Skip to content
Home » Uncategorized » Page 20

Uncategorized

Tu mily mil jaey rahat novel by Maryam Rajpoot

  • by

یہ کہانی ایک ایسے شخص سے شروع ہوتی ہے جس نے فقت ایک شرط کی حاتر ایک معصوم سی لڑکی کو اپنے جال میں پہنسایا تھا محبت کے جال میں

یہ کہانی ہے سردار وہاج سلطان

کے عشق کی ۔۔۔اسکے ہجر کی ۔۔اسکے جنون کی۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی جسکے اپنوں نے اسے ہود جہنم میں دھکیلا تھا اسکے پیارے نانا نے اسے ایک سنگی انسان کے ساتھ باندھا تھا اسکی زندگی میں زہر گھولا تھا ۔۔

ایک حاسد کی جسنے دوہا میر کو تباہ کرنے کی قسم کھایی تھی اسکو درد دیا تھا ۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی ۔۔اسک عشق کی۔۔۔اسکے درد کی ۔۔۔اسکے سردار کر عشق میں قید ہونے کی۔۔

یہ کہانی ہے شاہ کے انتقام کی اور دلربا کے عشق کی۔۔

یہ کہانی ہے وامق سلطان کی محبت کی ۔۔روشانی راہب کمال کے ونی ہونے کی ۔۔۔ان دونوں کی کہانی۔۔

یہ کہانی ہے انتقام کی ۔۔جنون کی۔۔کسی کے عشق کی تو کسی کے ہجر کی ۔۔تو کسی کے حسد کی۔۔دو خاندانوں کی کہانی

Mohabbat hui mehram novel by Maryam

“صحیح کہا تم نے! پاکستان میں حسن کی کمی نہیں

ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ جوتوں اور تھپڑوں کی بھی

کوئی کمی نہیں ہے” …..کہتے ساتھ ہی ہانیہ نے اس پہ

تھپڑوں اور مکوں کی برسات کر دی جبکہ وشمہ نے

بھی دوسرے لڑکے پہ ہاتھوں اور مکوں کا خوب

استعمال کیا ۔۔۔۔ وہ دونوں مخض پانچ منٹ میں

پہچانے ہی نہیں جا رہے تھے ۔۔۔۔ان میں اٹھنے کی بالکل

ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔۔

“بھائی! اور حسن دیکھنا ہے یا یہ ہی کافی ہے ۔۔۔” ہانیہ

نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“نن۔۔۔۔ نہیں! اتنا ہی کافی ہے” ایک نے ہاتھ جوڑتے

ہوئے کہا ۔۔۔

“چلو ہنی ہم چلتے ہیں” ۔۔۔ وشمہ نے ہانیہ کا

ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔ اور کار کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔

“مزے کی کچھ لگتی۔۔۔۔ یہ تو آنٹی تمہیں بتائیں گی

نا ۔۔۔۔جب اس وقت تک باہر رہنے کا جواز بتاؤ گی” ۔۔۔

“کیا مطلب اس وقت تک! اوہ نو” ۔۔۔واچ پہ نظر پڑتے

ہی اسکے منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔واچ رات کے آٹھ

بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“آج تو شامت پکی” ۔۔۔اسنے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ کبھی کبھی خود کو ماؤں کا شکار

بھی بناننا چاہیے” ۔۔۔وشمہ نے سیل فون پر گیم کھیلتے

ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

Shehr e ishq novel by Mari Khan

  • by

مہر تم نے شاہ زین بھائی سے کیوں کہا تم ان سے دوستی کرکے پچھتا رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے انھیں کتنا ہارٹ ہوا ۔

زویا میں نے بس اس سے مزاق کیا تھا ۔وہ سیرس ہوگیا ہے ۔

مہر ایسا مزاق کون کرتا ہے تم ہمیشہ ایسا کرتی ہوں انکے ساتھ ؟ نہیں پسند تھے تو دوستی کیوں کی؟ دوست بھی ہے پسند بھی ہے اور پچھتا بھی رہی ہوں سوچ سمجھ کر بولا کرو سمجھی؟

زویا ۔مہر کی آ نکھیں نم ہونے لگی ،

مہر اگر کوئی تمہیں بولے گا تمہیں کیسا لگے گا

زویا میں لڑکوں کو پھنسا نے والی ہوں ؟ از نے روتے ہوئے کہا؟

میں عمر سے محبت کرتی ہوں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں میں ابھی تک ان سے بدتمیزی نہیں کرتی اور تم انھیں اتنا سناتی ہو۔

نہیں کرتی میں اسکے بے عزتی میں اسکی عزت کرتی ہوں پیار سے بات کرتی ہوں ۔زویا میں نے ایک نامحرم سے دوستی کی ہے لکین مجھے اس سے انسیت ہوگی ہے م کیوں اسے مانگ رہی ہوں بار بار ۔میں نے بس مزاق کیا اسے کیا مجھے چھوڑ کر نہیں جانا زویا میں اس سے محبت کرتی ہوں عارض کے بعد میں سے صرف اسے رب سے مانگا ہے میری نیت نکاح کی ہے تم کیوں مجھے اتنا سنا رہی ہوں وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔

