Wabal afsana by Dr Tehreem Jameel download pdf
بھئی سلمہ نے تو بڑا ہاتھ مارا ہے۔ کروڑ پتی لوگوں میں لڑکی دے رہی ہے۔ ساجدہ تبصرہ کرنے لگی۔
یہ بتاؤ لفافے میں کیا دینا ہے؟ رضیہ بول اٹھی۔
میں تو پانچ ہزار دے رہی ہوں۔ امجد کی شادی پہ سلمہ بھی اتنے ہی دے گئی تھی۔ اب کی بار زبیدہ، جو کافی دیر سے سن رہی تھی بول اٹھی۔
پانچ ہزار زیادہ نہیں ہے؟ لڑکے کو بھی تو دینے پڑے گے۔ حساب دیکھ کہ چلو نا۔ ساجدہ نے کچھ سوچ کر کہا۔
ایسا کرو دو دو ہزار دونوں کیلئے کافی ہے۔ لفافے پہ نام مت لکھنا۔ کسی کو کیا معلوم ،کون سا لفافہ کس نے دیا ہے۔ رضیہ نے زبیدہ کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا اور تینوں قہقہہ بلند کرتی ہال میں گھس گئی۔









