Skip to content
Home » Uncategorized » Page 18

Uncategorized

Gardish e mah by Tooba Kiran Complete novel

  • by

“دیکھو میری! وہ لڑکی میرے نکاح میں ہے اور میں رشیا آنے کے بعد اسے طلاق دے دوں گا اس کے بعد اس کا معاملہ دیکھیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے؟” ہمایوں نے خفگی سے کہا۔
“سیریسلی ہمایوں؟ مجھے جلدی ہے یا تمہارے دل میں اس لڑکی کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے؟”میری نے کہا تو ہمایوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
“اس کا مجھ پر بےانتہا یقین مجھے اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ میں اس کے سامنے خود کو بہت کمزور سمجھتا ہوں۔ اس پر ظلم کرنا چاہتا ہوں مگر نہیں کر پاتا۔ اس کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہوں مگر خود تکلیف سے دوچار ہو جاتا ہوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میری کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔” ہمایوں نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ ڈالی تو دوسری جانب کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے ہمایوں۔مجھے تو یہ ڈر ہے کہ کہیں تم اس پر ترس کھا کر اسے رہا نہ کر دو۔” میری نے غصے سے کہا تو ہمایوں نے اپنے ہونٹ کچلے۔
“ایسا نہیں ہو گا۔بس میرا ضمیر غلط وقت پر بیدار ہو رہا ہے۔کچھ پڑھ کر پھونکو کہ یہ پھر سے سو جائے۔” ہمایوں نے اپنے سر پر پھیلے آسمان کو دیکھا جو لمحہ بہ لمحہ اپنے رنگ بدل رہا تھا۔
“اپنے ضمیر کو تم خود تھپکی دو اور جلدی سے یہاں آجاؤ۔۔۔۔۔اور ہاں اس لڑکی سے دور رہو۔ سمجھے؟” میری نے آخر میں سخت لہجے میں اسے وارن کیا۔

Zindagi ke dou chehray by Sawera Naz Muhammad Ayaz Complete novel

  • by

کاش یہ تهپڑ میں تجهے پہلے مار دیتا بدبخت تو نہ آج ماہل گمشدہ ہوتی اور نہ تیری ماں مرتی. تجهے ذرا سا بهی محسوس نہیں ہوا کہ تیرے ساتھ یہ سب عین اسی دن کیوں ہوا؟ تو نے بهی اس دن کسی کی بیٹی، کسی کی بہن اس سے چهین لی تو تیرے ساتھ یہ ہونا تو طے تها. بدبخت یہ تیرا مکافات عمل ہے. اب بهی وقت ہے سدهر جا. ماں تو تیری رہی نہیں شاید بہن رہ جائے. تجهہ سے بڑا کم بخت تو میں ہوں جو میں نے تجهہ جیسے انسان کی تربیت کی. میری شہ پہ ہی تو نے اتنا بڑا کالک میرے منہ پہ ملا ہے. میں نے تجهے شہ دے کر ناصرف تجهہ سے زیادتی کی بلکہ خود سی بهی زیادتی کر بیٹها نتیجہ آج میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں. وڈیرہ صاحب کی بات پہ روزان نے شرمندگی سے سر جهکا لیا. اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تهے شاید اب اس نے خود کو ضمیر کی عدالت میں کهڑا محسوس کیا.

وڈیرہ صاحب اب صلہ سے مخاطب تهے انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے :

معافی چاہتا ہوں میں بچے. انسان پہ جب تک خود نہیں گزرتی تب تک وہ سنهبلتا نہیں. بات میری بیٹی پہ آئی تو جیسے میری جان پہ بن گئی اور میں تڑپ اٹها. تمہارا باپ بهی تڑپا ہوگا مگر یہ بدبخت بہرہ بن کر ان کی بے بسی کا تماشہ دیکهتا رہا. دیکهو وقت نے کیسا پلٹا کھایا کہ آج اس کا پورا خاندان تماشہ بن چکا ہے. ہماری لاکھ کوششوں اور کئی اثر و رسوخ کے باوجود ماہل کو ہم ڈهونڈ نہ پائے. خدا جانے اسے زمین کها گئی یا آسمان نگل گیا. کسی کو کچھ خبر نہیں. تمہارے باپ کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ اس کی بیٹی کو کون اٹھا کر لے گا جبکہ میں بدنصیب اپنی بیٹی کا مجرم کسی کو نہیں ٹہرا سکتا کیونکہ میں نے ماہل کو کسی کے ساتھ جاتے نہیں دیکھا شاید میں خود ہی مجرم ہوں. جو باپ اپنی اولاد کی ٹهیک طرح سے تربیت نہ کر سکے اس کے ساتھ ایسا ہونا تو بجا ہے. میں اور روزان طاقت کے نشے میں غرق یہ بات بهول گئے تھے کہ سب سے عظیم طاقت تو رب العالمین کی ہے. اس پاک اور برتر ذات کے آگے ہم جیسے ادنیٰ مخلوق کی کہاں چلتی ہے. دیکهو کیسا انصاف کیا رب کریم نے. تم یقیناً ان کی محبوب بندی ہو گی تبهی تو تمہیں نقصان پہنچانے والوں کی پکڑ فوراً ہوگئی. بچے ہو سکے تو مجھ مجبور باپ کو معاف کر دینا. تم چاہو تو میں تمہیں اس بدبخت سے آزادی دلا سکتا ہوں. وڈیرہ صاحب کی آواز بهرائی ہوئی تهی وہ رو رہے تهے