Hasidon ki dunya mein novel by Mahnoor Rasheed Ahmed

  • by

یہ ناول ایسے شخص کے متعلق ہے ، جو جس کے خواب اسے سرگرداں رکھتے ہیں،

اپنے خوابوں کو پانے کے لیے وہ جدو جہد کرتا ہے ۔ یہ داستان ہے دو لوگوں کی جن کی زندگی انہیں ایک مقام پہ لا کر کھڑا کر دیتی ہے اور ان کا مشترک ماضی انہیں ملانے کا سبب بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں مختلف نشیب و فراز کے زیر اثر آجاتی ہیں۔ ، کیا یہ اپنے زندگی میں سکون کی جانب گامزن ہو پائیں گے۔ دونوں ہی اپنے خوابوں کو پورا کر نے کے لیے سرگرداں ہیں کیا ان کے خواب پورے ہو سکیں گے۔

یہ داستان ہے خوابوں سے تعبیر کی، اور زندگی میں حائل ہونے والے

طلاطم کی۔

یہ داستان ہے دعاؤں کی التجاؤں میں ڈھل جانے کی۔

یہ داستان ہے نفرت سے محبت کی ، یہ داستان ہے زوال سے عروج

کی اور عروج سے زوال کی۔ یہ کہانی ہے مکافات عمل کی۔ یہ داستان ہے

پہاڑوں سے کیے جانے والے عشق کی ، جو کہ حقیقی اور مجاز ی عشق

سے روشناس کر واتا ہے۔

یہ داستان ہے پہاڑوں میں مقیم ایک شخص کی جس کی آنکھیں شاہین کی

مانند

پہاڑوں کی گھات لگا ئے بیٹھی ہیں۔ کیا قدرت اسے خود کو تسخیر کر نے

کا موقع دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Basil novel by Mahnoor Shahid Season 1

کچھ بتایا اس نے یا ابھی بھی زبان نہیں کھولی ؟ایک نظر وہ حسن پر ڈالتے ہوئے بولا

نہیں میجر ،اس نے کچھ نہیں بتایا ۔اس کے مطابق یہ نہیں جانتا یہ کس کے کہنے پر کام کر رہا تھا

انٹرسٹنگ !سعد مائنی خیز مسکراہٹ لیے بولا ۔۔اس دوران سات کے دونوں گالوں میں کچھ حد تک ڈمپلز نمایاں ہوئے ،وہ چلتے ہوئے سامنے موجود ٹیبل پر سے ایک فائل اٹھا کر واپس حسن کے سامنے کھڑا ہو گیا

جانتے ہو حسن اس میں کیا ہے وہ اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔حسن نے ایک نظر فائل پر دوڑائی اور سر نفی میں ہلایا

اس میں تمہارے انجام دیے گئے تمام گناہ درج ذیل ہیں اس میں تمہارے کالے کارناموں کی ایک طویل لسٹ موجود ہے جو تم ماضی سے لے کر اب تک سر انجام دیتے ائے ہو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں پھانسی ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ مرنے سے پہلے کوئی تو فائدہ پہنچاتے جاؤ اپنے ملک کو ۔۔

کس ملک کی بات کر رہے ہو میجر جس ملک میں ہم جیسے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہو ،جہاں کی گورنمنٹ خود اپنی عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں یا پھر وہ ملک جس میں انسان اگر جھوٹ کے خلاف اواز اٹھائے تو اسے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے ،جس ملک میں انسان رہتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اس ملک کے فائدے کی بات کر رہے ہو تم ؟؟

حسن مانا کے گورنمنٹ کچھ نہیں کر رہی لیکن ہمیں دیکھو ہم لوگ یہاں سرحدوں پر کیوں تعیینات کیے گئے ہیں تاکہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں ہم اپنے ملک کی عزت اور سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے ہر ایک فرد کے دل میں بھی اگر اتنا حوصلہ آ جائے نہ تو یقین مانو یہاں کی گورنمنٹ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔لیکن اس سے پہلے ہمیں خود پر اور ایک دوسرے پر یقین کرنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا ۔

حسن نے کہکا لگایا ،کیا کہا میجر تم نے۔ یقین ؟؟

چلو میجر یہ بتاؤ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس وقت تمہارے ساتھ اور تمہارے علاوہ جتنے بھی فوجی یاں جنرل یہاں کام کر رہے ہیں کیا وہ سب حق کے راستے پر ہیں، کیا ان کی سوچ بھی تمہاری سوچ کی طرح ملتی ہے بولو ؟