Skip to content
Home » Uncategorized » Page 15

Uncategorized

Qafas by Anosha Maqsood Complete

  • by

قفس : جس کی دیواریں ٹوٹے خوابوں کے عوض بنی ہوں ۔

(——————————)

رشتے بہت ضروری ہوتے ہیں۔

رشتوں کے لیے خوشیاں قربان کرنا جائز ہوتا ہے-

مگر اہم عزت ہوتی ہے جو ہم دیتے ہیں ۔

اہم بھروسہ ہوتا ہے جو ہم ایک دوسرے پر کرتے ہیں ۔

باقی سب دائمی ہوتا ہے۔

غیر اہم بس وہی ہوتا ہے جو ضروری نہیں ۔

آدم کی حوا اور حوا کا آدم کہانی مکمل کرتا ہے ۔

کبھی کبھی حوا شہہ مات دینے میں صفحہ اول رہتی ہے ۔

آدم ایک عرصے کے لیے پس پشت ہو جاتا ہے ۔

مگر آدم آدم ہی رہتا ہے عظیم ،واحد اور اول ۔

حوا کا آدم اور آدم کی حوا کہانی مکمل کرتی ہے-

٭٭٭٭٭٭٭٭

Touq by Sana Rasool Complete

  • by

دل تو پہلے ہی خالی تھا اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہ رہا کچھ خواب تھے میری زندگی کا سرمایہ میرے اپنوں،،نے مجھ سے وہ بھی چھین لیا،،

کوٹ سے نکلتے وقت اس کے چہرے پہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی ،(لیکن کچھ مسکراہٹیں عارضی ہوتی ہیں)

سامنے نظر دڑاؤ تو ان خستہ حال انسانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اور کچھ میڈیا والے جو اس کیس کے متعلق مختلف سوالات اس سے پوچھ رہے تھے اور پھر چند منٹ میڈیا والوں کے جوابات دیتے ہوئے وہ تیزی سے اس ہجوم سے نکلتے ہوئے اپنی گاڑی میں ا کر بیٹھی اور پھر زن سے گاڑی اڑا لے گئی اپنی اگلی اور شاید آ خری منزل کی جانب۔

Last bulit club by Alishma Nisa Comlpete novel download pdf

  • by

“مومو آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا.”کافی دیر بعد بھی جب مہرماہ کچھ نہیں بولی تو اس سے رہا نہیں گیا اور دوبارہ سوال کیا۔

“کچھ خاص نہیں بس اتنے کم پودوں کو لان میں دیکھ کر حیران ہوں.”اقراء نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔مطلب وہ ابھی تک یہ سوچے جارہی تھی کہ لان اتنا چھوٹا کیوں ہیں۔اس نے دل ہی دل میں ایک قہقہ لگایا تھا یعنی اسکی مومو بھی اسکی طرح فضول ہی سوچنے لگی ہیں۔مہرماہ کی کافی تقریبا ختم ہوچکی تھی۔تبھی کے سامنے رکھے میز پر رکھا اور شال اپنے کندھوں سے ہٹاکر ساتھ والی کرسی پر رکھا۔

“شاید آغا کو پودے پسند نا ہو۔”اس نے اپنے طرف س مدعا پیش کیا۔جس پر مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا۔

“بابا جان کو پودے کافی پسند ہیں۔اور یہی خوبی ان سے رجب بھائی اور آغا میں منتقل ہوئی ہیں۔اغا کو پودے کافی پسند تھے۔میں نے رجب بھائی سے سنا تھا۔جو پودا میں آغا کی پیدائش پر لگایا تھا۔اغا نے اسکا بہت خیال رکھا تھا۔”اقراء کو دلچسپی ہوئی تھبی ننگے پیر گھاس پر چلتے ہوئے آکر ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔انکی نظریں اپنے بائیں طرف کے پودوں پر تھیں۔لان کافی وسیع تھا مگر پودے اس میں نا ہونے کے برابر تھے۔

اقرا نے انکی نظروں کی تعاقب میں دیکھا تھا جہاں ایک پودے پر ننھی ننھی کھلیاں آگئی تھی۔جب اس نے مومو جو دوبارہ بولتے سنا۔