. *************

Hayat e yousuf by Warisha Zehra Complete novel

  • by

ہمارا معاشرہ عورت کو اس حد تک کم تر سمجھتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ حقیقت میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ان کرداروں میں خود کو تلاش کریں گے اور کچھ نہ کچھ ضرور دیکھیں گے۔ یہ ناول میرے دل کے بہت قریب اس لیے بھی ہے کہ اس میں میری زندگی کے بہت سے پہلو شامل ہیں، اور وہ پہلو ایسے ہیں جو مجھے ہمیشہ تلخ اور خوبصورت یادوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ لوگ رہیں یا نہ رہیں، یادیں رہتی ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ ناول پسند آئے گا اور آپ وہ سب دیکھ سکیں گے جو میں آپ سب کو دکھانا چاہتی ہوں، معاشرتی تلخ پہلو اور کچھ حقیقتیں۔

٭٭

اس دنیا میں نہ تو سیاہ ہے اور نہ ہی سفید، اگر یہاں کوئی رنگ پایا جاتا ہے تو وہ ہے سرمئی، اور اب ان کرداروں کو یہ طے خود کرنا ہے کہ وہ سیاہ ہیں یا سفید، اور کون سا رنگ ان پر پہلے غالب آتا ہے۔

کہانی طواف کرتی ہے یوسف سلیمان اور حیات سلطان کے گرد،کہانی گناہوں، بدلے، اور محبت کی.

کہانی طواف کرتی ہے حمید خان اور داوود سلطان کے گرد کہانی بدعنوانی، طاقت کی بھوک، اور دھوکہ بازی کی.

سیاہ اور سفید کی دھندلی لکیر

Adhoray mukamal novel by Elena Qureshi Complete novel

  • by

ادھوری محبت اور نفرت کی داستان، ادھورے ہجر اور وصال کی داستان، ادھوری زندگی اور موت کی داستان، ادھورے اپنے اور پرائوں کی داستان، ادھورے غم اور خوشیوں کی داستان، ادھوری بہار اور خزاں کی داستان، ادھوری روشنی اور اندھیرے کی داستان، ٹوٹ کر مکمل جڑنے کی داستان

مختصر یہ کہ ادھورے کرداروں ”

کی مکمل داستان ”

یہ ناول کرداروں کے گرد گھومتا ہے جو اسلام، مذہب، دین، خدا اور نیکی جیسے الفاظ سے ناآشنا ہیں۔انکے لئے زندگی کا مقصد” *میں اور میری مرضی” ہے۔ بقول ان کے، جو بھی دنیا میں انسان حاصل کرتا ہے وہ اس کی اپنی قابلیت کی بنا پر ہے جبکہ ایک کردار تو سرے سے اللہ کے ہونے پر بھی یقین نہیں رکھتا(نعوذبااللہ)۔

یہ تینوں دو لڑکے اور ایک

لڑکی زندگی

کے کچھ موڑ پر ملتے ہیں, جس سے یہ آپس میں جڑ جاتے ہی، لیکن اپنی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے تینوں الگ ہو جاتے ہیں۔

ان سالوں میں ان تینوں کی الگ الگ سٹوری چلے گی جن میں کچھ tragadies انہیں اسلام کی طرف لے جائیں گی۔ اس میں ہماری فیمیل لیڈ ایک ہندو لڑکی سے ملے گی جس کے ساتھ مل کر وہ اسلام کو ایکسپلور کرے گی۔

اصل میں ہندو لڑکی *رتیقا* کی سائڈ سٹوری ہے جس میں رتیقا” عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر” کر کے اپنے مذہب کو بدلے گی،” اسلام “قبول کرے گی

ادھورے مکمل داستان آپ لوگوں کو کچھ سکھائے یا نہیں مگر امید ہے کہ آپ کی ادھوری زندگیوں کو کہیں نہ کہیں مکمل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ضرور کرے گی، یقیناََ کچھ جگہوں پر آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بھی کر دے گی۔ ” بس ایمان پختہ اور نیت صاف ہونی چاہیے۔”

# *انسان تو پھر ادھورے مکمل کی سب سے بہترین مثال ہے ۔*✨

Alhamd se Wannass by Umaima Shafeeq Qureshi complete novel

  • by

یہ کہانی ہے مختلف کرداروں کی

ایک ایسی لڑکی کی جو منطقی باتوں پر یقین رکھتی ہے

جسے آخرت،جنات اور فرشتوں پر یقین نہیں….

