Halal mohabbat novel by Abdullah Rajput
Halal mohabbat novel by Abdullah Rajput Halal mohabbat novel by Abdullah Rajput . This is a social romantic novel by the writer as she has… Read More »Halal mohabbat novel by Abdullah Rajput
Halal mohabbat novel by Abdullah Rajput Halal mohabbat novel by Abdullah Rajput . This is a social romantic novel by the writer as she has… Read More »Halal mohabbat novel by Abdullah Rajput
کچھ بتایا اس نے یا ابھی بھی زبان نہیں کھولی ؟ایک نظر وہ حسن پر ڈالتے ہوئے بولا
نہیں میجر ،اس نے کچھ نہیں بتایا ۔اس کے مطابق یہ نہیں جانتا یہ کس کے کہنے پر کام کر رہا تھا
انٹرسٹنگ !سعد مائنی خیز مسکراہٹ لیے بولا ۔۔اس دوران سات کے دونوں گالوں میں کچھ حد تک ڈمپلز نمایاں ہوئے ،وہ چلتے ہوئے سامنے موجود ٹیبل پر سے ایک فائل اٹھا کر واپس حسن کے سامنے کھڑا ہو گیا
جانتے ہو حسن اس میں کیا ہے وہ اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔حسن نے ایک نظر فائل پر دوڑائی اور سر نفی میں ہلایا
اس میں تمہارے انجام دیے گئے تمام گناہ درج ذیل ہیں اس میں تمہارے کالے کارناموں کی ایک طویل لسٹ موجود ہے جو تم ماضی سے لے کر اب تک سر انجام دیتے ائے ہو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں پھانسی ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ مرنے سے پہلے کوئی تو فائدہ پہنچاتے جاؤ اپنے ملک کو ۔۔
کس ملک کی بات کر رہے ہو میجر جس ملک میں ہم جیسے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہو ،جہاں کی گورنمنٹ خود اپنی عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں یا پھر وہ ملک جس میں انسان اگر جھوٹ کے خلاف اواز اٹھائے تو اسے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے ،جس ملک میں انسان رہتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اس ملک کے فائدے کی بات کر رہے ہو تم ؟؟
حسن مانا کے گورنمنٹ کچھ نہیں کر رہی لیکن ہمیں دیکھو ہم لوگ یہاں سرحدوں پر کیوں تعیینات کیے گئے ہیں تاکہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں ہم اپنے ملک کی عزت اور سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے ہر ایک فرد کے دل میں بھی اگر اتنا حوصلہ آ جائے نہ تو یقین مانو یہاں کی گورنمنٹ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔لیکن اس سے پہلے ہمیں خود پر اور ایک دوسرے پر یقین کرنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا ۔
حسن نے کہکا لگایا ،کیا کہا میجر تم نے۔ یقین ؟؟
چلو میجر یہ بتاؤ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس وقت تمہارے ساتھ اور تمہارے علاوہ جتنے بھی فوجی یاں جنرل یہاں کام کر رہے ہیں کیا وہ سب حق کے راستے پر ہیں، کیا ان کی سوچ بھی تمہاری سوچ کی طرح ملتی ہے بولو ؟
Qalab e sakoon novel by Emaan Zahra AFTER MARRIAGE STORY. FORCED MARRIAGE/ POLICE OFFICER BASE NOVELS Qalab e sakoon novel by Emaan Zahra . This… Read More »Qalab e sakoon novel by Emaan Zahra
Tu ishq o zindagi mani novel by Maryam Rajpoot Tu ishq o zindagi mani novel by Maryam Rajpoot. This is a social romantic novel by… Read More »Tu ishq o zindagi mani novel by Maryam Rajpoot
