Skip to content
Home » Uncategorized » Page 16

Uncategorized

Deemak e ishq by Aabi Maan Complete afsana

  • by

“عشق کی بیماری جس کو لگ جائے وہ لوگ کم ہی بچتے ہیں عشق کا علاج صرف اوپر والے کے پاس ہے جو کہ آپ کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔” حکیم بخش نے پہلے اوپر کی طرف اور پھر شہہ رگ طرف اشارہ کر کے کہا عشق کا نام سن کر بڑی بیگم صاحبہ کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی وہ حکیم سے کچھ کہے بنا ہی فوراً وہاں سے نکل آئیں دل بار بار منہ کو آ رہا تھا وہ ماں تھیں وہ کیوں نہ جان سکیں کہ ان کی بیٹی کون سا روگ خود کو لگا بیٹھی ہے ۔ وہ ان کے سامنے تڑپتی رہی اور وہ سمجھ ہی نہ پائیں

Mere charagar by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

تم ہو ونی میں آئی ہوئی لڑکی ۔۔ وہ کڑوے سے لہجے میں بولیں ۔۔

ج ۔ جی ۔۔ اس نے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کہا ۔۔۔

پھر جانتی بھی ہو گی کہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ۔۔ وہ چبا چبا کر اس کو گھورتی ہوئی بولیں ۔۔۔

جی جانتی ہوں سب ۔۔۔ اس نے ہولے سے کہا تھا ۔۔ عابدہ بیگم نے اس کو بغور دیکھا ۔۔۔

چلو یہ تو اچھی بات ہے ۔۔ ہمیں تم پے محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔۔۔ اب اس حویلی کا سارا کام تم کرو گی ۔۔۔ حویلی کی ساری صاف صفائی سے لے کر کچن کے تمام معاملات تم سنبھالو گی ۔۔۔ اور مجھے کوئی کوتاہی ملی تو یاد رکھنا ۔۔ تمھارا وہ حشر ہو گا کہ تمھاری سات پشتیں بھی یاد رکھیں گی ۔۔۔ آخر میں ان کا لہجہ پتھریلا تھا ۔۔ وہ خاموشی سے سر جھکا گئی ۔۔۔

جی ٹھیک ہے ۔۔ اس نے ہر حکم پے سر جھکایا تھا ۔۔۔ عابدہ بیگم نے ایک ملازمہ کو آواز دی ۔۔

اس لڑکی کو لے جاؤ اور ساری حویلی دیکھا کر سارے کام سمجھا دو ۔۔۔ مجھے کوئی شکایت ملی تو اس لڑکی کے ساتھ تمہیں بھی بھون ڈالوں گی ۔۔ وہ بگڑے تیور لیے بولیں تھیں ۔۔ سمن خاموشی سے اس ملازمہ کے ساتھ چل دی ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Masoom sa Ishq by Rimsha Hussain Complete novel

  • by

“کیا لڑکی کو گولیاں لگیں ہیں؟

“لیکن آواز تو ہم نے نہیں سُنی

“بنا آواز کی ہوگی نہ

“پیٹھ اور کندھے پر لگتا ہے گولیاں لگیں ہیں

“ہر کوئی اپنے انداز مطابق بول رہا تھا لیکن ایک میثم تھا جو مشک کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر تڑپ رہا تھا

“مش آن آنکھیں کھولو شاباش۔۔”میثم نیچے بیٹھتا چلاگیا۔۔”مشک کا سر اپنی گود میں رکھتا وہ پاگلوں کی طرح اُس کو ہوش میں لانے کی ناکام کوشش کرنے لگا

“بیٹا دیکھا پہلے زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔”ورنہ جلدی سے ہسپتال لے جاؤ ٹائم ضائع نہیں کرو۔۔”ایک بزرگ نے اُس کی حالت کو دیکھ کر مشورہ دیا تو میثم نے سرخ نظروں سے اُنہیں دیکھا

“بیوی ہے میری اور زندہ ہے۔۔”مشک کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے سینے میں چُھپاتا وہ سب کو غُصے سے دیکھنے لگا

“کوئی پولیس اور ایمبولینس بلاؤ یہ لڑکا تو شاید ہوش گنوا بیٹھا ہے۔۔”ایک نے کہا تو سب نے اُس کی بات سے اتفاق کیا

