Skip to content
Home » Uncategorized » Page 18

Uncategorized

Youn mil gay raaste by Humail Kazmi Complete novel

  • by

ہم جب اللہ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہیں تو سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ہونے ہمارے لیے فرحت و انبساط کا باعث ہوتا ہے ۔ان کے ساتھ گزرے لمحے زندگی کے صفوں پر ہمیشہ کے لیے سنہری لفظوں میں درج ہوتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک جینے کی وجہ ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ آپ کو زندگی کے اندھیروں سے روشنی کے نور کی طرف لاتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر محض لفظوں سے ادا کرنا ممکن نہیں۔

Siyah rang ke hisar mein by Sehrish Raees Complete novel

  • by

میری ننھی سی گڑیا بڑی ہو گئی ہے مجھے اپنی بیٹی پہ پورا اعتماد ہے اگر ساری دنیا کھلی آنکھوں سے بھی کہے گی کہ عنایا عنایت غلط ہے تو میں بند آنکھوں سے کہوں گا میری بیٹی غلط نہیں ہو سکتی مجھے اس پہ یقین ہے”…. میں نے تو بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ عنایا کے میٹرک کے رزلٹ کے بعد اس کا داخلہ شہر کے کسی اچھے کالج میں کرواؤں گا میری بیٹی کسی سے پیچھے کیوں رہے بھلا!… ارسلان اپنے بابا کے باتیں اور ان کی عظیم سوچ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لیے مسلسل انہیں دیکھ رہا تھا اچانک سے خیال آیا لوگ کیا کہیں گے؟…

آپ کیوں پریشان ہو بیٹا آپ کے بابا ہیں نا کوئی میرے ہوتے آپ دونوں پر بات نہیں کر سکتا بس اپنی بہن کا جیسے خیال رکھتے ہو اور فکر مند ہوتے ہو دوسروں کی بہنوں کے لیے بھی ایسے ہی انسانیت دل میں رکھنا اپنی بہن کے محافظ اور دوسروں کی بہنوں کےلیے بھیڑیا کبھی مت بننا اگر آپ دوسروں کی بہنوں کو بھی عزت دیں گے تو آپ کی بہن بھی خوش رہے گی” یاد رکھنا میرے بیٹے بیٹیاں سب کے سانجھی ہوتی ہے گھر کے اندر کی عورت اور بیٹی کے محافظ اور باہر کسی کی بیٹی کے لیے راستے تنگ کر دینا مردوں کی فطرت نہیں جانوروں اور حیوانوں کا کام ہے”

Wehshi aurat by Samiya Hussain Complete novel

  • by

ایک ایسی کہانی جو حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اس میں دنیاوی زندگی کی تلخ حقائق پر مبنی لیکن سچ کا عنصر نمایاں کیا گیا ہے بار ہا قصے سنے اور کانوں میں پڑے لیکن کہتے ہیں نا جس پر گزرتی ہوئی جانتا ہے لوگ فقط منہ پر آپ کے ہوتے ہیں جبکہ آپکی پیٹھ پیچھے وہی لوگ اکثر برائیاں بیان کر رہے ہوتے ہیں ۔

La takhzan Afsanwi majmooha by Sehrish Aman Complete

  • by

سحرش امان کی کتاب لا تحزن (غم نا کر) اردو افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں مصنفہ نے وہ تمام موضوعات select کیئے ہیں جس سے انسانی ذہن دکھوں کو تھوڑی دیر کے لیئے ہی سہی بھول سکے اور خوشی کا تعلق تو دل سے ہوتا ہے اگر انسان پر سکون ہو تو ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے اداس ہو تو جیسے سوگواریت پھیلی ہو چہار سو۔۔۔۔ غموں سے نجات کا واحد ذریعہ یہ کے کہ انسان اس دنیا سے جتنا ہو سکے کنارہ کش رہے ایسے جیسے کشتی پانی میں رہتی ہے نا پانی کشتی میں ڈوب جاؤ گے اگر دنیا کو خود میں سمو لیا تو۔۔۔۔

غموں کی اس انجانی بستی سے ناتا توڑنا نہیں ہے کیونکہ یہ وہ واحد زریعہ ہے جو آپکو اپنے رب سے قریب کرتا ہے۔

اپنے رب پر بھروسہ رکھ کر غموں کو نظر انداز کر دینا چاہیے کیونکہ ۔۔۔۔۔

لا تحزن ان اللّٰہ معنا

Qismat ka khail by Liyan Complete novel

  • by

” اب تو تمہیں میری محبت کا یقین آ گیا ہوگا “

اس لڑکی نے اس لڑکے سے کہا “محبت کون سی محبت جاؤ یہاں سے”

اس لڑکے نے تلخی سے اس لڑکی سے کہا

” نہیں تم نے کہا تھا اگر میں تمہارے ساتھ تمہارے فارم ہاؤس جاؤں گی تو تم مجھ سے شادی کرو گے تمہیں تو مجھ سے محبت تھی نا “

“محبت ہا ہا زیان عزیر کو کسی سے محبت نہیں ہو سکتی “

“زیان میرے ساتھ ایسے مت کرو “وہ لڑکی اب رونے لگی۔

” او بی بی ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھو اور جہاں سے ائی ہو وہاں چلی جاؤ اور اپنی شکل مت دکھانا دوبارہ”

زیان اس لڑکی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا دیتا ہے اور گاڑی زن سے اگے چلی جاتی ہے۔

زیان کی نظر سامنے کھڑی انوشے پہ جاتی ہے یقینا وہ ان کی باتیں سن چکی تھی لیکن زیان کو فرق نہیں پڑتا اس کا پارہ تو تب ہائ ہوتا ہے جب وہ انوشے کے منہ سے خود کے لیے برے الفاظ سنتا ہے غصے میں وہ انوشے کی طرف بڑھتا ہے ۔