س سر ۔۔۔و وہ لوگ لے کر جا رہے ہیں ۔۔۔۔
فاطمہ کی گھبرائی آواز پر وہاں موجود تمام نفوس اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔۔
کس کو آفیسر فاطمہ پوری بات بتائیں ۔۔۔
جنرل سیف نے موبائل اپنے ہاتھ میں لیتے بی چینی سے پوچھا ۔۔۔۔
سر 30 لوگوں کی ڈیڈ باڈیز کو مارگیو سے ایمبولینس میں ٹرانسفر کیا گیا ہے ۔۔۔۔
اور مجھے پتا ہے ۔۔۔یہ باڈیز اپنی منزل پر جانے کی بجائے اور کہیں ہی جائیں گیں۔۔۔۔
فاطمہ نے اپنی بات تیزی سے مکمل کی ۔۔۔۔
کون ہو تم ۔۔۔؟
ابھی وہ اور کچھ بولتی جب کسی کی بھاری آواز پر وہ جو پلر کی اوٹ میں کھڑی تھی سانس تک روک گئی ۔۔۔۔
جبکہ کسی اور کی آواز سنتے سیکریٹ روم کے لوگوں کا روم روم کان بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
باسط نے آنکھیں چھوٹی کرتے اس آواز کو پہچاننا چاہا تھا ۔۔۔۔
ایم ڈاکٹر فاطمہ ۔۔۔۔
آفیسر فاطمہ نے سنجیدگی سے اپنا کارڈ سامنے کرتے پورے اعتماد سے کہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ سامنے موجود انسان کی نیلی وحشت زدہ آنکھوں میں دیکھتے اسنے پل میں جھرجھری لی ۔۔۔۔
جو بھی ہو فوراً نکلو یہاں سے ۔۔۔۔
پتا ہے نا اس ایریے میں آنا ممنوع ہے ۔۔۔۔
اس شخص نے اپنی اسی رعب دار آواز میں کہتے اسے راستہ دیا تھا ۔۔۔۔
Deewany novel by Alisha Khan Episode 3 Deewany novel by Alisha Khan Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Deewany novel by Alisha Khan Complete Novel
یہ کہانی ہے ظلم کی
اپنے حق کی
دشمنوں کے خلاف ایک سخت ترین قدم کی
یہ کہانی ہے آزادی کی
اپنے ملک کے خاطر شہادت کی
اس میں عشق بھی ہے اور درد بھی
یہ کہانی ہے
مسلمانوں کی عزت اور وقا کی
یہ کہانی ان سب کی جو ہمارے لیے اہمیت رکہتے ہیں
یہ کہانی ہے جنگ کی
یہ کہانی ہے میرے ، ہمارے “فلسطین” کی
آپ مجھے گرفتار نہیں کرواسکتے سر۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔میں پھر بھی آپکو آپکی۔امانت دینا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔آپکی بہن۔۔۔وریشہ کی جڑواں بہن۔۔وہ زندہ ہے۔۔۔میرے گھر میں ہے۔۔۔۔حازم کے قدم رک گئے۔۔۔۔۔اور وہ بےیقینی سے ادا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔جو ناقابل۔یقین باتیں اپنے منہ سے نکال رہی تھی۔۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ وہ بچپن میں بیماری کی وجہ سے زندہ نہیں بچ سکی۔۔۔وہ بچپن میں ہی مرگئی ہے۔۔۔۔ادا آزردگی سے مسکرائی۔۔۔نہیں سر۔۔۔۔وہ جو مرگئی تھی وہ میری بہن تھی۔۔۔۔پیدائش کے وقت ایکسچینج ہوگئے تھی۔۔میری بہن مرگئی۔۔۔لیکن آپکی بہن زندہ ہے میرے گھر میں ہے اور اپنی فیملی کی انتظار میں بیٹھی ہے۔۔۔حازم ساکت رہ گیا۔۔۔۔اسکے سارے الفاظ ختم ہوگئے۔۔یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔تم مجھے دوکہ دے رہی ہو؟ میں کسی کو دھوکہ دینے کہ پوزیشن میں نہیں ہوں۔۔۔۔آپکی بہن میرے گھر میں اپکا انتظار کررہی ہے۔۔آپکی مرضی اسے لیجانا چاہتی ہو یا نہیں۔۔۔۔میرا کام تھا آپکو بتانا۔۔۔۔۔میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔۔آپ مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے رخ موڑا۔۔۔اور تیزی سے بھاگنے لگی۔۔۔۔