“مش آنکھیں کھولو میں کیا بول رہا ہوں۔۔”آپ کو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟”آپ کو شیزی بھائی کو سی آف کرنا ہے تو آئے اُٹھے اُنہیں سی آف کرنے چلتے ہیں کالج جانا ضروری نہیں۔۔”آپ کی سالگرہ ہے نہ آج؟”سرپرائز ابھی سے بتادیتا ہوں اُس کے لیے آپ کو یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں جلدی سے مسکراکر اپنی آنکھیں کھولیں ورنہ میں بُرا پیش آؤں گا آپ سے۔۔”میثم اُس کے وجود سے بہتے خون کو جیسے دیکھ تک نہیں پارہا تھا۔ “یہ جو کچھ ہوا تھا وہ غیرمتوقع تھا جس کے ساتھ ہوا وہ اُس کی لاڈلی ہستی تھی اُس کو کچھ ہوا ہے یہ بات میثم جیسے سمجھدار مرد کے لیے قبول کرنا مشکل تھا میثم کا دماغ اِس بات کو ایکسپیٹ نہیں کرپارہا تھا۔۔”کچھ وقت بعد ایمبولینس آگئ تھی اسٹریچر لایا گیا تھا لیکن میثم مشک کو خود سے دور ہونے نہیں دے رہا تھا سختی سے اُس کو خود میں بھینچے میثم اُن سب پر برس رہا تھا جس سے مجبوراً کچھ آدمیوں نے اُس کو پکڑ کر روکا تو وہ سب مشک کو اسٹریچر پر ڈالنے لگے تو میثم خود کو آزاد کراتا اُن کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھتا مسلسل مشک کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا اُس کا گِرے فراک خون میں لت پت ہوگیا تھا خوبصورت چہرہ زردی مائل ہوگیا تھا۔۔”میثم کے کپڑوں تک مشک کا خون لگ گیا تھا

“یہ سب کیا؟”کیسے؟”اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا میثم بڑبڑانے لگا

“مش۔۔”میثم کھسک کر اُس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا

Imaan by Nimra Nadeem Ahmed Complete novel

  • by

عمران تیرا کام سب سے پہلے اس بندے کو سائیڈ پر ہٹانہ ہے سمجھا۔۔ آريان نے اٹھ کر ایک تصویر پر ہاتھ رکھ کے کہا تھا
پر اس کو کیوں تو خود تو بول رہا تھا کے یہ صرف ٹیشو پیپر ہے پھر اب کیا؟؟ صارم نے سوال کیا تھا۔۔۔
یہ ہمارا پہلا ہتیار ہوگا جس کو مہران سے دور کرنا ہے ایک درخت کی جڑے ایک ایک کر کے کاٹی جاتی ہے اور یہ سب سے پہلی جڑ ہے جس کو ہم کاٹے گے آریان نے اس کی تصویر پر پین سے کٹ کا نشان لگاتے کہا تھا۔۔۔!!
پر سوال وہی کا وہی ہے میرا۔۔۔ صارم نے اٹھتے کہا تھا
دیکھ یہ اس کو سارا ڈیٹا پہنچاتا ہے اور پھر یہ سالار کا دوست بھی ہے تو جب تک ٹیشو پیپر نہیں پھینکا جاتا تب تک اس کا کام ہوتا رہے گا۔۔۔!!آريان نے ایک لمبا سانس ہوا کے سپرد کر کے کہا تھا۔۔!!
سالار وہ پروسیکیوٹر؟؟ عمران نے سوال کیا تھا۔۔
ہاں وہی اب عمران تو نے اس کو رستے سے ہٹانہ ہے کچھ بھی کر کے اور پھر اس ٹیشو کو مہران سے بدگمان کرنا ہے یہ تیرا کام ہے۔۔۔!!
پر یہ کیسے کروں گا؟؟ عمران نے مسکراہٹ چھپا کے کہا تھا۔۔۔
تجھے اچھے سے پتا ہے کے تو یہ کام کیسے کرے گا اس لیے اب زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آريان کہہ کر ہنسا تھا۔۔۔
صارم تو نے آئزہ اور زمل کی سیکورٹی بڑھانی ہے اور ان دونوں کو پروٹیکٹ کرنا ہے جب تک وہ اسلامآباد ہیں!!! آريان کہہ کر خاموش ہوا تھا۔۔
پر ان کی سیکورٹی کیوں؟؟ صارم نے سوال کیا تھا۔۔
بس وہ بعد میں بتاؤ گا
ابھی جو بولا ہے وہ کر اور ہاں ان دونوں مخلوقوں کو پتا نہ لگے ۔۔۔!!
یار اگر پتا لگ گیا تو مجھے گنجا کر دیں گی وہ دونوں۔۔۔!! صارم نے رہانسا ہو کر کہا تھا۔۔
تبھی تو تجھے کہا ہے یہ کام تو یار کے لیے اتنی قربانی دے سکتا ہے اگر میں نے ایسا کیا تو میں گنجا ہو جاؤ گا۔۔ آریان نے کہتے ساتھ قہقہ لگایا تھا۔۔۔
اور مشال مجھے ان دونوں لڑکوں کے بارے میں سب کچھ پتا ہونا چاہیے ان کے اکاؤنٹ ہیک کر لو اور ان کے بارے میں سب کچھ بتاؤ۔۔۔!!
پر یار یہ تو صرف ملازم ہیں نہ۔۔!!