“بعد میں جب وہ پندرہ سال ہوا تب اس نے رجب بھائی کے گھر پر اسی پودے کے بہت سے قسمیں لگائی تھی بلکہ داؤد صاحب کہہ رہے تھے کہ اس نے تو اپنے نانا کے گھر پر بھی اپنا لان بنا رکھا تھا۔”بولتے ہوئے وہ پل بھر کو روکی تھی پھر دوبارہ بولنا شروع کیا”پنار بھابھی سے دور ہونے کے بعد تو اسکا زیادہ تر وقت کی پودوں کے ساتھ ہی گزرتا ۔اسے گارڈننگ بہت پسند تھی اقراء۔میں حیران ہوں کہ اس نے اپنے گھر پر اتنے کم پودے کیوں لگائے ہیں؟”وہ پریشان ہوئی تھی۔اقرا کو آج احساس ہوا تھا کہ مومو کو صرف اس سے ہی نہیں آغا سے بھی محبت تھی۔سورج کی کرنیں لان میں پڑتے ہی گرمی کا احساس ہوا۔تو اقراء نے شال خود پر سے ہٹاکر تہہ کرکے اپنے گود میں رکھا۔

“مومو آپ باخبر ہیں انکے بچپن سے کہ انکا بچپن عام بچوں کے بچپن سے قدرے مختلف گزرا ہیں۔چھوٹی عمر میں ہی وہ اس دلدل میں پھنس گئے تھے۔زندگی نے ان سے بہت تلخ امتحان لیا ہیں۔جس میں انکے سارے شوق دم توڑ چکے ہیں۔”مہرماہ کی نظریں اب اس پر تھی۔اپنے اوپر انکی نظروں کی تپش محسوس کرکے اقراء نے انہیں دیکھا۔

Dar e yaar se dil e yaar tak by Izza Iqbal Complete novel

  • by

“تم۔۔۔؟تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟” وہ یک دم اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے سامنے آیا تھا۔۔۔

“وہ۔۔۔میں۔۔۔کافی۔۔۔کافی لائی تھی۔۔۔” اس نے کپ اس کے سامنے کیا۔۔۔

“تم سے مانگی تھی۔۔۔؟”اس نے کڑے تیور لئے اسے گھورا۔۔۔

“کافی۔۔۔” اس نے ہنوز کپ سامنے کئے رکھا۔۔۔

“ماں۔۔۔۔ماں۔۔۔۔” وہ حلق کے بل چلایا تھا۔۔۔

اس سے تو کبھی اس کے بابا نے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی اور آج سے پہلے تک ارحان بھی تو کبھی یوں چلایا نہیں تھا۔۔۔۔

“ماں۔۔۔۔” وہ چیخا تو ڈر کے مارے عریبیہ کے ہاتھ میں پکڑا کپ زمین پر جاگرا۔۔۔۔صدف صاحبہ بھی بھاگ کر اندر آئی تھیں۔۔۔”اوہو۔۔۔کیا ہوگیا ہے ارحان۔۔۔” اگلے ہی پل وہ عریبیہ کی جانب لپکیں ۔۔۔

“یہ یہاں کیا کررہی ہے۔۔۔۔؟”

“بدتمیزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔آواز دھیمی رکھو۔۔۔”

“مام۔۔۔میں آپ سے کہہ رہا ہوں یہ یہاں کیا کررہی ہے۔۔۔۔میرے کمرے میں کیوں آئی ہے۔۔۔؟”

“تمہیں دکھائی نہیں دے رہا کافی دینے آئی تھی۔۔۔اس میں گدھوں کی طرح چیخ کر بچی کو ڈرانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔” وہ اپنے ساتھ لگی سہمی سی کھڑی عریبیہ کی پیٹھ سہلا نے لگیں۔۔۔

“میں نے کتنی بار منع کیا ہے میرا کام آپ کے اور رباب کے علاوہ کوئی نہ کیا کرے ۔۔۔”

“اچھا۔۔۔اور اگر عریبیہ نے کردیا تو کیا مسئلہ ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔؟”

“مجھے بہت بڑا مسئلہ ہے ۔۔۔آپ آئندہ اسے میری چیزوں سےدور ہی رکھئیے گا۔۔۔” اس نے صدف صاحبہ سے کہا اور پھر اس کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔”تمہیں بہت شوق ہے خواہ مخواہ اچھا بننے کا۔۔۔؟ دوسروں کے کام کرنے کا۔۔؟اک بار کہا تھا نا دور رہنے کو۔۔۔سمجھ نہیں آتی بات۔۔۔” اس کے جملے بے عزتی کا احساس لئے ہوئے تھے۔۔۔وہ بے ساختہ ہی ان سے لپٹی رودی۔۔۔

“ارحان۔۔۔اب اگر تمہاری زبان بند ناں ہوئی نہ تو میں بتا رہی ہوں مجھ سےبرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔”

“آئندہ میری چیزوں کو تمہارا ہاتھ نہیں لگنا چاہیے۔۔۔۔” صدف صاحبہ کے منع کرنے کے بعد بھی وہ اپنی بات کہہ کر ہی گیا تھا۔۔۔۔ اسے ارحان کا غصہ اور اس کے الفاظ آج پھر سے یاد آگئے تھے ۔۔۔۔