حازم اسکے پیچھے جانا چاہتا تھا۔۔مگر پارسا کی چیخ نے خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کیا وہ بےاختیار چونک گیا۔۔۔ادا نے بھی یہ آواز سن لی تھی اسکے قدم بھی آہستہ ہوگئے۔۔بھیااااااا۔۔۔۔پارسا کی پکار ایک بار پھر سنائی دی۔۔حازم نے چوٹی کی طرف دوڑ لگادی۔۔ادا موقع سے فائدہ اٹھاکر بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔مگر اسکے قدم۔اسکا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔وہ کچھ دیر وہی پر رک گئی۔۔۔۔حازم جب پارسا تک پہنچ گیا تو اسکا رنگ اڑ گیا۔۔۔۔پارسا بری طرح عمر کا سر اپنی گود میں رکھے رورہی تھی۔۔۔وریشہ کہی نہیں تھی۔۔۔اس نے سامنے دیکھا تو وریشہ کو آدمیوں نے جھکڑا تھا حازم وریشہ کے پیچھے جانے لگا۔۔جب اسے ایک اور آدمی نظر آیا جو پارسا کی طرف گن تانے کھڑا تھا اسکا سانس رک گیا۔۔۔پارسااااا۔۔۔۔وہ جو عمر کا سر احتیاط سے نیچے رکھ کر اٹھ گئی تھی۔۔۔۔بے اختیار بھائی کی طرف دیکھا۔۔۔۔مگر اسے موقع دئے بغیر حازم نے اسے اپنے سینے میں بھنچ لیا۔۔۔۔
ادا اسی کشمکش میں تھی کہ جائے یا رک جائے۔۔۔پھر اس نے جانے کا فیصلہ کیا جب گولی چلنے کی آواز آئی۔۔۔ادا نے بےاختیار اس طرف دیکھا جہاں سے حازم گیا تھا۔۔اور کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اسی طرف دوڑ لگائی۔۔۔۔وہ چوٹی پر چھڑنے لگی ۔۔۔اسے تقریبا دس منٹ لگے تھے اس نے سامنے کا منظر دیکھا۔۔۔تو اسکی آنکھیں خوف سے پھیل گئی۔۔۔۔ایک طرف عمر پڑا تھا اور دوسری طرف حازم درد سے دوہرا ہورہا تھا۔۔۔پارسا کبھی حازم کے پاس آتی تو کبھی عمر کے پاس۔۔۔وہ۔نازک سی لڑکی ڈر اور خوف سے کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔اور آنکھوں سے آنسو کسی ندی کی طرح بہہ رہے تھے۔۔۔۔وہ جلدی سے ان لوگوں کے پاس آئی۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔وہ حازم کو دیکھتے ہوئے اسکے پاس آئی ۔۔۔۔۔ادا۔۔ آپ؟ یہاں؟؟؟ پارسا حیران ہونے کا وقت نہیں ہے۔۔۔کیا ہوا ہے یہ بتاؤ۔۔۔وریشہ کو کچھ لوگ لے گئے۔۔۔۔حازم ھوش میں تھا۔۔۔سر۔۔۔۔آپ۔۔۔۔آپ ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ادا کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔۔ادا۔۔۔۔۔۔وریش۔۔۔۔۔۔کے ۔۔۔پیچھ۔۔۔ے جاؤ۔۔۔اس نے درد سے کراہتے ہوئے ایک ایک لفظ الگ الگ ادا کیا۔۔۔۔سر آپ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔میں آپکو چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔۔۔۔اس نے روتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔ادا نے چیخ کر پارسا کو متوجہ۔کیا۔۔۔۔پارسااا۔۔۔اپنے شوہر کو ہوش میں لاؤ۔۔۔میں حازم سر کو دیکھتی ہوں۔۔۔پارسا عمر کا چہرہ تھپتھپانے لگا۔۔۔۔۔جب ادا نے یہ دیکھا تو اسے غصہ چھڑ گیا۔۔۔۔ایسے نہیں ہوش میں لاتے۔۔۔پارسا بی بی۔۔۔۔۔اس نے پانی کی بوتل جو حازم۔کے پاس رکھا تھا اٹھایا۔۔۔۔۔اور عمر کے چہرے پر انڈیلنے لگا۔۔۔۔عمر ہڑبڑاکے اٹھ گیا۔۔۔کیا ہوا ہے؟ اوووہ وریشہ اسے یاد آیا ۔۔اسے پیچھے سے ایک۔آدمی نے زور سے مارا تھا۔۔اسکے سر پر جس سے وہ بے ہوش ہوگیا۔۔۔۔کیا آپ وریشہ کو لاسکتے ہے۔۔۔میں اس معاملے میں آپ پر بھروسہ کرسکتی ہوں؟ ادا نے اسے جھنجوڑتے ہوئے کہا۔۔۔