ایک ایسے شخص کی جس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے

یہ کہانی ہے ایک معصوم اپسرا کی

اور ایک ایسے شخص کی جس کی ذہانت کا کوئی جواب نہیں…. یہ کہانی ہے الحمد سے والناس تک کے سفر کی

Talooh e aftab se gharoob e aftab tak novel by Hikmat Yar

  • by

“جیسے کسی پیاسے کو صحرا میں پانی کی تلاش ہو، دور سے سورج کی کرنیں ریت پر پانی کا منظر پیش کر رہی ہوں، چمکتا ہوا پانی پیاسے کو اپنے پاس آنے پر مجبور کر دے۔ پیاسے کے دل میں پانی پینے کی شدت مزید جاگ جائے اور وہ ہانپتا کانپتا سورج کی تپش میں جلتا ہوا اپنا بدن دو ٹانگوں پر اٹھائے قریب سے قریب تر آتا جائے اور اسے پتا چلے یہ اک سراب تھا۔ وہ سیراب ہونے آئے اور اس کے ساتھ سراب ہو جائے۔ اسے ہی نفس الامر کا سراب کہا جاتا ہے۔ یہی خوابوں خیالوں کی دنیا میں ہوتا ہے۔

دنیا سراب ہے، اس کی کوئی حقیقت موجود نہیں ہے۔ یہ کائنات اک وہم ہے۔ یہی نفس الامر اک سراب کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقت صحرا کی طرح ہے۔ سب کچھ اک سراب ہے سراب۔”

وہ بد روحوں کی طرح گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کی اپنی ہی روح تھی ۔ ایک گلی سے دوسری گلی میں چکر لگا رہی تھی۔ لوگ اسے پتھر مار رہے تھے مگر وہ سب کچھ نظر انداز کر کے صرف اللّٰہ کی تلاش میں یہاں سے وہاں بھاگ رہی تھی۔

“وہ میری اپنی ہی روح تھی جو رب العالمین سے وصل کے لیے بے چین تھی”۔

جیسے ہی اسے وہ یکتا ذات اپنے قریب محسوس ہوئی وہ رقص کرنے لگی وہ رقص جو صرف اللّٰہ کے محبوب اور مخصوص بندوں پر وجد بن کر اترتا ہے۔

آج میں نے جھومتا ہوا رب دیکھا

سب نظروں سے اوجھل اپنے روبرو دیکھا

Taghoot novel by Anzum Aziz

  • by

پو چھوگی نہیں کیا کہا اسنے کیا پوچھوں اور کیا کریں اب میں تھک گی ہو بھابی لڑ لڑکر۔۔

آب اور نہیں ہے

مرے پاس ہمت ۔۔،

تم تو اپنے ہونے والے محرم سے بات کرنے گی تھی

لکین مرہ نے کہا ک تم صعبی سے ملنے گی

تھی تمہارا بھای کہتا کہ

تمہارا بھائ کہتا ہے

کہ وہ تمسے بات کرنے کی اجازت

ابا سے لے چکا تھ، لکین تم نے اچانک بولا بیجا کہ مرہ کے گھر آؤ ۔۔

لکین وہ تم سے یہی ملنے کا سوچ رہا تھآ لکین وہ پھر بھی تمہاری بات سننے

کے لیے آگیا کیو نکہ وہ اپ کو دیکھانا چاہتا تھا مانو نے تڑپ کر پوچھا کیا ۔۔۔؟

یہی کہ تم بے داغ ہو ۔

اور وہ جانتا ہےکہ صفہ اسے پسند کرتی ہے اور رمضہ نے تم سے اپنی

محبت کا بدلا لیا کونسی

محبت تمہارے بھای کی تو اسمیں مرا کیا قصور ہے

اور اسلیے ان تینوں بہنو نے ملکر تمہارے اوپر بہطان لگاے

اسلیے وہ تم سے انکے گھر ملنے آگیا

۔۔تمیارا بھائی نہیں چہاتا تھا

کہ تمہیں اس بات کا پتہ چلے اور تم پریشان ہوگی اسلیے۔۔۔

لکین میں چہاتی ہو تم اپنے دشمنوں کو پہچانوئ