Skip to content
Home » Uncategorized » Page 17

Uncategorized

Wabal afsana by Dr Tehreem Jameel download pdf

  • by

بھئی سلمہ نے تو بڑا ہاتھ مارا ہے۔ کروڑ پتی لوگوں میں لڑکی دے رہی ہے۔ ساجدہ تبصرہ کرنے لگی۔

یہ بتاؤ لفافے میں کیا دینا ہے؟ رضیہ بول اٹھی۔

میں تو پانچ ہزار دے رہی ہوں۔ امجد کی شادی پہ سلمہ بھی اتنے ہی دے گئی تھی۔ اب کی بار زبیدہ، جو کافی دیر سے سن رہی تھی بول اٹھی۔

پانچ ہزار زیادہ نہیں ہے؟ لڑکے کو بھی تو دینے پڑے گے۔ حساب دیکھ کہ چلو نا۔ ساجدہ نے کچھ سوچ کر کہا۔

ایسا کرو دو دو ہزار دونوں کیلئے کافی ہے۔ لفافے پہ نام مت لکھنا۔ کسی کو کیا معلوم ،کون سا لفافہ کس نے دیا ہے۔ رضیہ نے زبیدہ کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا اور تینوں قہقہہ بلند کرتی ہال میں گھس گئی۔

Talb e sukoon by Kashaf Qaisar Complete novel

  • by

ہر طرف ارمان ،ارمان ،ارمان کا شور تھا ۔۔۔۔۔..

دونوں اطراف میں لڑکے لڑکیوں کے ہجوم تھے اور انکے درمیان ۔۔ ارمان ملک اپنی روبدار پرسنلٹی لیے ۔۔بلیک جیکٹ بلیک جینز ۔۔اور بلیک ہی جاگرز پہنے ۔۔اپنی ہیوی بائک پر ۔۔۔گلوز اور سیفٹی ہیلمٹ پہنے اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے بھی سب لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔

ریس تھی ۔۔5 بائک رائیڈرز تھے جنکی ریس تھی ۔۔۔

اور ارمان ارحم ملک کبھی کسی سے ہارا نہیں تھا ۔۔اور ان لڑکوں نے اسے چیلنج کیا تھا ۔۔

اور ارمان لووز چیلنجز ۔۔۔۔۔۔۔۔

1،2،3 سٹارٹ ۔۔۔۔

ہرا جھنڈا لہرایا گیا جس پر ریس سٹارٹ ہوئی ۔۔۔

مگر یہ کیا سب آگے نکل گئے تھے اور ارمان وہیں پر رکا ہوا تھا ۔۔۔

سب پریشانی کے عالم میں ارمان کو دیکھ رہے تھے آخر کر کیا رہا تھا ۔۔۔تقریبن 1 کلو میٹر جب سب نکل گئے تو ارمان نے ریس لگائی ۔۔بائک آن کرتے فراٹے بھرتے بائک ہواؤں سے باتیں کرتی انکے مقابل آن پہنچی تھی ۔۔۔

Ghayat ul sabar by Sundas Mansoor Complete novel

  • by

دیکھیں میں جانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے بلکہ گناہ ہوا ہے لیکن یقین جانیں میں لیل کو پہلے بھی پسند کرتا تھا اور امی سب جانتی تھیں آپ چاہیں تو اُن سے خود پوچھ لیں لیکن یہ پسندیدگی محبت میں تب بدلی جب میں بد قسمتی سے وہ گناہ کر چکا تھا

عتیق اُٹھ کے زلیخا بیگم کے پاس آ گیا تھا ان کی حیرانی بھانپتے ہی اُن کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے تفصیل سے اپنی بات کہہ دی

عتیق یہ نہ ممکن ہے اس دن بھی اور آج ابھی باہر بھی تم خود سے متعلق ارمغان کی نہ پسندیدگی دیکھ چکے ہو

زلیخا بیگم اپنے دونوں ہاتھ بہُت آہستگی سے عتیق کے ہاتھوں سے چھوڑاتی بولیں

خالہ میں جانتا ہوں آپ خالو سے تو بات کریں ارمغان کو میں خود منا لوں گا اس کے پیر بھی پکڑنے پڑے تب بھی بنا کسی ہچکچاہٹ کے پکڑ لوں گا لیکن پلیز میں لیل کو کھونا نہیں چاہتا

عتیق بہت بے بسی سے زلیخا بیگم سے کہہ رہا تھا کہہ کہاں رہا تھا بلکہ ایک درخواست گزار کی طرح درخواست کر رہا تھا

Youn mil gay raaste by Humail Kazmi Complete novel

  • by

ہم جب اللہ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہیں تو سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ہونے ہمارے لیے فرحت و انبساط کا باعث ہوتا ہے ۔ان کے ساتھ گزرے لمحے زندگی کے صفوں پر ہمیشہ کے لیے سنہری لفظوں میں درج ہوتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک جینے کی وجہ ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ آپ کو زندگی کے اندھیروں سے روشنی کے نور کی طرف لاتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر محض لفظوں سے ادا کرنا ممکن نہیں۔