عمر اپنی جگہ سے اٹھ گیا اور اپنے دکھتے سر کو تھام کر حازم کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔حازم کو کیا ہوا ہے؟ انہیں گولی لگ گئی ہے عمر۔۔۔پارسا نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔آپ انکی فکر نہ کرے وریشہ کے پیچھے جائے اسے ڈھونڈ لیں۔۔۔۔۔کیا آپ اسے ڈھونڈ لینگے؟ادا نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔تم لوگ حازم کے پاس جاؤ۔۔میں وریشہ کو کچھ بھی نہیں ہونے دونگا۔۔۔۔۔وہ لوگ کس طرف گئے ؟ ادا نے اسے سمت بتائی اور حازم کی طرف آئی۔۔۔۔پارسا اسکا سر ہاتھوں میں لیئے اسے ہوش میں رکھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔۔حازم کو ایک گولی کندھے پر اور ایک کمر پر لگ گئی تھی۔۔۔۔۔اسکا سارا جسم مفلوج ہونے لگا تھا۔۔۔۔گولی پر کسی قسم کا زہر چھڑکا گیا تھا جس سے سارا جسم مفلوج ہوجاتا تھا۔۔۔حازم ایک انگلی بھی نہیں ہلاسکتا تھا۔۔۔پورا جسم مفلوج تھا۔۔۔ادا اسکے پاس آئی۔۔۔۔۔ آپ ہمت رکھے۔۔۔۔آپکو۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔اس نے دھڑکتے دل سے کہا۔۔۔۔پارسا۔۔۔آپ لوگوں کی گاڑی کہاں ہے؟ اس نے پارسا سے پوچھا۔۔۔وہ نیچے ایک درخت کیساتھ پارک کیا ہے۔۔تم گاڑی کو چوٹی کے دھانے پر لے آؤ میں حازم سر کو لے آتی۔ہوں۔۔مگر آپ اکیلے کیسے انکو نیچے لے آئینگے۔۔۔۔۔پارسا نے۔پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔ادا نے حازم کو سہارہ دےکر اٹھانا چاہا۔۔۔۔اسے بٹھایا۔۔۔مگر وہ ہل بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ادا بھی پریشانی سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اس راستے کو ۔۔جس پر اکیلے جانا مشکل تھا۔۔کہاں ایک زخمی انسان کو ساتھ لےجانا۔۔۔۔۔پارسا۔۔۔سوچنے کا وقت نہیں ہے سر کی طبیعت بگڑ رہی ہے تم انکے پھیروں سے پکڑو۔۔۔۔میں بازوؤں سے پکڑتی۔ہوں دونوں انہیں اٹھائینگے۔۔۔۔پارسا کے ہاتھ پھیر بری طرح کانپ رہے تھے۔۔۔پہلی بار ایسی سچویشن کا سامنا ہوا تھا۔۔۔۔۔اور وہ تو فائر کی آواز سے اتنی ڈرگئی تھی۔۔کہ ابھی تک اسکا دل۔لرز رہا تھا۔۔۔۔پارسا حازم کے پھیر اٹھانے لگی۔۔۔۔۔مگر اس سے نہیں ہوسکا۔۔۔۔اس وقت وہ ایک تنکا اٹھانے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔ادا نے بےبسی بھرے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ہم نہیں کرسکتے۔۔پارسا نے روتے ہوئے اپنی بےبسی ظاہر کیا۔۔۔ادا۔۔۔۔۔۔پہلے۔۔۔۔وریش کو۔۔۔ڈھونڈ لیں۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔چھوڑ دیں۔۔۔۔حازم نے کراہتے ہوئے کہا۔
Talaq novel by Eman Fatima Complete Novel Talaq novel by Eman Fatima Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Talaq novel by Eman Fatima Complete Novel
پانچ سال اپنوں سے جدائی کا دکھ ایسی خلش جس کا کوئی مداوا نہیں۔
احسن کو امریکہ آئے پانچ سال ہونے کو تھے یہ پانچ سال احسن نے دن رات کا فرق بھلائے محنت کی اور اپنی محنت کے دم پر اپنا مقام بنایا۔ امریکہ میں لوگ احسن کو دیکھ کر رشک کرتےتھے جس نے کم ہی عرصے میں برنس کی دنیا اپنی ایک الگ پہچان بنا لی تھی آج احسن اسٹیج پر کھڑا بہترین بزنس مین کا ایوارڈ لے رہا تھا۔ ہونٹ تو مسکرارہے تھے؛ لیکن آنکھیں اداس اور ویران تھی وجہ اپنوں سے جدائی تھی آج اتنے اہم موقعے پر اس کے والدین اس کے ساتھ نہیں تھے