Mere pas raho by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“فروا! یہ کیسے وہ کیسے مان گئی شادی کے لیے” وہ فروا اور زینی کے مشترکہ کمرے میں آیا تھا۔

اس سے پہلے کے فروا کوئی جواب دیتی زینی واشروم سے نکل کر آئی تھی اور حنید سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوتے ہوئی گویا ہوئی تھی۔

“ہاۓ ۔۔حنید صاحب آپ سا مظلوم بھی کوئی ہو گا،جس لڑکی سے پیچھا چھڑوانے کے لیے آپ نے اسکی عزت نفس روند ڈالی وہ لڑکی پھر بھی آپ کے متھے منڈھی جا رہی ہے۔۔۔چچ افسوس”

“آپ بھی سوچتے ہوں گے کیا ڈھیٹ لڑکی ہے” وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔

“زینی ایسی بات نہیں ہے،میں کبھی بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ میری شادی تم سے نا ہو،مگر اس دن کے بعد سے مجھے لگا تھا کہ تم انکار کر دو گی،لیکن تم نے انکار نا کر کے مجھے کتنی خوشی اور زہنی سکون دیا ہے تم نہیں جانتی” وہ بیڈ کے سامنے دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔

فروا ان دونوں کے درمیان خاموش تماشائی تھی۔

“میں کیسے انکار کرتی فروا۔۔؟” اس نے اپنے برابر بیٹھی فروا کی طرف دیکھا تھا۔ “یہ نکاح تھا کوئی منگنی تو نا تھی جو انکار کرنے سے ٹوٹ جاتی،انکار کا تو آپشن ہی نہیں ہے میرے پاس” وہ طنزیہ ہنسی تھی۔

“اور اگر آپ کا بھلا کرتے ہوۓ اس نکاح کو ختم کرنا بھی چاہوں تو کیا جواز دوں،بتائیں؟” اس نے حنید کی طرف دیکھا تھا۔

اور حنید نے نظریں جھکا لی تھیں۔

“اور اگر جواز بتاۓ بغیر نکاح ختم کروں یا ساری بات اپنے اوپر لے لوں تو میری ماں ایک لمحہ نہیں لگاۓ گی مجھے اس گھر سے نکالنے میں،بلکہ آئندہ کبھی میری شکل بھی نا دیکھے گی ۔” اس نے تلخ لہجے میں کہا۔

“تو یہ آپ کی بدقسمتی ہے کہ آپ کو یہ شادی کرنی ہی پڑے گی” اس نے پھر حنید کی طرف دیکھا تھا۔

“زینی! ایسے مت کہو ۔۔۔ تم میری بیوی ہو یہ میری خوش قسمتی ہے،میں نے بچپن سے تمہیں اور صرف تمہیں سوچا ہے اس حوالے سے،میں جانتا ہوں میرا رویہ کبھی بھی حوصلہ افزانہیں تھا وہ میری نیچر ہے۔

مگر ا اس دن میں نے جو بکواس کی i di’nt mean it میرا یقین کرو،وہ بس ایک moment تھا میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا” وہ اسے پھر سے یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔

“پلیزجو ہوا بھول جاؤ، پلیز زینی i am sorry…i really am”اس نے یقین بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

مگر زینی کی نظریں ہر احساس سے خالی تھیں