اس نے اس سے کہا تھا کہ وہ کبھی اس کا اس کی چیزوں پر لمس برداشت نہیں کرے گا۔۔۔اب ۔۔۔”یا اللہ۔۔۔۔” اس نے بے بسی سےکہا۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی اور گھر کے اندر آتے ہی جانے کیا خیال سمایا کہ اپنے بابا کے کمرے میں چلی آئی۔۔۔اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا مبادہ کہیں اٹھ ہی نہ جائیں لیکن اگلے ہی لمحے انہیں زمین پر گرا دیکھ کر وہ ان کی جانب بھاگی ۔۔۔کاش کے وہ دروازہ کھولتی اور وہ اٹھ ہی جاتے۔۔۔وہ ان کا سر اپنی گود میں رکھے کبھی انہیں آوازیں لگا نے لگی تھی اور کبھی بوا کو۔۔۔

Kahani mukamal hui by Ayesha Tasneem Complete novel

  • by

طواف نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ غر ائی

وہ سب سے پاک تھی اس گھٹیا جگہ پر رہتے بھی وہ پاک تھی خدا نے اس کی حفاظت کی تھی اور تو۔۔۔۔ اس نے آنکھیں فرح بائی کی آنکھوں میں ڈالی اس کے منہ پر تھوکا فرح کا منہ نیچے جھک گیا

تجھے لگتا ہے کہ تم ہم سب کو بے بس کرے گی اور ہم سب تیری قید میں رہیں گے تو بھول گئی فرا بائی کے اوپر ایک خدا بھی بیٹھا ہے ہمارا خدا۔۔۔۔ وہ خدا جس کے پاس بے بس کرنے کی اور قید کرنے کی طاقت ہے جس کے پاس آزاد کرنے کی طاقت ہے تو نے وہ خدا بننا چاہا فرابا ئی تھی پر تو بھول گئی وہ خداقہر بھی برساتا ہے تجھ جیسے بندوں پر اور جب اس کا قہر آن پڑتا ہے فرح بائی اور ایک جھٹکے سے اس نے فرح کی گردن چھوڑ دی وہ نیچے جا گری

لیکن زارہ ابھی چپ نہیں ہوئی تھی تو سزا دے رہی تھی سوہا کو عبرت ناک تو میں بتاتی ہوں تجھے عبرتنات کسے کہتے ہیں جب خدا کا قہر آتا ہے نا تو تجھ جیسے بندوں کا حال کیا ہوتا ہے

فرہ بائی ابھی تک زمین پر گری تھی

اٹھ۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ جھک کر چیخی

فرا بائی اسی طرح پڑی تھی

اٹھ وہ پھر چیخی اور فرا بائی گڑبڑا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اب وہ اس کے بالکل قریب آئ ۔ اب اس کی اواز بھی دھیمی تھی

تجھے بہت شوق تھا نا سب کو بے بس کرنے کا آج تجھے میں بتاتی ہوں وہ اپنے سینے پر انگلی رکھ بولی بے بسی ہوتی کیا ہے

عابد استاد ۔۔۔۔۔ وہ زور سے بولی گن لائیں فرح بائی کی

فرا بائی کی خرا بھائی زور دے کر بولی وہ گن جو تم کبھی نہ چلا سکے کیونکہ اس پہ صرف اسی کا نام نقوش تھا اس سے صرف یہی مرے گی وہ فرح کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بول رہی تھی

عابد استاد سر ہلا کر فورا گیا اور دو منٹ بعد واپس ایا تو اس کے ہاتھ میں گن تھی بالکل پیک اس کا کور بھی نہیں اترا ہوا تھا گن کو دیکھ کر فرح کی ہوائیاں اڑی وہ ایک دم زہرا کے قدموں میں گر گئی

مجھے معاف کر دو زارا دیکھو جیسا تم کہو کہ میں ویسا کروں گی تم مجھے اپنا غلام بنا لو میں تمہارے غلامی کر لوں گی لیکن مجھے مت مارو وہ کانپ رہی تھی اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی زارا نے پاؤں کی ٹھوکر سے ا سے پیچھے کیا

وہ عابد کے پاؤں میں تھی اور زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی عابد میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کیا تم پلیز مجھے بچا لو اس کے پاؤں پکڑ رہی تھی عابد نے بھی بالکل زارہ کی طرف پاؤں کی ٹھوکر سے اسے پرے کیا تھا اب وہ التمش کے قدموں میں آئی تھی دیکھو میں نے تمہارے ساتھ برا کیا لیکن میں تمہیں سب کچھ دوں گی میں سوہا جیسی ہزار لڑکیاں تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی میرے پاس بہت پیسہ ہے وہ بالکل اس وقت کوئی پاگل لگ رہی تھی