت سے مارتا ہے۔”
“یہ پتہ چل گیا کہ وہ کہاں رہتا ہے؟”
“یہ بھی پتہ نہیں چلا سر۔”
“بے وقوف انسان! تو پھر پتا کیا چلا ہے؟” وہ دھاڑنے لگا۔
“سر یہ پتہ چلا ہے کہ بہت سے بڑے بڑے غنڈوں کو بے دردی سے موت دینے والا ٹائیگر ہے۔ اسے ڈھونڈنا اتنا آسان نہیں ہے سر۔۔۔۔۔کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔۔۔۔اور جو اسے دیکھ لیتا ہے وہ پھر بیان کرنے کے لیے زندہ ہی نہیں رہتا۔”
“ڈھونڈو گے کیسے پھر اسے؟”
“سر لاسٹ ٹائم اس نے مارلوّ کو اٹھایا ہے۔ اگر مارلوّ کا پتا چل جاۓ تو اس تک پہنچ سکتے ہیں۔”
“مارلوّ تو ہے ہی ایک نمبر کا گھٹیا شخص!۔۔۔۔۔لیکن اس ٹائیگر تک پہنچنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔میں بھی ملنا چاہتا ہوں جرمنی کے ڈون سے۔۔۔۔۔دیکھوں تو سہی کہ کون ہے یہ گناہوں کی دنیا کا بادشاہ؟” ایک طرف نگاہ جما کر وہ سفاکیت سے بولا اور پھر خود ہی کال بند کر کے فون کو اچھالے بستر پر پھینک دیا۔ اگلے ہی ثانیے اس نے پھر سے شراب کی بوتل کا گھونٹ بھرا۔