Siyah rang ke hisar mein by Sehrish Raees Complete novel

  • by

میری ننھی سی گڑیا بڑی ہو گئی ہے مجھے اپنی بیٹی پہ پورا اعتماد ہے اگر ساری دنیا کھلی آنکھوں سے بھی کہے گی کہ عنایا عنایت غلط ہے تو میں بند آنکھوں سے کہوں گا میری بیٹی غلط نہیں ہو سکتی مجھے اس پہ یقین ہے”…. میں نے تو بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ عنایا کے میٹرک کے رزلٹ کے بعد اس کا داخلہ شہر کے کسی اچھے کالج میں کرواؤں گا میری بیٹی کسی سے پیچھے کیوں رہے بھلا!… ارسلان اپنے بابا کے باتیں اور ان کی عظیم سوچ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لیے مسلسل انہیں دیکھ رہا تھا اچانک سے خیال آیا لوگ کیا کہیں گے؟…

آپ کیوں پریشان ہو بیٹا آپ کے بابا ہیں نا کوئی میرے ہوتے آپ دونوں پر بات نہیں کر سکتا بس اپنی بہن کا جیسے خیال رکھتے ہو اور فکر مند ہوتے ہو دوسروں کی بہنوں کے لیے بھی ایسے ہی انسانیت دل میں رکھنا اپنی بہن کے محافظ اور دوسروں کی بہنوں کےلیے بھیڑیا کبھی مت بننا اگر آپ دوسروں کی بہنوں کو بھی عزت دیں گے تو آپ کی بہن بھی خوش رہے گی” یاد رکھنا میرے بیٹے بیٹیاں سب کے سانجھی ہوتی ہے گھر کے اندر کی عورت اور بیٹی کے محافظ اور باہر کسی کی بیٹی کے لیے راستے تنگ کر دینا مردوں کی فطرت نہیں جانوروں اور حیوانوں کا کام ہے”

Wehshi aurat by Samiya Hussain Complete novel

  • by

ایک ایسی کہانی جو حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اس میں دنیاوی زندگی کی تلخ حقائق پر مبنی لیکن سچ کا عنصر نمایاں کیا گیا ہے بار ہا قصے سنے اور کانوں میں پڑے لیکن کہتے ہیں نا جس پر گزرتی ہوئی جانتا ہے لوگ فقط منہ پر آپ کے ہوتے ہیں جبکہ آپکی پیٹھ پیچھے وہی لوگ اکثر برائیاں بیان کر رہے ہوتے ہیں ۔

La takhzan Afsanwi majmooha by Sehrish Aman Complete

  • by

سحرش امان کی کتاب لا تحزن (غم نا کر) اردو افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں مصنفہ نے وہ تمام موضوعات select کیئے ہیں جس سے انسانی ذہن دکھوں کو تھوڑی دیر کے لیئے ہی سہی بھول سکے اور خوشی کا تعلق تو دل سے ہوتا ہے اگر انسان پر سکون ہو تو ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے اداس ہو تو جیسے سوگواریت پھیلی ہو چہار سو۔۔۔۔ غموں سے نجات کا واحد ذریعہ یہ کے کہ انسان اس دنیا سے جتنا ہو سکے کنارہ کش رہے ایسے جیسے کشتی پانی میں رہتی ہے نا پانی کشتی میں ڈوب جاؤ گے اگر دنیا کو خود میں سمو لیا تو۔۔۔۔

غموں کی اس انجانی بستی سے ناتا توڑنا نہیں ہے کیونکہ یہ وہ واحد زریعہ ہے جو آپکو اپنے رب سے قریب کرتا ہے۔

اپنے رب پر بھروسہ رکھ کر غموں کو نظر انداز کر دینا چاہیے کیونکہ ۔۔۔۔۔

لا تحزن ان اللّٰہ معنا

Qismat ka khail by Liyan Complete novel

  • by

” اب تو تمہیں میری محبت کا یقین آ گیا ہوگا “

اس لڑکی نے اس لڑکے سے کہا “محبت کون سی محبت جاؤ یہاں سے”

اس لڑکے نے تلخی سے اس لڑکی سے کہا

” نہیں تم نے کہا تھا اگر میں تمہارے ساتھ تمہارے فارم ہاؤس جاؤں گی تو تم مجھ سے شادی کرو گے تمہیں تو مجھ سے محبت تھی نا “

“محبت ہا ہا زیان عزیر کو کسی سے محبت نہیں ہو سکتی “

“زیان میرے ساتھ ایسے مت کرو “وہ لڑکی اب رونے لگی۔

” او بی بی ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھو اور جہاں سے ائی ہو وہاں چلی جاؤ اور اپنی شکل مت دکھانا دوبارہ”

زیان اس لڑکی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا دیتا ہے اور گاڑی زن سے اگے چلی جاتی ہے۔

زیان کی نظر سامنے کھڑی انوشے پہ جاتی ہے یقینا وہ ان کی باتیں سن چکی تھی لیکن زیان کو فرق نہیں پڑتا اس کا پارہ تو تب ہائ ہوتا ہے جب وہ انوشے کے منہ سے خود کے لیے برے الفاظ سنتا ہے غصے میں وہ انوشے کی طرف بڑھتا ہے ۔