Gardish e mah by Tooba Kiran Complete novel

  • by

“دیکھو میری! وہ لڑکی میرے نکاح میں ہے اور میں رشیا آنے کے بعد اسے طلاق دے دوں گا اس کے بعد اس کا معاملہ دیکھیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے؟” ہمایوں نے خفگی سے کہا۔
“سیریسلی ہمایوں؟ مجھے جلدی ہے یا تمہارے دل میں اس لڑکی کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے؟”میری نے کہا تو ہمایوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
“اس کا مجھ پر بےانتہا یقین مجھے اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ میں اس کے سامنے خود کو بہت کمزور سمجھتا ہوں۔ اس پر ظلم کرنا چاہتا ہوں مگر نہیں کر پاتا۔ اس کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہوں مگر خود تکلیف سے دوچار ہو جاتا ہوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میری کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔” ہمایوں نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ ڈالی تو دوسری جانب کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے ہمایوں۔مجھے تو یہ ڈر ہے کہ کہیں تم اس پر ترس کھا کر اسے رہا نہ کر دو۔” میری نے غصے سے کہا تو ہمایوں نے اپنے ہونٹ کچلے۔
“ایسا نہیں ہو گا۔بس میرا ضمیر غلط وقت پر بیدار ہو رہا ہے۔کچھ پڑھ کر پھونکو کہ یہ پھر سے سو جائے۔” ہمایوں نے اپنے سر پر پھیلے آسمان کو دیکھا جو لمحہ بہ لمحہ اپنے رنگ بدل رہا تھا۔
“اپنے ضمیر کو تم خود تھپکی دو اور جلدی سے یہاں آجاؤ۔۔۔۔۔اور ہاں اس لڑکی سے دور رہو۔ سمجھے؟” میری نے آخر میں سخت لہجے میں اسے وارن کیا۔

Zindagi ke dou chehray by Sawera Naz Muhammad Ayaz Complete novel

  • by

کاش یہ تهپڑ میں تجهے پہلے مار دیتا بدبخت تو نہ آج ماہل گمشدہ ہوتی اور نہ تیری ماں مرتی. تجهے ذرا سا بهی محسوس نہیں ہوا کہ تیرے ساتھ یہ سب عین اسی دن کیوں ہوا؟ تو نے بهی اس دن کسی کی بیٹی، کسی کی بہن اس سے چهین لی تو تیرے ساتھ یہ ہونا تو طے تها. بدبخت یہ تیرا مکافات عمل ہے. اب بهی وقت ہے سدهر جا. ماں تو تیری رہی نہیں شاید بہن رہ جائے. تجهہ سے بڑا کم بخت تو میں ہوں جو میں نے تجهہ جیسے انسان کی تربیت کی. میری شہ پہ ہی تو نے اتنا بڑا کالک میرے منہ پہ ملا ہے. میں نے تجهے شہ دے کر ناصرف تجهہ سے زیادتی کی بلکہ خود سی بهی زیادتی کر بیٹها نتیجہ آج میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں. وڈیرہ صاحب کی بات پہ روزان نے شرمندگی سے سر جهکا لیا. اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تهے شاید اب اس نے خود کو ضمیر کی عدالت میں کهڑا محسوس کیا.

وڈیرہ صاحب اب صلہ سے مخاطب تهے انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے :

معافی چاہتا ہوں میں بچے. انسان پہ جب تک خود نہیں گزرتی تب تک وہ سنهبلتا نہیں. بات میری بیٹی پہ آئی تو جیسے میری جان پہ بن گئی اور میں تڑپ اٹها. تمہارا باپ بهی تڑپا ہوگا مگر یہ بدبخت بہرہ بن کر ان کی بے بسی کا تماشہ دیکهتا رہا. دیکهو وقت نے کیسا پلٹا کھایا کہ آج اس کا پورا خاندان تماشہ بن چکا ہے. ہماری لاکھ کوششوں اور کئی اثر و رسوخ کے باوجود ماہل کو ہم ڈهونڈ نہ پائے. خدا جانے اسے زمین کها گئی یا آسمان نگل گیا. کسی کو کچھ خبر نہیں. تمہارے باپ کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ اس کی بیٹی کو کون اٹھا کر لے گا جبکہ میں بدنصیب اپنی بیٹی کا مجرم کسی کو نہیں ٹہرا سکتا کیونکہ میں نے ماہل کو کسی کے ساتھ جاتے نہیں دیکھا شاید میں خود ہی مجرم ہوں. جو باپ اپنی اولاد کی ٹهیک طرح سے تربیت نہ کر سکے اس کے ساتھ ایسا ہونا تو بجا ہے. میں اور روزان طاقت کے نشے میں غرق یہ بات بهول گئے تھے کہ سب سے عظیم طاقت تو رب العالمین کی ہے. اس پاک اور برتر ذات کے آگے ہم جیسے ادنیٰ مخلوق کی کہاں چلتی ہے. دیکهو کیسا انصاف کیا رب کریم نے. تم یقیناً ان کی محبوب بندی ہو گی تبهی تو تمہیں نقصان پہنچانے والوں کی پکڑ فوراً ہوگئی. بچے ہو سکے تو مجھ مجبور باپ کو معاف کر دینا. تم چاہو تو میں تمہیں اس بدبخت سے آزادی دلا سکتا ہوں. وڈیرہ صاحب کی آواز بهرائی ہوئی تهی وہ رو رہے تهے

. *************